Sahih Ibn Khuzaymah #397
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، نا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، نا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ شَبِيبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلِينَا، أَوِ اشْتَقْنَا سَأَلَنَا عَمَّا تَرَكْنَا بَعْدَنَا، فَأَخْبَرَنَاهُ، فَقَالُ: ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ، وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ"، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا وَأَشْيَاءَ لا أَحْفَظُهَا، " وَصَلَّوْا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ" . نا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ بُنْدَارٍ، وَرُبَّمَا خَالَفَهُ فِي بَعْضِ اللَّفْظَةِ"
EnglishUnverified translation
Muhammad bin Bashar Bandar told us, Abd al-Wahhab told us, Ayoub told us, on the authority of Abu Qalaba, Malik bin al-Huwayrith told us, he said: We came to the Messenger of We were young people, may God bless him and grant him peace. We stayed for twenty nights, and the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, was merciful and gentle. When he thought that we had missed our families, or were missing him, he asked about what we had left behind, so we told him, and he said: “Go back to your families. So stay among them, teach them and guide them,” and he mentioned things that I have memorized and things that I do not, “and pray as you have seen me praying, then Prayer has come, so let one of you call the call to prayer, and let the eldest of you lead.” Yahya bin Hakim narrated to us, Abd al-Wahhab bin Abd al-Majid narrated to us, similar to the hadith of Bundar, and perhaps he differed from him in some wording.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ ہم، ہم عمر نوجوان تھے۔ ہم (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) بیس راتیں رہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت رحمدل اور نرم مزاج تھے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ ہم اپنے گھر والوں کی خواہش یا اُن سے ملاقات کا اشتیاق کر رہے ہیں تو ہم سے پوچھا کہ ”ہم کن کو اپنے پیچھے چھوڑ کر آئے ہیں؟“ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کے پاس چلے جاؤ اُن کے ساتھ رہو اور اُنہیں (دین کی) تعلیم دو اور (اچھے کاموں کا) حُکم دو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزیں بیان فرمائیں (جن میں سے کچھ مجھے یاد ہیں اور کچھ یاد نہیں) اور فرمایا: ”نماز اسی طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، پھر جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں کوئی ایک تمہارے لئے اذان کہے اور تم میں سے بڑا تمہاری امامت کروائے۔“ عبدالوھاب بن عبدالمجید نے بندار کی روایت کی طرح بیان کیا ہے اور بعض اوقات بعض الفاظ میں ان کی مخالفت کی ہے۔