Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 8 · Chapter 1

Chapters 176–200

بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا، وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ بأَنْ يُشْفَعَ بَعْضُ الْأَذَانِ لَا كُلُّهَا، وَأَنَّهُ إِنَّمَا أَمَرَ بِأَنْ يُوتَرَ بَعْضُ الْإِقَامَةِ لَا كُلُّهَ

Chapter: Mentioning the report that explains the general wording I mentioned, and the proof that the Prophet (peace be upon him) only commanded that part of the Adhan be doubled, not all of it, and that only part of the Iqamah be made single, not all of it

باب: اس روایت کا ذکر جو میرے بیان کردہ عام الفاظ کی وضاحت کرتی ہے، اور اس دلیل کا ذکر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اذان کے کچھ حصے کو دہرانے کا حکم دیا، پوری اذان کو نہیں، اور اقامت کے صرف کچھ حصے کو یکبارگی کہنے کا، پوری اقامت کو نہیں

5 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

370

Sahih Ibn Khuzaymah #370

Hasan

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، نا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَهَا، إِنَّمَا يَجْتَمِعُ النَّاسُ إِلَيْهِ لِلصَّلاةِ بِحِينِ مَوَاقِيتِهَا بِغَيْرِ دَعْوَةٍ، فَهَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ بُوقًا كَبُوقِ الْيَهُودِ الَّذِي يَدْعُونَ بِهِ لِصَلَوَاتِهِمْ، ثُمَّ كَرِهَهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِالنَّاقُوسِ، فَنُحِتَ لَيَضْرِبَ بِهِ لِلْمُسْلِمِينَ إِلَى الصَّلاةِ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، أُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، أَخُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ النِّدَاءَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ طَافَ بِي هَذِهِ اللَّيْلَةَ طَائِفٌ مَرَّ بِي رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، أَتَبِيعُ هَذَا النَّاقُوسَ؟ فَقَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قُلْتُ: نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلاةِ، فَقَالَ: أَلا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَيْرَ كَثِيرٍ، ثُمَّ قَالَ: مِثْلَ مَا قَالَ: وَجَعَلَهَا وِتْرًا، إِلا قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ"، فَلَمَّا خَبَّرْتُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلالٍ فَأَلْقِهَا عَلَيْهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ ، فَلَمَّا أَذَّنَ بِلالٌ، سَمِعَ بِهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلِلَّهِ الْحَمْدُ، فَذَاكَ أَثْبُتُ"""

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Isa said, by Salamah, meaning Ibn al-Fadl, on the authority of Muhammad bin Ishaq, who said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, was He introduced it, but people gather to pray at its appointed time without an invitation, so the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, intended to make a trumpet Like the trumpet of the Jews with which they call for their prayers. Then he disliked it, then he ordered the bell to be carved to be sounded with it for the Muslims to pray, while They were like that. Abdullah bin Zaid bin Abdul Rabbo, brother of Al-Harith bin Al-Khazraj, was shown the call, so he came to the Messenger of God, may God bless him and grant him peace. He greeted me, and he said to him: O Messenger of God, a pilgrim went around me this night. A man wearing two green clothes passed by me, carrying a gong in his hand. So I said: O Abdullah, do you sell this bell? He said: What do you do with it? I said: We call him to prayer, and he said: Shall I not guide you to something better than that? I said: What is it? He said: “You say: Allah is the greatest, Allah is the greatest, Allah is the greatest, Allah is the greatest, I bear witness that there is no god but Allah, I bear witness that there is no god but Allah, I bear witness That Muhammad is the Messenger of God, I bear witness that Muhammad is the Messenger of God, hail to prayer, hail to prayer, hail to success, hail to success, God is great, God is great Akbar, there is no god but Allah. Then he delayed it for a long time, then he said: Just as he said: And he made it the odd string, except that the prayer has begun. The prayer has already begun, by God. “The greatest, God is the greatest, there is no god but God.” When the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, told her about it, he said: It is a true vision, God willing, so rise up. With Bilal, say it to him, for he has a more beautiful voice than you. When Bilal called the call to prayer, Omar ibn al-Khattab heard about it while he was in his house, so he went out to the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, was pulling his cloak and saying: O Prophet of God, by the One who has sent you with the truth, I have seen something like what he saw, so he said The Messenger of God, may God bless him and grant him peace: “Praise be to God, for that is proven.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب محمد بن اسحاق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ بغیر اذان کے نماز کے اوقات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوجاتے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے بگل کی طرح کا بگل بنانے کا ارادہ کیا جس سے وہ اپنی نمازوں کے لیے بلاتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹہ بنانے کا حُکم دیا تو وہ تراش دیا گیا تاکہ مسلمانوں کو نماز کے لئے بلانے کے لیے بجایا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اور آپ کے صحابہ کرام) اسی صلاح مشورے میں مصروف تھے کہ حارث بن خزرج کے بھائی عبداللہ بن زید بن عبدربہ کو (خواب میں) اذان دکھائی گئی۔ تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، آج رات میں نے ایک شخص کوخواب میں دیکھا، ایک آدمی میرے پاس سے گزرا، اُس پر دو سبز کپڑے تھے اور وہ ہاتھ میں گھنٹہ اُٹھائے ہوئے تھا۔ تو میں نے کہا کہ اے اللہ کے بندے، کیا تم اس گھنٹے کو بیچو گے؟ اُس نے کہا کہ تم اس سے کیا کرو گے؟ میں نے کہا کہ ہم اس سے نماز کے لیے بلائیں گے۔ تو اُس نے کہا کہ کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ میں نے کہا کہ وہ کیا ہے؟ اُس نے کہا کہ تم کہا کرو: «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، میں گوہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں“ «أَشْهَدُ أَنْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰه، أَشْهَدُ أَنْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰه» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں“ «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ“ «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف“ «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ﷲ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں“ پھر وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا پھر اُس نے اسی طرح کہا کہ جیسے پہلے کہا تھا۔ اور اُس نے وہ کلمات اکہرے کہے سوائے قد قامت الصلاۃ کے، اُس نے (دو مرتبہ) « قَد قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَد قَامَتِ الصَّلَاةُ»  ”نماز کھڑی ہوگئی، نماز قائم ہوگئی“ «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، ﷲ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ جب میں نے اس کی خبر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان شاء اللہ یہ خواب سچا ہے۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور اُسے یہ کلمات بتاؤ کیونکہ وہ تم سے بلند آواز والا ہے۔“ پھر جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے ان کلمات کے ساتھ اذان دی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے سنا جبکہ وہ اپنے گھر میں تھے۔ تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نکلے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی، اس ذات باری کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دیکر بھیجا ہے، یقیناًً ً میں نے بھی ایسا ہی (خواب) دیکھا ہے جیسا اُس نے دیکھا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور اس (گواہی نے) مسئلے کو زیادہ مضبوط اور واضح کر دیا ہے۔“

371

Sahih Ibn Khuzaymah #371

Hasan

نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ، فَعُمِلَ لَيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ فِي الْجَمْعِ لِلصَّلاةِ" ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ مِثْلَ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ الْفَضْلِ."

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Yahya told me, Ya’qub bin Ibrahim told me, my father told me, on the authority of Ibn Ishaq, Muhammad bin Ibrahim bin Al-Harith al-Taymi told me, On the authority of Muhammad bin Abdullah bin Zaid bin Abdul Rabbo, Abu Abdullah bin Zaid told me, he said: “When the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, ordered He greeted the gong, and it was made to be sounded for the people in the gathering for prayer.” He mentioned the hadith in its length, like the hadith of Salamah ibn al-Fadl.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدناعبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول للہ صلے اللہ علیہ و سلم نے ناقوس بنانے کا حُکم دیا تو وہ بنادیا گیا تاکہ لوگوں کو نماز کے لئے جمع کرنے کے لئے بجایا جائے، پھر سلمہ بن فضل کی حدیث کی طرح مکمل حدیث بیان کی۔

372

Sahih Ibn Khuzaymah #372

قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: لَيْسَ فِي أَخْبَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ فِي قِصَّةِ الأَذَانِ خَبَرٌ أَصَحُّ مِنْ هَذَا، لأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ سَمِعَهُ مِنْ أَبِيهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ

EnglishUnverified translation

He said: I heard Muhammad bin Yahya saying: There is no news in the reports of Abdullah bin Zaid regarding the story of the call to prayer more authentic than this, because Muhammad bin Abdul Allah bin Zaid heard it from his father, and Abdul Rahman bin Abi Laila did not hear it from Abdullah bin Zaid.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدﷲ بن زید کے قِصّہ اذان کی روایات میں اس سے زیادہ صحیح روایت اور کوئی نہیں کیونکہ محمد بن عبدﷲ بن زید نے اسے اپنے والد محترم (سیدنا عبداللہ بن زید) سے سنا ہے۔ اور عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے سیدنا عبداللہ بن زید سے اس روایت کو نہیں سنا۔

373

Sahih Ibn Khuzaymah #373

نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ فِي عَقِبِ حَدِيثِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، نا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: فَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذِهِ لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنَّ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِالتَّأْذِينِ، فَكَانَ بِلالٌ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ يُؤَذِّنُ بِذَلِكَ"""

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Ali told us after his hadith, he said: Yaqoub bin Ibrahim bin Saad told us, my father told us, on the authority of Ibn Ishaq, he said: Then Muhammad mentioned Bin Muslim bin Abdullah bin Shihab Al-Zuhri, on the authority of Saeed bin Al-Musayyab, on the authority of Abdullah bin Zayd bin Abdul Rabbo with this The news, he said: Then the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said to him: “This is a true vision, God willing.” Then he ordered the call to prayer, and it was Bilal. Abu Bakr’s servant gives the call to prayer.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداﷲ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: ”یہ خواب سچا ہے ان شاﺀ اﷲ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کا حُکم دیا، لہٰذا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ان کلمات کے ساتھ اذان دیتے تھے۔

374

Sahih Ibn Khuzaymah #374

Hasan

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ، يُحَدِّثُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْمُثَنَّى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ وَالإِقَامَةُ مَرَّةً، غَيْرُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، فَإِذَا سَمِعْنَا ذَلِكَ تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا" . قَالَ مُحَمَّدٌ: قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ أَبِي جَعْفَرٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ. نا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْمُثَنَّى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، مِثْلَهُ"

EnglishUnverified translation

Bundar told us, from Muhammad bin Ja’far, from Shu’bah, who said: I heard Abu Ja’far, speaking, on the authority of Muslim bin Al-Muthanna, on the authority of Ibn Umar, He said: “At the time of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, the call to prayer was only given twice and the iqama once, except that he used to say: The prayer has begun. The prayer began, so when we heard that, we performed ablution and then went out.” Muhammad said: Shu`bah said: I have not heard from Abu Ja`far other than this hadith. It is narrated by Bundar, it is narrated by Yahya, on the authority of Shu’bah, on the authority of Abu Ja’far, on the authority of Muslim bin Al-Muthanna, on the authority of Ibn Umar, the same.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اذان دو دو مرتبہ اور اقامت ایک مرتبہ تھی۔ سوائے اس کے کہ وہ (مؤذن) « قَد قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَد قَامَتِ الصَّلَاةُ» دو مرتبہ کہتا تھا، تو جب ہم یہ کلمات سنتے تو وضو کرکے نکل پڑتے۔ محمد کہتے ہیں کہ شعبہ نے کہا، میں نے ابوجعفر سے اس حدیث کے سوا کوئی حدیث نہیں سنی۔ امام ابوبکر بندار کی سند سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کرتے ہیں۔