Sahih Ibn Khuzaymah #342
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ الْعَطَّارُ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . ح وَنا عَبْدُ الْجَبَّارِ ، مَرَّةً، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . ح وَعَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ صَلاةَ الْعِشَاءِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَخَرَجَ عُمَرُ، فَقَالَ: الصَّلاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَاءُ يَقْطُرُ عَنْ رَأْسِهِ وَهُوَ يَمْسَحُهُ عَنْ شِقَّيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَذِهِ السَّاعَةَ" . وَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّهُ الْوَقْتُ لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الْجَبَّارِ حِينَ جَمَعَ الْحَدِيثَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَقَالَ لَمَّا أَفْرَدَ خَبَرَ ابْنَ جُرَيْجٍ:" إِنَّهُ الْوَقْتُ لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي"، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ:" لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينِ لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَذِهِ الصَّلاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ"""
EnglishUnverified translation
Narrated by Abdul-Jabbar bin Al-Ala Al-Attar, narrated by Sufyan, on the authority of Ibn Jurayj, on the authority of Ata’, on the authority of Ibn Abbas. H and us Ahmad bin Abdah, Sufyan bin Uyaynah told us, on the authority of Amr bin Dinar, and Ibn Jurayj, on the authority of Ata’, on the authority of Ibn Abbas. H and us Abdul Jabbar, once, he said: Sufyan told us, on the authority of Ibn Jurayj, on the authority of Ata’, on the authority of Ibn Abbas. H and Amr, on the authority of Ata’, on the authority of Ibn Abbas, that the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, delayed the evening prayer one night, so Omar went out and said: Prayers, O Messenger of God! The women and children lay down, then the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, came out with water dripping from his head while he was wiping it from his two parts. He says: “If it were not that I would make it difficult for my nation, I would have ordered them to pray at this hour.” One of them said: The time has come, unless I make it difficult for my nation. This is the wording of the hadith of Abdul Jabbar when he combined the hadith, on the authority of Ibn Jurayj and Amr. Ibn Dinar, and he said when he reported the news of Ibn Jurayj: “It is time, had I not made it difficult for my nation,” and Ahmad Ibn Abdah said: “If I had not made it difficult “I have commanded the believers to pray this prayer at this hour.”
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز عشاء مؤخر کردی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، نماز (پڑھا دیجئے) عورتیں اور بچّے سو گئے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دونوں جانب سے پانی جھاڑ رہے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ”اگر مجھے خدشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی اُمّت کو مشقّت میں ڈال دوں گا تو میں اُنہیں (یہ نماز) اسی وقت پڑھنے کا حُکم دیتا۔“ (ابن جریج اور عمر) دو میں سے کسی ایک نے یہ الفاظ روایت کئے کہ ”یہی وقت ہے اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی اُمّت کو مشکل و مشقت میں ڈال دوں گا۔“ یہ عبدالجبار کی حدیث کے الفاظ ہیں جب اُنہوں نے ابن جریح اور عمر بن دینار سے روایت کو جمع کر کے بیان کیا۔ اور جب ابن جریح کی روایت کو منفرد بیان کیا تو کہا کہ ”یہی وقت ہے کہ اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی اُمُت کو مشقْت میں ڈال دوں گا۔“ احمد بن عبدہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ ”اگر مُجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ میں مؤمنوں کومُشقّت میں ڈال دوں گا تو میں اُنہیں یہ نماز اسی وقت ادا کرنے کا حُکم دیتا۔