Sahih Ibn Khuzaymah #339
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، نا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ غَازِيًا، وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ، فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الصَّلاةُ يَا عُقْبَةُ؟ فَقَالَ: شُغِلْنَا، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ، مَا بِي إِلا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَكَذَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ، مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الدَّوْرَقِيِّ، وَقَالَ الْمُؤَمَّلُ وَالْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:\" لا تَزَالُ أُمَّتِي. نا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ ، نا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:\" لا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ؟\" قَالَ: بَلَى"
EnglishUnverified translation
Yaqoub bin Ibrahim Al-Dawrqi and Muammal bin Hisham Al-Yashkari told us, saying: Ibn Ulayya told us, on the authority of Muhammad bin Ishaq. H Al-Fadl bin Yaqoub Al-Jazari narrated to us, on the authority of Abdul-Ala, on the authority of Muhammad bin Ishaq, Yazid bin Abi Habib narrated to me, on the authority of Marthad bin Abdullah Al-Yazani said: Abu Ayyub came to us as a conqueror, and Uqba bin Amir was in charge of Egypt at that time, so he delayed sunset, so he rose to it. Abu Ayyub said: What is this prayer, O Uqba? He said: We were busy, and he said: By God, my only problem is for people to think that you saw the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, doing this. I heard The Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, said: “My nation will continue to be well or on the right path, as long as they do not delay sunset until the stars clash.” This is the wording of the hadith of Al-Dawraqi, and Al-Ma’mal and Al-Fadl ibn Ya’qub said: Did you not hear the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, saying: “My nation will not cease to exist. On the authority of Muhammad ibn Musa al-Harashi, on the authority of Ziyad ibn Abdullah, on the authority of Muhammad ibn Ishaq, on the authority of Yazid ibn Abi Habib: He mentioned the hadith and said: As for Did you hear the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, say: “My nation will continue to be well or according to its fitrah unless they delay sunset until the stars collide?” He said: Yes
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت مرثد بن عبداللہ یزنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ایوب رضی اللہ عنہ جہاد کرتے ہوئے ہمارے پاس آئے جبکہ اُن دنوں مصر کے گورنر سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ تھے۔ تو اُنہوں نے مغرب کی نماز تاخیرسے ادا کی، تو سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ اُن کے پاس گئے اور فرمایا کہ اے عقبہ یہ کونسی نماز ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم مشغول تھے (اس لئے تاخیر ہوگئی) تو اُنہوں نے فرمایا کہ اللہ کی قسم، مجھے کوئی مشکل نہیں مگر لوگ یہ گمان کریں گے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواسی طرح (نماز مؤخر) کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”میری اُمّت ہمیشہ خیرو بھلائی یا فرمایا کہ فطرت پررہے گی، جب تک وہ نماز مغرب کوستاروں کا جمگٹھا ہونے تک مؤخر نہیں کریں گے۔ یہ دورقی کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ مؤمل اور افضل بن یعقوب کی روایت میں ہے کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری اُمّت ہمیشہ خیرو بھلائی پر رہے گی۔۔۔۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ محمد بن موسیٰ حرشی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ اور کہا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے نہیں سنا کہ ”میری اُمّت ہمیشہ خیرو بھلائی یا فطرت پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کا جمگٹھے ہونے تک مؤخر نہیں کریں گے، تو اُنہوں نے کہا کہ کیوں نہیں (میں نے سُنا ہے)۔