Sahih Ibn Khuzaymah #271
نا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَسَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، نا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كُنَا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّا سَرَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ السَّحَرُ قَبْلَ الصُّبْحِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةِ، وَلا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلا حَرُّ الشَّمْسِ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، وَقَالَ: ثُمَّ نادَى بِالصَّلاةِ، فَصَلَّى بِأُنَاسٍ , ثُمَّ انْفَتَلَ مِنْ صَلاتِهِ، فَإِذَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ: مَا مَنَعَكَ يَا فُلانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَتْنِي جَنابَةٌ وَلا مَاءَ، فَقَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ" ، ثُمَّ سَارَ وَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ، فَدَعَا فُلانًا قَدْ سَمَّاهُ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ، وَدَعَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لَهُمَا:" اذْهَبَا، فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ"، فَانْطَلَقَا فَتَلَقَّيَا امْرَأَةً بَيْنَ سَطِيحَتَيْنِ أَوْ مَزَادَتَيْنِ عَلَى بَعِيرٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: ثُمَّ نُودِيَ فِي النَّاسِ أَنِ اسْقُوا وَاسْتَقُوا، فَسُقِيَ مَنْ شَاءَ وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ، قَالَ: وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، وَقَالَ:" اذْهَبْ، فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَفِي هَذَا الْخَبَرِ أَيْضًا دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمُتَيَمِّمَ إِذَا صَلَّى بِالتَّيَمُّمِ، ثُمَّ وَجَدَ الْمَاءَ فَاغْتَسَلَ إِنْ كَانَ جُنُبًا، أَوْ تَوَضَّأَ إِنْ كَانَ مُحْدِثًا، لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ إِعَادَةُ مَا صَلَّى بِالتَّيَمُّمِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْمُرِ الْمُصَلِّيَ بِالتَّيَمُّمِ، لَمَّا أَمْرَهُ بِالاغْتِسَالِ بِإِعَادَةِ مَا صَلَّى بِالتَّيَمُّمِ، وَفِي الْخَبَرِ أَيْضًا دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمُغْتَسَلَ بِالْجَنَابَةِ لا يَجِبُ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ قَبْلَ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى الْجَسَدِ غَيْرَ أَعْضَاءِ الْوُضُوءِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَمَرَ الْجُنُبَ بِإِفْرَاغِ الْمَاءِ عَلَى نَفْسِهِ، وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِالْبَدْءِ بِالْوَضُوءِ وَغَسْلِ أَعْضَاءِ الْوُضُوءِ ثُمَّ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى سَائِرِ الْبَدَنِ، كَانَ فِي أَمْرِهِ إِيَّاهُ مَا بَانَ، وَصَحَّ أَنَّ الْجُنُبَ إِذَا أَفَاضَ عَلَى نَفْسِهِ كَانَ مُؤَدِّ يًا لِمَا عَلَيْهِ مِنْ فَرْضِ الْغُسْلِ، وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ بَدْءَ الْمُغْتَسِلِ بِالْوَضُوءِ ثُمَّ إِفَاضَةُ الْمَاءِ عَلَى سَائِرِ الْبَدَنِ، اخْتِيَارٌ وَاسْتِحْبَابٌ لا فَرْضٌ وَإِيجَابٌ"
EnglishUnverified translation
We are Bundar, we are Yahya bin Saeed, Ibn Abi Adi, Muhammad bin Jafar, Sahl bin Yusuf, and Abd al-Wahhab bin Abd al-Majid. Al-Thaqafi, they said: Awf told us, on the authority of Abu Raja’ Al-Atardi, on the authority of Imran bin Husayn, he said: We were on a journey with the Messenger of God, may God bless him and grant him peace. And peace be upon him. One night, we traveled until dawn came before dawn, and we had that event. There is no event more beautiful for a traveler than this. The only thing that woke us up was the heat of the sun, so he mentioned some of the hadith and said: Then he called for prayer, and he led some people in prayer, then he left his prayer, and suddenly there was a man secluding himself. He did not pray with the people, so he said to him: “What prevented you, O so-and-so, from praying with the people?” He said: O Messenger of God, I have been afflicted with impurity and there is no water, so he said: “You should go to the desert land, for it is sufficient for you.” Then he walked and the people complained to him, so he called so-and-so. Abu Raja had named it, but Awf forgot it. He called Ali bin Abi Talib and said to them: “Go and seek water for us.” So they set out and received it. A woman was between two tents or two stalls on a camel. He mentioned the hadith and said: Then it was called to the people to water and draw, and whoever wished was watered and drawn. Whoever he wanted, he said: The end of that was that he gave the one who had been afflicted with impurity a vessel of water, and said: “Go, and I will pour it on you.” Abu Bakr said: This report also indicates that if the person performing tayammum prays with tayammum, then he finds water and performs ablution if he is in a state of ritual impurity, or If he has performed ablution, he is not obliged to repeat what he prayed by performing tayammum, since the Prophet, may God bless him and grant him peace, did not command the person praying to perform tayammum, because He ordered him to perform ablution by repeating what he had prayed by performing tayammum. The report also indicates that the one who has performed ritual ablution due to ritual impurity is not obliged to perform ablution before performing ritual ablution. Spilling water on the body other than the parts of ablution, as the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, when he commanded the one in a state of ritual impurity to pour water on himself, and he did not He commanded him to begin with ablution and wash the parts for ablution, then pour water over the entire body. He was in his command for as long as he had done. It is correct that if a person in a state of impurity urinates on himself, he is fulfilling his obligation of ghusl, and this is what indicates that the one who is performing ghusl has begun. By performing ablution, then pouring water over the entire body, it is optional and recommended, not obligatory and obligatory.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم ایک رات چلتے رہے حتیٰ کہ جب صبح سے قبل سحر کا وقت ہوا تو ہم نے پڑاؤ ڈالا، اور مسافر کے نزدیک آخری رات کی نیند سے زیادہ پُر لُطف لمحہ کوئی نہیں ہوتا (لہٰذا ہم سو گئے) تو ہمیں سورج کی حرارت ہی نے بیدار کیا (یعنی صبح دیر تک سوتے رہے اور فجر کی نماز رہ گئی) پھر اُنہوں نے حدیث کا کچھ حصّہ بیان کیا۔ اور کہا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے اذان کہلوائی اور لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر الگ تھلگ بیٹھے ایک شخص پر پڑی جس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے پوچھا: ”اے فلاں، تجھے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا ہے؟“ تواُس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، میں جنبی ہو گیا ہوں اور (نہا نے کے لیے) پانی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر پاک مٹّی (سے تمیّم کرنا) لازم ہے کیونکہ وہ تُجھے کافی ہو جائے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے (راستے میں) لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (پانی کی قلّت کا) شکوہ کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو بلایا۔ ابورجاء نے اُن کا نام بیان کیا تھا مگر عوف بھول گئے۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوبُلایا اور اُن دونوں کوحکم دیا ”جاؤ، ہمارے لیے پانی تلاش کر کے لاؤ۔“ تو وہ دونوں (پانی کی تلاش میں) چل پڑے۔ تو وہ ایک عورت سے ملے جو اپنے اونٹ پر دو پانی کے تھیلوں یا مشکیزوں کے درمیان سوار جا رہی تھی۔ پھر حدیث کا کچھ حصّہ بیان کیا۔ اور کہا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کروا دیا: ”جانوروں کو پلا لو اور خود بھی پی لو“ تو جس نے چاہا (اپنے جانوروں کو) پلا لیا اور جس نے چاہا خود پی لیا۔ سب سے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس شخص کو پانی کا برتن دیا جو جنبی ہوگیا تھا۔ اور فرمایا: ”جاؤ اُسے اپنے اوپر بہالو۔ (یعنی غسل کرلو)“ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ تیمّم کر کے نماز پڑھنے والا شخص جب پانی پالے تو اُسے غسل کرنا ہو گا اگر وہ جنبی تھا۔ اور اگر مُحدث تھا تو اُسے وضو کرنا ہو گا۔ لیکن تیمّم کے ساتھ ادا کی گئی نمازوں کا اعادہ اس پر واجب نہیں ہے۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمّم کرکے نماز پڑھنے والے کو جب (پانی ملنے پر) غسل کرنے کا حُکم دیا تو اُسے تیمّم کے ساتھ پڑھی گئی نمازوں کے اعادے کا حُکم نہیں دیا۔ اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ غسلِ جنابت کرنے والے شخص پر اعضائے وضو کے علاوہ (باقی) جسم پر پانی بہانے سے پہلے وضو کرنا واجب نہیں ہے۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جنبی شخص کو اپنے جسم پر پانی بہانے کا حُکم دیا تو اُسے وضو اور اعضائے وضو کو دھونے سے ابتدا کرنے اور پھر پورے جسم پر پانی بہانے کا حُکم نہیں دیا، جنبی شخص کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم سے یہ واضح اور صحیح ثابت ہو گیا کہ جنبی شخص جب اپنے جسم پر پانی بہا لے تو وہ فرض غسل کو ادا کرنے والا سمجھا جائے گا۔ اور اس میں یہ بھی دلیل ہے کہ غسل کرنے والے شخص کا وضو سے ابتداء کرنا پھر سارے بدن پر پانی بہانا اختیاری اور مستحب عمل ہے، فرضی اور و جوبی نہیں۔