Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 5 · Chapter 16

Chapters 101–125

بَابُ نَفْضِ الْيَدَيْنِ مِنَ التُّرَابِ بَعْدَ ضَرْبِهِمَا عَلَى الْأَرْضِ قَبْلَ النَّفْخِ فِيهِمَا، وَقَبْلَ مَسْحِ الْوَجْهِ وَالْيَدَيْنِ لِلتَّيَمُّمِ.تیمّم ک

Chapter: Shaking the dust off the hands after striking them on the ground, before blowing into them, and before wiping the face and hands for tayammum

باب: ہاتھوں کو زمین پر مارنے کے بعد، ان میں پھونک مارنے سے پہلے، اور تیمم کے لیے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنے سے پہلے ہاتھوں سے مٹی جھاڑنا

2 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

269

Sahih Ibn Khuzaymah #269

Sahih

نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نا أَبُو يَحْيَى يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَلَمَةَ بنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّا نَجْنُبُ، وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ، فَذَكَرَ قِصَّتَهُ مَعَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَقَالَ: وَقَالَ يَعْنِي عَمَّارًا : فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى التُّرَابِ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ\" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَدْخَلَ شُعْبَةُ بَيْنَ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، وَبَيْنَ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي هَذَا الْخَبَرِ ذَرًّا. رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، إِلا أَنَّهُ لَيْسَ فِي خَبَرِ الثَّوْرِيِّ، وَشُعْبَةَ: نَفْضُ الْيَدَيْنِ مِنَ التُّرَابِ"

EnglishUnverified translation

On the authority of Abdullah bin Saeed Al-Ashjaj, on the authority of Abu Yahya, meaning Al-Taymi, on the authority of Al-Amash, on the authority of Salama bin Kuhail, on the authority of Saeed bin Abdul Rahman, On the authority of his father, he said: A man came to Omar and said: We are in the state of ritual impurity, and we have no water. So he mentioned his story with Ammar bin Yasser, and he said: He meant Ammar: So I went to the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, and told him, and he said: “It was enough for you to say thus and that with your hands,” and he struck. with his hands to the dirt, then shook them, then blew on them and wiped his face and hands with them.” Abu Bakr said: Shu’bah included a bit of disagreement between Salama bin Kuhail and Sa’id bin Abdul Rahman in this news. It was narrated by Al-Thawri, on the authority of Salamah, on the authority of Abu Malik, and Abdullah bin Abdul-Rahman bin Abza, on the authority of Abd al-Rahman bin Abza, except that It is not in the news of Al-Thawri, and Shu’bah: shaking the hands from the dust.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو اُس نے کہا کہ ہم جنبی ہو جاتے ہیں اور ہمارے پاس پانی نہیں ہے (تو نماز کیسے ادا کریں) پھر اُنہوں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کا واقعہ بیان کیا۔ کہتے ہیں کہ اور حضرت عمار نے فرمایا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لئے یہی کافی تھا کہ تُو اپنے دونوں ہاتھوں سے ایسے ایسے کرتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ مٹی پر مارے، پھر اُنہیں جھاڑا پھر اُن میں پھونک ماری اور اُن سے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں امام شعبہ نے سلمہ بن کھیل اور سعید بن عبدالرحمٰن کے درمیان ذر (راوی) کو داخل کر دیا ہے۔ اس حدیث کا امام ثوری نے سلمہ سے اور اُنہوں نے ابومالک اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے عبدالرحمان بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔ مگر امام ثوری اور شعبہ کی روایت میں ”ہاتھوں سے مٹّی جھاڑنے“ کا ذکر نہیں ہے۔

270

Sahih Ibn Khuzaymah #270

Sahih

نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا يَتَيَمَّمُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لا يَتَيَمَّمُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ عَلَى أَنْ تَضْرِبَ بِكَفَّيْكَ عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ تَمْسَحَهُمَا، ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَوْلُهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ: ثُمَّ تَمْسَحَهُمَا هُوَ النَّفْضُ بِعَيْنِهِ وَهُوَ مَسْحُ إِحْدَى الرَّاحَتَيْنِ بِالأُخْرَى لِيَنْفُضَ مَا عَلَيْهِمَا مِنَ التُّرَابِ"

EnglishUnverified translation

Yusuf bin Musa told us, Abu Muawiyah told us, Al-Amash told us, on the authority of Shaqiq, who said: I was sitting with Abdullah and Abu Musa, and Abu Musa said: Oh Abu Abdul Rahman, have you seen that if a man is in a state of impurity and does not find water for a month, he should perform tayammum? Abdullah said: He is not an orphan. Abu Musa said: Did you not hear Ammar say to Omar: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, sent me for a need? So I became junub and could not find water, so I wallowed in the desert as an animal wallows. I mentioned that to the Prophet, may God bless him and grant him peace, and the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: May God bless him and grant him peace: “It was enough for you to strike your palms on the ground, then wipe them, then wipe your face and your palms with them.” Abu Bakr said: His statement in this report: Then he wiped them is to shake it with his eyes, which is to wipe one palm with the other to shake it off. There is no dirt on them

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے ابوعبدالرحمان، آپ کا کیا خیال ہے اگر ایک شخص جنبی ہو جائے تو اُسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے، کیا وہ تیمّم کرتا رہے گا؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ تیمّم نہیں کرے گا (اور نہ نماز پڑھے گا) تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا، کیا آپ نے سیدنا عمار کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ہوا قول نہیں سنا، (جس میں وہ کہتے ہیں کہ) مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضروری کام کے لئے بھیجا تو (راستے میں) میں جنبی ہو گیا اور مجھے پانی نہ ملا تو میں جانور کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا (اور نماز پڑھ لی) پھر میں نے (واپس آکر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اتنا ہی کافی تھا کہ تم اپنے دونوں ہاتھ زمیں پر مارتے پھر اُن کو (آپس میں) ملتے پھر اُن سے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کر لیتے۔“ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان «ثُمَّ تَمْسَحَ» اس سے مراد دونوں ہاتھوں سے مٹی جھاڑنا ہی ہے۔ (کیونکہ) النفض ایک ہتھیلی کو دوسری کے ساتھ ملنے کو کہتے ہیں تاکہ اُن پر لگی ہوئی مٹی جھڑ جائے۔