Sahih Ibn Khuzaymah #269
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نا أَبُو يَحْيَى يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَلَمَةَ بنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّا نَجْنُبُ، وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ، فَذَكَرَ قِصَّتَهُ مَعَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَقَالَ: وَقَالَ يَعْنِي عَمَّارًا : فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى التُّرَابِ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ\" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَدْخَلَ شُعْبَةُ بَيْنَ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، وَبَيْنَ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي هَذَا الْخَبَرِ ذَرًّا. رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، إِلا أَنَّهُ لَيْسَ فِي خَبَرِ الثَّوْرِيِّ، وَشُعْبَةَ: نَفْضُ الْيَدَيْنِ مِنَ التُّرَابِ"
EnglishUnverified translation
On the authority of Abdullah bin Saeed Al-Ashjaj, on the authority of Abu Yahya, meaning Al-Taymi, on the authority of Al-Amash, on the authority of Salama bin Kuhail, on the authority of Saeed bin Abdul Rahman, On the authority of his father, he said: A man came to Omar and said: We are in the state of ritual impurity, and we have no water. So he mentioned his story with Ammar bin Yasser, and he said: He meant Ammar: So I went to the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, and told him, and he said: “It was enough for you to say thus and that with your hands,” and he struck. with his hands to the dirt, then shook them, then blew on them and wiped his face and hands with them.” Abu Bakr said: Shu’bah included a bit of disagreement between Salama bin Kuhail and Sa’id bin Abdul Rahman in this news. It was narrated by Al-Thawri, on the authority of Salamah, on the authority of Abu Malik, and Abdullah bin Abdul-Rahman bin Abza, on the authority of Abd al-Rahman bin Abza, except that It is not in the news of Al-Thawri, and Shu’bah: shaking the hands from the dust.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو اُس نے کہا کہ ہم جنبی ہو جاتے ہیں اور ہمارے پاس پانی نہیں ہے (تو نماز کیسے ادا کریں) پھر اُنہوں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کا واقعہ بیان کیا۔ کہتے ہیں کہ اور حضرت عمار نے فرمایا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لئے یہی کافی تھا کہ تُو اپنے دونوں ہاتھوں سے ایسے ایسے کرتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ مٹی پر مارے، پھر اُنہیں جھاڑا پھر اُن میں پھونک ماری اور اُن سے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں امام شعبہ نے سلمہ بن کھیل اور سعید بن عبدالرحمٰن کے درمیان ذر (راوی) کو داخل کر دیا ہے۔ اس حدیث کا امام ثوری نے سلمہ سے اور اُنہوں نے ابومالک اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے عبدالرحمان بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔ مگر امام ثوری اور شعبہ کی روایت میں ”ہاتھوں سے مٹّی جھاڑنے“ کا ذکر نہیں ہے۔