Sahih Ibn Khuzaymah #268
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: لا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا، فَلَمْ نَجْدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ"،" وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا، وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ"""
EnglishUnverified translation
Bundar told us, on the authority of Muhammad ibn Jaafar, on the authority of Shu’bah, on the authority of Al-Hakam, on the authority of Dhar, on the authority of Ibn Abd al-Rahman ibn Abza, on the authority of his father, That a man came to Omar bin Al-Khattab and said: I have entered the state of ritual impurity and have not found water? So Omar said: Do not pray, so Ammar said: Do you not remember, O Commander of the Faithful, when you and I were on a expedition and we became junub, but we did not find water? As for you? She did not pray, but as for me, I lay down in the dirt and prayed. When we came to the Prophet, may God bless him and grant him peace, I mentioned that to him, and he said: “It was only It is enough for you.” The Prophet, may God bless him and grant him peace, struck his hand on the ground, then blew on it, and wiped his face and palms with them.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو اس نے کہا کہ میں جنبی ہوگیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا (تو میں کیا کروں؟) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نےفرمایا کہ تم نماز نہ پڑھو۔ (بلکہ پانی ملنے تک انتظار کرو) تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے امیرالمومنین، کیا آپ کویاد نہیں جب میں اور آپ ایک سریہ میں تھے تو ہم جنبی ہو گئے تھے اور ہمیں پانی نہیں ملا تھا۔ تو آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی جبکہ میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہوکر نماز پڑھ لی تھی۔ پھر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”تمہیں صرف اتنا ہی کافی تھا۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا پھر اس میں پُھونک ماری اور اُس کے ساتھ اپنے چہرے اور دونوں ہاتوں کا مسح کیا۔