Sahih Ibn Khuzaymah #2936
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " فَحِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ: «مَالَكِ أَنَفَسْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: "" إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ"
EnglishUnverified translation
Narrated to us ‘Abd al-Jabbar ibn al-‘Ala’, who said: Sufyan narrated to us, who said: I heard ‘Abd al-Rahman ibn al-Qasim informing on the authority of his father, on the authority of ‘A’ishah (RA), who said: We went out with the Messenger of Allah (ﷺ). She said: “I menstruated, so the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me while I was weeping. He said: ‘What is the matter with you? Is it your period?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘This is something that Allah has decreed for the daughters of Adam. So do what the pilgrim does, except that you should not perform Tawaf around the House.’” **CHAPTER:**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے۔ تو مجھے حیض آگیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رورہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تمھیں کیا ہوا ہے کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟“ میں نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ چیز تو اللہ تعالی نے حضرت آدم عليه السلام کی تمام بیٹیوں پر لکھ دی ہے (اس لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں) تم بیت اللہ شریف کا طواف چھوڑ کر باقی تمام اعمال اسی طرح کرو جیسے حاجی کرتے ہیں۔