Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 35 · Chapter 13

Chapters 851–875

بَابُ الْمُهِلَّةِ بِالْعُمْرَةِ تَقْدَمُ مَكَّةَ وَهِيَ حَائِضٌعمر

Chapter: The one who enters ihram for 'Umrah arriving in Makkah while menstruating

باب: عمرہ کے لیے احرام باندھنے والے کا حالت حیض میں مکہ پہنچنا

1 hadith in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2788

Sahih Ibn Khuzaymah #2788

Sahih

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ، وَأَنَا حَائِضٌ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ"، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ، قَالَ: هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ كُنْتُ زَمَانًا يَتَخَالَجُ فِي نَفْسِي مِنْ هَذِهِ اللَّفْظَةِ الَّتِي فِي خَبَرِ عَائِشَةَ، وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي وَكُنْتُ أَفْرُقُ أَنْ يَكُونَ فِي أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا بِذَلِكَ دَلالَةٌ عَلَى صِحَّةِ مَذْهَبِ مَنْ خَالَفَنَا فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عَائِشَةَ بِرَفْضِ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ وَجَدْتُ الدَّلِيلَ عَلَى صِحَّةِ مَذْهَبِنَا، وَذَلِكَ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَرَى أَنَّ الْمُعْتَمِرَ إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ حَلَّ لَهُ جَمِيعُ مَا يَحِلُّ لِلْحَاجِّ إِذَا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، وَكَانَ يَحِلُّ لِعَائِشَةَ بَعْدَ دُخُولِهَا الْحَرَمَ نَقْضُ رَأْسِهَا، وَالامْتِشَاطِ، حَدَّثَنَا بِالْخَبَرِ الَّذِي ذَكَرْتُ عَبْدُ الْجَبَّارِ، ثنا سُفْيَانُ، سَمِعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَالِكٍ، يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَمَرَتْهَا أَنْ تَنْقُضَ شَعَرَهَا وَتَغْسِلَهُ، وَقَالَتْ: إِنَّ الْمُعْتَمِرَ إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْحَاجِّ إِذَا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّمَا أَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتْرُكَ الْعَمَلَ بِعُمْرَةٍ مِنَ الطَّوَافِ وَالسَّعْيِ، لا أَنْ تَرْفُضَ الْعُمْرَةَ، وَأَمَرَهَا أَنْ تُهِلَّ بِالْحَجِّ، فَتَصِيرُ قَارِنَةً، وَهَذَا عِنْدَ الشَّافِعِيِّ كَفِعْلِ ابْنِ عُمَرَ حِينَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ: مَا أَرَى سَبِيلَهُمَا إِلا وَاحِدًا، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي، فَقَرَنَ الْحَجَّ إِلَى الْعُمْرَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ لِلْعُمْرَةِ وَيَسْعَى لَهَا فَصَارَ قَارِنًا، وَمَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا: هَذِهِ مَكَانُ الْعُمْرَةِ الَّتِي لَمْ يُمْكِنْكِ الْعَمَلَ لَهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ بَيَّنْتُ هَذَا الْخَبَرَ فِي الْمَسْأَلَةِ الطَّوِيلَةِ فِي تَأْلِيفِ أَخْبَارِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاخْتِلافِ أَلْفَاظِهِمْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ"

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la, who said: Ibn Wahb informed us, on the authority of Malik, who said: Ibn Shihab informed him, on the authority of 'Urwah, on the authority of 'A'ishah (RA), who said: "We set out with the Messenger of Allah (ﷺ) for the Farewell Pilgrimage, and we entered the state of ihram for 'umrah." She added: "I arrived in Makkah while I was menstruating. I had not performed tawaf around the House, nor the sa'i between Safa and Marwah. I complained about this to the Messenger of Allah (ﷺ), and he said: 'Untie your hair, comb it, and enter the state of ihram for Hajj, leaving the 'umrah.'" She said: "So I did that. When we had completed the Hajj, the Messenger of Allah (ﷺ) sent me with 'Abd al-Rahman ibn Abi Bakr to al-Tan'im, where I performed 'umrah." He (the narrator) said: "This is the place for your 'umrah." Abu Bakr (the narrator) said: "For a long time, I had doubts about the wording in the report of 'A'ishah (RA), particularly the statement of the Prophet (ﷺ) to her: 'Untie your hair and comb it.' I feared that it might imply that the Prophet (ﷺ) had commanded her to abandon the 'umrah entirely. However, I later found evidence supporting our view." He added: "'A'ishah (RA) used to hold the opinion that when a person performing 'umrah entered the Haram (sacred precincts of Makkah), all the restrictions that applied to a pilgrim after stoning the Jamrat al-'Aqabah were lifted for him. Thus, 'A'ishah (RA) believed that after entering the Haram, she could undo her braids and comb her hair." He further narrated: "The report I mentioned was related to us by 'Abd al-Jabbar, who said: Sufyan informed us, that Ibn Jurayj heard it from Yusuf ibn Malik, who informed him on the authority of 'A'ishah bint Talhah, that 'A'ishah (RA) had instructed her to undo her hair and wash it, saying: 'When a person performing 'umrah enters the Haram, he is in the same state as a pilgrim after stoning the Jamrat al-'Aqabah.'" Abu Bakr (the narrator) added: "Ash-Shafi'i said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) only commanded her to leave the actions of 'umrah, namely tawaf and sa'i, not to abandon the 'umrah itself. He commanded her to enter the state of ihram for Hajj, thus making her a Qarinah (one who combines Hajj and 'umrah without exiting the state of ihram between them).'" He continued: "This is according to the view of ash-Shafi'i, similar to the action of Ibn 'Umar (RA), who entered the state of ihram for 'umrah, then said: 'I do not see any other way but this one. I bear witness that I have made Hajj obligatory along with my 'umrah,' thus combining Hajj and 'umrah before performing tawaf and sa'i for the 'umrah, making him a Qarin." Regarding the meaning of the Prophet's (ﷺ) statement to her: "This is the place for the 'umrah that you were unable to perform," Abu Bakr (the narrator) said: "I have explained this report in detail in my lengthy treatise on the narrations of the Companions of the Prophet (ﷺ) and the differences in their wording regarding the Farewell Pilgrimage." ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ الوداع میں (سفر پر) نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا اور تلبیہ پکارا۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں مکّہ مکرّمہ اس حال میں پہنچی کہ میں حائضہ تھی۔ میں نے بیت اللہ شریف کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا مروہ کی سعی کی۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بال کھول دو، کنگھی کرلو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرے کے اعمال چھوڑ دو۔ لہٰذا میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جب ہم نے حج ادا کرلیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا (تاکہ وہاں سے عمرے کا احرام باندھ سکوں) پس میں نے عمرہ ادا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے عمرے کے بدلے میں ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ کافی عرصے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کے بارے میں میرا دل اُلجھن اور تردد کا شکار تھا۔ نبی اکر صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے یہ فرمانا: ”اپنے سر کے بال کھول دو اور کنگھی کرلو۔“ مجھے خدشہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ حُکم دینے میں ہمارے مخالفین کے مذہب کی دلیل ہے جو اس مسئلہ میں کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کوعمرہ فسخ کرنے کا حُکم دیا تھا۔ پھر مجھے اپنے مذہب اور موقف کے درست ہونے کی دلیل مل گئی اور وہ یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف یہ تھا کہ عمرہ کرنے والا حرم میں داخل ہو جائے تو اُس کے لئے وہ تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں جو حج کرنے والے پر جمرہ عقبہ کی رمی کر لینے کے بعد ختم ہو جاتی ہیں۔ اس لئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حدود حرم میں داخل ہونے کے بعد بال کھولنا اورکنگھی کرنا حلال تھا۔ اس کی دلیل وہ روایت ہے جو انہوں نے بیان کی ہے کہ حضرت عائشہ بن طلحہ بیان کرتی ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں حُکم دیا کہ وہ اپنے بال کھول دے اور انہیں دھولے، اور انہوں نے فرمایا کہ بیشک عمرہ کرنے والا جب حدود حرم میں داخل ہو جاتا ہے تو وہ اسی طرح حلال ہو جاتا ہے جیسے حاجی جمرہ عقبہ کو رمی کرنے کے بعد حلال ہو جاتا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمه الله یہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے عمرے میں طواف اور سعی سے روکا تھا، یہ نہیں کہ اُنہیں عمرہ نہ کرنے کا حُکم دیا تھا۔ آپ نے اُنہیں حُکم دیا تھا کہ وہ حج کا احرام باندھ کر حج قران کی نیت کرلیں۔ امام شافعی رحمه الله کی یہ رائے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل جیسی بھی ہے۔ جیسا کہ اُنہوں نے پہلے عمرے کا احرام باندھا تھا پھر کہنے لگے کہ میرے خیال میں حج اور عمرے حُکم و طریقہ ایک ہی ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کی نیت بھی کرلی ہے، اس طرح انہوں نے عمرے کی سعی اور طواف کرنے سے پہلے اپنے عمرے کے ساتھ حج کو بھی ملا لیا۔ اور وہ حج قران کرنے والے بن گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرمانا کہ ”یہ تمہارے عمرے کی جگہ ہے“ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اعمال تم ادا نہیں کر سکی تھیں وہ اب ادا کر لیے ہیں۔ یہ ان کا بدلہ ہو گئے ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے اس روایت کو ایک طویل مسئلے میں بیان کیا ہے جس میں میں نے حجة الوداع کے بارے میں صحابہ کرام کی روایات اور ان کے مختلف الفاظ کو جمع کرکے ان میں معنوی اتحاد و اتفاق پیدا کیا ہے۔