Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 34 · Chapter 24

Chapters 826–850

بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ [عَلَى] أَنَّ اللَّهَ- عَزَّ وَجَلَّ- إِنَّمَا أَعْلَمَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِمْ فِي الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِاس بات کی دلیل کا بیان ک

Chapter: Mention of the evidence that Allah, Mighty and Majestic, only informed the companions of the Prophet, peace be upon him, that there is no sin upon them in circumambulating between al-Safa and al-Marwah

باب: اس دلیل کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو صرف یہ بتایا کہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے میں ان پر کوئی گناہ نہیں

3 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2766

Sahih Ibn Khuzaymah #2766

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: قَرَأْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، قُلْتُ: مَا أَرَى عَلَى مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، قَالَتْ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ يَطُوفُونَ مِنْ بَيْنِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا كَانَ الإِسْلامُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: فَنَزَلَتْ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، قَالَتْ: فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتْ سُنَّةً ، وَقَالَ غَيْرُهَا، قَالَ اللَّهُ: فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا، فَتَطَوَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا لَعِلْمٌ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ: سَأَلَ النَّاسُ الَّذِينَ كَانُوا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أُمِرْنَا أَنْ نَطُوفَ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ نُؤْمَرْ أَنْ نَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، فَأَرَاهَا نَزَلَتْ فِي هَؤُلاءِ وَفِي هَؤُلاءِ، ثَنَاهُ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، بِنَحْوِهِ دُونَ قِصَّةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ"

EnglishUnverified translation

Abdul Jabbar ibn Al-Ala narrated to us: Sufyan narrated to us, from Az-Zuhri, from Urwah, who said: I recited in the presence of Aisha, "Indeed, As-Safa and Al-Marwah are among the symbols of Allah" (Surah Al-Baqarah, verse 158). I said: I do not see anything wrong upon one who does not perform tawaf between them. She said: What an evil thing you have said, O son of my sister! It was only those who dedicated themselves to Manat, the idol which was at Al-Mushallal, who used to perform tawaf between As-Safa and Al-Marwah. When Islam came, they said: O Messenger of Allah, our tawaf between these two hills was a practice of the Days of Ignorance (Jahiliyyah). She said: Then this was revealed: "Indeed, As-Safa and Al-Marwah are among the symbols of Allah." She said: So the Messenger of Allah ﷺ performed tawaf between them, and it became an established practice (Sunnah). And someone other than her said: Allah said: "So whoever volunteers good..." Thus the Messenger of Allah ﷺ volunteered and performed tawaf. Az-Zuhri said: I narrated this to Abu Bakr ibn Abdur-Rahman, and he said: This is indeed knowledge. I have heard men of knowledge

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ آیت پڑھی «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 108] ”بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ میں نے کہا کہ جو شخص ان دونوں کے درمیان سعی نہ کرے، میرے خیال میں اسے کوئی گناہ نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میرے بھائی، تم نے بہت غلط بات کی ہے۔ اصل صورت حال یہ ہے کہ (جاہلیت میں) جو لوگ مشلل جگہ پر واقع مناة بت کے نام پر احرام باندھتے تھے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے تھے۔ پھر جب اسلام کا دور آیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، ان دو پتھروں کے درمیان سعی کرنا تو جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی ہے «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 108] ”بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کی سعی کی، اس طرح یہ عمل سنّت بن گیا۔ ایک اور صحابی کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا» [ سورة البقرة: 184 ] ”تو جو شخص خوشی سے نیکی کرے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی سے یہ نیک عمل کیا اور سعی کی۔ امام زہری فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابو بکر بن عبد الرحمان کو بیان کی تو وہ فرمانے لگے کہ علم تو بس یہی ہے۔ میں نے کئی اہل علم کو سنا وہ فرماتے تھے کہ جو لوگ صفا اور مروہ کی سعی کرتے تھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، ہمیں بیت الله شریف کا طواف کرنے کا حُکم دیا گیا ہے اور صفا اور مروہ کی سعی کرنے کا حُکم نہیں دیا گیا۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 108] ”بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ اس لئے میرے خیال میں یہ آیت دونوں گروہوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

2767

Sahih Ibn Khuzaymah #2767

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ الأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ، وَغَسَّانُ يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ، فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَكَانَ ذَلِكَ سُنَّةً فِي أَيَّامِهِمْ مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَنَّهُمْ حِينَ أَسْلَمُوا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ شَاكِرٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 158، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: هِيَ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مَنْ كَانَ يُهِلُّ لِمَنَاةَ، وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ مِنَ الطَّوَافِ بَيْنَهُمَا، لا أَنَّهُمُ كَانُوا يَطُوفُونَ بَيْنَهُمَا كَخَبَرِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ رِوَايَةِ يُونُسَ، وَمُتَابَعَةِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِيَّاهُ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى سَأُخَرَّجُ خَبَرَ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي الْبَابِ الَّذِي يَلِي هَذَا الْبَابَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَخَبَرُ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، دَالٌ أَيْضًا أَنَّ الأَنْصَارَ كَانُوا هُمُ الَّذِينَ يَتَحَرَّجُونَ مِنَ الطَّوَافِ بَيْنَهُمَا قَبْلَ نُزُولِ هَذِهِ الآيَةِ

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Isa ibn Ibrahim, who said: Narrated to us by Ibn Wahb, on the authority of Yunus, from Ibn Shihab, from Urwah ibn al-Zubayr, that Aisha (RA) informed him: Before the Ansar embraced Islam, and before Ghassan did, they used to invoke (make talbiyah for) Manat. Consequently, they felt religious scruple (was hesitant) to perform Tawaf between As-Safa and Al-Marwah. This was their established custom in those days

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انصاری لوگ اور غسان قبیلے کے افراد اسلام لانے سے پہلے مناة بت کے نام کا احرام باندھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج محسوس کیا۔ اور یہ ان کے دور کا دستور بھی تھا کہ جوشخص مناف کے نام کا احرام باندھتا تھا وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کرتا تھا۔ اور جب وہ مسلمان ہو گئے تو اُنہوں نے رسول اللہ سے پوچھا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 108] ”بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ حضرت عروہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ سنّت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رائج اور جاری کیا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ صحیح بات وہی ہے جسے امام یونس نے امام زہری سے روایت کیا ہے کہ جو لوگ مناة بت کے نام کا احرام باندھتے تھے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے، یہ نہیں کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ امام ابن عینیہ کی روایت میں ہے کہ جناب یونس کی روایت کے درست ہونے کی دلیل جناب ہشام بن عروہ کی اس معنی میں روایت ہے جس میں انہوں نے یونس کی متابعت کی ہے۔ ہشام بن عروہ کی روایت میں اگلے باب میں بیان کروںگا، ان شاء اللہ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے انصار ہی تھے جو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے۔

2768

Sahih Ibn Khuzaymah #2768

Sahih

ثنا بِخَبَرِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَتِ الأَنْصَارُ يَكْرَهُونَ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى نَزَلَتْ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، زَادَ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ: فَطَافُوا

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bakr ibn Khālid, on the authority of ʿĀṣim, on the authority of Anas ibn Mālik (RA), who said: The Ansār used to dislike performing the Tawāf between al-Ṣafā and al-Marwah until the verse was revealed: *"Indeed, aṣ-Ṣafā and al-Marwah are among the symbols of Allah."* [Qur'an 2:158] Salm ibn Junādah (RA) added: So they began to perform the Tawāf between them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصاری صحابہ کرام صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا ناپسند کرتے تھے حتّیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی: «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 158 ] ”بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ جناب سلم بن جنادہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر انہوں نے سعی کرنا شروع کردی۔