Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 34 · Chapter 25

Chapters 826–850

بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ عَائِشَةَ لَمْ تُرِدْ بِقَوْلِهَا: \ هِيَ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ \" أَنَّ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا سُنَّةٌ يَتِمُّ الْحَجُّ بِتَرْكِهِاس بات کی دلیل کا بیان ک

Chapter: Mention of the evidence that Aisha did not mean, by her statement "It is a Sunnah which the Messenger of Allah, peace be upon him, established," that circumambulation between them is a Sunnah by whose omission the Hajj is still complete

باب: اس دلیل کا ذکر کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول سے کہ "یہ ایک سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا" ان کی مراد یہ نہیں تھی کہ ان کے درمیان طواف ایک ایسی سنت ہے جس کے چھوڑنے سے حج پھر بھی مکمل ہو جاتا ہے

1 hadith in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2769

Sahih Ibn Khuzaymah #2769

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : مَا أَرَى عَلَيَّ مِنْ جُنَاحٍ أَنْ لا أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَتْ: وَلِمَ؟ قُلْتُ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، فَقَالَتْ: لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذَا فِي أُنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا، أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَةَ، فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، لأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، فَهُمَا مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهَا: فَلا يَحِلُّ لَهُمْ تُرِيدُ عِنْدَ أَنْفُسِهِمْ فِي دِينِهِمْ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn al-'Ala' ibn Kurayb, narrated to us 'Abd al-Rahim — meaning Ibn Sulayman — on the authority of Hisham ibn 'Urwah, on the authority of 'Urwah, who said: I said to 'A'ishah (RA), "I do not see any harm in not performing Tawaf between Safa and Marwah." She said, "Why?" I said, "Because Allah says: 'So whoever performs Hajj to the House or performs 'Umrah, there is no blame upon him for performing Tawaf between them.' (Quran 2:158)" She replied, "If it were as you say, it would be otherwise. There is no blame upon him for not performing Tawaf between them. Allah only revealed this verse concerning some people of the Ansar who, in the Days of Ignorance, would consecrate themselves to Manat. Hence, it was not lawful for them to perform Tawaf between Safa and Marwah. When they came with the Messenger of Allah (ﷺ) for Hajj, they mentioned this to him, so Allah revealed this verse. By my life, Allah does not complete the Hajj of one who does not perform Tawaf between Safa and Marwah, for Allah the Exalted says: 'Indeed, Safa and Marwah are among the symbols of Allah.' (Quran 2:158). Thus, they are among the symbols of Allah." Abu Bakr (a narrator in the chain) said: Her statement, "It was not lawful for them," means according to their own understanding in their religion. ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ میری رائے یہ ہے کہ اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کروں تو مجھ پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اُنہوں نے پوچھا، وہ کیسے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا» [ سورة البقرة: 158 ] ”پس جو بیت اللہ شریف کا حج یا عمرہ کرے تو اُس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف (سعی) کرے۔“ اُنہوں نے فرمایا کہ اگر بات ویسے ہی ہوتی ہے جیسے تُو کہہ رہا ہے تو پھر آیت اس طرح ہونی چاہیے تھی ”فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا“ (تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے۔) بلا شبہ یہ آیت تو انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ وہ جاہلیت میں مناة بت کے نام پر احرام باندھتے تھے تو وہ اپنے لئے صفا مروہ کی سعی حلال نہیں سمجھتے تھے۔ پھر جب وہ (مسلمان ہونے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے مکّہ مکرّمہ آئے تو اُنہوں نے یہ بات آپ کو بتائی، اس پر الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی۔ میری عمر کی قسم، جو شخص صفا اور مروہ کی سعی نہیں کریگا اللہ تعالیٰ اُس کا حج مکمّل نہیں کریگا۔ کیونکہ الله تعالیٰ فرماتا ہے «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 158 ] ”بیشک صفا اور مروہ الله تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمان کہ ان کے لئے سعی کرنا حلال نہ تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے جاہلی عقیدے کے مطابق ان کے لئے صفا مروہ کی سعی کرنا حلال نہ تھا۔