Sahih Ibn Khuzaymah #1587
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ جَهَرَ بِالْقُرْآنِ"، وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ:" رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ"، وَقَالا:" فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا، سَبُّوا الْقُرْآنَ، وَمَنْ أَنْزَلَهُ، وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110 أَيْ بِقِرَاءَتِكَ، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ، فَيَسُبُّونَ الْقُرْآنَ. وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ، فَلا يَسْمَعُونَ، وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110" . قَالَ الدَّوْرَقِيُّ:" عَنْ أَصْحَابِكَ، فَلا تُسْمِعُهُمْ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي كِتَابِ الإِيمَانِ أَنَّ الاسْمَ قَدْ يَقَعُ عَلَى بَعْضِ أَجْزَاءِ الشَّيْءِ ذِي الأَجْزَاءِ وَالشُّعَبِ، قَدْ أَوْقَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ اسْمَ الصَّلاةِ عَلَى الْقِرَاءَةِ فِيهَا فَقَطْ، وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110، أَرَادَ الْقِرَاءَةَ فِيهَا، وَلَيْسَ الصَّلاةَ كُلَّهَا، الْقِرَاءَةُ فِيهَا فَقَطْ"
EnglishUnverified translation
Yaqoub bin Ibrahim Al-Dawraqi and Ahmad bin Muni’ told us, saying: Hushaym told us, Abu Bishr told us, on the authority of Sa’id, on the authority of Ibn Abbas, in the Almighty’s saying: And do not say your prayer loudly, nor be silent in it. Surat Al-Isra, verse 110. He said: “It was revealed while the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, was hidden.” In Mecca, when he led his Companions in prayer, he would recite the Qur’an out loud.” Al-Durqi said: “He raised his voice with the Qur’an,” and they said: “So when the polytheists heard, They cursed the Qur’an, and whoever sent it down, and whoever brought it. Then God said to his Prophet, may God bless him and grant him peace: And do not recite Surah Al-Isra ayat 110 out loud in your prayer, that is, by your recitation. Then the polytheists will hear and curse the Qur’an, and do not fear it, Surah Al-Isra, Verse 110, from your companions, but they will not listen, but seek in the midst of that a way. Surah Al-Isra, Verse 110 110". Al-Durqi said: “About your friends, so do not listen to them.” Abu Bakr said: This report is of the type that I learned in the Book of Faith, that the name may apply to some parts of a thing with parts. And the people, God Almighty has assigned the name of prayer to the recitation in it only, and do not recite your prayer out loud, Surah Al-Isra, verse 110. He meant the recitation in it, not the prayer. All of them, reading only
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تفسیر میں فرماتے ہیں «وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا» [ سورة الإسراء: 110 ] ”اپنی نماز نہ زیادہ بلند آواز سے پڑھیں، نہ بالکل پست آواز سے۔“ یہ آیت مبارکہ اُس وقت نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ میں چھپے ہوئے تھے - آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھاتے تو بلند آواز سے قرآن مجید پڑھتے۔ جناب الدورقی کی روایت میں ہے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت کرتے وقت اپنی آواز بلند کرتے۔ لہٰذا جب مشرکین قرآن کی تلاوت سنتے تو قرآن مجید کو گالیاں دیتے، اس کے نازل کرنے والے اور اُسے لانے والے کو سب و شتم کرتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حُکم دیا «وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ» ” اپنی قراءت کو بلند آواز سے نہ کریں۔“ کہ مشرکین اسے سن کو قرآن مجید کو گالیاں دیں «وَلَا تُخَافِتْ بِهَا» اور نہ اتنی پست آواز میں قراءت کریں کہ آپ کے صحابہ کرام سن نہ سکیں۔ «وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا» اور ان دونوں کے درمیانی راہ اختیار کریں۔ جناب الدورقی کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے اتنی پست آواز نہ رکھیں کہ آپ اُنہیں قرأت سنا نہ سکیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت اس جنس کے متعلق ہے جس کے بارے میں کتاب الایمان میں بیان کرچکا ہوں کہ کبھی اسم کا اطلاق مختلف اجزاء اور شاخوں والی چیز کے کسی ایک جزء یا شاخ پر بھی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے، اس روایت میں، نماز کا اطلاق صرف قراءت پر کیا ہے «وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ» ”اپنی قراءت کو بلند نہ کریں۔“ اس میں صلاۃ سے مراد صرف قراءت ہے پوری نماز مراد نہیں ہے۔