Sahih Ibn Khuzaymah #1586
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، نا أَبُو عَامِرٍ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ أَيْضًا، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ زَرْبِيٍّ مَوْلًى لآلِ الْمُهَلَّبِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي خِصَالا ثَلاثَةً"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: وَمَا هَذِهِ الْخِصَالُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَعْطَانِي صَلاةً فِي الصُّفُوفِ، وَأَعْطَانِي التَّحِيَّةَ، إِنَّهَا لَتَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَعْطَانِي التَّأْمِينَ، وَلَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا مِنَ النَّبِيِّينَ قَبْلُ، إِلا أَنْ يَكُونَ اللَّهُ أَعْطَى هَارُونَ، يَدْعُو مُوسَى وَيُؤَمِّنُ هَارُونُ"""
EnglishUnverified translation
Muhammad bin Muammar Al-Qaisi told us, Abu Amir told us, and Muhammad bin Muammar also told us, Harami bin Amara told us, on the authority of Zarbi, a client of Al Al-Muhallab said: I heard Anas bin Malik say: We were sitting with the Prophet, may God bless him and grant him peace, and he said: “God has given me three qualities.” A man from his companions: What are these qualities, O Messenger of God? He said: “He gave me prayer in the rows, and he gave me the greeting. It is the greeting of the people of Paradise, and he gave me insurance, and he did not give it to any of the prophets.” Before, unless God gave it to Aaron, Moses would pray and Aaron would believe.”
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے تین خصوصی چیزیں عطا فرمائی ہیں، حاضرین مجلس میں سے ایک شخص نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، وہ کون سی چیزیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ””اللہ تعا لیٰ نے مجھے صفیں بنا کر نماز پڑھنی عطا کی ہے اور مجھے سلام سے نوازاہے اور بلاشبہ وہ اہل جنّت کا تحفہ اور سلام ہوگا اور مجھے آمین عطا کی ہے۔ مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ عطا نہیں ہوئی۔ سوائے ہارون علیہ السلام کے کہ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں آمین عطا کی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے اور ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے۔