Sahih Ibn Khuzaymah #1585
أنا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، نا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ يَهُودِيٌّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَعَرَفْتُ كَرَاهِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ، فَسَكَتُّ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ:" وَعَلَيْكَ"، فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَعَرَفْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ. ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثُ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ: وَعَلَيْكَ السَّامُ وَغَضَبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ اللَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ، قَالُوا قَوْلا، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِمْ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ حُسَّدٌ، وَإِنَّهُمْ لا يَحْسُدُونَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَا عَلَى السَّلامِ، وَعَلَى آمِينَ"""
EnglishUnverified translation
I am Abu Bishr Al-Wasiti, from Khaled, meaning Ibn Abdullah, on the authority of Suhail, on the authority of his father, on the authority of Aisha, who said: A Jew entered the Prophet’s house. May God’s prayers and peace be upon him, and he said: May peace be upon you. Then the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “And upon you.” Aisha said: I decided to speak, but I knew the hatred of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, for that, so I remained silent, then another one came in and said: Al-Saam. On you, so he said: “And on you,” so I decided to speak, and I knew that the Prophet, may God bless him and grant him peace, hated that. Then the third came in and said: May peace be upon you. I was not patient until I said: May peace be upon you and the wrath and curse of God be upon you, brothers of apes and pigs. Do you live? Why did God not revive the Messenger of God? Then the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “Indeed, God does not like indecency and obscenity.” They said something, and we responded to them. “Indeed, the Jews are an envious people.” And they do not envy us for anything as they envy us for peace, and Amen.”
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا: «السَّامُ عَلَيْكَ» ”آپ کو موت آجائے“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے جواب دیا: «وَعَلَيْكَ» ”اور تمہیں بھی موت آجائے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے بولنے کا ارادہ کیا پھر میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندگی کو بھانپتے ہوئے خاموشی اختیار کی۔ پھر ایک اور یہودی آیا اور اُس نے بھی آکر کہا کہ «السَّامُ عَلَيْكَ» ”آپ پر موت طاری ہو“ آپ نے جواباً کہا «وَعَلَيْكَ» ”اور تم پر بھی۔“ میں نے پھر کلام کرنے کا ارادہ کیا مگر میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نا پسنددیدگی جان لی (اس لئے خاموش رہی)۔ پھر تیسرا آیا تو اُس نے بھی کہا کہ «السَّامُ عَلَيْكَ» ” آپ پر موت واقع ہو“ مجھ سے (اس بار) صبر نہ ہو سکا تو میں نے جواب دیا کہ اور تم پر موت واقع ہو۔ خنازیر اور بندروں کے بھائیوں پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہو۔ کیا تم اللہ کے رسول کو اس طریقے سے سلام کرتے ہو جس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کرنا نہیں سکھایا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناًً اللہ تعالیٰ بدکلامی اور عملاً فحش گوئی کر نے والے کو پسند نہیں کرتا۔ ان یہودیوں نے ایک بات کی تھی تو ہم نے بھی انہیں جواب دے دیا تھا۔ بلاشبہ یہودی بہت حاسد قوم ہے اور وہ جس قدر ہمارے (آپس میں) سلام کرنے اور آمین کہنے پر حسد کرتے ہیں، اس قدر ہماری کسی اور چیز پر حسد نہیں کرتے۔“