Sahih Ibn Khuzaymah #1466
نَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: كُنَّا نَمْنَعُ عَوَاتِقَنَا أَنْ يَخْرُجْنَ، فَقَدِمَتِ امْرَأَةٌ، فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ، فَحَدَّثَتْ أَنَّ أُخْتَهَا كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً، كَانَتْ أُخْتِي مَعَهُ فِي سِتِّ غَزَوَاتٍ، قَالَتْ: كُنَّا نُدَاوِي الْكَلْمَى، وَنَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى، فَسَأَلَتْ أُخْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هَلْ عَلَى إِحْدَانَا بَأْسٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ أَنْ لا تَخْرُجَ؟ قَالَ: لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا، وَلْتَشْهَدِ الْخَيْرَ، وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ" فَلَمَّا قَدِمَتْ فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ سَأَلْتُهَا أَوْ سَأَلْنَاهَا، فَقُلْنَا: سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كَذَا وَكَذَا، وَكَانَتْ لا تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلا قَالَتْ: بِأَبِي. فَقَالَتْ: نَعَمْ، بِأَبِي. قَالَ:" لِتَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُورِ، أَوِ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ، وَالْحُيَّضُ فَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ، وَتَعْتَزِلُ الْحَائِضُ الْمُصَلَّى" ، قُلْتُ لأُمِّ عَطِيَّةَ: الْحَائِضُ؟ قَالَتْ: أَلَيْسَتْ تَشْهَدُ عَرَفَةَ، وَتَشْهَدُ كَذَا، وَتَشْهَدُ كَذَا؟"
EnglishUnverified translation
Abu Hashem narrated to us Ziyad bin Ayyub, narrated to us Ismail bin Aliya, narrated to us Ayoub, on the authority of Hafsa, she said: We used to prevent our burdens from They were leaving, and a woman came and stayed at the palace of Banu Khalaf. She reported that her sister was under a man from the companions of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace. He fought twelve battles with the Messenger of God, may God bless him and grant him peace. My sister was with him on six battles. She said: We were seeking treatment. We take care of the sick, so my sister asked the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, and she said: Is there harm to one of us if she does not have A robe so that she does not go out? He said: “So that its companion may wear it from her jilbab, and so that she may witness goodness, and invite the believers.” When Umm Atiyya came, I asked her: Or we asked her, and we said: I heard the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, saying: Such and such, and she did not mention the Messenger of God, may God bless him and grant him peace. He said hello, but she said: By my father. She said: Yes, by my father. He said: “Let the freed women with immorality, or the freed women and the immature women, and menstruating women come out and witness goodness and the call of the believers, and separate themselves from each other.” The menstruating woman who is praying.” I said to Umm Atiya: The menstruating woman? She said: Doesn't she witness Arafat, and witness this, and witness that?
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم اپنی جوان لڑکیوں کو (عید کے لئے) نکلنے سے منع کرتی تھیں۔ ایک خاتون آئیں اور بنی خلف کے محل میں اُتریں، اُس نے بیان کیا کہ اُس کی بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کی بیوی تھی، جس صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوات میں شرکت کی تھی، میری بہن چھ غزوات میں اُن کے ساتھ تھی، وہ فرماتی ہیں کہ ہم زخمیوں کا علاج کرتی تھیں اور بیماروں کی تیمارداری کرتی تھیں۔ میری بہن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا ہم میں سے کسی عورت کو گناہ ہو گا اگر وہ چادر نہ ہونے کی وجہ سے نکل نہ سکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی سہیلی کو چاہیے کہ وہ اُسے اپنی چادروں میں سے کوئی چادر اوڑھنے کے لئے دے دے اور وہ نیکی کے کام اور مؤمنوں کی دعا میں شریک ہو جائے۔“ پھر جب سیدہ اُم عطیہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو میں نے اُن سے پوچھا یا ہم نے اُن سے پوچھا، ہم نے کہا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ایسے فرماتے ہوئے سنا ہے؟ سیدہ اُم عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویاد کرتیں تو کہتیں کہ میرا باپ آپ پر قربان۔ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ ہاں، میرا باپ آپ پر قربان ہو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”نوجوان، پردہ نشین عورتوں یا نوجوان اور پردہ نشین عورتوں اور حائضہ عورتوں کو (عید کے لئے) نکلنا چاہئے۔ وہ خیر و بھلائی کے کاموں میں شریک ہوں اور مؤمنوں کی دعا میں حاضر ہوں لیکن حائضہ نمازگاہ سے الگ رہے، میں نے اُم عطیہ کو کہا تو کیا حائضہ بھی جائے گی؟ اُنہوں نے جواب دیا کیا حائضہ میدان عرفات میں (حج کے لئے) حاضری نہیں دیتی اور کیا وہ فلاں فلاں کام میں شریک نہیں ہوتی؟ کیا وہ فلاں فلاں مقام پر حاضر نہیں ہوتی؟