Sahih Ibn Khuzaymah #1459
نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ، فَبَدَأَ بِالصَّلاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ، فَأَتَى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلالٍ، وَبِلالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ، يُلْقِينَ النِّسَاءُ صَدَقَةً" ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: زَكَاةُ يَوْمِ الْفِطْرِ؟ قَالَ:" لا، وَلَكِنَّهُ صَدَقَةٌ يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ، تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتْخَهَا، وَيُلْقِينَ"، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَتَرَى حَقًّا عَلَى الإِمَامِ الآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ حِينَ يَفْرُغَ، فَيُذَكِّرَهُنَّ؟ قَالَ:" أَيْ، لَعَمْرِي إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ، وَمَالَهُمْ لا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ؟"""
EnglishUnverified translation
Muhammad bin Rafi’ told me, Abdul Razzaq told me, Ibn Jurayj told me, Ata told me, on the authority of Jabir bin Abdullah, he said: I heard him. He says: The Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, “rose on the Day of Fitr, and began to pray before the sermon, then he addressed the people. When the Prophet of God finished, he prayed May God bless him and grant him peace. He descended and went to the women and reminded them. He was leaning on Bilal’s hand, and Bilal was spreading his garment, giving the women charity. I said For giving: Zakat on the Day of Fitr? He said: “No, but it is charity to be given in charity at that time. The woman throws her semen, and they throw it away.” I said to Ataa: Do you think it is right for the imam to come now? When he finishes with women, does he remind them? He said: “That is, by my life, this is a duty upon them, and why should they not do that?”
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر والے دن کھڑے ہوئے، تو خطبے سے پہلے نماز سے ابتداء کی، پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو عورتوں کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں نصیحت فرمائی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلایا ہوا تھا۔ جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں۔ جناب ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے امام عطا ء سے پو چھا، کیا یہ صدقہ فطر تھا؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں لیکن وہ ایک عام صدقہ تھا جو اُنہوں نے اسی وقت ادا کیا تھا۔ عورت اپنا کنگن یا چھلہ وغیرہ (سیدنا بلال کی چادر میں) ڈال رہی تھیں اور وہ (زیورات وغیرہ) صدقہ کررہی تھیں۔ میں نے جناب عطاء سے پوچھا، کیا آپ کے نزدیک اب بھی امام کے لئے ضروری اور واجب ہے کہ وہ خطبے سے فارغ ہو کر عورتوں کے پاس آئے اور اُنہیں وعظ ونصیحت کرے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں۔ میری عمر کی قسم، یہ اُن پر واجب ہے۔ کیا وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے؟