Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 1 · Chapter 3

مقدمہ

3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی حالت کا بیان

3 hadiths in this chapter

13

Sunan Darmi #13

Zaeef

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ: كَيْفَ كَانَ أَوَّلُ شَأْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: "كَانَتْ حَاضِنَتِي مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا، وَابْنٌ لَهَا فِي بَهْمٍ لَنَا وَلَمْ نَأْخُذْ مَعَنَا زَادًا، فَقُلْتُ: يَا أَخِي، اذْهَبْ فَأْتِنَا بِزَادٍ مِنْ عِنْدِ أُمِّنَا، فَانْطَلَقَ أَخِي وَمَكَثْتُ عِنْدَ الْبَهْمِ، فَأَقْبَلَ طَائِرَانِ أَبْيَضَانِ كَأَنَّهُمَا نَسْرَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَهُوَ هُوَ؟، قَالَ الْآخَرُ: نَعَمْ، فَأَقْبَلَا يَبْتَدِرَانِي فَأَخَذَانِي فَبَطَحَانِي لِلْقَفَا فَشَقَّا بَطْنِي ثُمَّ اسْتَخْرَجَا قَلْبِي فَشَقَّاهُ، فَأَخْرَجَا مِنْهُ عَلَقَتَيْنِ سَوْدَاوَيْنِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: ائْتِنِي بِمَاءِ ثَلْجٍ، فَغَسَلَ بِهِ جَوْفِي، ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِمَاءِ بَرَدٍ، فَغَسَلَ بِهِ قَلْبِي، ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِالسَّكِينَةِ فَذَرَّهُ فِي قَلْبِي، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: حُصْهُ، فَحَاصَهُ وَخَتَمَ عَلَيْهِ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ وَاجْعَلْ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِهِ فِي كِفَّةٍ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَإِذَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْأَلْفِ فَوْقِي أُشْفِقُ أَنْ يَخِرَّ عَلَيَّ بَعْضُهُمْ، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ أُمَّتَهُ وُزِنَتْ بِهِ لَمَالَ بِهِمْ، ثُمَّ انْطَلَقَا وَتَرَكَانِي"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَفَرِقْتُ فَرَقًا شَدِيدًا، ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى أُمِّي فَأَخْبَرْتُهَا بِالَّذِي لَقِيتُ، فَأَشْفَقَتْ أَنْ يَكُونَ قَدْ الْتَبَسَ بِي، فَقَالَتْ: أُعِيذُكَ بِاللَّهِ، فَرَحَلَتْ بَعِيرًا لَهَا، فَجَعَلَتْنِي عَلَى الرَّحْلِ وَرَكِبَتْ خَلْفِي حَتَّى بُلَغْنَا إِلَى أُمِّي، فَقَالَتْ: أَدَّيْتُ أَمَانَتِي وَذِمَّتِي، وَحَدَّثَتْهَا بِالَّذِي لَقِيتُ، فَلَمْ يَرُعْهَا ذَلِكَ، وَقَالَتْ: إِنِّي رَأَيْتُ حِينَ خَرَجَ مِنِّي شَيْئًا، يَعْنِي: نُورًا أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عتبۃ بن عبدالسلمی رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول الله! آپ کی ابتدائی حالت کیا تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری رضاعی ماں قبیلہ بنی سعد بن بکر کی تھیں، میں ان کے بیٹے کے ہمراہ ان کی بھیڑوں کے ساتھ نکلا، ہمارے ساتھ کھانے پینے کو کچھ نہ تھا، میں نے (اپنے رضاعی بھائی سے) کہا: اے بھائی جاؤ اور ماں کے پاس سے کھانا لے آؤ، لہذا بھائی تو چلا گیا اور ریوڑ کے پاس میں ہی تنہا رہ گیا (کیا دیکھتا ہوں) دو سفید پرندے جو گدھ کی طرح کے تھے، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: کیا یہ وہی ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا: ہاں وہی ہیں، پھر دونوں میری طرف لپکے، مجھے پکڑا اور گدی کے بل لٹا دیا، میرا پیٹ چاک کیا اور میرے دل کو نکالا اور اسے بھی چاک کیا اور اس سے دو کالے لوتھڑے نکالے، پھر ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا: برف کا پانی لاؤ، پھر اس سے میرے پیٹ کو دھویا، پھر کہا اولوں کا پانی لاؤ اور اس سے میرے دل کو دھو دیا، پھر کہا میرے پاس سکینہ (اطمینان) کو لاؤ اور اسے میرے دل پر چھڑک دیا، پھر ایک نے دوسرے ساتھی سے کہا ان کو ایک پلڑے میں رکھ دو اور ان کی امت کے ہزار افراد کو دوسرے پلڑے میں۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا اس کی سلائی کر دو چنانچہ ٹانکے لگا دیئے اور اس پر مہر نبوت ثبت کردی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں ان ہزار کو اپنے سے اوپر دیکھتا ہوں تو ڈر لگنے لگتا ہے کہ ان میں سے کوئی (اس پلڑے سے) گر نہ جائے۔ اس واقعہ کے بعد مجھے بہت ڈر لگا اور میں نے ماں کے پاس جا کر سارا ماجرا بیان کیا اور انہیں ڈر لگا کہ کہیں مجھے آسیب تو نہیں آ گیا، کہنے لگیں: میں تمہارے لئے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں پھر اپنے اونٹ کو لے کر چل پڑیں مجھے آگے بٹھایا اور خود پیچھے بیٹھیں یہاں تک کہ ہم اپنی والدہ صاحبہ کے پاس پہنچے اور وہ ان سے یوں گویا ہوئیں: میں نے اپنی امانت اور ذمے داری کا حق ادا کر دیا ہے اور اس کے بعد رضاعی ماں نے میرے اوپر جو گزری اس کا ماجرا بیان کر دیا لیکن والدہ صاحبہ بالکل خوف زدہ نہیں ہوئیں بلکہ کہنے لگیں جب یہ پیدا ہوئے تو میں نے دیکھا کہ میرے اندر سے ایسا نور خارج ہوا جس سے شام کے کل روشن ہو گئے۔“

14

Sunan Darmi #14

See Details

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ عَلِمْتَ أَنَّكَ نَبِيٌّ حَتَّى اسْتَيْقَنْتَ؟، فَقَالَ:"يَا أَبَا ذَرٍّ، أَتَانِي مَلَكَانِ وَأَنَا بِبَعْضِ بَطْحَاءِ مَكَّةَ فَوَقَعَ أَحَدُهُمَا عَلَي الْأَرْضِ، وَكَانَ الْآخَرُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَهُوَ هُوَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَزِنْهُ بِرَجُلٍ، فَوُزِنْتُ بِهِ فَوَزَنْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: فَزِنْهُ بِعَشَرَةٍ، فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُهُمْ، ثُمَّ قَالَ: زِنْهُ بِمِئَةٍ، فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُهُمْ، ثُمَّ قَالَ: زِنْهُ بِأَلْفٍ، فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُهُمْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَنْتَثِرُونَ عَلَيَّ مِنْ خِفَّةِ الْمِيزَانِ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: لَوْ وَزَنْتَهُ بِأُمَّتِهِ لَرَجَحَهَا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کیسے معلوم ہوا اور پھر کیسے یقین ہوا کہ آپ نبی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! میرے پاس دو فرشتے آئے جب کہ میں مکہ کی کنکریلی زمین پر تھا، ان میں سے ایک تو زمین پر آ رہا لیکن دوسرا زمین و آسمان کے درمیان ہی تھا کہ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: کیا یہ وہی ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں وہی ہیں، پھر اس نے کہا کہ ان کا وزن ایک آدمی سے کرو، لہٰذا میرا اس سے وزن کیا گیا تو میں بھاری پڑا، پھر اس فرشتے نے کہا: اب دس آدمیوں سے ان کا وزن کرو، میں وزن میں ان سے بھی بھاری رہا، پھر اس نے کہا: سو آدمیوں سے ان کو تولو، چنانچہ مجھے ان سو آدمیوں سے تولا گیا، میں ان پر بھی بھاری پڑا تو اس نے کہا اب ہزار آدمیوں سے ان کا وزن کرو، لہٰذا میں ان سے تولا گیا تو ان سے بھی زیادہ بھاری تھا، گویا کہ میں ان کی طرف دیکھ رہا ہوں جو ترازو کے پلڑے سے گر پڑ رہے ہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اگر تم ان کی پوری امت سے ان کا وزن کرو گے تب بھی یہ ہی بھاری رہیں گے۔“

15

Sunan Darmi #15

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِيهِمْ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ".

اردو ترجمہ · Urdu

ابوصالح سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پکارتے ہوئے فرماتے تھے: ”اے لوگو! میں ہدیہ کی گئی رحمت ہوں۔“