Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 1 · Chapter 4

مقدمہ

4. اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو درخت اور چوپائے نیز جنوں کے ان پر ایمان لانے سے جو عزت بخشی اس کا بیان

9 hadiths in this chapter

16

Sunan Darmi #16

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَفَرٍ فَأَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيْنَ تُرِيدُ؟"، قَالَ: إِلَى أَهْلِي، قَالَ:"هَلْ لَكَ فِي خَيْرٍ؟"، قَالَ: وَمَا هُوَ؟، قَالَ:"تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"، فَقَالَ: وَمَنْ يَشْهَدُ عَلَى مَا تَقُولُ؟، قَالَ:"هَذِهِ السَّلَمَةُ"، فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الْأَرْضَ خَدًّا حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَاسْتَشْهَدَهَا ثَلَاثًا، فَشَهِدَتْ ثَلَاثًا أَنَّهُ كَمَا قَالَ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَنْبَتِهَا، وَرَجَعَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى قَوْمِهِ، وَقَالَ: إِنْ اتَّبَعُونِي أَتَيْتُكَ بِهِمْ، وَإِلَّا رَجَعْتُ، فَكُنْتُ مَعَكَ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ایک بدوی آیا اور جب آپ سے وہ قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہاں کا ارادہ ہے“، عرض کیا: اپنے گھر والوں کی طرف جانے کا ارادہ ہے۔ فرمایا: ”بہتری چاہتے ہو؟“ عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(وہ یہ ہے کہ) تم اس بات کی شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول و پیغمبر ہیں“، اس نے کہا: آپ جو فرماتے ہیں اس کی شہادت کون دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کانٹے دار درخت (جھاڑی) ہے (جو اس کی شہادت دیتا ہے)“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آواز دی جو گرچہ وادی کے ایک کنارے پر واقع تھا لیکن زمین پھاڑتا ہوا آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو کھڑا ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے گواہی دینے کو کہا اور اس درخت نے تین مرتبہ شہادت دی کہ آپ وہی ہیں جیسا کہ آپ نے دعوی کیا ہے۔ پھر وہ اپنی جگہ واپس چلا گیا اور وہ اعرابی یہ کہتے ہوئے اپنے قبیلے میں واپس چلا گیا کہ اگر انہوں نے میری بات مانی تو انہیں لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں گا ورنہ بذات خود واپس آ کر آپ کے ساتھ رہوں گا۔

17

Sunan Darmi #17

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ لَا يَأْتِي الْبَرَازَ حَتَّى يَتَغَيَّبَ فَلَا يُرَى، فَنَزَلْنَا بِفَلَاةٍ مِنْ الْأَرْضِ لَيْسَ فِيهَا شَجَرةٌ، وَلَا عَلَمٌ، فَقَالَ:"يَا جَابِرُ، اجْعَلْ فِي إِدَاوَتِكَ مَاءً ثُمَّ انْطَلِقْ بِنَا"، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى لَا نُرَى، فَإِذَا هُوَ بِشَجَرَتَيْنِ بَيْنَهُمَا أَرْبَعُ أَذْرُعٍ، فَقَالَ:"يَا جَابِرُ، انْطَلِقْ إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَقُلْ: يُقُولُ لَكِ رَسولُ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَقِي بِصَاحِبَتِكِ حَتَّى أَجْلِسَ خَلْفَكُمَا"، فَرَجَعَتْ إِلَيْهَا، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُمَ، ثُمَّ رَجَعَتَا إِلَى مَكَانِهِمَا، فَرَكِبْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ بَيْنَنَا كَأَنَّمَا عَلَيْنَا الطَّيْرُ تُظِلُّنَا، فَعَرَضَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنِي هَذَا يَأْخُذُهُ الشَّيْطَانُ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ: فَتَنَاوَلَ الصَّبِيَّ فَجَعَلَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُقَدَّمِ الرَّحْلِ، ثُمَّ قَالَ:"اخْسَأْ عَدُوَّ اللَّهِ، أَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اخْسَأْ عَدُوَّ اللَّهِ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا"، ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَيْهَا، فَلَمَّا قَضَيْنَا سَفَرَنَا، مَرَرْنَا بِذَلِكَ الْمَكَانِ فَعَرَضَتْ لَنَا الْمَرْأَةُ مَعَهَا صَبِيُّهَا، وَمَعَهَا كَبْشَانِ تَسُوقُهُمَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْبَلْ مِنِّي هَدِيَّتِي، فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عَادَ إِلَيْهِ بَعْدُ، فَقَالَ:"خُذُوا مِنْهَا وَاحِدًا وَرُدُّوا عَلَيْهَا الْآخَرَ"، قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا كَأَنَّمَا عَلَيْنَا الطَّيْرُ تُظِلُّنَا، فَإِذَا جَمَلٌ نَادٌّ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ سِمَاطَيْنِ خَرَّ سَاجِدًا، فَجَلَسَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَلَيَّ النَّاسَ:"مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ؟"فَإِذَا فِتْيَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالُوا: هُوَ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:"فَمَا شَأْنُهُ"؟، قَالُوا: اسْتَنَيْنَا عَلَيْهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً وَكَانَتْ بِهِ شُحَيْمَةٌ فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْحَرَهُ فَنَقْسِمَهُ بَيْنَ غِلْمَانِنَا، فَانْفَلَتَ مِنَّا، قَالَ:"بِيعُونِيهِ"، قَالُوا: لَا، بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:"أَمَّا لا، فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ"، قَالَ الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ ذَلِكَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ أَحَقُّ بِالسُّجُودِ لَكَ مِنْ الْبَهَائِمِ، قَالَ:"لَا يَنْبَغِي لِشَيْءٍ أَنْ يَسْجُدَ لِشَيْءٍ وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ، كَانَ النِّسَاءُ لِأَزْوَاجِهِنَّ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر پر روانہ ہوا۔ آپ قضائے حاجت کے لئے اتنی دور غائب ہو جاتے کہ دکھائی بھی نہ دیتے۔ ہم نے ایسے چٹیل میدان میں پڑاؤ ڈالا جہاں نہ کوئی درخت تھا اور نہ کوئی پہاڑ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر! اپنی ڈولچی میں پانی بھرو اور ہمارے ساتھ چلو“، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم چل پڑے اور لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئے اور دو درختوں کے پاس پہنچے جن کا درمیانی فاصلہ چار ہاتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر درخت کے پاس جاؤ اور کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے یہ کہتے ہیں کہ دوسرے ساتھی درخت سے مل جاؤ تاکہ میں تمہاری آڑ میں بیٹھ جاؤں“، انہوں نے جا کر ایسے ہی کہا، چنانچہ وہ درخت دوسرے سے جا کر مل گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے (قضائے حاجت کے لئے) جا کر بیٹھ گئے، پھر وہ درخت اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ گئے، اس کے بعد ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوئے اور آپ ہمارے ہی درمیان تشریف فرما تھے، ایسا لگتا تھا جیسے ہم پر پرندے سایہ کئے ہوئے ہیں، پھر آپ کے پاس ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، عرض کیا اے اللہ کے رسول! میرے اس بچے کو شیطان دن میں تین بار اٹھا لے جاتا ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو لے کر اپنے اور کجاونے کے درمیان بٹھا لیا اور فرمایا: ”اے اللہ کے دشمن دور ہو جا میں اللہ کا رسول ہوں، دور ہو جا اللہ کے دشمن میں اللہ کا رسول ہوں“ اسی طرح تین بار فرمایا پھر اس بچے کو اس کی ماں کو واپس دے دیا، پھر اپنے سفر سے جب ہم واپس لوٹے تو اسی جگہ سے گزر ہوا اور وہی عورت اپنے بچے کے ساتھ دو مینڈھوں کو ہنکاتی ہوئی سامنے آئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا یہ تحفہ قبول فرمائے، قسم ہے اس ذات باری تعالی کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کے بعد سے وہ شیطان پھر نہیں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مینڈھا لے لو اور دوسرا اسے واپس لوٹا دو۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے بعد ہم چل پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ہمارے ساتھ تھے ایسا لگتا تھا کہ ہمارے اوپر پرندے سایہ کئے ہوئے ہیں اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بدکا ہوا اونٹ ہے جب وہ راستے کے دو پہلوؤں کے درمیان آیا تو سجدے میں گر پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا: ”لوگوں کو بلاؤ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟“ انصار کے کچھ جوانوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ ہمارا اونٹ ہے، فرمایا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم اس سے بیس سال سے پانی نکلوا رہے ہیں، اس کے جسم میں چربی کا ایک ٹکڑا ہے جس کی وجہ سے ہمارا ارادہ تھا کہ اسے ذبح کر کے اپنے غلاموں میں تقسیم کر دیں تو یہ بھڑک کر ہمارے پاس سے بھاگ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے ہاتھ بیچ دو“، انہوں نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ، یہ آپ ویسے ہی لے لیجئے، فرمایا: ”اگر بیچتے نہیں ہو تو اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو یہاں تک کہ اس کی موت آ جائے“، اس وقت مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ہم ان چوپائیوں سے زیادہ آپ کو سجدہ کرنے کے حق دار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی بھی (انسان) کے لئے کسی غیر کا سجدہ کرنا جائز نہیں ہے، اگر یہ جائز ہوتا تو عورتوں کا اپنے شوہروں کو سجدہ کرنا جائز ہوتا۔“

18

Sunan Darmi #18

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ، عَنْ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دُفِعْنَا إِلَى حَائِطٍ فِي بَنِي النَّجَّارِ، فَإِذَا فِيهِ جَمَلٌ لَا يَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ، فَدَعَاهُ فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى بَرَكَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: "هَاتُوا خِطَامًا"، فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَقَالَ:"مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ أَحَدٌ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بنونجار کے باغ میں گئے، ناگہاں اس میں ایک اونٹ ملا جو باغ میں داخل ہونے والے ہر شخص پر ٹوٹ پڑتا تھا، لوگوں نے اس کا تذکرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور اسے پکارا تو وہ اپنا ہونٹ لٹکائے آیا اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لگام لاؤ“، چنانچہ آپ نے اسے لگام لگادی اور اس کے مالک کے حوالے کر دیا پھر (لوگوں کی طرف) متوجہ ہو کر فرمایا: ”جن و انسان کے نافرمانوں کے علاوہ زمین و آسمان میں کوئی ایسا نہیں جو یہ نہ جانتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔“

19

Sunan Darmi #19

Zaeef

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، إِنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِابْنٍ لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي بِهِ جُنُونٌ، وَإِنَّهُ يَأْخُذُهُ عِنْدَ غَدَائِنَا وَعَشَائِنَا فَيُخَبَّثُ عَلَيْنَا،"فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ، وَدَعَا فَثَعَّ ثَعَّةً، وَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهِ مِثْلُ الْجِرْوِ الْأَسْوَدِ، فَسَعَى".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت اپنا بیٹا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا: میرے بیٹے کو پاگل پن کا مرض ہے جس کی وجہ سے وہ ہمارا دوپہر اور شام کا کھانا لے جاتا ہے اور اسے گندا و خراب کر دیتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (لڑکے) کے سینے کو سہلایا اور دعا فرمائی تو اس نے قے کر دی اور اس کے پیٹ سے ایک چھوٹا سا (پتلا) بچہ نکلا اور دوڑا چلا گیا، ایک روایت میں ہے اور وہ لڑکا شفایاب ہو گیا۔

20

Sunan Darmi #20

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو مکہ میں نبوت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا میں اب بھی اس پتھر کو پہچانتا ہوں۔“

21

Sunan Darmi #21

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل السُّدِّيِّ، عَنْ عَبَّادٍ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، قَالَ: "كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ فِي بَعْضِ نَوَاحِيهَا، فَمَرَرْنَا بَيْنَ الْجِبَالِ وَالشَّجَرِ، فَلَمْ نَمُرَّ بِشَجَرَةٍ وَلَا جَبَلٍ إِلَّا قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بعض نواحی مکہ میں نکلے تو جو پہاڑ اور درخت بھی سامنے آیا اس نے کہا: اے اللہ کے رسول آپ پر سلامتی ہو۔

22

Sunan Darmi #22

See Details

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، أَوْ جُهَيْنَةَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَإِذَا هُوَ بِقَرِيبٍ مِنْ مِئَةِ ذِئْبٍ قَدْ أَقْعَيْنَ وُفُودُ الذِّئَابِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَرْضَخُونَ لَهُمْ شَيْئًا مِنْ طَعَامِكُمْ وَتَأْمَنُونَ عَلَى مَا سِوَى ذَلِكَ؟"، فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَاجَةَ، قَالَ:"فَآذِنُوهُنَّ"، قَالَ: فَآذَنُوهُنَّ فَخَرَجْنَ وَلَهُنَّ عُوَاءٌ.

اردو ترجمہ · Urdu

شمر بن عطیہ سے روایت ہے کہ مزینہ یا جہینہ کے ایک شخص نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر ادا کی، اچانک سو کے قریب بھیڑئیے نمودار ہوئے اور اپنی مخصوص نشست کی طرح بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام سے) فرمایا: ”اپنے کھانے میں سے کچھ انہیں دے دو تاکہ ان کے شر سے مامون و محفوظ ہو جاؤ“، ان بھیڑیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اپنی مجبوری سے آگاہ کرو“، لوگوں نے ایسا ہی کیا، چنانچہ وہ سب بھیٹرئیے آوازیں نکالتے ہوئے واپس چلے گئے۔

23

Sunan Darmi #23

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ، وَقَدْ تَخَضَّبَ بِالدَّمِ مِنْ فِعْلِ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ تُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً؟، قَالَ: "نَعَمْ، فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَائِهِ"، فَقَالَ: ادْعُ بِهَا، فَدَعَا بِهَا، فَجَاءَتْ وَقَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ، فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"حَسْبِي حَسْبِي".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرئیل علیہ السلام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ اہل مکہ قریش کے ستائے ہوئے، خون سے لت پت، اداس و غمگین بیٹھے ہوئے تھے، جبرئیل علیہ السلام نے کہا: اے اللہ کے پیغمبر! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو (اللہ کی قدرت کی) ایک نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں دکھلاؤ“، چنانچہ جبرئیل علیہ السلام نے ایک درخت کی طرف دیکھا جو ان کے پیچھے تھا اور کہا اسے بلائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخت کو بلایا پس وہ آیا اور آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا، جبریل علیہ السلام نے کہا: اسے حکم دیجئے کہ واپس چلا جائے، چنانچہ وہ لوٹ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس بس“ (یعنی یہ نشانی میرے لئے کافی ہے)۔

24

Sunan Darmi #24

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَا أُرِيكَ آيَةً"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:"فَاذْهَبْ فَادْعُ تِلْكَ النَّخْلَةَ"، فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَنْقُزُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: قُلْ لَهَا تَرْجِعْ، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"ارْجِعِي"، فَرَجَعَتْ حَتَّى عَادَتْ إِلَى مَكَانِهَا، فَقَالَ: يَا بَنِي عَامِرٍ، مَا رَأَيْتُ رَجُلًا كَالْيَوْمِ أَسْحَرَ مِنْهُ!.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنوعامر کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں ایک نشانی دکھاؤں؟“ اس نے کہا دکھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”جاؤ اس کھجور کے درخت کو بلاؤ“، چنانچہ وہ شخص گیا اور اس درخت کو بلایا تو وہ (درخت) ان سے آگے آگے کودتا ہوا چلا آیا، اس شخص نے کہا (اس سے کہئے) لوٹ جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوٹ جاؤ“، چنانچہ وہ درخت اپنی جگہ واپس چلا گیا تو بنوعامر کے اس آدمی نے کہا: اے بنی عامر میں نے آج تک ان سے بڑا جادوگر دیکھا ہی نہیں۔