Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 1 · Chapter 2

مقدمہ

2. پچھلی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کا بیان

8 hadiths in this chapter

5

Sunan Darmi #5

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: قَالَ كَعْبٌ: نَجِدُهُ مَكْتُوبًا: "مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا فَظٌّ، وَلَا غَلِيظٌ، وَلَا صَخَّابٌ بِالْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، وَأُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ يُكَبِّرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ نَجْدٍ، وَيَحْمَدُونَهُ فِي كُلِّ مَنْزِلَةٍ، وَيَتَأَزَّرُونَ عَلَى أَنْصَافِهِمْ، وَيَتَوَضَّئُونَ عَلَى أَطْرَافِهِمْ، مُنَادِيهِمْ يُنَادِي فِي جَوِّ السَّمَاءِ صَفُّهُمْ فِي الْقِتَالِ، وَصَفُّهُمْ فِي الصَّلَاةِ سَوَاءٌ، لَهُمْ بِاللَّيْلِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ، وَمُهَاجِرُهُ بِطَيْبَةَ، وَمُلْكُهُ بِالشَّامِ".

اردو ترجمہ · Urdu

ابوصالح ذکوان سے مروی ہے کہ سیدنا کعب نے فرمایا: ہم نے یہ لکھا دیکھا ہے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ کے رسول ہیں، نہ بد زبان، نہ سنگ دل، نہ بازاروں میں شور مچانے والے ہیں، اور نہ وہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں اس کے بجائے عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں، آپ کے امتی بہت ثنا خوانی کرنے والے ہوں گے۔ جو ہر ٹیلے پر چڑھتے ہوئے الله کی کبریائی کے گیت گائیں گے اور ہر منزل پر رکتے ہوئے ثناخوانی کریں گے۔ آدھی پنڈلی تک ازار پہنیں گے اور ہاتھ و پیر کا وضوء کرتے ہوں گے ان کا منادی آسمانوں میں ندا دیتا ہے کہ نماز اور میدان جنگ میں ان کی صف بندی ایک جیسی ہے۔ رات میں ان کی گنگناہٹ شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے پیدائش مکہ اور ہجرت کرنے کی جگہ (مدینہ) طیبہ اور حکومت ملک شام تک ہو گی۔

6

Sunan Darmi #6

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "إِنَّا لَنَجِدُ صِفَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَحِرْزًا، لِلْأُمِّيِّينَ، أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي، سَمَّيْتُهُ الْمُتَوَكِّلَ، لَيْسَ بِفَظٍّ، وَلَا غَلِيظٍ، وَلَا صَخَّابٍ بِالْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ مِثْلَهَا، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَتَجَاوَزُ، وَلَنْ أَقْبِضَهُ حَتَّى يُقِيمَ الْمِلَّةَ الْمُتَعَوِّجَةَ بِأَنْ يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، نَفْتَحُ بِهِ أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًا، وَقُلُوبًا غُلْفًا"، قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ: أَنَّهُ سَمِعَ كَعْبًا يَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ ابْنُ سَلَامٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالله بن سلام کہا کرتے تھے ہم (توراة میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصف یوں پاتے ہیں: ہم نے تم کو گواہ بنا کر، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا اور اَن پڑھ قوم کی نگہبانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے، تم میرے بندے اور رسول ہو، میں نے جن کا نام متوکل رکھا ہے، جو نہ بدخو ہے اور نہ سنگ دل اور نہ بازاروں میں شور مچانے والا ہے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتا ہے، بجائے اس کے درگزر کرتا ہے، اور میں اس وقت تک ہرگز اس کی روح قبض نہ کروں گا جب تک کہ وہ ایک کجر و قوم کو «لا اله الا الله» کی گواہی کے ذریعہ سیدھا نہ کر دے اور اس کے ذریعہ نابینا آنکھیں بینا نہ ہو جائیں اور بہرے کان کھول نہ دیئے جائیں اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کے پردے کھول نہ دیئے جائیں۔ عطا بن یسار نے کہا: مجھے ابوواقد اللیثی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے حضرت کعب الاحبار کو بھی ایسا ہی کہتے سنا جیسا عبداللہ بن سلام نے بیان کیا۔

7

Sunan Darmi #7

See Details

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ كَعْبٍ: "فِي السَّطْرِ الْأَوَّلِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، عَبْدِي الْمُخْتَارُ، لَا فَظٌّ، وَلَا غَلِيظٌ، وَلَا صَخَّابٌ فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ، وَهِجْرَتُهُ بِطَيْبَةَ، وَمُلْكُهُ بِالشَّامِ، وَفِي السَّطْرِ الثَّانِي: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، أُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ، يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي كُلِّ مَنْزِلَةٍ، وَيُكَبِّرُونَه عَلَى كُلِّ شَرَفٍ، رُعَاةُ الشَّمْسِ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ إِذَا جَاءَ وَقْتُهَا وَلَوْ كَانُوا عَلَى رَأْسِ كُنَاسَةٍ، وَيَأْتَزِرُونَ عَلَى أَوْسَاطِهِمْ، وَيُوَضِّئُونَ أَطْرَافَهُمْ، وَأَصْوَاتُهُمْ بِاللَّيْلِ فِي جَوِّ السَّمَاءِ كَأَصْوَاتِ النَّحْلِ".

اردو ترجمہ · Urdu

کعب الاحبار سے مروی ہے سطر اول میں ہے: محمد رسول میرے پسندیدہ بندے ہیں (جو) نہ بدخلق ہیں اور نہ سنگ دل اور نہ بازاروں میں شور و غل مچانے والے ہیں، نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں اس کے بجائے معاف و درگزر کرتے ہیں، ان کی جائے پیدائش مکہ اور جائے ہجرت مدینہ طیبہ اور حکومت شام تک ہے۔ دوسرے پیراگراف میں کہتے ہیں: محمد اللہ کے رسول ہیں، ان کے امتی بہت حمد کرنے والے ہیں جو خوش حالی و پریشانی میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا کریں گے، ہر منزل پر الله کی حمد کرتے ہیں اور ہر ٹیلے (بلند زمین) پر اللہ کی کبریائی کے گن گاتے ہیں، سورج کا دھیان رکھنے والے، جب نماز کا وقت آ جائے نماز پڑھتے ہیں چاہے کوڑے کے ڈھیر پر ہی کیوں نہ ہوں، آدھی پنڈلیوں تک کے ازار پہنیں گے، ہاتھ پیروں کا وضو کریں گے، ان کی رات کی صدائیں آسمان کے اندر شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح ہوں گی۔

8

Sunan Darmi #8

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سَأَلَ كَعْبَ الْأَحْبَارِ: كَيْفَ تَجِدُ نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ؟، فَقَالَ كَعْبٌ: "نَجِدْهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُولَدُ بِمَكَّةَ، وَيُهَاجِرُ إِلَى طَابَةَ، وَيَكُونُ مُلْكُهُ بِالشَّامِ، وَلَيْسَ بِفَحَّاشٍ، وَلَا صَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يُكَافِئُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، أُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ، يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي كُلِّ سَرَّاءَ، وَضَرَّاءَ وَيُكَبِّرُونَ اللَّهَ عَلَى كُلِّ نَجْدٍ، يُوَضِّئُونَ أَطْرَافَهُمْ، وَيَأْتَزِرُونَ فِي أَوْسَاطِهِمْ، يُصَفُّونَ فِي صَلاتِهِمْ كَمَا يُصَفُّونَ فِي قِتَالِهِمْ، دَوِيُّهُمْ فِي مَسَاجِدِهِمْ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، يُسْمَعُ مُنَادِيهِمْ فِي جَوِّ السَّمَاءِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کعب الاحبار سے دریافت کیا کہ آپ توراة میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا صفت پاتے ہیں؟ چنانچہ کعب نے کہا: ہم توراة میں یہ دیکھتے ہیں: محمد بن عبداللہ مکہ میں پیدا ہوں گے، ہجرت کر کے طابہ (مدینہ) جائیں گے، آپ کی حکمرانی شام تک ہو گی، نہ آپ فحش گو ہوں گے اور نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والے ہوں گے، برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیں گے بلکہ معاف و درگزر کریں گے۔ آپ کے امتی بہت ثنا خواں ہوں گے جو پریشانی و خوش حالی (ہر حال میں) اللہ تعالی کی حمد و ثنا کریں گے، ہر ٹیلے و اونچائی پر الله اکبر کہیں گے، اپنے ہاتھ پیر کا وضو کریں گے اور کمر پر ازار باندھیں گے، نماز میں ویسی ہی صف بندی کریں گے جیسے میدان جنگ میں صف بندی کرتے ہوں گے، مساجد میں ان کی گنگناہٹ شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح ہو گی، جن کی ندا آسمانوں میں سنی جائے گی۔

9

Sunan Darmi #9

Zaeef

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ التَّمِيمِيِّ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ إِلَيْكُمْ لَيْسَ بِوَهِنٍ، وَلَا كَسِلٍ، لِيُحْيِيَ قُلُوبًا غُلْفًا، وَيَفْتَحَ أَعْيُنًا عُمْيًا، وَيُسْمِعَ آذَانًا صُمًّا، وَيُقِيمَ السُّنَّةَ العَوْجَاءَ، حَتَّى يُقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

جبیر بن نفیر حضرمی نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس ایسے رسول آئے ہیں جو نہ کمزور ہیں اور نہ سست تاکہ وہ غافل و پردہ پڑے ہوئے دلوں کو جگائیں، اندھی آنکھوں کو روشن کر دیں اور بہرے کانوں کو سنا دیں اور کجرو (ٹیڑھی) قوم و ملت کو سیدھا کر دیں یہاں تک کہ کہا جانے لگے «لا اله الا الله» یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“

10

Sunan Darmi #10

See Details

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَةٌ، فَمَشَى مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ، قَالَ: فَإِحْدَى رِجْلَيْهِ فِي الْبَيْتِ وَالْأُخْرَى خَارِجَة كَأَنَّهُ يُنَاجِي، فَالْتَفَتَ، فَقَالَ: "أَتَدْرِي مَنْ كُنْتُ أُكَلِّمُ؟ إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ أَرَهُ قَطُّ قَبْلَ يَوْمِي هَذَا، اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ، قَالَ: إِنَّا آتَيْنَاكَ أَوْ أَنْزَلْنَا الْقُرْآنَ فَصْلًا، وَالسَّكِينَةَ صَبْرًا، وَالْفُرْقَانَ وَصْلًا".

اردو ترجمہ · Urdu

عامر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص کو آپ کی ضرورت پیش آئی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ چل پڑے (گھر میں) داخل ہوتے وقت ابھی ایک قدم اندر اور ایک قدم باہر ہی تھا کہ اس صحابی نے محسوس کیا کہ آپ کسی سے سرگوشی فرما رہے ہیں، آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جانتے ہو میں کس سے سرگوشی کر رہا تھا؟ یہ فرشتہ تھا جسے آج سے قبل میں نے دیکھا نہیں۔ اس نے اپنے رب سے مجھ سے سلام کرنے کی اجازت لی، اللہ تعالی نے فرمایا: ہم نے تمہیں قرآن دیا جو (حق و باطل) میں فیصلہ کرنے والا ہے اور اطمینان و سکون صبر کے لئے دیا، فرقان ملانے کے لئے دیا ہے۔“

11

Sunan Darmi #11

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا رَيْحَانُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ هُوَ ابْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيَّ، يَقُولُ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: لِتَنَمْ عَيْنُكَ، وَلْتَسْمَعْ أُذُنُكَ، وَلْيَعْقِلْ قَلْبُكَ، قَالَ: "فَنَامَتْ عَيْنَايَ، وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَعَقَلَ قَلْبِي"، قَالَ: فَقِيلَ لِي: سَيِّدٌ بَنَى دَارًا فَصَنَعَ مَأْدُبَةً، وَأَرْسَلَ دَاعِيًا، فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ، دَخَلَ الدَّارَ، وَأَكَلَ مِنْ الْمَأْدُبَةِ، وَرَضِيَ عَنْهُ السَّيِّدُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْ الدَّاعِيَ، لَمْ يَدْخُلْ الدَّارَ، وَلَمْ يَطْعَمْ مِنْ الْمَأْدُبَةِ، وَسَخِطَ عَلَيْهِ السَّيِّدُ، قَالَ:"فَاللَّهُ: السَّيِّدُ، وَمُحَمَّدٌ: الدَّاعِي، وَالدَّارُ: الْإِسْلَامُ، وَالْمَأْدُبَةُ: الْجَنَّةُ".

اردو ترجمہ · Urdu

عطیہ نے ربیعہ جرشی کو سنا وہ کہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (فرشتہ) آیا اور کہا: آپ کی آنکھ کو سو جانا چاہیے، کانوں کو سننا اور دل کو سمجھنا چاہیے، فرمایا: ”لہٰذا میری آنکھ لگ گئی، کانوں نے سن لیا اور دل نے سمجھ لیا، فرمایا: مجھ سے کہا گیا: ایک مالک نے گھر بنا کر دسترخوان لگایا اور ایک بلانے والے کو (دعوت کے لئے) بھیجا، پس جس نے اس داعی کی دعوت قبول کر لی وہ اس گھر میں بھی داخل ہوا اور دسترخوان سے تناول کیا اور مالک مکان بھی خوش ہو گیا اور جس نے اس بلانے والے کی دعوت قبول نہ کی وہ نہ گھر میں داخل ہو سکا، نہ دسترخوان سے کچھ کھایا اور وہ مالک مکان بھی اس سے ناراض ہو گیا۔“ اس حدیث میں مالک سے مراد ذات باری تعالی اور داعی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور وہ دار (گھر) اسلام اور دسترخوان جنت ہے۔

12

Sunan Darmi #12

Hasan

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ التَّمِيمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْبَطْحَاءِ، وَمَعَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَأَقْعَدَهُ وَخَطَّ عَلَيْهِ خَطًّا، ثُمَّ قَالَ: "لَا تَبْرَحَنَّ فَإِنَّهُ سَيَنْتَهِي إِلَيْكَ رِجَالٌ فَلَا تُكَلِّمْهُمْ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يُكَلِّمُوكَ"، فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَرَادَ، ثُمَّ جَعَلُوا يَنْتَهُونَ إِلَى الْخَطِّ لَا يُجَاوِزُونَهُ، ثُمَّ يَصْدُرُونَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، جَاءَ إِلَيَّ فَتَوَسَّدَ فَخِذِي، وَكَانَ إِذَا نَامَ، نَفَخَ فِي النَّوْمِ، نَفْخًا فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَسِّدٌ فَخِذِي، رَاقِدٌ، إِذْ أَتَانِي رِجَالٌ كَأَنَّهُمْ الْجِمَالُ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ بِيضٌ اللَّهُ أَعْلَمُ مَا بِهِمْ مِنْ الْجَمَالِ حَتَّى قَعَدَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ رَأْسِهِ، وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَقَالُوا بَيْنَهُمْ: مَا رَأَيْنَا عَبْدًا أُوتِيَ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَيْنَيْهِ لَتَنَامَانِ، وَإِنَّ قَلْبَهُ لَيَقْظَانُ، اضْرِبُوا لَهُ مَثَلًا: سَيِّدٌ بَنَى قَصْرًا ثُمَّ جَعَلَ مَأْدُبَةً فَدَعَا النَّاسَ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ، ثُمَّ ارْتَفَعُوا، وَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ:"أَتَدْرِي مَنْ هَؤُلَاءِ؟"، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:"هُمْ الْمَلَائِكَةُ"، قَالَ:"وَهَلْ تَدْرِي مَا الْمَثَلُ الَّذِي ضَرَبُوهُ؟"، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:"الرَّحْمَنُ بَنَى الْجَنَّةَ فَدَعَا إِلَيْهَا عِبَادَهُ، فَمَنْ أَجَابَهُ، دَخَلَ جَنَّتَهُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْهُ، عَاقَبَهُ وَعَذَّبَهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

ابوعثمان النہدی سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کنکریلی زمین کی طرف نکلے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ کے ہمراہ تھے، آپ نے انہیں بٹھایا اور ان کے ارد گرد ایک دائرہ کھینچ دیا اور فرمایا: ”تم اسی دائرے کے اندر رہنا کیونکہ تمہارے پاس بہت سے لوگ آئیں گے، تم ان سے کوئی بات نہ کرنا، وہ بھی تم سے کوئی بات نہ کریں گے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرف جانے کا ارادہ رکھتے تھے اسی طرف چلے گئے اور پھر اس دائرے کے ارد گرد لوگ آنے لگ گئے لیکن اس خط کے اندر کوئی نہیں آیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتے رہے یہاں تک کہ جب رات کا آخری پہر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور میری ران کا تکیہ لگایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سوتے تو خراٹے لیتے تھے، آپ اسی حال میں میری ران پر سر رکھے سو رہے تھے کہ چند آدمی آ گئے، جو بڑے خوبصورت تھے، ان کے بدن پر سفید کپڑے تھے، اللہ تعالی خوب جانتا ہے ان کے اندر جو خوبصورتی و جمال تھا پھر ان میں سے ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے اور ایک گروہ آپ کے پیروں کے پاس بیٹھ گیا، پھر وہ آپس میں کہنے لگے، ہم نے کوئی بندہ ایسا نہیں دیکھا جس کو وہ کچھ ملا ہو جو انہیں نبی کریم (محمد) صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیاٍ ہے، ان کی آنکھیں تو سوتی ہیں دل جاگتا ہے۔ ان کی مثال اس سردار کی سی ہے جس نے ایک محل بنایا اور اس میں دسترخوان لگایا اور لوگوں کو کھانے پینے کی دعوت دی، پھر وہ لوگ چلے گئے اور اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیدار ہو گئے۔ فرمایا: ”تم جانتے ہو یہ کون لوگ تھے؟“ انہوں نے عرض کیا، اللہ اور اس کے رسول ہی اس کو خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ فرشتے تھے“، فرمایا: ”اور تم نے اس مثال کو سمجھا جو انہوں نے بیان کی؟“ میں نے کہا: اللہ ورسولہ اعلم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ) رحمٰن نے جنت بنائی اور اپنے بندوں کو اس کی طرف بلایا پس جس نے اس کی دعوت قبول کی وہ اس کی جنت میں داخل ہو گیا اور جس نے اس کی دعوت قبول نہ کی وہ اس کو سزا و عذاب دے گا۔“