Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 71 · Chapter 4161

دعوی اور گواہیوں کا بیان

گواہ مدعی کے ذمہ اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ

13 hadiths in this chapter

21203

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21203

Sahih

(۲۱۱۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍرَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : لَوْ یُعْطَی النَّاسُ بِدَعْوَاہُمْ لاَدَّعَی نَاسٌ دِمَائَ قَوْمٍ وَأَمْوَالَہُمْ وَلَکِنَّ الْیَمِینَ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١١٩٧) عبداللہ بن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کی بنیاد پر دیا جائے تو لوگ اپنے مالوں اور خون کے دعوے شروع کردیں، لیکن قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے (یعنی جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے)

21204

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21204

Sahih

(۲۱۱۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١١٩٨) ۔ ایضا

21205

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21205

Sahih

(۲۱۱۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ الْجَہْضَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دَاوُدَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ : أَنَّ امْرَأَتَیْنِ کَانَتَا تَخْرِزَانِ فِی بَیْتٍ فَخَرَجَتْ إِحْدَاہُمَا وَقَدْ أُنْفِذَ بِإِشْفَی فِی کَفِّہَا فَرُفِعَتْ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لَوْ یُعْطَی النَّاسُ بِدَعْوَاہُمْ لَذَہَبَ دِمَائُ قَوْمٍ وَأَمْوَالُہُمْ ذَکِّرُوہَا بِاللَّہِ وَاقْرَئُ وا عَلَیْہَا {اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا} [اٰل عمران ۷۷] فَذَکَّرُوہَا فَاعْتَرَفَتْ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : الْیَمِینُ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِیٍّ۔ عَلَی ہَذَا رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١١٩٩) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ دو عورتیں گھر میں کانٹے پہنے ہوئی تھیں۔ ایک آئی تو ستالی اس کی ہتھیلی سے گرگئی۔ وہ ابن عباس (رض) کے پاس آئی۔ آپ (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کی بنیاد پر دیا جاتا رہے تو وہ اپنے خون اور مال کو لے جائیں، ان کو اللہ کی وعظ و نصیحت کرو اور ان پر یہ آیت تلاوت کرو : { اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا } [اٰل عمران ٧٧] کہ یہ اللہ عہد اور اپنی قسموں سے تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں، ان کو وعظ و نصیحت کی گئی۔ اس عورت نے اعتراف کرلیا۔ (ب) ابن عباس (رض) نے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے۔

21206

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21206

Sahih

(۲۱۲۰۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ ہُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ : رُفِعَ إِلَیَّ امْرَأَۃٌ تَزْعُمُ أَنَّ صَاحِبَتَہَا وَجَأَتْہَا بِإِشْفَی حَتَّی ظَہَرَ مِنْ کَفِّہَا فَسَأَلَتْ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لَوْ یُعْطَی النَّاسُ بِدَعْوَاہُمْ لاَدَّعَی رِجَالٌ دِمَائَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَہُمْ وَلَکِنَّ الْبَیِّنَۃَ عَلَی الطَّالِبِ وَالْیَمِینَ عَلَی الْمَطْلُوبِ ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٠٠) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس آئی کہ اس کی سہیلی نے اس کی ستالی لے لی ہے۔ جو اس نے پہن رکھی ہے، اس نے ابن عباس (رض) سے سوال کیا، فرمانے لگے : اگر لوگ اپنے دعوؤں کی بنیاد پر دیے جانے لگے تو لوگ مالوں اور خونوں کے دعوے کردیں گے، لیکن دلیل طلب کرنے والے کے ذمے ہے اور قسم جس سے طلب کیا جا رہا ہے اس کے ذمے ہے۔

21207

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21207

Sahih

(۲۱۲۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنْا الْحَسَنُ بْنُ سَہْلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ وَعُثْمَانُ بْنُ الأَسْوَدِ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ : کُنْتُ قَاضِیًا لاِبْنِ الزُّبَیْرِ عَلَی الطَّائِفِ فَذَکَرَ قِصَّۃَ الْمَرْأَتَیْنِ قَالَ فَکَتَبْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَکَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لَوْ یُعْطَی النَّاسُ بِدَعْوَاہُمْ لاَدَّعَی رِجَالٌ أَمْوَالَ قَوْمٍ وَدِمَائَ ہُمْ وَلَکِنَّ الْبَیِّنَۃَ عَلَی الْمُدَّعِی وَالْیَمِینَ عَلَی مَنْ أَنْکَرَ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ ٰ[صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٠١) عثمان بن سود ابن ابی ملیکہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ابن زبیر کی طرف سے طائف کا قاضی تھا۔ اس نے دو عورتوں کا قصہ ذکر کیا۔ کہتے ہیں : میں نے ابن عباس (رض) کو خط لکھا تو ابن عباس (رض) نے جواب تحریر کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کی بنیاد پر دیا جانے لگا تو لوگ اپنی قوم کے اموال اور خون کے دعوے کردیں گے۔ لیکن دلیل مدعی کے ذمہ ہے اور قسم جو انکار کر دے۔

21208

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21208

Sahih

(۲۱۲۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عُبْدُوسٍ أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ (ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَضَی بِالْیَمِینِ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَخَلاَّدٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الشَّہَادَاتِ بِطُولِہِ۔ عَلَی ہَذَا رِوَایَۃُ الْجُمْہُورِ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِیِّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٠٢) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدعی علیہ پر قسم کا فیصلہ فرمایا۔

21209

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21209

Sahih

(۲۱۲۰۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ کَثِیرٍ الصُّورِیُّ فِی کِتَابِہِ إِلَیْنَا حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : الْبَیِّنَۃُ عَلَی الْمُدَّعِی وَالْیَمِینُ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ ۔ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ لَمْ یَرْوِہِ عَنْ سُفْیَانَ إِلاَّ الْفِرْیَابِیُّ۔[صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٠٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دلیل مدعی کے ذمہ اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے (یعنی جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا)

21210

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21210

Sahih

(۲۱۲۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ صَبْرٍ یَقْتَطِعُ بِہَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی تَصْدِیقَ ذَلِکَ { إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً}۔ إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔ فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَیْسٍ فَقَالَ مَا حَدَّثَکُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالُوا کَذَا وَکَذَا قَالَ فِیَّ أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ کَانَتْ لِی بِئْرٌ فِی أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِی فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ بَیِّنَتُکَ أَوْ یَمِینُہُ قُلْتُ إِذًا یَحْلِفَ عَلَیْہَا یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ صَبْرٍ ہُوَ فِیہَا فَاجِرٌ یَقْتَطِعُ بِہَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَلیْہِ غَضْبَانُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٠٤) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے پختہ قسم اٹھائی اور مسلمان کا مال لینا چاہا وہ اللہ سے ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔ اللہ نے اس کی تصدیق نازل کی : { إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً } [اٰل عمران ٧٧] ” بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔ “ اشعث بن قیس آئے تو پوچھا کہ ابوعبدالرحمن نے کیا بیان کیا ؟ نہوں نے کہا : فلاں فلاں آیت۔ کہنے لگے : یہ میرے بارے میں نازل ہوئی۔ میرے چچا کے بیٹے کی زمین میں ایک کنواں تھا، میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیری جانب سے دلیل یا اس کے ذمہ قسم۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ قسم اٹھا دے گا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے سچی قسم اٹھائی، حالانکہ وہ اس میں جھوٹا ہے، صرف مسلمان کا مال ہڑپ کرنا چاہتا تھا، وہ اللہ سے ملاقات کرے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے۔

21211

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21211

Sahih

(۲۱۲۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَنْبَأَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَنْبَأَنَا جَرِیرٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ یَسْتَحِقُّ بِہَا مَالاً وَہُوَ فِیہَا فَاجِرٌ لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ وَتَصْدِیقُ ذَلِکَ فِی کِتَابِ اللَّہِ { إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً أُولَئِکَ لاَ خَلاَقَ لَہُمْ فِی الآخِرَۃِ } الآیَۃَ۔ قَالَ ثُمَّ إِنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَیْسٍ خَرَجَ إِلَیْنَا فَقَالَ مَا یُحَدِّثُکُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَحَدَّثَنَاہُ بِمَا قَالَ فَقَالَ صَدَقَ لَفِیَّ نَزَلَتْ کَانَتْ بَیْنِی وَبَیْنَ رَجُلٍ خُصُومَۃٌ فِی بِئْرٍ فَاخْتَصَمْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ شَاہِدَاکَ أَوْ یَمِینُہُ فَقُلْتُ إِذًا یَحْلِفُ وَلاَ یُبَالِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ یَسْتَحِقُّ بِہَا مَالاً ہُوَ فِیہَا فَاجِرٌ لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَلیْہِ غَضْبَانُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِیقَ ذَلِکَ ثُمَّ اقْتَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ { إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً } الآیَۃَ لَفْظُ حَدِیثِ إِسْحَاقَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٠٥) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جس نے قسم اٹھا کر غیر کے مال کو ہڑپ کرنا چاہا حالانکہ وہ قسم میں جھوٹا تھا اس کی تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوں گے صدیق قرآن میں ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا } [اٰل عمران ٧٧] ” بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنے قسموں کے ذریعے تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔ “ پھر اشعث بن قیس ہمارے پاس آئے۔ فرمانے لگے : ابو عبدالرحمن نے تمہیں کیا بیان کیا ؟ فرمایا : ہم نے وہ بیان کردیا جو انھوں نے فرمایا تھا، فرمانے لگے : انھوں نے سچ فرمایا۔ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی، کیونکہ میرے اور ایک شخص کے درمیان کنویں کا جھگڑا تھا۔ ہم اپنا جھگڑا لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے ذمہ دلیل اور اس کے ذمہ قسم ہے، میں نے کہا : وہ قسم اٹھالے گا، وہ اس کی پر وہ نہ کرے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے قسم اٹھائی اور وہ جھوٹا ہے وہ اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اس پر ناراض ہوں گے، اللہ نے اس کی تصدیق نازل کی، پھر یہ آیت تلاوت کی،{ اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا } [اٰل عمران ٧٧] ” بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنے قسموں کے ذریعے تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔ “

21212

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21212

Sahih

(۲۱۲۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَنْبَأَنَا رَوْحٌ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِذَا لَمْ یَکُنْ لِلطَّالِبِ بَیِّنَۃٌ فَعَلَی الْمَطْلُوبِ الیَمِینُ ۔ رُوِّینَا حَدِیثَ الْبَیِّنَۃِ عَلَی الْمُدَّعِی وَالْیَمِینُ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ کُلُّہَا ضَعِیفَۃٌ وَفِیمَا ذَکَرْنَاہُ کِفَایَۃٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٠٦) زید بن ثابت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب طلب کرنے والے کے پاس دلیل نہ ہو تو مطلوب کے ذمہ قسم ہوتی ہے۔

21213

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21213

Sahih

(۲۱۲۰۷) حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ إِدْرِیسَ الأَوْدِیِّ قَالَ أَخْرَجَ إِلَیْنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی بُرْدَۃَ کِتَابًا وَقَالَ ہَذَا کِتَابُ عُمَرَ إِلَی أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ فَذَکَرَہُ وَفِیہِ الْبَیِّنَۃُ عَلَی مَنِ ادَّعَی وَالْیَمِینُ عَلَی مَنْ أَنْکَرَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٠٧) ادریس اور ی فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بُردہ نے ایک خط نکالا اور کہنے لگے : حضرت عمر (رض) کی جانب سے ابو موسیٰ اشعری کی طرف، اس خط میں ہے کہ دعویٰ کرنے والے کے ذمہ دلیل ہے اور جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے اس کے ذمہ قسم ہے۔

21214

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21214

Zaeef

(۲۱۲۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَنْبَأَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ فِی قَوْلِہِ {وَآتَیْنَاہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ} قَالَ : الْبَیِّنَۃُ عَلَی الْمُدَّعِی وَالْیَمِینُ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ۔ وَرُوِّینَا فِیمَا مَضَی عَنْ شُرَیْحٍ أَنَّہُ قَالَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : الأَیْمَانُ وَالشُّہُودُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٠٨) حضرت قتادہ (رض) اللہ کے اس فرمان : { وَآتَیْنَاہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ دلیل مدعی کے ذمہ اور قسم مدعیٰ علیہ کے ذمہ ہے۔

21215

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21215

Zaeef

(۲۱۲۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی أَحَادِیثِ مَالِکٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ عَنْ جَمِیلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنِ : أَنَّہُ کَانَ یَحْضُرُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ إِذْ کَانَ عَامِلاً عَلَی الْمَدِینَۃِ وَہُوَ یَقْضِی بَیْنَ النَّاسِ فَإِذَا جَائَ ہُ الرَّجُلُ یَدَّعِی عَلَی الرَّجُلِ حَقًّا نَظَرَ فَإِنْ کَانَتْ بَیْنَہُمَا مُخَالَطَۃٌ وَمُلاَبَسَۃٌ حَلَّفَ الَّذِی ادَّعَی عَلَیْہِ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ شَیْئٌ مِنْ ذَلِکَ لَمْ یُحَلِّفْہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہَذَا شَیْئٌ ذَہَبَ إِلَیْہِ عَلَی وَجْہِ الاِسْتِحْسَانِ وَکَذَلِکَ مَا رُوِّینَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّہُ قَالَ إِذَا ادَّعَی الرَّجُلُ الْفَاجِرُ عَلَی الرَّجُلِ الصَّالِحِ الشَّیْئَ الَّذِی یَرَی النَّاسُ أَنَّہُ کَاذِبٌ وَأَنَّہُ لَمْ یَکُنْ بَیْنَہُمَا مُعَامَلَۃٌ لَمْ یُسْتَحْلَفْ لَہُ وَالأَحَادِیثُ الَّتِی ذَکَرْنَاہَا تُخَالِفُہُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی کِتَابِ الدَّعْوَی الْیَمِینُ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ سَوَائٌ کَانَتْ بَیْنَہُمَا مُخَالَطَۃٌ أَوْ لَمْ تَکُنْ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٠٩) جمیل بن عبدالرحمن مؤذن عمر بن عبدالعزیز (رح) کے پاس حاضر ہوئے جس وقت وہ مدینہ کے حکمران تھے، وہ لوگوں کے درمیان فیصلے کرتے تھے۔ اچانک ایک آدمی نے دوسرے کے خلاف دعویٰ کردیا ۔ اگر وہ دیکھتے کہ دونوں کو درمیان میل جول ہے کہ مدعیٰ علیہ پر قسم ڈال دیتے۔ اگر ان دونوں کا آپس میں میل جول نہ ہوتا تو پھر قسم نہ ڈالتے۔ شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ مدعی علیہ کے ذمہ قسم ہوگی چاہے مدعی اور مدعی علیہ کے درمیان میل جول ہو یا نہ ہو۔