Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 71 · Chapter 4162

دعوی اور گواہیوں کا بیان

دو شخصوں کا مال کے بارے میں تنازع اور مال دونوں میں سے ایک کے قبضہ میں ہو امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جب دونوں میں سے کسی کے پاس دلیل نہ ہو تو جس کے قبضہ میں ہے اس سے قسم لی جائے گی۔

3 hadiths in this chapter

21216

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21216

Sahih

(۲۱۲۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ کِنْدَۃَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ الْحَضْرَمِیُّ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنُّ ہَذَا قَدْ غَلَبَنِی عَلَی أَرْضٍ کَانَتْ لِی۔ فَقَالَ الْکِنْدِیُّ : ہِیَ أَرْضِی فِی یَدِی أَزْرَعُہَا لَیْسَ لَہُ فِیہَا حَقٌّ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لِلْحَضْرَمِیِّ أَلَکَ بَیِّنَۃٌ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : فَلَکَ یَمِینُہُ؟ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُ رَجُلٌ فَاجِرٌ لَیْسَ یُبَالِی مَا حَلَفَ عَلَیْہِ لَیْسَ یَتَوَرَّعُ مِنْ شَیْئٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : لَیْسَ لَکَ مِنْہُ إِلاَّ ذَلِکَ ۔ فَانْطَلَقَ لِیَحْلِفَ قَالَ فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَا إِنَّہُ إِنْ حَلَفَ عَلَی مَالٍ لِیَأْکُلَہُ ظُلْمًا لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَنْہُ مُعْرِضٌ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَجَمَاعَۃٍ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢١٠) حضرت علقمہ بن وائل بن حجر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضر موت اور کندہ قبیلے کے دو آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ ضرمی کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! اس نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے۔ کندی کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ میری زمین ہے، میں اس میں کھیتی باڑی کرتا ہوں اور اس کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرمی سے کہا کہ آپ کے پاس دلیل ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرمی سے کہا کہ آپ کے پاس دلیل ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے اس کی جانب سے قسم ہے کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ فاجر آدمی ہے اس کو قسم کی کیا پروا یہ کسی چیز سے نہیں بچتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے یہی ہے۔ وہ آدمی قسم اٹھانے کے لیے چلا۔ جب وہ واپس مڑا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس بندے نے قسم اٹھائی تاکہ وہ دوسرے کا ظلم کی وجہ سے مال کھا سکے تو کل وہ اللہ رب العزت سے ملاقات کرے گا تو اللہ اس سے منہ موڑنے والے ہوں گے۔

21217

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21217

Sahih

(۲۱۲۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ أَن یَحْیَی بْنَ سَعِیدٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَا الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ عَنْ عَدِیِّ بْنِ عَدِیٍّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَتَی رَجُلاَنِ یَخْتَصِمَانِ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فِی أَرْضٍ فَقَالَ أَحَدُہُمَا ہِیَ لِی وَقَالَ الآخَرُ ہِیَ لِی حُزْتُہَا وَقَبَضْتُہَا فَقَالَ فِیہَا الیَمِینُ لِلَّذِی بِیَدِہِ الأَرْضُ فَلَمَّا تَفَوَّہَ لِیَحْلِفَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَا إِنَّہُ مَنْ حَلَفَ عَلَی مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ ۔ قَالَ : فَمَنْ تَرَکَہَا؟ قَالَ : کَانَ لَہُ الْجَنَّۃُ ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۲۰۷۰۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢١١) عدی بن عدی اپنیوالد سے نقل فرماتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی زمین کا جھگڑا لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، ایک نے کہا : میری ہے، دوسرا کہنے لگا : میری ہے، کیونکہ میرا قبضہ میں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمین جس کے قبضہ میں ہے اس کے ذمہ قسم ہیجب کہ وہ قسم دینے کے لیے تیار ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کے لیے قسم اٹھائی تو وہ اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اس پر ناراض ہوں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اس کو چھوڑ دیا تو اس کے لیے جنت ہے۔

21218

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21218

Sahih

(۲۱۲۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنْا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ جَرِیرٍ ہُوَ ابْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَدِیَّ بْنَ عَدِیٍّ الْکِنْدِیَّ یُحَدِّثُ فِی حَلْقَۃٍ بِمِنًی قَالَ حَدَّثَنِی رَجَائُ بْنُ حَیْوَۃَ وَالْعُرْسُ بْنُ عَمِیرَۃَ عَنْ عَدِیِّ بْنِ عَمِیرَۃَ الْکِنْدِیِّ : أَنَّ امْرَأَ الْقَیْسِ بْنِ عَابِسٍ الْکِنْدِیَّ خَاصَمَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلاً مِنْ حَضْرَمَوْتَ فِی أَرْضٍ فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْحَضْرَمِیَّ الْبَیِّنَۃَ فَلَمْ تَکُنْ لَہُ بَیِّنَۃٌ فَقَضَی عَلَی امْرِئِ الْقَیْسِ بِالْیَمِینِ۔ فَقَالَ الْحَضْرَمِیُّ : أَمْکَنْتَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ مِنَ الیَمِینِ ذَہَبَتْ وَاللَّہِ أَرْضِی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ کَاذِبَۃٍ لِیَقْتَطِعَ بِہَا مَالَ أَخِیہِ لَقِیَ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ یَلْقَاہُ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ ۔ قَالَ وَقَالَ رَجُلٌ وَتَلاَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ قَالَ فَقَالَ امْرُؤُ الْقَیْسِ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَمَاذَا لِمَنْ تَرَکَہَا؟ قَالَ : لَہُ الْجَنَّۃُ ۔ قَالَ : فَإِنِّی أُشْہِدُکَ أَنِّی قَدْ تَرَکْتُہَا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢١٢) عدی بن عدی کندی منیٰ کے میدان میں اپنے شاگردوں سی فرمایا رجا بن حیوہ اور عرس بن عمیرہ نے عدی بن عمیرہ کندی سے نقل کیا ہے کہ امرء القیس بن عابس کندی اور حضر موت کا ایک آدمی زمین کا جھگڑا لے کر آئے۔ حضرمی سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دلیل کا سوال کیا تو اس کے پاس دلیل نہ تھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امر القیس پر قسم ڈال دی تو حضرمی کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ قسم کے ذریعے میری زمین لے جائے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے جھوٹی قسم کے ذریعے اپنے مسلمان بھائی کا مال لیا وہ قیامت والے دن اللہ سے ملاقات کرے گا، اس حال میں کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت کی : { اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا } [اٰل عمران ٧٧] ” وہ لوگ جو اپنی قسموں اور اللہ کے عہد کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔ “ امرء القیس کہنے لگا : جو اس جھگڑا کو چھوڑ دے اس کو کیا ملے گا ؟ فرمایا : جنت۔ وہ کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! گواہ ہوجائیں میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے۔