Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 66 · Chapter 3948

قسموں کا بیان

کفارات کی آزادی میں کیا جائز ہے

3 hadiths in this chapter

19990

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19990

Sahih

(۱۹۹۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أُسَامَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ جَارِیَۃً لِی کَانَتْ تَرْعَی غَنَمًا لِی فَفَقَدَتْ شَاۃً مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُہَا عَنْہَا فَقَالَتْ أَکْلَہَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ وَکُنْتُ مِنْ بَنِی آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْہَہَا وَعَلَیَّ رَقَبَۃٌ أَأُعْتِقُہَا فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَیْنَ اللَّہُ؟ ۔ فَقَالَتْ : ہُوَ فِی السَّمَائِ فَقَالَ : مَنْ أَنَا؟ ۔ فَقَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّہِ۔ قَالَ : أَعْتِقْہَا ۔ کَذَا قَالَہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۳۱۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٩٨٤) حضرت عمر بن حکم فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میری ایک لونڈی بکریاں چراتی تھی۔ ایک دن ایک بکری گم ہوگئی۔ میں نے اس کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا : بھیڑ یا کھا گیا۔ مجھے غصہ آیا تو میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ دے مارا۔ میرے اوپر ایک گردن کا آزاد کرنا ہے کیا میں اس کو آزاد کردوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : اللہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا : آسمان میں، آپ نے پوچھا : میں کون ہوں ؟ اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو آزاد کر دو ۔

19991

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19991

Sahih

(۱۹۹۸۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ حَدَّثَنِی عَطَائُ بْنُ یَسَارٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ الْحَکَمِ السُّلَمِیُّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الطِّیَرَۃِ وَفِی الْعُطَاسِ فِی الصَّلاَۃِ قَالَ : ثُمَّ اطَّلَعْتُ غُنَیْمَۃً لِی تَرْعَاہَا جَارِیَۃٌ لِی قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِیَّۃِ فَوَجَدْتُ الذِّئْبَ قَدْ أَصَابَ مِنْہَا شَاۃً وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِی آدَمَ آسَفُ کَمَا یَأْسَفُونَ فَصَکَکْتُہَا صَکَّۃً ثُمَّ انْصَرَفْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ فَعَظَّمَ ذَلِکَ عَلَیَّ قَالَ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَفَلاَ أُعْتِقُہَا قَالَ : بَلِ ائْتِنِی بِہَا ۔ قَالَ : فَجِئْتُ بِہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہَا : أَیْنَ اللَّہُ؟ ۔ قَالَتْ : فِی السَّمَائِ ۔ قَالَ : فَمَنْ أَنَا؟ ۔ قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّہِ۔ قَالَ : إِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ فَأَعْتِقْہَا ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ دُونَ قِصَّۃِ الْجَارِیَۃِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٩٨٥) معاویہ بن حکم سلمی نے فال کے متعلق حدیث بیان فرمائی اور نماز کے اندر جمائی لینے کی متعلق، فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اپنی بکریوں کا ریوڑ دیکھا جو لونڈی احد یا جوانیہ پہاڑ کے پاس چراتی تھی۔ بھیڑیا ایک بکری لے گیا ہے، میں بھی ابن آدم سے ہوں جیسے ان کو غصہ آتا مجھے بھی غصہ آیا۔ میں نے ایک تھپڑ رسید کردیا، پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور رسول اللہ کو بتایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو برا جانا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں اس کو آزاد کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو میرے پاس لاؤ۔ کہتے ہیں : میں اس کو آپ کے پاس لایا۔ آپ نے فرمایا : اللہ کہاں ہے ؟ کہنے لگی : آسمان میں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا میں کون ہوں : اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا : آزاد کر دو؛ کیونکہ یہ مومنہ ہے۔

19992

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19992

Sahih

(۱۹۹۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- بِوَلِیدَۃٍ سَوْدَائَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی عَلَیَّ رَقَبَۃٌ مُؤْمِنَۃٌ فَإِنْ کُنْتَ تَرَی ہَذِہِ مُؤْمِنَۃً أَعْتِقْہَا؟ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَتَشْہَدِینَ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ؟ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَ : أَتَشْہَدِینَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ؟ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَ : أَفَتُؤْمِنِینَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَ : أَعْتِقْہَا ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ قِیلَ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ قِیلَ عَنْ عَوْنٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الظِّہَارِ۔ [صحیح۔ ابن کثیر ۲/ ۳۷۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٩٨٦) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی اپنی سیاہ لونڈی کو لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی کا آزاد کرنا ہے کیا میں اس کو آزاد کر دوں ؟ اگر آپ اس کو مومنہ خیال کریں تو میں اس کو آزاد کر دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ کہنے لگی : جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو گواہی دیتی ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟ کہنے لگی : ہاں۔ آپ نے پوچھا : کیا تو موت کے بعد زندہ ہونے پر یقین رکھتی ہے ؟ کہنے لگی : ہاں۔ آپ نے فرمایا : اس کو آزاد کر دو ۔