Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 66 · Chapter 3947

قسموں کا بیان

جس نے کئی مرتبہ قسم اٹھائی کہ وہ یہ کام نہیں کرے گا

5 hadiths in this chapter

19985

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19985

Zaeef

(۱۹۹۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ الْخُزَاعِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی ہِلاَلٌ الْوَزَّانُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِی لَیْلَی قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ احْمِلْنِی فَقَالَ وَاللَّہِ لاَ أَحْمِلُکَ فَقَالَ وَاللَّہِ لَتَحْمِلَنِّی قَالَ وَاللَّہِ لاَ أَحْمِلُکَ قَالَ وَاللَّہِ لَتَحْمِلَنِّی إِنِّی ابْنُ سَبِیلٍ قَدْ آدَتْ بِی رَاحِلَتِی فَقَالَ وَاللَّہِ لاَ أَحْمِلُکَ حَتَّی حَلَفَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِینَ یَمِینًا قَالَ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ مَا لَکَ وَلأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ وَاللَّہِ لِیَحْمِلَنِّی إِنِّی ابْنُ سَبِیلٍ قَدْ آدَتْ بِی رَاحِلَتِی قَالَ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّہِ لأَحْمِلَنَّکَ ثُمَّ وَاللَّہِ لأَحْمِلَنَّکَ قَالَ فَحَمَلَہُ ثُمَّ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَی غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَلْیَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ ہَذَا حَدِیثٌ غَرِیبٌ الْکَفَّارَۃُ وَاحِدَۃٌ۔ قَالَ الشَّیْخُ لَیْسَ ذَلِکَ بِبَیِّنٍ فِی الْحَدِیثِ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ أَقْسَمَ مِرَارًا فَکَفَّرَ کَفَّارَۃً وَاحِدَۃً وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی تَوْکِیدِ الْیَمِینِ وَہُوَ تَکْرِیرُہَا فِی الشَّیْئِ الْوَاحِدِ مَذْہَبٌ آخَرُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٩٧٩) ہلال وزان کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی یعلیٰ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور کہا : اے امیرالمومنین ! مجھے سواری دیں۔ انھوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تجھے سواری نہ دوں گا۔ اس نے کہا : ضرور آپ مجھے سواری دیں گے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں سواری نہ دوں گا۔ اس نے دوبارہ کہا : آپ ضرور مجھے سواری دیں گے، میں مسافر ہوں، میری سواری تھک چکی ہے۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : میں تجھے سواری نہ دوں گا اللہ کی قسم ! یہاں تک کہ انھوں نے بیس کے قریب قسم کھا لیں۔ اس سے ایک انصاری آدمی نے کہا : تجھے کیا ہے امیرالمومنین سے ؟ وہ کہنے لگا : میں مسافر ہوں، میری سواری عاجز آچکی، ان کو چاہیے کہ وہ مجھے سواری دیں، لیکن وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں تجھے سواری نہ دوں گا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے پھر سواری دے دی۔ پھر فرمایا : جو کسی کام پر قسم کھالے اور دوسر اس سے بہتر ہو تو قسم کا کفارہ دے کر بہترکام کرلے۔ علی بن مدینی فرماتے ہیں کہ کفارہ ایک ہی ہے۔ (ب) شیخ فرماتے ہیں اس میں یہ دلیل موجود نہیں ہے، لیکن ابن عمر (رض) بھی فرماتے ہیں کہ اس طرح کی قسم میں کفارہ ایک دفعہ ہی ہے۔

19986

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19986

Sahih

(۱۹۹۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : مَنْ حَلَفَ بِیَمِینٍ فَوَکَّدَہَا ثُمَّ حَنِثَ فَعَلَیْہِ عِتْقُ رَقَبَۃٍ أَوْ کِسْوَۃُ عَشَرَۃِ مَسَاکِینَ وَمَنْ حَلَفَ بِیَمِینٍ فَلَمْ یُؤَکِّدْہَا فَعَلَیْہِ إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِینَ لِکُلِّ مِسْکِینٍ مُدٌّ مِنْ حِنْطَۃٍ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ۔ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بُکَیْرٍ وَرِوَایَۃُ الشَّافِعِیِّ مُخْتَصَرَۃٌ مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَوَکَّدَہَا فَعَلَیْہِ عِتْقُ رَقَبَۃً۔ قَالَ الشَّیْخُ : ظَاہِرُ الْکِتَابِ ثُمَّ ظَاہِرُ السُّنَّۃِ ثُمَّ مَا رُوِّینَا فِی ہَذَا الْبَابِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَإِنْ کَانَ مُرْسَلاً لاَ یُفَرِّقُ شَیْء ٌ مِنْ ذَلِکَ بَیْنَ تَوْکِیدِ الْیَمِینِ وَغَیْرِ تَوْکِیدِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٩٨٠) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جو پختہ قسم اٹھائے پھر توڑ ڈالے تو اس پر ایک گردن کا آزاد کرنا ہے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا ہے اور جس نے پختہ قسم نہ اٹھائی اس پر دس مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔ ہر مسکین کے لیے گندم کا ایک مد ہے، جو نہ پائے اس پر تین دن کے روزے ہیں۔ (ب) ابن بکیر کی حدیث میں ہے کہ پختہ قسم پر ایک گردن کا آزاد کرنا ہے۔ (ج) پختہ اور عام قسم کے کفارے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (٢٨) باب مَا یُجْزِئُ مِنَ الْکِسْوَۃِ فِی الْکَفَّارَۃِ وَہُوَ کُلُّ مَا وَقَعَ عَلَیْہِ اسْمُ کِسْوَۃٍ مِنْ عِمَامَۃٍ أَوْ سَرَاوِیلَ أَوْ إِزَارٍ أَوْ مِقْنَعَۃٍ وَغَیْرِ ذَلِکَ ہر وہ چیز جس پر پہنانے کا اطلاق ہو سکے جیسے پگڑی، شلوار، ازار یا معمولی چیز کا کفارہ میں دینا جائز ہے قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { أَوْ کِسْوَتُہُمْ }

19987

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19987

Zaeef

(۱۹۹۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَنْبَأَنَا سَلَمَۃُ بْنُ عَلْقَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَکَفَّرَ وَأَمَرَ بِالْمَسَاکِینِ فَأُدْخِلُوا بَیْتَ الْمَالِ فَأَمَرَ بِجَفْنَۃٍ مِنْ ثَرِیدٍ فَقُدِّمَتْ إِلَیْہِمْ فَأَکَلُوا ثُمَّ کَسَا کُلَّ إِنْسَانٍ مِنْہُمْ ثَوْبًا إِمَّا مُعَقَّدًا وَإِمَّا ظَہْرَانِیًّا۔ قَالَ الشَّیْخُ وَکَأَنَّہُ لَمْ یَرَ الْکَفَّارَۃَ بِمَا أَعْطَاہُمْ مِنَ الثَّرِیدِ مُجْزِیَۃً فَأَعْطَی کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ ثَوْبًا۔ وَرُوِیَ عَنْ زَہْدَمٍ الْجَرْمِیِّ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ حَلَفَ فَأَعْطَی عَشْرَۃَ مَسَاکِینَ عَشْرَۃَ أَثْوَابٍ لِکُلِّ مِسْکِینٍ ثَوْبًا مِنْ مُعَقَّدِ ہَجَرَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٩٨١) محمد بن سیرین حضرت ابوموسیٰ اشعری سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کسی بھلائی کے کام پر قسم اٹھائی تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور مسکینوں کو بیت المال میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ ایک ثرید کا پیالہ لانے کا حکم فرمایا ، جوان کے سامنے پیش کیا گیا۔ انھوں نے اس سے کھایا۔ پھر ہر انسان کو پہنایا یا تو اوپر پہننے والا یا ازار عطا فرمائے۔ شیخ (رح) فرماتے ہیں : انھوں نے ثرید کو کفارہ میں کافی نہیں سمجھا بلکہ ہر ایک کو کپڑے بھی پہنائے۔ (ب) زہدم اجرمی حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنی قسم کے کفارے میں دس مسکینوں کو کپڑے عطاء کیے ہر مسکین کو معقد ھجر کے بنے ہوئے دس دس کپڑے۔

19988

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19988

Zaeef

(۱۹۹۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِیرٍ أَنْبَأَنَا خُصَیْفٌ عَنْ عَطَائٍ وَمُجَاہِدٍ وَعِکْرِمَۃَ قَالُوا : لِکُلِّ مِسْکِینٍ ثَوْبٌ قَمِیصٌ أَوْ إِزَارٌ أَوْ رِدَاء ٌ فَقُلْتُ لِخُصَیْفٍ أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ مُوسِرًا قَالَ أَیَّ ذَا فَعَلَ فَحَسُنَ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ ہَذِہِ الْخِصَالَ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ وَذَکَرَ أَنَّہَا فِی قِرَائَ ۃِ أُبَیٍّ مُتَتَابِعَۃٍ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ فِی کَفَّارَۃِ الْیَمِینِ مُدٌّ مُدٌّ وَالْکِسْوَۃُ ثَوْبٌ ثَوْبٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٩٨٢) عطاء مجاہد اور عکرمہ نے فرمایا : ہر مسکین کے لیے ایک قمیص یا تہبند یا چادر ہونی چاہیے۔ میں نے خصیف سے کہا : اگر وہ تنگ دست ہو تو پھر ؟ فرمایا : جو بھی کرلے گا اس نے اچھا کیا۔ اگر کچھ بھی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھ لے۔ ابی کی قراءت ہے کہ وہ مسلسل روزے رکھے۔ ابن جریج کی روایت جو عطاء سے ہے کہ یہ کفارہ قسم میں ہے ایک ایک مد اور ایک ایک کپڑا۔

19989

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19989

Zaeef

(۱۹۹۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَیْرِ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَجُلاً حَدَّثَہُ : أَنَّہُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ أَنَّہُ لاَ یُصَلِّی فِی مَسْجِدِ قَوْمِہِ فَقَالَ عِمْرَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ نَذْرَ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَکَفَّارَتُہُ کَفَّارَۃُ یَمِینٍ ۔ فَقُلْتُ یَا أَبَا نُجَیْدٍ إِنَّ صَاحِبَنَا لَیْسَ بِالْمُوسِرِ فَبِمَ یُکَفِّرُ قَالَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا قَامُوا إِلَی أَمِیرٍ مِنَ الأُمَرَائِ وَکَسَا کُلَّ إِنْسَانٍ مِنْہُمْ قَلَنْسُوۃً لَقَالَ النَّاسُ قَدْ کَسَاہُمْ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ سَلْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ نِعْمَ الثَّوْبُ التُّبَّانُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٩٨٣) ابن زبیرحنظلی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمران بن حصین سے سوال کیا کہ کسی شخص نے محلے کی مسجد میں نماز نہ پڑھنے کی قسم کھائی تھی۔ حضرت عمران بن حصین نے فرمایا : میں نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ میں نے کہا کہ وہ ساتھی کوئی تنگ دست نہیں ہے پھر وہ کیا کفارہ ادا کرے ؟ فرمایا : اگر وہ امراء میں سے ہے تو ہر انسان کو ٹوپی بھی پہنائے تو لوگوں نے کہا : انھوں نے ان کو ٹوپی بھی پہنائی اور سلمان سے ذکر کیا گیا کہ بہترین کپڑے لنگوٹ یا جان گیا ہے۔