Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 66 · Chapter 3930

قسموں کا بیان

میں قسم کھاتا ہوں یا میں نے قسم کھائی کے الفاظ کا بیان

4 hadiths in this chapter

19890

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19890

Sahih

(۱۹۸۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ کَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ إِنِّی رَأَیْتُ اللَّیْلَۃَ ظُلَّۃً یَنْطِفُ مِنْہَا السَّمْنُ وَالْعَسَلُ فَأَرَی النَّاسَ یَتَکَفَّفُونَ فِی أَیْدِیہِمْ فَالْمُسْتَکْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَرَی سَبَبًا وَاصِلاً مِنَ السَّمَائِ إِلَی الأَرْضِ فَأَرَاکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخَذْتَ بِہِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِہِ ثُمَّ وُصِلَ لَہُ فَعَلاَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَیْ رَسُولَ اللَّہِ بِأَبِی أَنْتَ وَاللَّہِ لَتَدَعَنِّی فَلأَعْبُرَہَا فَقَالَ اعْبُرْہَا فَقَالَ أَمَّا الظُّلَّۃُ فَظُلَّۃُ الإِسْلاَمِ وَأَمَّا التَّنَطُّفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَہُوَ الْقُرْآنُ وَلِینُہُ وَحَلاَوَتُہُ وَأَمَّا الْمُسْتَکْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ فَہُوَ الْمُسْتَکْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ مِنْہُ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَائِ إِلَی الأَرْضِ فَہُوَ الْحَقُّ الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ تَأْخُذُ بِہِ فَیُعْلِیکَ اللَّہُ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ بَعْدَکَ رَجُلٌ آخَرُ فَیَعْلُو بِہِ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ آخَرُ بَعْدَہُ فَیَعْلُو بِہِ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَیُقْطَعُ بِہِ ثُمَّ یُوصَلُ فَیَعْلُو بِہِ أَیْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَتُحَدِّثَنِّی أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ قَالَ : أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا۔ قَالَ : أَقْسَمْتُ بِأَبِی أَنْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَتُحَدِّثَنِّی بِالَّذِی أَخْطَأْتُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : لاَ تُقْسِمْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ أَحْیَانًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَحْیَانًا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ وَکَمَا رَوَاہُ الرَّمَادِیُّ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ وَفَیَّاضُ بْنُ زُہَیْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ أَزْہَرَ وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ فَقَالَ کَانَ مَعْمَرٌ یَقُولُ مَرَّۃً عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَمَرَّۃً عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ وَرَوَاہُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَقَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلاً جَائَ وَرَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ أَقْسَمْتُ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی الْحَدِیثِ قَالَ فَوَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَتُخْبِرَنِّی بِالَّذِی أَخْطَأْتُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٨٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے رات کو سائبان سے گھی اور شہد ٹپکتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے لوگوں کو ہاتھ پھلائے ہوئے دیکھا ۔ کچھ زیادہ وصول کرتے ہیں اور کچھ کم اور میں نے ایک رسی آسمان سے زمین کی طرف لڑھکتی دیکھی، میرا خیال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پکڑا اور آسمان پر چڑھ گئے۔ پھر دوسرے آدمی نے پکڑا وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر تیسرے آدمی نے پکڑی وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر کسی اور نے رسی کو پکڑا لیکن وہ ٹوٹ گئی۔ لیکن رسی پھر درست ہوگئی وہ بھی چڑھ گیا تو ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس کی تعبیر کروں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تعبیر کرو۔ فرماتے ہیں : ظلۃ سے مراد اسلام کا سائبان ہے اس سے گھی اور شہد کے ٹپکنے سے مراد قرآن اس کی نرمی اور مٹھاس ہے۔ مستکر و مستقل سے مراد قرآن کو زیادہ سیکھنے والے اور کم سیکھنے والے ہیں۔ آسمان سے زمین کی طرف آنے والی رسی سے مراد حق ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر آئے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر کاربند ہیں جس کی وجہ سے اللہ نے آپ کو غلبہ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ایک دوسرے آدمی نے اس حق کو لیا اور غلبہ حاصل کیا۔ پھر دوسرے نے اس کے ذریعہ سے غلبہ حاصل کیا۔ پھر کسی دوسرے نے اس کو لیا تو رسی ٹوٹ جاتی ہے۔ پھر آخر کار وہ مل جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ غلبہ پاتے ہیں : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کریں میں نے درست کہا یا غلط ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بعض درست اور بعض غلط۔ میں نے کہا : میں نے قسم کھائی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری غلطی کو بیان کریں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو قسم نہ کھا۔ (ب) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا۔ حدیث میں ہے کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قسم ڈالتا ہوں۔ (ج) ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری غلطی کی مجھے خبر دیں۔

19891

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19891

Sahih

(۱۹۸۸۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ یُونُسَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا کَانَ یُحَدِّثُ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَرَی اللَّیْلَۃَ فِی الْمَنَامِ ظُلَّۃً تَنْطُفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلُ فَأُرَی النَّاسَ یَتَکَفَّفُونَ مِنْہَا بِأَیْدِیہِمْ فَالْمُسْتَکْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَرَی سَبَبًا وَاصِلاً مِنَ السَّمَائِ إِلَی الأَرْضِ فَأَرَاکَ أَخَذْتَ بِہِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِکَ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخْرُ فَانْقَطَعَ بِہِ ثُمَّ وُصِلَ لَہُ فَعَلاَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی لَتَدَعَنِّی فَلأَعْبُرَنَّہُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- اعْبُرْ قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَمَّا الظُّلَّۃُ فَظُلَّۃُ الإِسْلاَمِ وَأَمَّا الَّذِی یَنْطُفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَالْقُرْآنُ حَلاَوَتُہُ وَلِینُہُ وَأَمَّا مَا یَتَکَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِکَ فَالْمُسْتَکْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَائِ إِلَی الأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ تَأْخُذُ بِہِ فَیُعْلِیکَ اللَّہُ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ رَجُلٌ بَعْدَکَ فَیَعْلُو بِہِ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَیَعْلُو بِہِ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَیَعْلُو بِہِ فَیَنْقَطِعُ بِہِ ثُمَّ یُوصَلُ لَہُ فَیَعْلُو بِہِ فَأَخْبِرْنِی یَا رَسُولَ اللَّہِ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی أَصَبْتُ أَوْ أَخْطَأْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا قَالَ فَوَاللَّہِ لَتُخْبِرَنِّی بِالَّذِی أَخْطَأْتُ قَالَ : لاَ تُقْسِمْ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ۔ وَفِی حَدِیثِ اللَّیْثِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی رَأَیْتُ اللَّیْلَۃَ فِی الْمَنَامِ وَقَالَ وَإِذَا سَبَبٌ وَاصِلٌ مِنَ الأَرْضِ إِلَی السَّمَائِ وَأَرَاکَ أَخَذْتَ بِہِ فَعَلَوْتَ وَالْبَاقِی مِثْلُ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَۃَ بْنِ یَحْیَی عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ تَابَعَہُ سُلَیْمَانُ بْنُ کَثِیرٍ وَابْنُ أَخِی الزُّہْرِیِّ وَسُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ (ت) وَقَالَ الزُّبَیْدِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَالَ الزُّبَیْدِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَوْ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ الشَّیْخُ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٨٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے خواب میں دیکھا ایک سائبان سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، میں نے دیکھا : لوگ اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے کوئی زیادہ یا کم حاصل کررہا تھا اور ایک رسی آسمان سے زمین کی طرف لٹک رہی تھی، میں نے دیکھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رسی کو پکڑا اوپر چڑھ گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد دوسرے آدمی نے رسی کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے۔ اس کے بعد تیسرے آدمی نے رسی کو پکڑا اور اوپر چڑھ گیا۔ پھر چوتھے آدمی نے رسی کو پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی۔ پھر جوڑ دی گئی وہ اوپر چڑھ گیا تو ابوبکر (رض) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس خواب کی تعبیر کرتا ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تعبیر کرو۔ ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : سائبان سے مراد اسلام کا سائبان ہے، گھی اور شہد کا اس سے ٹپکنا اس سے مراد قرآن کی مٹھاس اور نرمی ہے اور لوگوں کے ہاتھ پھیلانے سے مراد قرآن کی تعلیم کم یا زیادہ حاصل کرنا ہے۔ رسی کے آسمان سے زمین کی طرف لٹکنے سے مراد حق ہے جس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی وجہ سے اللہ نے غلبہ یا سربلندی عطا کی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد دوسرے آدمی نے اس حق کو لیا اللہ نے اس کو بھی غلبہ دیا۔ پھر تیسرے آدمی نے بھی اس کے ساتھ غلبہ حاصل کیا۔ پھر چوتھے آدمی نے اوپر چڑھنے کی کوشش کی تو یہ رسی ٹوٹ گئی۔ پھر وہ رسی درست کردی گئی تو وہ چڑھ گیا۔ اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان میں نے درست کہا یا غلطی کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے خبر دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بعض درست اور بعض غلط۔ ابوبکر (رض) کہنے لگے : اللہ کی قسم ! آپ مجھے میری غلطی کی خبر دیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم نہ ڈالو۔ (ب) لیث کی حدیث میں ہے کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ ایک رسی زمین سے آسمان تک تھی۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ پکڑ کر اوپر چڑھ گئے ہیں۔

19892

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19892

Sahih

(۱۹۸۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ أَنْبَأَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : إِذَا قَالَ أَقْسَمْتُ فَلَیْسَ بِشَیْئٍ حَتَّی یَقُولَ أَقْسَمْتُ بِاللَّہِ وَقَدْ رُوِیَ فِی ہَذَا حَدِیثٌ مُسْنَدٌ إِلاَّ أَنَّہُ ضَعِیفٌ بِمَرَّۃٍ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٨٦) عطاء فرماتے ہیں کہ جب میں (اقسمت) کے لفظ بولتا ہوں تو کفارہ نہیں دیتا۔ جب تک میں قسمت ” باللہ “ کے الفاظ نہ بولوں۔

19893

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19893

Zaeef

(۱۹۸۸۷) وَرَوَی إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ عِیسَی بْنِ یُونُسَ عَنْ رِشْدِینَ بْنِ کُرَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ أُقْسِمُ قَالَ لاَ یَکُونُ یَمِینًا حَتَّی یَقُولَ أُقْسِمُ بِاللَّہِ وَفِی قَوْلِہِ أَشْہَدُ قَالَ لاَ یَکُونُ یَمِینًا حَتَّی یَقُولَ أَشْہَدُ بِاللَّہِ وَہَذَا فِیمَا أَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ إِجَازَۃً عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شِیرُوَیْہِ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ فَذَکَرَہُ۔ وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ مِنْ قَوْلِہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٨٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ خالی ’ اقسم ‘ کے الفاظ سے قسم مراد نہیں ہوتی، جب تک (اقسم باللہ) کے الفاظ ادا نہ کیے جائیں۔ ایک قول میں ہے کہ ” اشہد “ کے الفاظ سے بھی قسم مراد نہیں، جب تک ” اشہد باللّٰہ “ کے الفاظ نہ بھولے۔