Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 66 · Chapter 3929

قسموں کا بیان

جھوٹی قسم کا حکم

16 hadiths in this chapter

19874

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19874

Sahih

(۱۹۸۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ سَابِقٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : مَا الْکَبَائِرُ؟ قَالَ : الإِشْرَاکُ بِاللَّہِ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ : ثُمَّ عُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ : ثُمَّ الْیَمِینُ الْغَمُوسُ ۔ قَالَ فَقُلْتُ لِعَامِرٍ : مَا الْیَمِینُ الْغَمُوسُ؟ قَالَ : الَّذِی یَقْتَطِعُ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِیَمِینِہِ وَہُوَ فِیہَا کَاذِبٌ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۶۷۵۔ ۶۹۲۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٦٨) عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں : ایک دیہاتی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : کبیرہ گناہ کیا ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے ساتھ شرک کرنا پوچھا : پھر کیا ؟ فرمایا : والدین کی نافرمانی کرنا۔ پوچھا : پھر کونسا ؟ فرمایا : جھوٹی قسم ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عامر سے کہا : جھوٹی قسم کیا ہے ؟ فرمایا : جھوٹی قسم کے ذریعے مسلمان کا مال ہڑپ کرنا۔

19875

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19875

Sahih

(۱۹۸۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَیْبَانُ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکَرِ الْعُقُوقَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٦٩) شبیان نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے، لیکن اس میں والدین کی نافرمانی کا تذکرہ نہیں کیا۔

19876

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19876

Zaeef

(۱۹۸۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّیِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحُسَیْنِ الْحِیرِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ مُجَاہِدٍ وَعِکْرِمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَیْسَ شَیْء ٌ أُطِیعَ اللَّہُ فِیہِ أَعْجَلَ ثَوَابًا مِنْ صِلَۃِ الرَّحِمِ وَلَیْسَ شَیْء ٌ أَعْجَلَ عِقَابًا مِنَ الْبَغْیِ وَقَطِیعَۃِ الرَّحِمِ وَالْیَمِینِ الْفَاجِرَۃِ تَدَعُ الدِّیَارَ بَلاَقِعَ ۔ کَذَا رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ۔ (ت) وَخَالَفَہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ وَعَلِیُّ بْنُ ظَبْیَانَ وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحَکَمِ فَرَوَوْہُ عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ عَنْ نَاصِحِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَقِیلَ عَنْ یَحْیَی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٧٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی چیز ایسی نہیں جس کی وجہ سے اللہ جلد ثواب عطا کرتے ہیں صلہ رحمی کے سوائے، قطع رحمی جھوٹی قسم اور بغاوت کی وجہ سے بہت جلد سزا ملتی ہے گھروں کو نظر بد سے محفوظ رکھیں۔

19877

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19877

Zaeef

(۱۹۸۷۱) وَالْحَدِیثُ مَشْہُورٌ بِالإِرْسَالِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ یَرْوِیہِ قَالَ : ثَلاَثٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ رَأَی وَبَالَہُنَّ قَبْلَ مَوْتِہِ۔ فَذَکَرَہُنَّ وَفِی آخِرِہِنَّ وَالْیَمِینُ الْفَاجِرَۃُ تَدَعُ الدِّیَارَ بَلاَقِعَ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٧١) یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ جس میں تین چیزیں ہوں وہ موت سے پہلے ان کا وبال پالے گا۔ اس نے وہ ذکر کیں ان کے آخر میں فرمایا : جھوٹی قسم اور گھروں کو نظر بد سے بچاؤ۔

19878

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19878

Zaeef

(۱۹۸۷۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَنْبَأَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَنْبَأَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ عَنْ مَکْحُولٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: إِنَّ أَعْجَلَ الْخَیْرِ ثَوَابًا صِلَۃُ الرَّحِمِ وَإِنَّ أَعْجَلَ الشَّرِّ عُقُوبَۃً الْبَغْیُ وَالْیَمِینُ الصَّبْرُ الْفَاجِرَۃُ تَدَعُ الدِّیَارَ بَلاَقِعَ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : مَنْ حَلَفَ عَامِدًا لِلْکَذِبِ فَقَالَ وَاللَّہِ لَقَدْ کَانَ کَذَا وَکَذَا وَلَمْ یَکُنْ کَفَّرَ وَقَدْ أَثِمَ وَأَسَائَ حَیْثُ عَمَدَ الْحَلِفَ بِاللَّہِ بَاطِلاً۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَإِنْ قَالَ وَمَا الْحُجَّۃُ فِی أَنْ یُکَفِّرَ وَقَدْ عَمَدَ الْبَاطِلَ قِیلَ أَقْرَبُہَا قَوْلُ النَّبِیِّ -ﷺ- فَلْیَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ فَقَدْ أَمَرَہُ أَنْ یَعْمِدَ الْحِنْثَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٧٢) مکحول فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے جلد جس بھلائی کا ثواب ملتا ہے وہ صلہ رحمی ہے اور سب سے جلد سزا سرکشی اور بغاوت کی ملتی ہے، اسی طرح جھوٹی قسم۔ گھروں کو نظر بد سے محفوظ رکھو۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جس نے جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی اس نے یوں یوں کیا، لیکن کفر نہیں، وہ گناہ گار ہے اور اس نے اللہ جھوٹی قسم کھا کر برا کیا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر وہ کہے کہ اس پر کفارہ واجب ہونے کی کیا دلیل ہے حالانکہ اس نے باطل چیز کا ارادہ کیا تو اسے کہا جائے گا : سب سے قریبی قول نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے کہ وہ بہتر کام بجالائے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کردے۔

19879

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19879

Sahih

(۱۹۸۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ کَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِی بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ وَأَشْہَلُ بْنُ حَاتِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِیلٍ الأَزْدِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْبَلَدِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ وَمَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ وَحُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: إِذَا آلَیْتَ عَلَی یَمِینٍ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ عَوْنٍ : إِذَا حَلَفْتَ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَیْتَ غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَائْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَکَفِّرْ عَنْ یَمِینِکَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ عَنْ ہُشَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ثُمَّ قَالَ وَتَابَعَہُ أَشْہَلُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ] قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَوْلُ اللَّہِ {وَلاَ یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ أَنْ یُؤْتُوا أُولِی الْقُرْبَی} [النور ۲۲] نَزَلَتْ فِی رَجُلٍ حَلَفَ أَلاَّ یَنْفَعَ رَجُلاً فَأَمَرَہُ اللَّہُ أَنْ یَنْفَعَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٧٣) عبدالرحمن بن سخرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو کسی بھلائی پر قسم اٹھائے ابن عون کی روایت میں ہے کہ جب تو کسی کام پر قسم اٹھائے اور دوسرا کام اس سے بہتر ہوں تو بہتر کام کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ کے اس قول : { وَلاَ یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ أَنْ یُؤْتُوا أُولِی الْقُرْبَی } [النور ٢٢] ” فضل اور وسعت والے قسمیں نہ اٹھائیں کہ وہ قریبی رشتہ داروں کو نہ دیں گے۔ یہ اس آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس نے قسم اٹھائی تھی کہ وہ اپنے قریبی عزیز کو نفع نہ دے گا۔ اللہ نے حکم دیا کہ اس کو نفع دو ۔

19880

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19880

Sahih

(۱۹۸۷۴) قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا فِی قِصَّۃِ الإِفْکِ وَذَلِکَ فِیمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ وَسَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَعَلْقَمَۃُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ مِنْ حَدِیثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- حِینَ قَالَ لَہَا أَہْلُ الإِفْکِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَہَا اللَّہُ مِمَّا قَالُوا وَکُلٌّ حَدَّثَنِی طَائِفَۃً مِنَ الْحَدِیثَ وَبَعْضُ حَدِیثِہِمْ یُصَدِّقُ بَعْضًا وَإِنْ کَانَ بَعْضُہُمْ أَوْعَی لَہُ مِنْ بَعْضٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ قَالَ فِیہِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وا بِالإِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ} [النور: ۱۱] الْعَشْرَ الآیَاتِ فِیمَا أَنْزَلَ اللَّہُ ہَذَا فِی بَرَائَ تِی قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَکَانَ یُنْفِقُ عَلَی مِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَۃَ لِقَرَابَتِہِ مِنْہُ وَفَقْرِہِ وَاللَّہِ لاَ أُنْفِقُ عَلَی مِسْطَحٍ شَیْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِی قَالَ لِعَائِشَۃَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ {وَلاَ یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ أَنْ یُؤْتُوا أُولِی الْقُرْبَی وَالْمَسَاکِینَ وَالْمُہَاجِرِینَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلْیَعْفُوا وَلْیَصْفَحُوا أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لَکُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ} [النور ۲۲] قَالَ أَبُو بَکْرٍ : بَلَی وَاللَّہِ إِنِّی لأُحِبُّ أَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لِی فَرَجَعَ إِلَی مِسْطَحٍ النَّفَقَۃَ الَّتِی کَانَ یُنْفِقُ عَلَیْہِ وَقَالَ وَاللَّہِ لاَ أَنْزِعُہَا مِنْہُ أَبَدًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یُونُسَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٧٤) عبداللہ بن عتبہ سیدہ عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ تہمت لگانے والوں نے جو کہا اللہ نے اس سے بری کردیا۔ محدثین کے ہر طبقہ نے بیان کیا ہے جن کی احادیث ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ اگرچہ وہ حافظے میں ایک دوسرے سے بڑھے ہوئے ہیں۔ لمبی حدیث کو ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ اس نے نازل کیا : { اِنَّ الَّذِیْنَ جَائُوا بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْ } [النور ١١] ” بیشک ایک گروہ نے تہمت لگائی۔ “ ان دس آیات میں اللہ نے میری برأت نازل کی۔ ابوبکر صدیق (رض) فرمانے لگے، جو مسطع بن اثاثہ پر قرابت کی وجہ سے خرچ کیا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم ! آئندہ اس پر خرچ نہ کروں گا جو اس نے عائشہ (رض) کے بارے میں کہا تو اللہ نے فرمایا : { وَلاَ یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ أَنْ یُؤْتُوا أُولِی الْقُرْبَی وَالْمَسَاکِینَ وَالْمُہَاجِرِینَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلْیَعْفُوا وَلْیَصْفَحُوا أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لَکُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ} [النور ٢٢] ” فضل ووسعت والے قریبی رشتہ داروں، مساکین، مہاجرین کو اللہ کے لیے نہ دینے پر قسم نہ اٹھائیں اور معاف و درگزر کریں کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ “ ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : کیوں نہیں میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں اور مسطح کا خرچہ جاری کردیا اور آئندہ خرچہ بند نہ کرنے کی قسم کھائی۔

19881

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19881

Sahih

(۱۹۸۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ : کَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَعُولُ مِسْطَحَ بْنَ أُثَاثَۃَ فَلَمَّا قَالَ فِی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَا قَالَ أَقْسَمَ بِاللَّہِ أَبُو بَکْرٍ أَلاَّ یَنْفَعَہُ أَبَدًا فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلاَ یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ أَنْ یُؤْتُوا أُولِی الْقُرْبَی وَالْمَسَاکِینَ وَالْمُہَاجِرِینَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ} [النور ۲۲] الآیَۃَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَلَی وَاللَّہِ إِنِّی لأُحِبُّ أَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لِی فَرَدَّ عَلَی مِسْطَحٍ وَکَفَّرَ عَنْ یَمِینِہِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَوْلُ اللَّہِ تَعَالَی {وَإِنَّہُمْ لَیَقُولُونَ مُنْکَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا} [المجادلۃ ۲] ثُمَّ جَعَلَ اللَّہُ فِیہِ الْکَفَّارَۃَ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وُجُوبُ الْکَفَّارَۃِ فِیہِ بِالنَّصِّ فِیہِ وَقَدْ مَضَتِ الأَخْبَارُ فِیہِ فِی کِتَابِ الظِّہَارِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٧٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) مسطح بن اثاثہ کی کفالت فرماتے تھے، جب انھوں نے حضرت عائشہ (رض) کے بارے میں باتیں کی تو انھوں نے نفع نہ دینے پر قسم اٹھالی۔ جب اللہ نے { وَلاَ یَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوا اُوْلِی الْقُرْبَی وَالْمَسَاکِیْنَ وَالْمُہَاجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } [النور ٢٢] نازل کی۔ ” فضل ووسعت والے قریبی عزیز، مساکین اور مہاجرین کو اللہ کے لیے نہ دینے کے بارے میں قسم نہ کھائیں “ تو ابوبکر صدیق (رض) فرمانے لگے : میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کریں اور مسطح کا خرچ جاری کردیا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کا فرمان : { وَإِنَّہُمْ لَیَقُولُونَ مُنْکَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا } [المجادلۃ ٢] ” پھر اللہ نے اس میں کفارہ رکھ دیا۔ “ شیخ (رح) فرماتے ہیں : اس میں کفارہ واجب ہے۔

19882

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19882

Sahih

(۱۹۸۷۶) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَنْبَأَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِی یَحْیَی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَجُلَیْنِ اخْتَصَمَا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الطَّالِبَ الْبَیِّنَۃَ فَلَمْ یَکُنْ لَہُ بَیِّنَۃٌ فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ فَحَلَفَ بِاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : قَدْ فَعَلْتَ وَلَکِنْ غُفِرَ لَکَ بِإِخْلاَصِ قَوْلِ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ فَہَکَذَا رَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَعَبْدُ الْوَارِثِ وَالثَّوْرِیُّ وَجَرِیرٌ وَشَرِیکٌ عَنْ عَطَائٍ ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٧٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ دو شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جھگڑا لے کر آئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مطالبہ کرنے والے سے دلیل طلب کی۔ اس کے پاس دلیل نہ تھی تو مخالف نے اللہ کی قسم اٹھالی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تو نے کیا لا الہٰ الا اللہ کے اخلاص کی وجہ سے تجھے معاف کردیا جائے گا۔

19883

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19883

Zaeef

(۱۹۸۷۷) وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ شُعْبَۃَ۔ (ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ عَنْ عَبِیدَۃَ عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ رَجُلاً حَلَفَ بِاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ أَوْ قَالَ حَلَفَ بِاللَّہِ کَاذِبًا فَغُفِرَ لَہُ یَعْنِی لإِخْلاَصِہِ بِاللَّہِ۔ وَہَذَا وَہَمٌ مِنْ شُعْبَۃَ وَالصَّوَابُ رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ وَعَبِیدَۃُ مَاتَ قَبْلَ ابْنِ الزُّبَیْرِ فِیمَا زَعَمَ أَہْلُ التَّوَارِیخِ بِتِسْعِ سِنِینَ فَتَبْعُدُ رِوَایَتُہُ عَنْہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ تَفَرَّدَ بِہِ عَطَاء ٌ السَّائِبُ مَعَ الاِخْتِلاَفِ عَلَیْہِ فِی إِسْنَادِہِ۔ [ضعیف۔ انظر ما قالہ المصنف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٧٧) ابن زبیر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کی قسم اٹھائی یا اللہ کی جھوٹی قسم اٹھائی تو اسے اخلاص باللہ کی وجہ سے معاف کردیا گیا۔

19884

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19884

Zaeef

(۱۹۸۷۸) وَرُوِیَ مِنْ حَدِیثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَۃَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِرَجُلٍ : یَا فُلاَنُ فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ مَا فَعَلْتُہُ قَالَ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعْلَمُ أَنَّہُ قَدْ فَعَلَہُ قَالَ وَکَرَّرَ ذَلِکَ عَلَیْہِ مِرَارًا کُلَّ ذَلِکَ یَحْلِفُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : کَفَّرَ اللَّہُ عَنْکَ کَذِبَکَ بِصِدْقِکَ بِلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٧٨) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فلاں ! تو نے یہ یہ کیا ؟ تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے ایسا نہیں کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم تھا کہ اس نے کیا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بار بار کہہ رہے تھے، لیکن وہ ہر بار قسم اٹھا رہا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لا الہ الا اللہ کے اخلاص کی وجہ سے اللہ نے تجھے معاف کردیا ہے۔

19885

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19885

Zaeef

(۱۹۸۷۹) وَقِیلَ عَنْ ثَابِتٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَنِیہِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ إِجَازَۃً أَنَّ أَبَا الْحَسَنِ بْنَ صَبِیحٍ أَخْبَرَہُمْ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ شِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَنْبَأَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لِرَجُلٍ : فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا؟ ۔ فَقَالَ لاَ وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ فَأَتَاہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ بَلَی قَدْ فَعَلَہُ وَلَکِنْ قَدْ غُفِرَ لَہُ بِقَوْلِہِ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٧٩) ابن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی سے فرمایا : تو نے ایسا ایسا کیا ؟ اس نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ میں نے ایسا نہیں کیا تو جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر بتایا کہ اس نے ایسا کیا ہے، لیکن اللہ نے اس کو لا الٰہ الا اللہ کی وجہ سے معاف کردیا ہے۔

19886

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19886

Zaeef

(۱۹۸۸۰) وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مُرْسَلاً أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مَنْصُورٍ : عَبْدُ الْقَاہِرِ بْنُ طَاہِرٍ الإِمَامُ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِیُّ قَالُوا أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ أَنْبَأَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ رَجُلاً فَقَدَ نَاقَۃً لَہُ وَادَّعَاہَا عَلَی رَجُلٍ فَأَتَی بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : ہَذَا أَخَذَ نَاقَتِی۔ فَقَالَ : لاَ وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ مَا أَخَذْتُہَا۔ فَقَالَ قَدْ أَخَذْتَہَا رُدَّہَا عَلَیْہِ فَرَدَّہَا عَلَیْہِ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : قَدْ غُفِرَ لَکَ بِإِخْلاَصِکَ ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ فَإِنْ کَانَ فِی الأَصْلِ صَحِیحًا فَالْمَقْصُودُ مِنْہُ الْبَیَانُ أَنَّ الذَّنْبَ وَإِنْ عَظُمَ لَمْ یَکُنْ مُوجِبًا لِلنَّارِ مَتَی مَا صَحَّتِ الْعَقِیدَۃُ وَکَانَ مِمَّنْ سَبَقَتْ لَہُ الْمَغْفِرَۃُ وَلَیْسَ ہَذَا التَّعْیِّینُ لأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٨٠) اشعث حضرت حسن سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی اونٹنی تھی تو کسی نے اس کے برخلاف دعویٰ کردیا تو وہ اس کو لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ کہنے لگا : اس نے میری اونٹنی لے لی ہے۔ اس نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ میں نے اس کی اونٹنی نہیں لی۔ دوسرے نے کہا اس نے اونٹنی لی ہے تو اس پر لوٹا دی گئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے تیرے اخلاص کی وجہ سے معاف کردیا ہے۔ وضاحت : عقیدہ درست ہوتے ہوئے کوئی گناہ بھی جہنم واجب نہیں کرتا، لیکن یہ تعین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا۔

19887

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19887

Zaeef

(۱۹۸۸۱) وَأَمَّا الأَثَرُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ الْفَقِیہُ قَالاَ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ عَنْ لَیْثٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : الأَیْمَانُ أَرْبَعَۃٌ یَمِینَانِ تُکَفَّرَانِ وَیَمِینَانِ لاَ تُکَفَّرَانِ فَالرَّجُلُ یَحْلِفُ وَاللَّہِ لاَ یَفْعَلُ کَذَا وَکَذَا فَیَفْعَلُ وَالرَّجُلُ یَقُولُ وَاللَّہِ أَفْعَلُ فَلاَ یَفْعَلُ وَأَمَّا الْیَمِینَانِ اللَّذَانِ لاَ تُکَفَّرَانِ فَإِنَّ الرَّجُلَ یَحْلِفُ مَا فَعَلْتُ کَذَا وَکَذَا وَقَدْ فَعَلَہُ وَالرَّجُلُ یَحْلِفُ لَقَدْ فَعَلْتُ کَذَا وَکَذَا وَلَمْ یَفْعَلْہُ۔ فَہَکَذَا رَوَاہُ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ لَیْثِ بْنِ أَبِی سُلَیْمٍ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٨١) علقمہ حضرت عبداللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قسم کی چار اقسام ہیں :۔ دو کا کفارہ ہوتا ہے اور دو کا کفارہ نہیں ہوتا : 1 ایک آدمی قسم اٹھاتا ہے یوں کرے گا ایسے نہیں کرے گا۔ 2 دوسرا آدمی وہ کہتا ہے اس طرح کروں گا لیکن کرتا نہیں، جن قسموں کا کفارہ نہیں :1 آدمی قسم اٹھاتا ہے میں ایسے نہیں کروں گا لیکن کر گزرتا ہے۔ 2 دوسرا آدمی جو کہتا ہے اللہ کی قسم میں ایسے کروں گا لیکن کرتا نہیں۔

19888

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19888

Zaeef

(۱۹۸۸۲) وَخَالَفَہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ فَرَوَاہُ عَنْ لَیْثٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ کُلَیْبٍ أَبِی مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ مِنْ قَوْلِہِ وَہُوَ أَشْبَہُ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ لَیْثٍ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : الأَیْمَانُ أَرْبَعٌ یَمِینَانِ یُکَفَّرَانِ وَیَمِینَانِ لاَ یُکَفَّرَانِ قَوْلُ الرَّجُلِ وَاللَّہِ مَا فَعَلْتُ وَاللَّہِ لَقَدْ فَعَلْتُ لَیْسَ فِی شَیْئٍ مِنْہُ کَفَّارَۃٌ إِنْ کَانَ تَعَمَّدَ شَیْئًا فَہُوَ کَذِبٌ وَإِنْ کَانَ یَرَی أَنَّہُ کَمَا قَالَ فَہُوَ لَغْوٌ وَقَوْلُ الرَّجُلِ وَاللَّہِ لاَ أَفْعَلُ وَوَاللَّہِ لأَفْعَلَنَّ فَہَذَا فِیہِ کَفَّارَۃٌ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَلَیْثٌ وَحَمَّادُ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِمَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٨٢) ابراہیم فرماتے ہیں کہ قسم کی چار اقسام ہیں دو کا کفارہ ہوتا ہے دو کا نہیں : آدمی کا کہنا اللہ کی قسم میں نہیں کروں گا۔ اگر میں نے کرلیا تو کفارہ نہ ہوگا اگر اس نے جان بوجھ کر کرلیا تو وہ جھوٹا ہے۔ اگر ویسے ہی ہے جس طرح اس کا خیال تھا تو وہ قسم لغو ہے اور آدمی کا یہ کہنا کہ میں ایسے نہ کروں گا اللہ کی قسم ! میں ایسیبالکل نہ کروں گا تو اس میں کفارہ ہے۔

19889

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19889

Sahih

(۱۹۸۸۳) وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَنْبَأَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِیَۃِ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ : کُنَّا نَعُدُّ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِی لاَ کَفَّارَۃَ لَہُ الْیَمِینَ الْغَمُوسَ فَقِیلَ مَا الْیَمِینُ الْغَمُوسُ قَالَ اقْتِطَاعُ الرَّجُلِ مَالَ أَخِیہِ بِالْیَمِینِ الْکَاذِبَۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن الجعد فی مسندہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٨٨٣) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ہم جھوٹی قسم کو گناہ شمار کرتے تھے۔ پوچھا گیا : جھوٹی قسم کیا ہے ؟ فرمایا : اپنے بھائی کا مال جھوٹی قسم کی وجہ سے ہڑپ کرنا۔