Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 56 · Chapter 3372

باغیوں سے قتال کا بیان

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مرتد کی دوسری قسم سے جہاد کا حکم امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسی قوم تھی جس نے اسلام کو تو نہ چھوڑا، لیکن صدقات وغیرہ سے انکار کردیا اور اس بارے میں حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے فیصلے سے حجت لی ہے۔

8 hadiths in this chapter

16736

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16736

Sahih

(۱۶۷۳۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَہُ وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : کَیْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّی مَالَہُ وَنَفْسَہُ إِلاَّ بِحَقِّہِ وَحِسَابُہُ عَلَی اللَّہِ ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلاَۃِ وَالزَّکَاۃِ فَإِنَّ الزَّکَاۃَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّہِ لَوْ مَنَعُونِی عِقَالاً کَانُوا یُؤَدُّونَہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَقَاتَلْتُہُمْ عَلَی مَنْعِہِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَوَاللَّہِ مَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَیْتَ اللَّہَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّہُ الْحَقُّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٣٠) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد جب حضرت ابوبکر (رض) خلیفہ بنے تو عرب کے کچھ قبیلوں نے کفر کردیا تو حضرت عمر (رض) نے ابوبکر سے عرض کی کیا آپ ان سے کیسے لڑیں گے جبکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا کہ لوگوں کے کلمہ پڑھنے تک مجھے ان سے لڑنے کا حکم ہے۔ جب وہ کلمہ کا اقرار کرلیں تو اپنا مال اور خون انھوں نے مجھ سے بچا لیا مگر اس کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے تو ابوبکر نے جواب دیا : جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرے گا میں ان سے ضرور لڑوں گا، زکوۃ مال کا حق ہے اگر یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک رسی بھی زکوۃ میں دیتے تھے اور اب اس کا انکار کیا تو میں ضرور لڑوں گا۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ہمیشہ اسی طرح کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کو کھول دیا اور میں جان گیا کہ یہی حق ہے۔

16737

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16737

Zaeef

(۱۶۷۳۱) وَرَوَی الشَّافِعِیُّ وَغَیْرُہُ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ لأَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَلَیْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَإِذَا قَالُوہَا عَصَمُوا مِنِّی دِمَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلاَّ بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللَّہِ۔ فَقَالَ أَبُوبَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: ہَذَا مِنْ حَقِّہَا لاَ تُفَرِّقُوا بَیْنَ مَا جَمَعَ اللَّہُ لَوْ مَنَعُونِی عَنَاقًا مِمَّا أَعْطُوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَاتَلْتُہُمْ عَلَیْہِ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ إِلاَّ أَنَّہُ سَقَطَ مِنْہُ قَوْلُہُ: لاَ تُفَرِّقُوا بَیْنَ مَا جَمَعَ اللَّہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ الإِمَامُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَاحْتَجَّ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ بِشَیْئَیْنِ أَحَدُہُمَا أَنْ قَالَ قَدْ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِلاَّ بِحَقِّہَا ۔ وَہَذَا مِنْ حَقِّہَا وَالآخَرُ أَنْ قَالَ : لاَ تُفَرِّقُوا بَیْنَ مَا جَمَعَ اللَّہُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : یَعْنِی فِیمَا أَرَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّہُ مُجَاہِدُہُمْ عَلَی الصَّلاَۃِ وَأَنَّ الزَّکَاۃَ مِثْلُہَا قَالَ الشَّافِعِیُّ وَلَعَلَّ مَذْہَبَہُ فِیہِ أَنَّ اللَّہَ یَقُولُ {وَمَا أُمِرُوا إِلاَّ لِیَعْبُدُوا اللَّہَ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ حُنَفَائَ وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ وَذَلِکَ دِینُ الْقَیِّمَۃِ} وَأَنَّ اللَّہَ فَرَضَ عَلَیْہِمْ شَہَادَۃَ الْحَقِّ وَالصَّلاَۃَ وَالزَّکَاۃَ وَأَنَّہُ مَتَی مَنَعَ فَرْضًا قَدْ لَزِمَہُ لَمْ یُتْرَکْ وَمَنْعَہُ حَتَّی یُؤَدِّیَہُ أَوْ یُقْتَلَ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَمَّا قَوْلُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَوَاللَّہِ مَا ہُوَ إِلاَّ أَنِّی رَأَیْتُ اللَّہَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّہُ الْحَقُّ یُرِیدُ أَنَّہُ انْشِرَاحُ صَدْرِہِ بِالْحُجَّۃِ الَّتِی أَدْلَی بِہَا وَالْبُرْہَانِ الَّذِی أَقَامَہُ وَقَالَ بَعْضُ أَئِمَّتِنَا رَحِمَہُمُ اللَّہُ قَدْ وَقَعَ اخْتِصَارٌ فِی رِوَایَۃِ ہَذَا الْحَدِیثِ وَقَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِنْ أَوْجُہٍ کَثِیرَۃٍ أَنَّہُ أَمَرَ بِالْقِتَالِ عَلَی الشَّہَادَتَیْنِ وَعَلَی إِقَامِ الصَّلاَۃِ وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ فَأَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا قَاتَلَ مَانِعِی الزَّکَاۃِ بِالنَّصِّ مَعَ مَا ذَکَرَ مِنَ الدِّلاَلَۃِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا سَلَّمَ ذَلِکَ لَہُ حِینَ قَامَتْ عَلَیْہ الْحُجَّۃُ بِمَا رَوَی فِیہِ مِنَ النَّصِّ وَذَکَرَ فِیہِ مِنَ الدِّلاَلَۃِ لاَ أَنَّہُ قَلَّدَہُ فِیہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٣١) تقدم قبلہ شیخ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے اس حدیث میں جو دلیل پکڑی ہے، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان سے لی ہے : ” الا بحقہا “ مگر اس کے حق کے ساتھ اور دوسری اس چیز سے بھی کہ جن کو اللہ نے جمع کیا ہے یہ اس میں فرق کیوں کرتے ہیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ وہ نماز پر جہاد کرتے تھے اور زکوۃ بھی اسی جیسی ہے اور شاید اللہ کے اس فرمان سے انھوں نے یہ سمجھا ہے : { وَمَا اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ۔۔۔} [البینۃ ٥] اللہ نے کلمہ حق کا اقرار اور نماز اور زکوۃ کو فرض کیا ہے۔ جب کلمہ حق کو جو چھوڑتا ہے اس پر جو گناہ ہے تو ان کا انکار بھی اسی جیسا ہے اور شیخ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے جو اپنے انشراحِ صدر کی بات کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابوبکر نے جو دلائل پیش کیے تھے، وہ میرے دل میں گھر کر گئے۔

16738

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16738

Sahih

(۱۶۷۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلاَبِیُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ دَاوَرَ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا أَبَا بَکْرٍ أَتُرِیدُ أَنْ تُقَاتِلَ الْعَرَبَ؟ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوا أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنِّی رَسُولُ اللَّہِ وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ ۔ وَاللَّہِ لَوْ مَنَعُونِی عَنَاقًا مِمَّا کَانُوا یُعْطُونَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لأُقَاتِلَنَّہُمْ عَلَیْہِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا رَأَیْتُ رَأْیَ أَبِی بَکْرٍ قَدْ شُرِحَ عَلَیْہِ عَلِمْتُ أَنَّہُ الْحَقُّ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٣٢) حضرت انس سے ١٦٧٣٠ نمبر والی حدیث۔

16739

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16739

Sahih

(۱۶۷۳۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَۃَ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَنْبَسِ سَعِیدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوا أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ ثُمَّ حَرُمَتْ عَلَیَّ دِمَاؤُہُمْ وَأَمْوَالُہُمْ وَحِسَابُہُم عَلَی اللَّہِ تَعَالَی ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٣٣) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ کلمہ کا اقرار نہ کرلیں اور نماز قائم نہ کرلیں اور زکوۃ ادا نہ کریں۔ جب کرلیں گے تو انھوں نے اپنے نفس اور اپنے مال کو مجھ سے بچا لیا اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔

16740

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16740

Zaeef

(۱۶۷۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِیُّ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُمِرْتُ أَن أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ فَإِذَا فَعَلُوا مَنَعُوا مِنِّی دِمَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلاَّ بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٣٤) سابقہ روایت۔

16741

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16741

Zaeef

(۱۶۷۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِیُّ حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوا أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ عَصَمُوا مِنِّی دِمَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلاَّ بِحَقِّ الإِسْلاَمِ وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللَّہِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْمُسْنَدِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٣٥) ابن عمر سے سابقہ روایت۔

16742

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16742

Sahih

(۱۶۷۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ ہُوَ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِینِہِ فَسَوْفَ یَأْتِی اللَّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ} الآیَۃَ کُلَّہَا قَالَ : نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ وَقَدْ عَلِمَ اللَّہُ أَنَّہُ سَیَرْتَدُّ مُرْتَدُّونَ مِنَ النَّاسِ فَلَمَّا قَبَضَ اللَّہُ رَسُولَہُ -ﷺ- ارْتَدَّ النَّاسُ عَنِ الإِسْلاَمِ إِلاَّ ثَلاَثَۃَ مَسَاجِدَ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ وَأَہْلُ مَکَّۃَ وَأَہْلُ جُوَاثَا مِنْ أَہْلِ الْبَحْرَیْنِ مِنْ عَبْدِ الْقَیْسِ وَقَالَتِ الْعَرَبُ أَمَّا الصَّلاَۃُ فَنُصَلِّی وَأَمَّا الزَّکَاۃُ فَوَاللَّہِ لاَ تُغْصَبُ أَمْوَالَنَا فَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یَتَجَاوَزَ عَنْہُمْ وَیُخَلِّیَ عَنْہُمْ وَقِیلَ لَہُ إِنَّہُمْ لَوْ قَدْ فَقِہُوا لأَعْطُوا الزَّکَاۃَ طَائِعِینَ فَأَبَی عَلَیْہِمْ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : وَاللَّہِ لاَ أُفَرِّقُ بَیْنَ شَیْئٍ جَمَعَ اللَّہُ بَیْنَہُ وَاللَّہِ لَوْ مَنَعُونِی عَنَاقًا مِمَّا فَرَضَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ لَقَاتَلْتُہُمْ عَلَیْہِ فَبَعَثَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ عَصَائِبَ فَقَاتَلُوا عَلَی مَا قَاتَلَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی أَقَرُّوا بِالْمَاعُونِ وَہِیَ الزَّکَاۃُ الْمَفْرُوضَۃُ ثُمَّ إِنَّ وَفْدَ الْعَرَبِ قَدِمُوا عَلَیْہِ فَخَیَّرَہُمْ بَیْنَ خُطَّۃٍ مُخْزِیَۃٍ أَوْ حَرْبٍ مُجْلِیَۃٍ فَاخْتَارُوا الْخُطَّۃَ وَکَانَتْ أَہْوَنَ عَلَیْہِمْ أَنْ یَشْہَدُوا أَنَّ قَتْلاَہُمْ فِی النَّارِ وَقَتْلَی الْمُسْلِمِینَ فِی الْجَنَّۃِ وَمَا أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ أَمْوَالِہِمْ فَہُوَ حَلاَلٌ وَمَا أَصَابُوا مِنَ الْمُسْلِمِینَ رَدُّوہُ عَلَیْہِمْ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٣٦) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اللہ کا یہ فرمان : { یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ۔۔۔} [المائدۃ ٥٤] نازل ہوا تو پتہ چل گیا کہ کچھ لوگ مرتد بھی ہوں گے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے تو بعض لوگ بھی مرتد ہوگئے، علاوہ تین جگہوں ” مسجدوں “ کے اہل، مدینہ، اہل مکہ، اہل جواثا بنو عبدالقیس اہل بحرین سے، عرب کہنے لگے : نماز تو ہم پڑھیں گے، لیکن زکوۃ نہیں دیں گے تو حضرت ابوبکر نے ان سے بات کی اور انھیں سمجھایا تو وہ کہنے لگے : اگر ہمیں یہ بات سمجھ آجائے تو ہم زکوۃ دیں گے تو حضرت ابوبکر نے فرمایا : میں نماز اور زکوۃ میں اللہ کی قسم فرق نہیں سمجھتا اور اللہ کی قسم ! اگر ایک رسی کا ٹکڑا جو یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا کرتے تھے، اگر آج اس کا بھی انکار کیا تو میں ان سے جہاد کروں گا۔ اللہ نے آپ کو طاقت دی۔ آپ نے ان سے لڑائی کی اور یہ لوگ فرض زکوۃ پر مان گئے۔ پھر ایک عرب کا وفد آیا تو آپ نے ان کو اختیار دیا کہ یا تو مال کا حق دو یا جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ تو انھوں نے جنگ سے کنارہ کشی کرلی اور خطہ کو پسند کرلیا، یعنی مال کا مقرر حصہ دینے پر راضی ہوگئے۔

16743

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16743

Sahih

(۱۶۷۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ جَہَّزَ بَعْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- جُیُوشًا عَلَی بَعْضِہَا شُرَحْبِیلُ بْنُ حَسَنَۃَ وَیَزِیدُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَسَارُوا حَتَّی نَزَلُوا الشَّامَ فَجَمَعَتْ لَہُمُ الرُّومُ جُمُوعًا عَظِیمَۃً فَحُدِّثَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِذَلِکَ فَأَرْسَلَ إِلَی خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَہُوَ بِالْعِرَاقِ أَوْ کَتَبَ أَنِ انْصَرِفْ بِثَلاَثَۃِ آلاَفِ فَارِسٍ فَأَمِدَّ إِخْوَانَکَ بِالشَّامِ وَالْعَجَلَ الْعَجَلَ فَأَقْبَلَ خَالِدٌ مُغِذًّا جَوَادًا فَاشْتَقَّ الأَرْضَ بِمَنْ مَعَہُ حَتَّی خَرَجَ إِلَی ضُمَیْرٍ فَوَجَدَ الْمُسْلِمِینَ مُعَسْکِرِینَ بِالْجَابِیَۃِ وَتَسَامَعَ الأَعْرَابُ الَّذِینَ کَانُوا فِی مَمْلَکَۃِ الرُّومِ بِخَالِدٍ فَفَزِعُوا لَہُ فَفِی ذَلِکَ یَقُولُ قَائِلُہُمْ: أَلاَ یَا أَصْبَحِینَا قَبْلَ خَیْلِ أَبِی بَکْرِ لَعَلَّ مَنَایَانَا قَرِیبٌ وَمَا نَدْرِی وَفِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْمَبْسُوطِ: أَلاَ فَاصْبَحِینَا قَبْلَ نَائِرَۃِ الْفَجْرِ أَطَعْنَا رَسُولَ اللَّہِ مَا کَانَ وَسْطَنَا فَإِنَّ الَّذِی سَأَلُوکُمُ فَمَنَعْتُمُ سَنَمْنَعُہُمْ مَا کَانَ فِینَا بَقِیَّۃٌ لَعَلَّ مَنَایَانَا قَرِیبٌ وَمَا نَدْرِی فَیَا عَجَبًا مَا بَالُ مُلْکِ أَبِی بَکْرِ لَکَالتَّمْرِ أَوْ أَحْلَی إِلَیْہِمْ مِنَ التَّمْرِ کِرَامٌ عَلَی الْعَزَّائِ فِی سَاعَۃِ الْعُسْرِ وَہَذَا فِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتُہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الشَّافِعِیِّ فَذَکَرَ ہَذِہِ الأَبْیَاتَ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالُوا لأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : بَعْدَ الإِسَارِ مَا کَفَرْنَا بَعْدَ إِیمَانِنَا وَلَکِنْ شَحَحْنَا عَلَی أَمْوَالِنَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٣٧) عبدالرحمن بن جبیر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر نے کچھ لشکر تیار کیے : کسی پر شرحبیل بن حسنہ ، کسی پر یزید بن ابی سفیان اور کسی پر عمرو بن عاص کو امیر مقرر فرمایا ۔ یہ چلے گئے، یہاں تک کہ شام میں اترے تو رومیوں نے ان کے مقابلے میں بہت بڑی فوج جمع کرلی۔ حضرت ابوبکر پتہ چلا تو آپ نے خالد بن ولید جو عراق میں تھے کو لکھا کہ شام پہنچو اور اپنے بھائیوں کی مدد کرو اور جلدی کرو تو حضرت خالد بڑی تیز رفتاری کے ساتھ متوجہ ہوئے، زمین پر ان کے ساتھ مشقت ہوگئی جو آپ کے ساتھ تھے، آپ ضمیر کی طرف نکلے جہاں مسلمان جابیہ سے لڑ رہے تھے اور جو رومی اعراب تھے۔ انھوں نے جب خالد بن ولید کے بارے میں سنا تو گھبرا گئے۔ اس کے بارے میں کسی کہنے والے نے کہا ہے : ” ہائے کاش ! ہم گزر جائیں، ابوبکر کے شہسوار سے پہلے ہماری موت قریب ہے اور ہمیں پتہ بھی نہیں “ اور مبسوط میں شافعی سے اس طرح منقول ہے۔ ہائے ہم نے صبح کی فجر کے پھوٹنے سے پہلے شاید ہماری موت قریب ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی ہم ان کے درمیان نہیں تھے کتنی عجیب بات ہے کہ کیا ہوگیا ہے ابوبکر کی بادشاہت کو وہ جو انھوں نے تم سے مانگا ہے اور تم نے روک دیا وہ کھجور کی طرح یا کھجور سے بھی میٹھا ہے ان کے نزدیک ہم بھی ان کو روکیں گے جب تک ہم میں بقاء ہے تنگی کی گھڑی میں عزت دار کے یہی لائق ہے امام شافعی فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا کہ ہم نے کفر نہیں کیا، لیکن اپنے سال کے لحاظ سے ہم بخیل ہوگئے ہیں۔