Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 56 · Chapter 3373

باغیوں سے قتال کا بیان

خوارج سے لڑائی اس وقت تک شروع نہیں کرنی جب تک ان کے اعتراض کو نہ سن لیا جائے پھر انھیں لوٹ آنے کا کہا جائے گا اگر نہ مانیں تو پھر جنگ کا اعلان کرنا ہے

8 hadiths in this chapter

16744

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16744

Zaeef

(۱۶۷۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی طَلْحَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ قَالَ : کَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَأْمُرُ أُمَرائَ ہُ حِینَ کَانَ یَبْعَثُہُمْ فِی الرِّدَّۃِ إِذَا غَشِیتُمْ دَارًا فَإِنْ سَمِعْتُمْ بِہَا أَذَانًا بِالصَّلاَۃِ فَکُفُّوا حَتَّی تَسْأَلُوہُمْ مَاذَا نَقَمُوا فَإِنْ لَمْ تَسْمَعُوا آذَانًا فَشُنُّوہَا غَارَۃً وَاقْتُلُوا وَحَرِّقُوا وَانْہِکُوا فِی الْقَتْلِ وَالْجِرَاحِ لاَ یُرَی بِکُمْ وَہْنٌ لِمَوْتِ نَبِیِّکُمْ -ﷺ-۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٣٨) طلحہ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر جب اہل الردۃ سے جہاد کے لیے بھیجتے تو امراء کو حکم دیتے کہ جب تم ان کے گھروں تک پہنچ جاؤ تو رک جاؤ۔ اگر تم اذان کی آواز سنو تو ان سے ان کی ناراضگی کا سبب پوچھو۔ اگر اذان کی آواز نہ سنو تو حملہ کر دو ، انھیں مارو قتل کرو جلاؤ زخمی کرو۔ تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت کی وجہ سے تم میں موت کا خوف نہ آئے۔

16745

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16745

Zaeef

(۱۶۷۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَقِیہُ بِالطَّابِرَانِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الصَّوَّافِ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَیْمُونٍ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا زِیَادٌ الْبَکَّائِیُّ حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِیفٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْجَہْمِ أَبِی الْجَہْمِ مَوْلَی الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: بَعَثَنِی عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی النَّہَرِ إِلَی الْخَوَارِجِ فَدَعَوْتُہُمْ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ نُقَاتِلَہُمْ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٣٩) براء بن عازب فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت علی (رض) نے اہل النہر کی طرف خوارج کے خلاف جہاد کے لیے بھیجا تو میں نے انھیں لڑنے سے پہلے ٣ مرتبہ دعوت دی۔

16746

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16746

Sahih

(۱۶۷۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الطَّرْسُوسِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ یُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْیَمَامِیُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ الْعِجْلِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو زُمَیْلٍ سِمَاکٌ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا خَرَجَتِ الْحَرُورِیَّۃُ اجْتَمَعُوا فِی دَارٍ وَہُمْ سِتَّۃُ آلاَفٍ أَتَیْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَبْرِدْ بِالظُّہْرِ لَعَلِّی آتِی ہَؤُلاَئِ الْقَوْمَ فَأُکَلِّمُہُمْ۔ قَالَ : إِنِّی أَخَافُ عَلَیْکَ۔ قَالَ قُلْتُ : کَلاَّ۔ قَالَ : فَخَرَجْتُ آتِیہُمْ وَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا یَکُونُ مِنْ حُلَلِ الْیَمَنِ فَأَتَیْتُہُمْ وَہُمْ مُجْتَمِعُونَ فِی دَارٍ وَہُمْ قَائِلُونَ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِمْ فَقَالُوا : مَرْحَبًا بِکَ یَا أَبَا عَبَّاسٍ فَما ہَذِہِ الْحُلَّۃُ؟ قَالَ قُلْتُ : مَا تَعِیبُونَ عَلَیَّ لَقَدْ رَأَیْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَحْسَنَ مَا یَکُونُ مِنَ الْحُلَلِ وَنَزَلَتْ {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَۃَ اللَّہِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ} قَالُوا : فَمَا جَائَ بِکَ؟ قُلْتُ : أَتَیْتُکُمْ مِنْ عِنْدِ صَحَابَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ لأُبْلِغَکُمْ مَا یَقُولُونَ وَتُخْبِرُونِی بِمَا تَقُولُونَ فَعَلَیْہِمْ نَزَلَ الْقُرْآنُ وَہُمْ أَعْلَمُ بِالْوَحْیِ مِنْکُمْ وَفِیہِمْ أُنْزِلَ وَلَیْسَ فِیکُمْ مِنْہُمْ أَحَدٌ فَقَالَ بَعْضُہُمْ لاَ تُخَاصِمُوا قُرَیْشًا فَإِنَّ اللَّہَ یَقُولُ {بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَأَتَیْتُ قَوْمًا لَمْ أَرَ قَوْمًا قَطُّ أَشَدَّ اجْتِہَادًا مِنْہُمْ مُسَہَّمَۃٌ وُجُوہُہُمْ مِنَ السَّہَرِ کَأَنَّ أَیْدِیَہُمْ وَرُکَبَہُمْ ثَفِنٌ عَلَیْہِمْ قُمُصٌ مُرَحَّضَۃٌ قَالَ بَعْضُہُمْ لَنُکَلِّمَنَّہُ وَلَنَنْظُرَنَّ مَا یَقُولُ۔ قُلْتُ : أَخْبِرُونِی مَاذَا نَقَمْتُمْ عَلَی ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَصِہْرِہِ وَالْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ قَالُوا: ثَلاَثًا۔ قُلْتُ: مَا ہُنَّ؟ قَالُوا: أَمَّا إِحْدَاہُنَّ فَإِنَّہُ حَکَّمَ الرِّجَالَ فِی أَمْرِ اللَّہِ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّہِ} وَمَا لِلرِّجَالِ وَمَا لِلْحُکْمِ۔ فَقُلْتُ: ہَذِہِ وَاحِدَۃٌ۔ قَالُوا: وَأَمَّا الأُخْرَی فَإِنَّہُ قَاتَلَ وَلَمْ یَسْبِ وَلَمْ یَغْنَمْ فَلَئِنْ کَانَ الَّذِینَ قَاتَلَ کُفَّارًا لَقَدْ حَلَّ سَبْیُہُمْ وَغَنِیمَتُہُمْ وَإِنْ کَانُوا مُؤْمِنِینَ مَا حَلَّ قِتَالُہُمْ قُلْتُ: ہَذِہِ ثِنْتَانِ فَمَا الثَّالِثَۃُ؟ قَالُوا: إِنَّہُ مَحَا اسْمَہُ مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَہُوَ أَمِیرُ الْکَافِرِینَ۔ قُلْتُ: أَعِنْدَکُمْ سِوَی ہَذَا؟ قَالُوا : حَسْبُنَا ہَذَا۔ فَقُلْتُ لَہُمْ : أَرَأَیْتُمْ إِنْ قَرَأْتُ عَلَیْکُمْ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ وَمِنْ سُنَّۃِ نَبِیِّہِ -ﷺ- مَا یُرَدُّ بِہِ قَوْلُکُمْ أَتَرْضَوْنَ؟ قَالُوا : نَعَمْ فَقُلْتُ لَہُمْ : أَمَّا قَوْلُکُمْ حَکَّمَ الرِّجَالَ فِی أَمْرِ اللَّہِ فَأَنَا أَقْرَأُ عَلَیْکُمْ مَا قَدْ رُدَّ حُکْمُہُ إِلَی الرِّجَالِ فِی ثَمَنِ رُبُعِ دِرْہَمٍ فِی أَرْنَبٍ وَنَحْوِہَا مِنَ الصَّیْدِ فَقَالَ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} إِلَی قَوْلِہِ {یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ} فَنَشَدْتُکُمْ بِاللَّہِ أَحُکْمُ الرِّجَالِ فِی أَرْنَبٍ وَنَحْوِہَا مِنَ الصَّیْدِ أَفْضَلُ أَمْ حُکْمُہُمْ فِی دِمَائِہِمْ وَإِصْلاَحِ ذَاتِ بَیْنِہِمْ وَأَنْ تَعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ لَوْ شَائَ لَحَکَمَ وَلَمْ یُصَیِّرْ ذَلِکَ إِلَی الرِّجَالِ وَفِی الْمَرْأَۃِ وَزَوْجِہَا قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہُمَا فَابْعَثُوا حَکَمًا مِنْ أَہْلِہِ وَحَکَمًا مِنْ أَہْلِہَا إِنْ یُرِیدَا إِصْلاَحًا یُوَفِّقِ اللَّہُ بَیْنَہُمَا} فَجَعَلَ اللَّہُ حُکْمَ الرِّجَالِ سُنَّۃً مَاضِیَۃً أَخَرَجْتُ مِنْ ہَذِہِ؟ قَالُوا: نَعَمْ۔ قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُکُمْ قَاتَلَ فَلَمْ یَسْبِ وَلَمْ یَغْنَمْ أَتَسْبُونَ أُمَّکُمْ عَائِشَۃَ ثُمَّ تَسْتَحِلُّونَ مِنْہَا مَا یُسْتَحَلُّ مِنْ غَیْرِہَا فَلَئِنْ فَعَلْتُمْ لَقَدْ کَفَرْتُمْ وَہِیَ أُمُّکُمْ وَلَئِنْ قُلْتُمْ لَیْسَتْ بِأُمِّنَا لَقَدْ کَفَرْتُمْ فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ {النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ وَأَزْوَاجُہُ أُمَّہَاتُہُمْ} فَأَنْتُمْ تَدُورُونَ بَیْنَ ضَلاَلَتَیْنِ أَیَّہُمَا صِرْتُمْ إِلَیْہَا صِرْتُمْ إِلَی ضَلاَلَۃٍ فَنَظَرَ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ قُلْتُ : أَخَرَجْتُ مِنْ ہَذِہِ؟ قَالُوا: نَعَمْ۔ وَأَمَّا قَوْلُکُمْ مَحَا نَفْسَہُ مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَأَنَا آَتِیکُمْ بِمَنْ تَرْضَوْنَ أُرِیکُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ کَاتَبَ الْمُشْرِکِینَ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو وَأَبَا سُفْیَانَ بْنَ حَرْبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ: اکْتُبْ یَا عَلِیُّ ہَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ ۔ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ لاَ وَاللَّہِ مَا نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ مَا قَاتَلْنَاکَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: اللَّہُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ أَنِّی رَسُولُکَ اکْتُبْ یَا عَلِیُّ ہَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ۔ فَوَاللَّہِ لَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَیْرٌ مِنْ عَلِیٍّ وَمَا أَخْرَجَہُ مِنَ النُّبُوَّۃِ حِینَ مَحَا نَفْسَہُ۔ قَالَ عَبْدُاللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَرَجَعَ مِنَ الْقَوْمِ أَلْفَانِ وَقُتِلَ سَائِرُہُمْ عَلَی ضَلاَلَۃٍ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٤٠) ابن عباس کہتے ہیں کہ جب حروری نکلے تو وہ چھ ہزار تھے۔ میں حضرت علی (رض) کے پاس آیا اور کہا : اے امیر المؤمنین ! ظہر کو ٹھنڈا کرلیں تاکہ میں اس قوم کے پاس جا کر ان سے بات کرسکوں، تو فرمایا : مجھے تمہارا ڈر ہے۔ میں نے کہا : ہرگز نہیں۔ فرماتے ہیں : میں نکلا اور ایک بہترین یمنی حلہ پہنا اور ان کے پاس گیا۔ وہ ایک گھر میں سب جمع تھے۔ میں نے ان کو سلام کہا تو انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور پوچھا : یہ حلہ کیسا ؟ میں نے کہا : تم اس حلے پر تعجب کرتے ہو ! میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے اعلیٰ حلے میں دیکھا ہے اور یہ آیت بھی اتری : { قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ } [آل عمران ٣٢] کہنے لگے : کیوں آئے ہو ؟ میں نے کہا کہ میں مہاجرین و انصار صحابہ کی طرف سے آیا ہوں تاکہ ان کی بات تم تک اور تمہاری ان تک پہنچا دوں۔ ان کے وقت میں قرآن نازل ہوا اور تم سے زیادہ وحی کو وہ جانتے ہیں اور تم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے تو بعض نے کہا : تم قریش سے نہ لڑو اللہ تو فرماتا ہے : { بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ } [الزخرف ٥٨] تو ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے بڑھ کر اجتہاد کرنے والا نہیں دیکھا کہ جن کے چہرے رات کے جاگنے سے پھول گئے ہوں گویا ان کے ہاتھ پاؤں خشک ہوگئے ہوں اور ان کے بدن پر پسینے سے بھیگے ہوئے کپڑے ہوں تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور ان سے بات کریں گے اور غور کریں گے جو وہ کہتے ہیں، میں نے کہا : مجھے بتاؤ، تمہیں حضرت علی (رض) ان کی جماعت مہاجرین اور انصار سے کیا شکایت ہے ؟ انھوں نے کہا : تین میں نے کہا : کون سی ؟ پہلی یہ کہ انھوں نے اللہ کے امر میں لوگوں کو حاکم بنا لیا کیونکہ اللہ کا فرمان ہے؛ { اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ } [الانعام ٥٧] تو لوگوں کے لیے کیا ہے اور حکم کے لیے کیا ہے ؟ میں نے کہا : یہ ایک ہے۔ میں نے کہا : دوسری شکایت ؟ کہنے لگے کہ انھوں نے آپس میں جنگ کی لیکن نہ تو کسی نے کسی کو قیدی بنایا نہ ہی مال غنیمت کا مال لوٹا۔ اگر ان میں سے ایک کافر تھا تو پھر قیدی اور غنیمت کیوں نہیں بنے، اگر دونوں مسلمان تھے تو پھر ان کی لڑائی کیسے حلال ہوئی ؟ میں نے کہا : یہ دو ہوگئیں، تیسری بتاؤ۔ کہنے لگے کہ انھوں نے اپنے نام کے ساتھ امیر المؤمنین مٹا دیا تو کیا وہ امیر الکافرین ہیں ؟ میں نے کہا : کیا اور بھی کوئی اعتراض ہے ؟ کہنے لگے : نہیں ۔ میں نے کہا کہ اگر میں قرآن و سنت سے تمہارے اعتراضات کے جواب دوں تو کیا مانو گے ؟ انھوں نے کہا : ہاں۔ تو میں نے انھیں کہا تمہارا یہ اعتراض کہ انھوں نے لوگوں نے اللہ کے امر میں حاکم بنایا ہے فیصلہ کیا۔ میں تم پر قرآن کی آیت پڑھتا ہوں کہ جس میں حکم لوگوں کی طرف پھیرا گیا تھا درہم کی ربع قیمت میں ارنب کے بارے میں اور اس جیسے دوسرے شکارو کے بارے میں فرمایا { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ۔۔۔} [المائدۃ ٩٥] تو آپ یہ بتائیں کہ ان کا خرگوش کے بارے میں یہ فیصلہ تو قبول کرلیتے ہیں لیکن ان کے اپنے خون اور باہم اصلاح کے لیے ان کو حکم تسلیم کیوں نہیں کرتے۔ اگر تم یہ جانتے ہو کہ اللہ چاہتے تو ان کے درمیان فیصلہ کردیتے۔ اسے مردوں کی طرف نہ لوٹاتے، خاوند اور بیوی کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں : { وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا اِنْ یُّرِیْدَآاِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَا } [النساء ٣٥] تو لوگوں میں حکم بنانا یہ اللہ کا قدیم طریقہ ہے تو کیا تمہاری اس بات کی اس سے تردید ہوتی ہے ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں۔ اور تمہارا یہ کہنا کہ یہ باہم لڑے نہ قیدی بنایا نہ ہی غنیمت لوٹی، میں پوچھتا ہوں کہ کیا تم اپنی ماں عائشہ (رض) کو قیدی بناتے اور پھر ان کے ساتھ بھی وہی چیزیں حلال ہوجاتیں جو دوسروں سے حلال ہوتی ہیں ؟ اگر تم یہ کہتے ہیں کہ ہاں حلال ہے تو بھی تم کافر، کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے اگر ماں ہونے کا انکار کرتے ہو تو تب بھی تم کافر۔ کیونکہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے : { اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَ اَزْوَاجُہٗٓ اُمَّھٰتُھُمْ } [الاحزاب ٦] دونوں طرف تمہارے گمراہی ہے اب جس گمراہی میں مرضی گرو۔ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تو ابن عباس نے پوچھا کہ کیا اس کا بھی میں نے جواب دے دیا ؟ تو کہنے لگے : جی ہاں۔ تو کہنے لگے : جو تمہارا تیسرا اعتراض ہے کہ انھوں نے اپنے نام سے امیر المومنین کا لقب ہٹا دیا تو میں تمہیں دلیل دیتا ہوں جسے تم ضرور مانو گے۔ تم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ حدیث سنی ہے کہ جس میں ہے کہ حدیبیہ کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو مشرکین سے مکاتبت کی تھی ان کی طرف سے سہیل بن عمرو اور ابو سفیان تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امیر المؤمنین سے کہا تھا : اے علی ! لکھ یہ صلح نامہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ہے تو مشرک کہنے لگے : نہیں واللہ اگر ہم آپ کو رسول اللہ مان لیں تو جھگڑا کس بات کا۔ تو آپ نے فرمایا تو جانتا ہے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ لیکن ٹھیک ہے چلو علی یوں لکھو یہ صلح نامہ ہے محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امیر المؤمنین سے زیادہ افضل اور بہتر ہیں تو کیا نبی نے اپنے نام سے یہ لفظ مٹوا دیے تھے تو کیا ان کی نبوت ختم ہوگئی تو ابن عباس فرماتے ہیں کہ ٢٠٠٠ آدمی اسی قوم سے لوٹ آئے اور باقی سارے گمراہی پر مارے گئے۔

16747

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16747

Sahih

(۱۶۷۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ السَّدُوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْہَادِ قَالَ قَدِمْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : فَبَیْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَہَا مَرْجِعَہَا مِنَ الْعِرَاقِ لَیَالِیَ قُوتِلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذْ قَالَتْ لِی یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ شَدَّادٍ ہَلْ أَنْتَ صَادِقِی عَمَّا أَسْأَلُکَ عَنْہُ حَدِّثْنِی عَنْ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمِ الَّذِینَ قَتَلَہُمْ عَلِیٌّ قُلْتُ وَمَا لِی لاَ أَصْدُقُکِ قَالَتْ فَحَدِّثْنِی عَنْ قِصَّتِہِمْ قُلْتُ إِنَّ عَلِیًّا لَمَّا أَنْ کَاتَبَ مُعَاوِیَۃَ وَحَکَّمَ الْحَکَمَیْنِ خَرَجَ عَلَیْہِ ثَمَانِیَۃُ آلاَفٍ مِنْ قُرَّائِ النَّاسِ فَنَزَلُوا أَرْضًا مِنْ جَانِبِ الْکُوفَۃِ یُقَالُ لَہَا حَرُورَائُ وَإِنَّہُمْ أَنْکَرُوا عَلَیْہِ فَقَالُوا انْسَلَخْتَ مِنْ قَمِیصٍ أَلْبَسَکَہُ اللَّہُ وَأَسْمَاکَ بِہِ ثُمَّ انْطَلَقْتَ فَحَکَّمْتَ فِی دِینِ اللَّہِ وَلاَ حُکْمَ إِلاَّ لِلَّہِ فَلَمَّا أَنْ بَلَغَ عَلِیًّا مَا عَتَبُوا عَلَیْہِ وَفَارَقُوہُ أَمَرَ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ لاَ یَدْخُلَنَّ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ إِلاَّ رَجُلٌ قَدْ حَمَلَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا أَنِ امْتَلأَ مِنْ قُرَّائِ النَّاسِ الدَّارُ دَعَا بِمُصْحَفٍ عَظِیمٍ فَوَضَعَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَطَفِقَ یَصُکُّہُ بِیَدِہِ وَیَقُولُ أَیُّہَا الْمُصْحَفُ حَدِّثِ النَّاسَ فَنَادَاہُ النَّاسُ فَقَالُوا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مَا تَسْأَلُہُ عَنْہُ إِنَّمَا ہُوَ وَرَقٌ وَمِدَادٌ وَنَحْنُ نَتَکَلَّمُ بِمَ رُوِّینَا مِنْہُ فَمَاذَا تُرِیدُ قَالَ أَصْحَابُکُمُ الَّذِینَ خَرَجُوا بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ کِتَابُ اللَّہِ تَعَالَی یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی امْرَأَۃٍ وَرَجُلٍ {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوا حَکَمًا مِنْ أَہْلِہِ} فَأُمَّۃُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- أَعْظَمُ حُرْمَۃً مِنِ امْرَأَۃٍ وَرَجُلٍ ، وَنَقَمُوا عَلَیَّ أَنِّی کَاتَبْتُ مُعَاوِیَۃَ وَکَتَبْتُ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَقَدْ جَائَ سُہَیْلُ بْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالْحُدَیْبِیَۃِ حِینَ صَالِحَ قَوْمُہُ قُرَیْشًا فَکَتَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ فَقَالَ سُہَیْلٌ لاَ تَکْتُبْ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ قُلْتُ : فَکَیْفَ أَکْتُبُ؟ قَالَ : اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اکْتُبْہُ ۔ ثُمَّ قَالَ : اکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّہِ ۔ فَقَالَ : لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ لَمْ نُخَالِفْکَ فَکَتَبَ ہَذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ قُرَیْشًا یَقُولُ اللَّہُ فِی کِتَابِہِ {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِمَنْ کَانَ یَرْجُو اللَّہَ وَالْیَوْمَ الآخِرَ} فَبَعَثَ إِلَیْہِمْ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ فَخَرَجْتُ مَعَہُ حَتَّی إِذَا تَوَسَّطْنَا عَسْکَرَہُمْ قَامَ ابْنُ الْکَوَّائِ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ یَا حَمَلَۃَ الْقُرْآنِ إِنَّ ہَذَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ فَمَنْ لَمْ یَکُنْ یَعْرِفُہُ فَأَنَا أَعْرِفُہُ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ ہَذَا مَنْ نَزَلَ فِیہِ وَفِی قَوْمِہِ {بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ}فَرُدُّوہُ إِلَی صَاحِبِہِ وَلاَ تُوَاضِعُوہُ کِتَابَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ قَالَ : فَقَامَ خُطَبَاؤُہُمْ فَقَالُوا وَاللَّہِ لَنُوَاضِعَنَّہُ کِتَابَ اللَّہِ فَإِذَا جَائَ نَا بِحَقٍّ نَعْرِفُہُ اتَّبَعْنَاہُ وَلَئِنْ جَائَ نَا بِالْبَاطِلِ لَنُبَکِّتَنَّہُ بِبَاطِلِہِ وَلَنَرُدَّنَّہُ إِلَی صَاحِبِہِ فَوَاضَعُوہُ عَلَی کِتَابِ اللَّہِ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فَرَجَعَ مِنْہُمْ أَرْبَعَۃُ آلاَفِ کُلُّہُمْ تَائِبٍ فَأَقْبَلَ بِہِمُ ابْنُ الْکَوَّائِ حَتَّی أَدْخَلَہُمْ عَلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَبَعَثَ عَلِیٌّ إِلَی بَقِیَّتِہِمْ فَقَالَ قَدْ کَانَ مِنْ أَمْرِنَا وَأَمْرِ النَّاسِ مَا قَدْ رَأَیْتُمْ قِفُوا حَیْثُ شِئْتُمْ حَتَّی تَجْتَمِعَ أُمَّۃُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- وَتَنْزِلُوا فِیہَا حَیْثُ شِئْتُمْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ أَنْ نَقِیَکُمْ رِمَاحَنَا مَا لَمْ تَقْطَعُوا سَبِیلاً أَوْ تَطْلُبُوا دَمًا فَإِنَّکُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ ذَلِکَ فَقَدْ نَبَذْنَا إِلَیْکُمُ الْحَرْبَ عَلَی سَوَائٍ إِنَّ اللَّہَ لاَ یُحِبُّ الْخَائِنِینَ فَقَالَتْ لَہُ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : یَا ابْنَ شَدَّادٍ فَقَدْ قَتَلَہُمْ فَقَالَ وَاللَّہِ مَا بَعَثَ إِلَیْہِمْ حَتَّی قَطَعُوا السَّبِیلَ وَسَفَکُوا الدِّمَائَ وَقَتَلُوا ابْنَ خَبَّابٍ وَاسْتَحَلُّوا أَہْلَ الذِّمَّۃِ فَقَالَتْ آللَّہِ قُلْتُ آللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ لَقَدْ کَانَ قَالَتْ فَمَا شَیْء ٌ بَلَغَنِی عَنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ یَتَحَدَّثُونَ بِہِ یَقُولُونَ ذُو الثُّدَیِّ ذُو الثُّدَیِّ قُلْتُ قَدْ رَأَیْتُہُ وَوَقَفْتُ عَلَیْہِ مَعَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْقَتْلَی فَدَعَا النَّاسَ فَقَالَ ہَلْ تَعْرِفُونَ ہَذَا فَمَا أَکْثَرَ مَنْ جَائَ یَقُولُ قَدْ رَأَیْتُہُ فِی مَسْجِدِ بَنِی فُلاَنٍ یُصَلِّی وَرَأَیْتُہُ فِی مَسْجِدِ بَنِی فُلاَنٍ یُصَلِّی فَلَم ْیَأْتُوا بِثَبَتٍ یُعْرَفُ إِلاَّ ذَلِکَ قَالَت فَمَا قَوْلُ عَلِیٍّ حِینَ قَامَ عَلَیْہِ کَمَا یَزْعُمُ أَہْلُ الْعِرَاقِ قُلْتُ سَمِعْتُہُ یَقُولُ صَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ قَالَتْ فَہَلْ سَمِعْتَ أَنْتَ مِنْہُ قَالَ غَیْرَ ذَلِکَ قُلْتُ اللَّہُمَّ لاَ قَالَتْ أَجَلْ صَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ یَرْحَمُ اللَّہُ عَلِیًّا إِنَّہُ مِنْ کَلاَمِہِ کَانَ لاَ یَرَی شَیْئًا یُعْجِبُہُ إِلاَّ قَالَ صَدَق اللَّہُ وَرَسُولُہُ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٤١) عبداللہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت علی کے شہید ہونے کی خبر آئی۔ حضرت عائشہ (رض) نے مجھے کہا : اے عبداللہ ! میں تجھ سے کچھ پوچھتی ہوں، سچ بتاؤ گے ؟ مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتاؤ جن کو حضرت علی نے قتل کیا تھا۔ میں نے کہا : میں آپ کو سچ کیوں نہیں بتاؤں گا ؟ تو کہنے لگیں : تو ان کا قصہ بیان کرو میں نے کہا کہ حضرت معاویہ سے جب علی (رض) نے مکاتبت کی اور کہا کہ دو میں سے ایک حکم مقرر کرلو تو ٨٠٠٠ لوگ ان سے جدا ہوگئے اور حروراء نامی جگہ میں چلے گئے اور کہنے لگے : علی (رض) کو اللہ نے جو قمیض پہنائی تھی، وہ انھوں نے پھاڑ دی۔ وہ حکم مقرر کرتے ہیں جبکہ حکم تو صرف اللہ کے لیے ہے۔ جب یہ بات حضرت علی کو پہنچی تو انھوں نے تو اس پر عتاب کیا اور اسے چھوڑ دیا اور جدا ہوگئے تو اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ امیر المؤمنین کے پاس وہ لوگ آئیں جن کے پاس قرآن ہو۔ جب لوگوں میں سے قراء سے گھربھر گیا تو ایک بڑا مصحف منگوایا اور حضرت نے اسے اپنے سامنے رکھا اور اس کے اوراق الٹ پلٹ کرنے لگے اور کہنے لگے : اے مصحف ! لوگوں کے سامنے بیان کرو۔ تو لوگ کہنے لگے : یہ تو کاغذ اور سیاہی ہے۔ یہ کیسے بولیں گے اس سے تو ہم ہی روایت کرسکتے ہیں آپ چاہتے کیا ہیں ؟ تو فرمایا : لوگوں نے تمہارے ساتھیوں میں سے میرے اور ان کے درمیان اس قرآن سے کچھ نکالا ہے اللہ فرماتے ہیں : { وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ } [النساء ٣٥] اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ تمام مردوں اور عورتوں سے زیادہ حرمت والی ہے اور انھوں نے مجھ پر اعتراض کیا تھا کہ میں نے معاویہ سے مکاتبت کرتے ہوئے علی بن ابی طالب لکھا تھا تو تمہیں یاد ہوگا کہ مشرکین سے مکاتبت کرتے ہوئے حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ کے لفظ مٹائے تھے : { لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [الاحزاب ٢١] اور ابن عباس کو علی نے ان لوگوں کی طرف بھیجا۔ میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ جب ہم ان کے درمیان پہنچے تو ابن الکواء کھڑا ہوا اور لوگوں کو خطبہ دیا : اے حاملین قرآن ! یہ عبداللہ بن عباس ہیں تم میں سے جو نہیں پہچانتا، میں تو پہچانتا ہوں کہ قرآن میں ہے ” کہ یہ جھگڑالو قوم ہے۔ “ [الاحزاب ٥٨] اس کی بات نہ سننا اسے واپس لوٹا دو تو قوم کے خطباء کہنے لگے : ہم قرآن پر فیصلہ رکھیں گے، ان کی سنیں گے۔ اگر اچھا لگا تو مان بھی لیں گے، اگر باطل بیان کیا تو ہم اس باطل کا بدلہ بھی دیں گے اور اسے اس کے صاحب کی طرف واپس بھی لوٹا دیں گے۔ ابن عباس نے سمجھایا تو ٤٠٠٠ لوگ توبہ کر کے لوٹ آئے اور ان میں ابن الکواء بھی تھا۔ باقی لوگوں کی طرف حضرت علی (رض) نے لشکر بھیجا اور کہا کہ تم جانتے ہو کہ ان کے اور ہمارے درمیان اب کیا ہے؛ لہٰذا امت محمدیہ کو اکٹھا کرنے کے لیے جو بھی ہوتا ہے کر گزرو۔ اگر کسی طرح بھی نہیں مانتے تو جنگ کرو۔ اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔ عائشہ فرمانے لگیں کہ کیا ان کو قتل کیا ؟ تو جواب دیا کہ واللہ انھوں نے جا کر راستہ کاٹ دیا، خون بہایا اور ابن خباب کو بھی قتل کردیا اور اہل الذمہ کو بھی حلال سمجھ لیا۔ کہنے لگی : اللہ کی قسم اٹھاؤ۔ میں نے کہا : واللہ ایسے ہی ہے تو حضرت عائشہ نے فرمایا : اہل عراق سے مجھے جو بات بھی پہنچی، وہ یہی کہتے تھے ” بڑے پستانوں والی ! بڑے پستانوں والی ! “ میں نے کہا کہ میں وہاں حضرت علی کے ساتھ کھڑا تھا تو لوگوں کو بلایا اور کہا : اسے پہچانتے ہو تو جو بھی آتا وہ یہی جواب دیتا، میں نے بنو فلاں کی مسجد میں اسے نماز پڑھتے دیکھا۔ میں نے اسے بنو فلاں کی مسجد میں دیکھا۔ کہنے لگیں : علی اس وقت کیا کہہ رہے تھے ؟ میں نے کہا : وہ کہہ رہے تھے : ” صدق اللہ و رسولہ “ پوچھا : کیا تو نے خود ان سے یہ سنا، میں نے کہا : ہاں اور کہا اور کچھ بھی سنا تھا ؟ میں نے کہا : نہیں تو حضرت عائشہ فرمانے لگیں : اللہ علی پر رحم فرمائے، جب بھی وہ کوئی پسندیدہ چیز دیکھتے تو اسی طرح کہا کرتے تھے۔

16748

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16748

Zaeef

(۱۶۷۴۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ عَبْدَۃَ السَّلِیطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِیُّ قَالَ عُرِضَ عَلَی مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ الزَّنْجِیِّ عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عِیَاضٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْہَادِ : أَنَّہُ دَخَل عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَنَحْنُ عِنْدَہَا مَرْجِعَہُ مِنَ الْعِرَاقِ لَیَالِیَ قُتِلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ الإِمَامُ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدِیثُ الثُّدَیَّۃِ حَدِیثٌ صَحِیحٌ قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیمَا مَضَی وَیَجُوزُ أَنْ لاَ یَسْمَعَہُ ابْنُ شَدَّادٍ وَسَمِعَہُ غَیْرُہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٤٢) تقدم قبلہ

16749

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16749

Sahih

(۱۶۷۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ قَالَ أُرَاہُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَمِّی أَوْ عَمٌّ لِی قَالَ : لَمَّا تَوَاقَفْنَا یَوْمَ الْجَمَلِ وَقَدْ کَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ صَفَّنَا نَادَی فِی النَّاسِ لاَ یَرْمِیَنَّ رَجُلٌ بِسَہْمٍ وَلاَ یَطْعُنُ بِرُمْحٍ وَلاَ یَضْرِبُ بِسَیْفٍ وَلاَ تَبْدَئُ وا الْقَوْمَ بِالْقِتَالِ وَکَلِّمُوہُمْ بِأَلْطَفِ الْکَلاَمِ وَأَظُنُّہُ قَالَ فَإِنَّ ہَذَا مَقَامٌ مَنْ فَلَجَ فِیہِ فَلَجَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَلَمْ نَزَلْ وُقُوفًا حَتَّی تَعَالَی النَّہَارُ حَتَّی نَادَی الْقَوْمُ بِأَجْمُعِہِمْ یَا ثَارَاتِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَنَادَی عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُحَمَّدَ ابْنَ الْحَنَفِیَّۃِ وَہُوَ أَمَامَنَا وَمَعَہُ اللِّوَائُ فَقَالَ یَا ابْنَ الْحَنَفِیَّۃِ مَا یَقُولُونَ فَأَقْبَلَ عَلَیْنَا مُحَمَّدُ ابْنُ الْحَنَفِیَّۃَ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ یَا ثَارَاتِ عُثْمَانَ فَرَفَعَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَدَیْہِ فَقَالَ اللَّہُمَّ کُبَّ الْیَوْمَ قَتَلَۃَ عُثْمَانَ لِوُجُوہِہِمْ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٤٣) یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ مجھے میرے چچا نے بیان کیا کہ جب ہم جنگ جمل کے لیے تیار ہوئے تو حضرت علی نے فرمایا : کوئی تیر سے نہ مارے اور نہ نیزے سے اور نہ تلوار سے تم نے لڑائی میں پہل نہیں کرنی اور ان سے نرم بات کرنی ہے اور مجھے گمان ہے کہ یہ بھی فرمایا : جو آج کامیاب ہوگیا، وہ روز قیامت بھی کامیاب ہوگا۔ ہم اسی حالت میں رہے کہ دن ہوگیا تو ایک شخص نے بلند آواز سے پکارا : ہائے عثمان کے خون کا بدلہ ! تو حضرت علی نے محمد بن حنفیہ کو پکارا ، وہ ہمارے آگے تھے ان کے پاس جھنڈا تھا پوچھا : اے ابن حنفیہ ! وہ کیا پکار رہے ہیں ؟ جواب دیا : وہ عثمان کے خون کا بدلہ کی بات کر رہے ہیں، اے امیر المؤمنین ! تو حضرت علی نے فرمایا : اپنے ہاتھ بلند کئے اور فرمایا : اے اللہ ! آج ان کے منہ سے قتل عثمان کو پچھاڑ دے۔

16750

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16750

Zaeef

(۱۶۷۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْحُرْفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَیْرِ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِی جَعْفَرُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ ذِی الْجَنَاحَیْنِ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمْ یُقَاتِلْ أَہْلَ الْجَمَلِ حَتَّی دَعَا النَّاسَ ثَلاَثًا حَتَّی إِذَا کَانَ یَوْمُ الثَّالِثِ دَخَلَ عَلَیْہِ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَقَالُوا قَدْ أَکْثَرُوا فِینَا الْجِرَاحَ فَقَالَ یَا ابْنَ أَخٍ وَاللَّہِ مَا جَہِلْتُ شَیْئًا مِنْ أَمْرِہِمْ إِلاَّ مَا کَانُوا فِیہِ وَقَالَ صُبَّ لِی مَائً فَصَبَّ لَہُ مَائً فَتَوَضَّأَ بِہِ ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ حَتَّی إِذَا فَرَغَ رَفَعَ یَدَیْہِ وَدَعَا رَبَّہُ وَقَالَ لَہُمْ إِنْ ظَہَرْتُمْ عَلَی الْقَوْمِ فَلاَ تَطْلُبُوا مُدْبِرًا وَلاَ تُجِیزُوا عَلَی جَرِیحٍ وَانْظُرُوا مَا حُضِرَتْ بِہِ الْحَرْبُ مِنْ آنِیَۃٍ فَاقْبِضُوہُ وَمَا کَانَ سِوَی ذَلِکَ فَہُوَ لِوَرَثَتِہِ۔ قَالَ رَحِمَہُ اللَّہُ : ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَالصَّحِیحُ أَنَّہُ لَمْ یَأْخُذْ شَیْئًا وَلَمْ یَسْلُبْ قَتِیلاً۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٤٤) محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے جنگ جمل میں اس وقت تک لڑائی شروع نہ کی جب تک تین دن تک لوگوں کو دعوت نہ دیتے رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو حسن، حسین اور عبداللہ بن جعفر آپ کے پاس آئے اور کہا : ہمارے زخمی زیادہ ہو رہے ہیں تو فرمایا : اے بھتیجے ! میں سب دیکھ رہا ہوں، میرے لیے پانی لاؤ، پھر آپ نے وضو کیا، دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر ہاتھ اٹھا کر اپنے رب سے دعا کی اور پھر ان کو کہا : اگر اس قوم پر غلبہ دے تو انھیں پیٹھ پھیر کر بھاگنے والا نہ کرنا، کسی زخمی پر زیادتی نہ کرنا اور جنگ میں جو برتن ہیں انھیں قبضہ میں لے لینا اور جو اس کے علاوہ ہے وہ ان کے وارثوں کے لیے ہے۔ فرماتے ہیں : یہ منقطع ہے؛ کیونکہ حضرت علی نے ان سے کچھ بھی نہیں لیا تھا۔

16751

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16751

Zaeef

(۱۶۷۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا أَبُو مَیْمُونَۃَ عَنْ أَبِی بَشِیرٍ الشَّیْبَانِیِّ فِی قِصَّۃِ حَرْبِ الْجَمَلِ قَالَ فَاجْتَمَعُوا بِالْبَصْرَۃِ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَنْ یَأْخُذُ الْمُصْحَفَ ثُمَّ یَقُولُ لَہُمْ مَاذَا تَنْقِمُونَ تُرِیقُونَ دِمَائَ نَا وَدِمَائَ کُمْ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ۔ فَقَالَ : إِنَّکَ مَقْتُولٌ۔ قَالَ : لاَ أُبَالِی۔ قَالَ : خُذِ الْمُصْحَفَ۔ قَالَ : فَذَہَبَ إِلَیْہِمْ فَقَتَلُوہُ ثُمَّ قَالَ مِنَ الْغَدِ مِثْلَ مَا قَالَ بِالأَمْسِ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا۔ قَالَ : إِنَّکَ مَقْتُولٌ کَمَا قُتِلَ صَاحِبُکَ۔ قَالَ : لاَ أُبَالِی۔ قَالَ : فَذَہَبَ فَقُتِلَ ثُمَّ قُتِلَ آخِرَ کُلِّ یَوْمٍ وَاحِدٌ۔ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قَدْ حَلَّ لَکُمْ قِتَالُہُمُ الآنَ قَالَ فَبَرَزَ ہَؤُلاَئِ وَہَؤُلاَئِ فَاقْتَتَلُوا قِتَالاً شَدِیدًا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ أَبُو بَشِیرٍ فَرَدَّ عَلَیْہِمْ مَا کَانَ فِی الْعَسْکَرِ حَتَّی الْقِدْرَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٤٥) ابوبشیرشیبانی جنگ جمل کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ سب بصرہ میں جمع ہوئے تو علی نے فرمایا : مصحف کون پکڑے گا ؟ پھر انھیں کہا : تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم ہمارے اور اپنے خون بہا رہے ہو ؟ ایک شخص نے کہا : اے امیر المؤمنین ! میں تو فرمایا : تو قتل ہوجائے گا۔ کہا : کوئی بات نہیں تو فرمایا : مصحف لے لو۔ وہ گیا تو انھوں نے اسے قتل کردیا۔ اس طرح حضرت علی نے ٣ لوگوں کو مصحف دے کر بھیجا، لیکن انھوں نے قتل کردیا تو حضرت علی نے فرمایا : اب قتال حلال ہوگیا تو بہت گھمسان کی جنگ ہوئی اور پھر آگے مکمل وہ حدیث بیان کی جو جنگ جمل کے بارے میں گزر چکی ہے۔