Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 56 · Chapter 3371

باغیوں سے قتال کا بیان

مرتدین کی پہلی قسم سے قتال کا بیان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد امام شافعی فرماتے ہیں کہ وہ ایسی قوم تھے جنہوں نے اسلام کے بعد کفر کیا جیسے مسیلمہ، طلیحہ، عنسی اور ان کے ساتھی۔

4 hadiths in this chapter

16732

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16732

Sahih

(۱۶۷۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : بَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أُتِیتُ بِخَزَائِنِ الأَرْضِ فَوُضِعَ فِی یَدَیَّ سُوَارَیْنِ مِنْ ذَہَبٍ فَکَبُرَا عَلَیَّ وَأَہَمَّانِی فَأُوحِیَ إِلَیَّ أَنْ أَنْفُخَہُمَا فَنَفَخْتُہُمَا فَذَہَبَا فَأَوَّلْتُہُمَا الْکَذَّابَیْنِ اللَّذَیْنِ أَنَا بَیْنَہُمَا صَاحِبَ صَنْعَائَ وَصَاحِبَ الْیَمَامَۃِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٢٦) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے تو میرے ہاتھوں پر دو سونے کے کنگن رکھے گئے۔ وہ مجھ پر بھاری ہوگئے تو مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک دوں۔ میں نے پھونکا تو وہ چلے گئے۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ میرے عہد میں ہی وہ کذاب ہوں گے ایک صاحبِ صنعاء اور دوسرا صاحبِ یمامہ۔

16733

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16733

Zaeef

(۱۶۷۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ : أَوَّلُ رِدَّۃٍ کَانَتْ فِی الْعَرَبِ مُسَیْلِمَۃُ بِالْیَمَامَۃِ فِی بَنِی حَنِیفَۃَ وَالأَسْوَدُ بْنُ کَعْبٍ الْعَنْسِیُّ بِالْیَمَنِ فِی حَیَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَخَرَجَ طُلَیْحَۃُ بْنُ خُوَیْلِدٍ الأَسَدِیُّ فِی بَنِی أَسَدٍ یَدَّعِی النُّبُوَّۃَ یَسْجَعُ لَہُمْ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٢٧) محمد بن اسحاق بن یسار فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے عرب میں ارتداد کا شکار یمامہ میں مسیلمہ ہوا، جو بنو حنیفہ سے تھا اور اسود بن کعب عنسی یمن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی ہی میں اور طلیحہ بن خویلد اسدی بنو اسد سے جو نبوت کا دعویٰ کرتا تھا اور ان سب کے لیے سجع کلامی کرتا۔

16734

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16734

Sahih

(۱۶۷۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِی مَنِیعٍ حَدَّثَنَا جَدِّی عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : لَمَّا اسْتَخْلَفَ اللَّہُ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ عَنِ الإِسْلاَمِ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ غَازِیًا حَتَّی إِذَا بَلَغَ نَقْعًا مِنْ نَحْوِ النَّقِیعِ خَافَ عَلَی الْمَدِینَۃِ فَرَجَعَ وَأَمَّرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ سَیْفَ اللَّہِ وَنَدَبَ مَعَہُ النَّاسَ وَأَمَرَہُ أَنْ یَسِیرَ فِی ضَاحِیَۃِ مُضَرَ فَیُقَاتِلَ مَنِ ارْتَدَّ مِنْہُمْ عَنِ الإِسْلاَمِ ثُمَّ یَسِیرَ إِلَی الْیَمَامَۃِ فَیُقَاتِلَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابَ فَسَارَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَقَاتَلَ طُلَیْحَۃَ الْکَذَّابَ الأَسَدِیَّ فَہَزَمَہُ اللَّہُ وَکَانَ قَدِ اتَّبَعَہُ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَیْفَۃَ یَعْنِی الْفَزَارِیَّ فَلَمَّا رَأَی طُلَیْحَۃُ کَثْرَۃَ انْہِزَامِ أَصْحَابِہِ قَالَ وَیْلَکُمْ مَا یَہْزِمُکُمْ قَالَ رَجُلٌ مِنْہُمْ أَنَا أُحَدِّثُکَ مَا یَہْزِمُنَا إِنَّہُ لَیْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلاَّ وَہُوَ یُحِبُّ أَنْ یَمُوتَ صَاحِبُہُ قَبْلَہُ وَإِنَّا لَنَلْقَی قَوْمًا کُلُّہُمْ یُحِبُّ أَنْ یَمُوتَ قَبْلَ صَاحِبِہِ وَکَانَ طُلَیْحَۃُ شَدِیدَ الْبَأْسِ فِی الْقِتَالِ فَقَتَلَ طُلَیْحَۃُ یَوْمَئِذٍ عُکَّاشَۃَ بْنَ مِحْصَنٍ وَابْنَ أَقْرَمَ فَلَمَّا غَلَبَ الْحَقُّ طُلَیْحَۃَ تَرَجَّلَ ثُمَّ أَسْلَمَ وَأَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ فَرَکِبَ یَسِیرُ فِی النَّاسِ آمِنًا حَتَّی مَرَّ بِأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْمَدِینَۃِ ثُمَّ نَفَذَ إِلَی مَکَّۃَ فَقَضَی عُمْرَتَہُ وَمَضَی خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ قِبَلَ الْیَمَامَۃِ حَتَّی دَنَا مِنْ حِیٍّ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ فِیہِمْ مَالِکُ بْنُ نُوَیْرَۃَ وَکَانَ قَدْ صَدَّقَ قَوْمَہُ فَلَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَمْسَکَ الصَّدَقَۃَ فَبَعَثَ إِلَیْہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَرِیَّۃً فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قَتْلِ مَالِکِ بْنِ نُوَیْرَۃَ قَالَ وَمَضَی خَالِدٌ قِبَلَ الْیَمَامَۃِ حَتَّی قَاتَلَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابَ وَمَنْ مَعَہُ مِنْ بَنِی حَنِیفَۃَ فَاسْتَشْہَدَ اللَّہُ مِنْ أَصْحَابِ خَالِدٍ أُنَاسًا کَثِیرًا مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ وَہَزَمَ اللَّہُ مُسَیْلِمَۃَ وَمَنْ مَعَہُ وَقَتَلَ مُسَیْلِمَۃَ یَوْمَئِذٍ مَوْلًی مِنْ مَوَالِی قُرَیْشٍ یُقَالَ لَہُ وَحْشِیٌّ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٢٨) زہری کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر خلیفہ بنے اور عرب مرتد ہونے لگے تو حضرت ابوبکر نے ان کے خلاف جہاد شروع کیا۔ جب ان کی گردن تک پہنچے تو مدینہ کی طرف سے خوف ہوا واپس آئے اور خالد بن ولید کو امیر بنایا اور انھیں لوگوں کی ایک فوج دی اور حکم دیا کہ مضر کی طرف جاؤ اور وہاں جو مرتدین ہیں ان سے قتال کرو۔ پھر یمامہ کی طرف مسیلمہ کذاب سے قتال کریں اور پھر خالد بن ولید طلیحہ اسدی کذاب سے لڑے اور اسے اللہ کے حکم سے شکست دی۔ جب طلیحہ نے دیکھا کہ اس کے ساتھ کثرت سے قتل ہو رہے ہیں تو کہنے لگا : تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیوں شکست کھا رہے ہو ؟ تو ان میں سے ایک شخص کہنے لگا : میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ میں بچ جاؤں، دوسرا مارا جائے اور ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ پہلے میں شہید ہو جاؤں۔ طلیحہ کو اس جنگ میں بہت مصیبت اٹھانی پڑی اور اس نے اس دن عکاشہ بن محصن اور ابن اقرم کو شہید کیا۔ جب حق غالب آگیا تو طلیحہ پیدل بھاگ گیا، پھر مسلمان ہوگیا اور عمرہ کے لیے مدینہ میں تلبیہ کہا حضرت ابوبکر کے پاس سے گزرا اور مکہ پہنچ کر اپنا عمرہ ادا کیا اور خالد بن ولید یمامہ سے لوٹے اور قبیلہ بنو تمیم کے پاس پہنچے۔ ان میں مالک بن نویرہ بھی تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد اس نے صدقہ دینا بند کردیا تھا تو حضرت خالد نے ان کی طرف ایک سریہ بھیجا۔ الحدیث۔ مالک بن نویرہ اس میں قتل ہوگیا اور خالد نے یمامہ میں مسیلمہ سے لڑائی کی اور اسے شکست دی اور مسیلمہ ایک قریشی شخص کے ایک غلام کے ہاتھوں مارا گیا جس کا نام وحشی تھا۔

16735

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16735

Zaeef

(۱۶۷۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْمُبَارَکِ الصَّنْعَانِیُّ وَعِیسَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الصَّنْعَانِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ وَہْبٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بُزُرْجَ قَالَ : خَرَجَ أَسْوَدٌ الْکَذَّابُ وَکَانَ رَجُلاً مِنْ بَنِی عَنْسٍ وَکَانَ مَعَہُ شَیْطَانَانِ یُقَالُ لأَحَدِہِمَا سُحَیْقٌ وَالآخَرِ شُقَیْقٌ وَکَانَا یُخْبِرَانِہِ بِکُلِّ شَیْئٍ یَحْدُثُ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ فَسَارَ الأَسْوَدُ حَتَّی أَخَذَ ذِمَارَ فَذَکَرَ قِصَّۃً فِی شَأْنِہِ وَتَزَوُّجِہِ بِالْمَرْزُبَانَۃِ امْرَأَۃِ بَاذَانَ وَأَنَّہَا سَقَتْہُ خَمْرًا صِرْفًا حَتَّی سَکِرَ فَدَخَلَ فِی فِرَاشِ بَاذَانَ وَکَانَ مِنْ رِیشٍ فَانْقَلَبَ عَلَیْہِ الْفِرَاشُ وَدَخَلَ فَیْرُوزُ وَخُرَّزَاذُ بْنُ بُزُرْجَ فَأَشَارَتْ إِلَیْہِمَا الْمَرْأَۃُ أَنَّہُ فِی الْفِرَاشِ وَتَنَاوَلَ فَیْرُوزُ بِرَأْسِہِ وَلِحْیَتِہِ فَعَصَرَ عُنُقَہُ فَدَقَّہَا وَطَعَنَہُ ابْنُ بُزُرْجَ بِالْخَنْجَرِ فَشَقَّہُ مِنْ تَرْقُوَتِہِ إِلَی عَانَتِہِ ثُمَّ احْتَزَّ رَأْسَہُ وَخَرَجُوا وَأَخْرَجُوا الْمَرْأَۃَ مَعَہُمْ وَمَا أَحَبُّوا مِنْ مَتَاعِ الْبَیْتِ ثُمَّ ذَکَرَ قِصَّۃً أُخْرَی وَفِیہَا قُدُومُ فَیْرُوزَ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَإِنَّہُ قَالَ لِفَیْرُوزَ : کَیْفَ قَتَلْتَ الْکَذَّابَ؟ قَالَ : اللَّہُ قَتَلَہُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ۔ قَالَ : نَعَمْ وَلَکِنْ أَخْبِرْنِی فَقَصَّ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ وَرَجَعَ فَیْرُوزُ إِلَی الْیَمَنِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٢٩) نعمان بن بزرج کہتے ہیں کہ اسود کذاب نکلا، یہ بنو عنس کا ایک شخص تھا۔ اس کے ساتھ ٢ شیطان تھے۔ ایک کا نام مسحیق اور دوسرے کا شقیق تھا۔ یہ دونوں اسے لوگوں کے غیبی معاملات کی خبر دیا کرتے تھے۔ چلا اسود اور اس نے اپنی حفاظت کا انتظام بھی کیا۔ پھر مکمل قصہ بیان کیا کہ اس نے باذان کی بیوی مرزبانہ کے ساتھ کس طرح شادی کی، ایک رات اس نے اسے شراب پلائی اتنی کہ یہ نشے سے مدہوش ہوگیا۔ جب وہ باذان کے بستر میں داخل ہوگیا تو اس پر بستر کو پلیٹ دیا فیروز اور خرزاذ بن بزرج داخل ہوئے اور اس عورت نے ان دونوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بستر میں ہے تو فیروز نے اسے سر اور داڑھی سے پکڑا اور خرذاز نے خنجر نکالا اور حلق سے گدی تک کاٹ دیا اور سر کو پھینکا اور عورت کو ساتھ لے کر چلے گئے اور ساتھ میں گھر سے پسند کا سامان بھی اٹھا لیا۔ پھر لمبا قصہ بیان کیا کہ جس میں یہ تھا کہ فیروز پھر حضرت عمر (رض) کے پاس آیا تو آپ (رض) نے پوچھا : فیروز اس کذاب کو کیسے قتل کیا تھا ؟ تو جواب دیا : اے امیر المؤمنین ! اللہ نے اسے قتل کیا تھا۔ کہا : ہاں ! لیکن مجھے وہ واقعہ سناؤ تو فیروز نے پورا واقعہ سنایا اور پھر یمن چلے گئے۔