Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 56 · Chapter 3370

باغیوں سے قتال کا بیان

باغیوں سے قتال میں جو مال فوت ہوجائے خون ہوجائے، یا زخم پہنچے تو اس میں مطالبہ نہیں ہے

3 hadiths in this chapter

16729

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16729

Sahih

(۱۶۷۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ : قَدْ ہَاجَتِ الْفِتْنَۃُ الأُولَی فَأَدْرَکَتْ یَعْنِی الْفِتْنَۃَ رِجَالاً ذَوِی عَدَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِمَّنْ شَہِدَ مَعَہُ بَدْرًا وَبَلَغَنَا أَنَّہُمْ کَانُوا یَرَوْنَ أَنْ یُہْدَرَ أَمْرُ الْفِتْنَۃِ وَلاَ یُقَامُ فِیہَا عَلَی رَجُلٍ قَاتَلَ فِی تَأْوِیلِ الْقُرْآنِ قِصَاصٌ فِیمَنْ قَتَلَ وَلاَ حَدٌّ فِی سِبَائِ امْرَأَۃٍ سُبِیَتْ وَلاَ یُرَی عَلَیْہَا حَدٌّ وَلاَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ زَوْجِہَا مُلاَعَنَۃٌ وَلاَ یُرَی أَنْ یَقْفُوَہَا أَحَدٌ إِلاَّ جُلِدَ الْحَدَّ وَیُرَی أَنْ تُرَدَّ إِلَی زَوْجِہَا الأَوَّلِ بَعْدَ أَنْ تَعْتَدَّ فَتَقْضِیَ عِدَّتَہَا مِنْ زَوْجِہَا الآخَرِ وَیُرَی أَنْ یَرِثَہَا زَوْجُہَا الأَوَّلُ۔ [صحیح۔ لابن شہاب]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٢٣) ابن شہاب کہتے ہیں کہ جب پہلا فتنہ بھڑکا تو اس فتنہ نے بہت سارے اصحابِ بدر کو بھی پا لیا اور ہمیں یہ بات پہنچی کہ وہ تو فتنے کو ختم کرنے تھے اور جو اس میں تأویل قرآن کی وجہ سے لڑتا تھا تو اس پر قصاص نہیں رکھتے تھے اور جو عورت عادۃً قسمیں اٹھانے والی ہو، اس پر حد بھی نہیں اور اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان لعان بھی نہیں کرواتے تھے اور جو ایسا الزام لگاتا۔ اسے کوڑوں کی سزا دیتے اور ان کا خیال تھا کہ دوسرے خاوند سے عدت مکمل کر کے وہ پہلے کے پاس آسکتی تھی اور وہ پہلے خاوند کی وارث بھی بنے گی۔

16730

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16730

Sahih

(۱۶۷۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : کَتَبَ إِلَیْہِ سُلَیْمَانُ بْنُ ہِشَامٍ یَسْأَلُہُ عَنِ امْرَأَۃٍ فَارَقَتْ زَوْجَہَا وَشَہِدَتْ عَلَی قَوْمِہَا بِالشِّرْکِ وَلَحِقَتْ بِالْحَرُورِیَّۃِ فَتَزَوَّجَتْ فِیہِمْ ثُمَّ جَائَ تْ تَائِبَۃً۔ قَالَ فَکَتَبَ إِلَیْہِ الزُّہْرِیُّ وَأَنَا شَاہِدٌ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْفِتْنَۃَ الأُولَی ثَارَتْ وَفِی أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا فَرَأَوْا أَنْ یُہْدَمَ أَمْرُ الْفِتْنَۃِ لاَ یُقَامُ فِیہَا حَدٌّ عَلَی أَحَدٍ فِی فَرْجٍ اسْتَحَلَّہُ بِتَأْوِیلِ الْقُرْآنِ وَلاَ قِصَاصٌ فِی دَمٍ اسْتَحَلَّہُ بِتَأْوِیلِ الْقُرْآنِ وَلاَ مَالٍ اسْتَحَلَّہُ بِتَأْوِیلِ الْقُرْآنِ إِلاَّ أَنْ یُوجَدَ شَیْء ٌ بِعَیْنِہِ وَإِنِّی أَرَی أَنْ تَرُدَّہَا إِلَی زَوْجِہَا وَتُحِدَّ مَنْ قَذَفَہَا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٢٤) زہری کہتے ہیں کہ انھیں ہشام نے ایک عورت کے بارے میں سوال لکھ کر بھیجا کہ وہ اپنے خاوند سے جدا ہوگئی اور پھر مشرک بن کر اپنی قوم میں چلی گئی اور وہاں شادی کرلی پھر وہ آئی اور توبہ کرلی۔ تو زہری نے ان کو لکھ کر بھیجا : اما بعد ! بیشک جو فتنہ اولیٰ پھیلا تھا جس وقت میں اصحاب بدر بھی تھے تو وہ فتنہ کو ختم کرنے کے لیے اس پر حد نہیں لگاتے تھے کہ جس نے قرآن کی تفسیر کر کے فرج کو حلال کیا ہو اور نہ اس پر قصاص لیتے تھے جس نے قرآن سے خون کو حلال سمجھا ہو اور نہ مال جو اس نے قرآن کی تأویل سے حلال سمجھا ہو مگر بعینہ اسی طرح مل جاتا تو مداوا کرتے اور میرا خیال یہ ہے کہ اسے اس کے خاوند کے پاس واپس لوٹا دیا جائے اور تہمت کی حد لگا دی جائے۔

16731

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16731

Zaeef

(۱۶۷۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ حَدَّثَنِی سَیْفُ بْنُ فُلاَنِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنِی خَالِی عَنْ جَدِّی قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْجَمَلِ وَاضْطَرَبَ الْحَبْلُ وَأَغَارَ النَّاسُ قَالَ فَجَائَ النَّاسُ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَدَّعُونَ أَشْیَائَ فَأَکْثَرُوا عَلَیْہِ فَلَمْ یَفْہَمْ قَالَ أَلاَ رَجُلٌ یَجْمَعُ لِی کَلاَمَہُ فِی خَمْسِ کَلِمَاتٍ أَوْ سِتٍّ قَالَ فَاحْتَفَزْتُ عَلَی إِحْدَی رِجْلَیَّ قُلْتُ إِنْ فَہِمَ قَبْلُ کَلاَمِی وَإِلاَّ جَلَسْتُ مِنْ قَرِیبٍ قُلْتُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّ الْکَلاَمَ لَیْسَ بِخَمْسٍ وَلاَ سِتٍّ وَلَکِنَّہَا کَلِمَتَانِ قَالَ فَنَظَرَ إِلَیَّ قَالَ قُلْتُ ہَضْمٌ أَوْ قِصَاصٌ قَالَ فَعَقَدَ ثَلاَثِینَ وَقَالَ قَالُونْ أَرَأَیْتُمْ مَا عَدَدْتُمْ فَہُوَ تَحْتَ قَدَمَیَّ ہَاتَیْنِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٧٢٥) سیف بن فلاں بن معاویہعنزی اپنے ماموں سے نقل فرماتے ہیں، انھوں نے مجھے میرے نانا سے بیان کیا کہ جب جنگِ جمل کا دن تھا تو لوگ حضرت علی کے پاس آگئے اور مختلف اشیاء کا دعویٰ کرنے لگے : جب آوازیں زیادہ ہوگئیں اور کچھ نہ سمجھ میں آیا تو فرمایا : کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو پانچ یا چھ کلمات میں ساری بات بیان کر دے۔ کہتے ہیں : میں اپنے قدموں پر بلند ہوا اور قریب ہو کر بولا : اے امیر المؤمنین ! کلام پانچ یا چھ نہیں ٢ کلمات کی ہے تو آپ نے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا : یا تو ہضم کر جاؤ یا قصاص دے دو ۔ کہتے ہیں : تیس کا عقد بنایا اور قالون نے کہا : جو تم نے عدد بنایا ہے وہ میرے قدموں تلے ہے۔