Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 54 · Chapter 3269

دیت کا بیان

قتل عمد میں جب دیت لی جائے قصاص معاف کردیا جائے تو اونٹوں کی عمر کیا ہو اور اسے قاتل کے مال پر محمول کیا جائے

3 hadiths in this chapter

16145

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16145

Sahih

(۱۶۱۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَحْیَی الأَدَمِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ جَمِیلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : مَنْ قَتَلَ عَمْدًا دُفِعَ إِلَی وَلِیِّ الْمَقْتُولِ فَإِنْ شَائَ قَتَلَہُ وَإِنْ شَائَ أَخَذَ الدِّیَۃَ وَہِیَ ثَلاَثُونَ حِقَّۃً وَثَلاَثُونَ جَذَعَۃً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَۃً وَذَلِکَ عَقْلُ الْعَمْدِ وَمَا صُولِحُوا عَلَیْہِ فَہُوَ لَہُمْ وَذَلِکَ تَشْدِیدُ الْعَقْلِ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦١٣٩) تقدم برقم (١٦١٢٩)

16146

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16146

Sahih

(۱۶۱۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الصَّقْرِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ قَتَادَۃَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ کَانَتْ لَہُ أَمَۃٌ تَرْعَی غَنَمَہُ فَبَعَثَہَا یَوْمًا تَرْعَاہَا فَقَالَ لَہُ ابْنُہُ مِنْہَا حَتَّی مَتَی تَسْتَأْمِی أُمِّی وَاللَّہِ لاَ تَسْتَأْمِیہَا أَکْثَرَ مِمَّا اسْتَأْمَیْتَہَا فَأَصَابَ عُرْقُوبَہُ فَطَعَنَ فِی خَاصِرَتِہِ فَمَاتَ قَالَ فَذَکَرَ ذَلِکَ سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ وائْتِنِی مِنْ قَابِلٍ وَمَعَکَ أَرْبَعُونَ أَوْ قَالَ عِشْرُونَ وَمِائَۃٌ مِنَ الإِبِلِ قَالَ فَفَعَلَ فَأَخَذَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْہَا ثَلاَثِینَ حِقَّۃً وَثَلاَثِینَ جَذَعَۃً وَأَرْبَعِینَ مَا بَیْنَ ثَنِیَّۃٍ إِلَی بَازِلِ عَامِہَا کُلُّہَا خَلِفَۃٌ فَأَعْطَاہَا إِخْوَتَہُ وَلَمْ یُوَرِّثْ مِنْہَا أَبَاہُ شَیْئًا وَقَالَ لَوْلاَ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ یُقَادُ وَالِدٌ بِوَلَدٍ ۔ لَقَتَلْتُکَ أَوْ لَضَرَبْتُ عُنُقَکَ۔ [حسن لغیرہ۔ ضعیف۔ و الرفوع]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦١٤٠) قتادہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ اس کی ایک لونڈی تھی جو بکریاں چراتی تھی۔ ایک دن جب وہ بکریاں چرانے گئی تو قتادہ کا بیٹا جو اس لونڈی سے تھا کہنے لگا : کب سے تو نے میری ماں کو لونڈی بنایا ہے ؟ اب تو میری ماں کو لونڈی نہیں بنا سکتا، اس کو اس کا گھنٹہ لگا تو قتادہ نے اس کے پہلو میں کوئی چیز ماری وہ مرگیا۔ سراقہ بن مالک نے حضرت عمر کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : میرے پاس ١٢٠ اونٹ لاؤ، وہ لائے۔ حضرت عمر نے اس سے ٣٠ حقے ٣٠ جذعے اور ٤٠ وہ جن کے پیٹ میں اولاد تھی لیے اور اس کے بھائیوں کو دے دیے اور باپ کو کچھ نہ دیا اور فرمایا : اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ نہ سنا ہوتا کہ والد کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا تو میں تجھے قتل کردیتا۔

16147

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16147

Zaeef

(۱۶۱۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ یُقَالَ لَہُ قَتَادَۃُ حَذَفَ ابْنَہُ بِسَیْفٍ فَأَصَابَ سَاقَہُ فَنُزِیَ فِی جُرْحِہِ فَمَاتَ فَقَدِمَ سُرَاقَۃُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اعْدُدْ لِی عَلَی قُدَیْدٍ عِشْرِینَ وَمِائَۃَ بَعِیرٍ حَتَّی أَقْدَمَ عَلَیْکَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَیْہِ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخَذَ مِنْ تِلْکَ الإِبِلِ ثَلاَثِینَ حِقَّۃً وَثَلاَثِینَ جَذَعَۃً وَأَرْبَعِینَ خَلِفَۃً ثُمَّ قَالَ أَیْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ فَقَالَ ہَا أَنَا ذَا فَقَالَ خُذْہَا دِیَۃً فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لَیْسَ لِقَاتِلٍ شَیْئٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦١٤١) عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ بنو مدلج کا ایک شخص جس کا نام قتادہ تھا نے اپنے بیٹے کو تلوار سے مارا، وہ پنڈلی پر لگی، زخم گہرا تھا وہ مرگیا تو سراقہ بن جعشم حضرت عمر کے پاس آئے اور انھیں یہ واقعہ سنایا تو حضرت عمر نے فرمایا : ١٢٠ اونٹ لاؤ دیت کے لیے، وہ لائے۔ حضرت عمر نے ان اونٹوں میں سے ٣٠ حقے ٣٠ دذعے اور ٤٠ وہ جن کے پیٹوں میں اولاد تھی لیے اور پوچھا : مقتول کا بھائی کہاں ہے ؟ وہ کہنے لگا : میں ہوں تو فرمایا : دیت لے لو۔ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ قاتل کے لیے کچھ نہیں ہے۔