Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2938

نکاح کا بیان

آزاد کردہ لونڈی سے خاوند غلام نے مجامعت کرلی اور لونڈی نے جہالت کا دعویٰ کردیا امام شافعی (رح) کے اس بارے میں دو قول ہیں 1 اگر وہ قسم اٹھائے تو اس کو اختیار ہے یہ مجھے زیادہ محبوب ہے۔ 2 اس کو کوئی اختیار نہیں ہے۔

1 hadith in this chapter

14293

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14293

Sahih

(۱۴۲۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوَشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی الأَمَۃِ تَکُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتُعْتَقُ : أَنَّ لَہَا الْخِیَارَ مَا لَمْ یَمَسَّہَا فَإِنْ مَسَّہَا فَزَعَمَتْ أَنَّہَا جَہِلَتْ أَنَّ لَہَا الْخِیَارَ فَإِنَّہَا تُتَّہَمُ وَلاَ تُصَدَّقُ بِمَا ادَّعَتْ مِنَ الْجَہَالَۃِ وَلاَ خِیَارَ لَہَا بَعْدَ أَنْ یَمَسَّہَا۔ وَفِی حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ: إِذَا وَقَعَ عَلَیْہَا وَلَمْ تَعْلَمْ فَلَہَا الْخِیَارُ إِذَا عَلِمَتْ۔ وَرَوَی الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ قَالَ فِی الأَمَۃِ تُعْتَقُ فَیَغْشَاہَا زَوْجُہَا قَبْلَ أَنْ تُخَیَّرَ قَالَ : تُسْتَحْلَفُ أَنَّہَا لَمْ تَعْلَمْ أَنَّ لَہَا الْخِیَارَ ثُمَّ تُخَیَّرُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٨٧) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : ایسی لونڈی جو غلام کے نکاح میں ہو آزاد کردی جائے تو خاوند کی مجامعت سے پہلے اس کو اختیار ہے، اگر خاوند نے مجامعت کرلی اور لونڈی نے جہالت کا دعویٰ کردیا تو اس کو اختیار ہے لیکن اس کو متہم کیا جائے گا اور جہالت کے دعویٰ کی تصدیق نہ کی جائے گی اور مجامعت کے بعد اس کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ (ب) ابن جریج کی روایت جو عطاء بن ابی رباح سے منقول ہے، جب غلام لونڈی پر واقع ہوگیا لیکن لونڈی کو علم نہ تھا جب پتہ چلا تب اس کو اختیار ہے۔ (ج) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ لونڈی کی آزادی کے بعد غلام خاوند نے مجامعت کرلی اختیار دیے جانے سے پہلے۔ تو اس سے قسم لی جائے گی کہ اس کو معلوم نہ تھا، پھر اختیار دیا جائے گا۔