Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2934

نکاح کا بیان

دھوکا دینے والا مہر ادا کرے گا اور اولاد کی قیمت اس کے ذمہ ہے جس نے دھوکا دیا ہے امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ مہر اس کو ادا کرنے پڑے گا جس نے کسی کو دھوکا دیا، حضرت عمر، علی اور ابن عباس (رض) کا یہی فیصلہ ہے۔

3 hadiths in this chapter

14258

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14258

Zaeef

(۱۴۲۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَیُّمَا رَجُلٍ نَکَحَ امْرَأَۃً وَبِہَا جُنُونٌ أَوْ جُذَامٌ أَوْ بَرَصٌ فَمَسَّہَا فَلَہَا صَدَاقُہَا وَذَلِکَ لِزَوْجِہَا غُرْمٌ عَلَی وَلِیِّہَا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٥٢) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جس شخص نے کسی عورت سے شادی کی، وہ مجنون، کوڑھی یا برص کی بیماری میں مبتلا تھی، اس نے مجامعت بھی کرلی تو اس کے ذمہ مہر ہے اور یہ عورت کے ولی پر ڈال جائے گا۔

14259

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14259

Sahih

(۱۴۲۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ قَالَ یَحْیَی بْنُ عَبَّادٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ أَبِی الْوَضِیئِ : أَنَّ أَخَوَیْنِ تَزَوَّجَا أُخْتَیْنِ فَأُہْدِیَتْ کُلُّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا إِلَی أَخِی زَوْجِہَا فَأَصَابَہَا۔ فَقَضَی عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا بِصَدَاقٍ وَجَعَلَہُ یَرْجِعُ بِہِ عَلَی الَّذِی غَرَّہُ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٥٣) ابو الوضی فرماتے ہیں کہ دو بھائیوں کی شادی دو بہنوں سے ہوگئی تو ان دونوں عورتوں کو تحفے بھی ملے، دونوں بھائیوں کی جانب سے اور ان سے مجامعت بھی کی تو حضرت علی (رض) نے ان میں سے ہر ایک کے ذمہ حق مہر ڈال دیا اور کہا : دھوکا دینے والا شخص یہ ادا کرے گا۔

14260

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14260

Zaeef

(۱۴۲۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عُمَرَ أَوْ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَضَی أَحَدُہُمَا فِی أَمَۃٍ غَرَّتْ بِنَفْسِہَا رَجُلاً فَذَکَرَتْ أَنَّہَا حُرَّۃٌ فَوَلَدَتْ أَوْلاَدًا فَقَضَی أَنْ یُفْدَی وَلَدُہُ بِمِثْلِہِمْ۔ قَالَ مَالِکٌ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَذَلِکَ یَرْجِعُ إِلَی الْقِیمَۃِ لأَنَّ الْعَبْدَ لاَ یُؤْتَی بِمِثْلِہِ وَلاَ نَحْوِہِ فَلِذَلِکَ یَرْجِعُ إِلَی الْقِیمَۃِ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَمَنْ قَالَ لاَ یُرْجَعُ بِالْمَہْرِ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِیِّ فِی الْجَدِیدِ احْتَجَّ بِمَا رُوِّینَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ نُکِحَتْ بِغَیْرِ إِذْنِ وَلِیِّہَا فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَإِنْ أَصَابَہَا فَلَہَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا ۔ (ش) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَإِذَا جَعَلَ لَہَا الصَّدَاقَ بِالْمَسِیسِ فِی النِّکَاحِ الْفَاسِدِ بِکُلِّ حَالٍ وَلَمْ یَرُدَّہُ بِہِ عَلَیْہَا وَہِیَ الَّتِی غَرَّتْہُ لاَ غَیْرُہَا کَانَ فِی النِّکَاحِ الصَّحِیحِ الَّذِی لِلزَّوْجِ فِیہِ الْخِیَارُ أَوْلَی أَنْ یَکُونَ لِلْمَرْأَۃِ وَإِذَا کَانَ لِلْمَرْأَۃِ لَمْ یَجُزْ أَنْ تَکُونَ ہِیَ الآخِذَۃَ لَہُ وَیَغْرَمُہُ وَلِیُّہَا قَالَ وَقَضَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الَّتِی نُکِحَتْ فِی عِدَّتِہَا إِنْ أُصِیبَتْ فَلَہَا الْمَہْرُ۔ قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ کَانَ یَقُولُ ہُوَ فِی بَیْتِ الْمَالِ ثُمَّ رَجَعَ عَنْ ذَلِکَ قَالَ مَسْرُوقٌ : رَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ قَوْلِہِ فِی الصَّدَاقِ وَجَعَلَہُ لَہَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٥٤) امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) یا حضرت عثمان (رض) نے فیصلہ ایسی لونڈی کے بارے میں فرمایا جس نے کسی کو دھوکا دیا کہ وہ آزاد ہے اور اس کی اولاد بھی ہوگئی کہ اس کے مثل بچے فدیہ دیے جائیں، امام مالک (رح) فرماتے ہیں : قیمت ادا کی جائے؛ کیونکہ غلام اس جیسا یا اس کی مثل ادا نہیں کیا سکتا۔ اس لیے قیمت ہی ادا کی جائے گی۔ شیخ (رح) فرماتے ہیں : جس نے کہا کہ حق مہر واپس نہ کیا جائے گا، یہ امام شافعی کا جوید قول ہے۔ (ب) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، اگر اس سے مجامعت کرلی تو اس کے عوض حق مہر ادا کرنا ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے : جب نکاح فاسد میں مجامعت کی وجہ سے حق مہر ہے، جو اس کو واپس نہ کیا جائے گا، یہ اس عورت کے ذمہ ہے جس نے اس کو دھوکا دیا، اس کے علاوہ کسی دوسرے کے ذمہ نہ ہوگا۔ حالانکہ نکاح صحیح میں خاوند کو اختیار ہوتا ہے کہ یہ حق مہر عورت کے لیے ہے تو اس سے لینا درست نہیں، لیکن چٹی ولی پر ڈالی جائے گی اور حضرت عمر (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ جس عورت سے عدت کے اندر صحبت کی گئی اس کے لیے حق مہر ہے۔ شیخ فرماتے ہیں : وہ حق مہر بیت المال میں جمع کروا دیں، بعد میں اس سے رجوع کرلیا، مسروق کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے صداق والے قول سے رجوع فرما لیا تھا؛ کیونکہ یہ اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھنے کے عوض تھا جو عورت کو مل گیا۔