Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2933

نکاح کا بیان

بیمار کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت سے اس کے ملنے کو مرض کا سبب بتایا ہے

18 hadiths in this chapter

14240

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14240

Sahih

(۱۴۲۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ یُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَی مُصِحٍّ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٣٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔

14241

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14241

Sahih

(۱۴۲۳۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ عَدْوَی وَلاَ صَفَرَ وَلاَ ہَامَۃَ ۔ قَالَ فَقَالَ أَعْرَابِیٌّ : فَمَا بَالُ الإِبِلِ تَکُونُ فِی الرَّمْلِ کَأَنَّہَا الظِّبَائُ فَیُخَالِطُہَا الْبَعِیرُ الأَجْرَبُ فَیُجْرِبُہَا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : فَمَنْ أَعْدَی الأَوَّلَ ۔قَالَ الزُّہْرِیُّ فَحَدَّثَنِی رَجُلٌ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ یُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَی مُصِحٍّ ۔ قَالَ فَرَاجَعَہُ الرَّجُلُ فَقَالَ : أَلَیْسَ قَدْ حَدَّثْتَنَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : لاَ عَدْوَی وَلاَ صَفَرَ وَلاَ ہَامَۃَ ۔ قَالَ : لَمْ أُحَدِّثْکُمُوہُ۔ قَالَ الزُّہْرِیُّ قَالَ لِی أَبُو سَلَمَۃَ قَدْ حَدَّثَ بِہِ وَمَا سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَسِیَ حَدِیثًا غَیْرَہُ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ بِمَعْنَاہُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٣٥) حضرت ابوہریرہ (رض) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیماری متعدی نہیں ہوتی اور صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہے اور کوئی الو منحوس نہیں ہے، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے کہا : ان اونٹوں کی کیا حالت ہے جو ہرن کی مانند تندرست ہوتے ہیں۔ تو خارش زدہ اونٹ ان سے مل کر ان کو بھی خارشی کردیتا ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پہلے کو بیماری کس نے لگائی ہے، تو زہری کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے ایک شخص نے مجھے بیان کیا کہ وہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ نے فرمایا کہ مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا آپ ہمیں بیان نہیں کرتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی اور صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہوتا اور کوئی الو منحوس نہیں ہوتا، اس نے کہا : میں نے تمہیں بیان نہیں کیا، زہری کہتے ہیں کہ ابو سلمہ نے مجھے کہا کہ اس نے بیان کیا تھا، میں نے ابوہریرہ (رض) سے نہیں سنا، وہ دوسری حدیث بھول گئے۔

14242

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14242

Sahih

(۱۴۲۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ عَدْوَی ۔ قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ یُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَی الْمُصِحِّ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَزَادَ فِیہِ غَیْرُہُ مُرَاجَعَۃَ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ذَلِکَ وَقَوْلَ أَبِی سَلَمَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٣٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی، ابو سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔

14243

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14243

Sahih

(۱۴۲۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِیٍّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سِنَانُ بْنُ أَبِی سِنَانٍ الدُّؤَلِیُّ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ عَدْوَی ۔ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَعْرَابِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَفَرَأَیْتَ الإِبِلَ تَکُونُ فِی الرَّمْلِ أَمْثَالَ الظِّبَائُ فَیَأْتِیہَا الْبَعِیرُ الأَجْرَبُ فَتَجْرَبُ جَمِیعًا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : فَمَنْ أَعْدَی الأَوَّلَ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٣٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیماری متعدی نہیں ہوتی تو ایک دیہاتی کھڑا ہوا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کا صحت مند اونٹوں کے بارے میں کیا خیال ہے، جو ہرن کے مانند ہوتے ہیں، پھر ان کے ساتھ خارشی اونٹ آتا ہے تو وہ سارے خارش زدہ ہوجاتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : پہلے کو بیماری کس نے لگائی تھی۔

14244

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14244

Sahih

(۱۴۲۳۸) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَسَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ یُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَی الْمُصِحِّ ۔ فَقَالَ لَہُ الْحَارِثُ بْنُ أَبِی ذُبَابٍ الدَّوْسِیُّ : فَإِنَّکَ قَدْ کُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ عَدْوَی ۔ قَالَ : فَأَنْکَرَ ذَلِکَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَقَالَ الْحَارِثُ بَلَی قَدْ کُنْتَ تُخْبِرُنَا ذَلِکَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَمَارَی ہُوَ وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ حَتَّی اشْتَدَّ مِرَاؤُہُمَا فَغَضِبَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ عِنْدَ ذَلِکَ فَرَطَنَ بِالْحَبَشِیَّۃِ ثُمَّ قَالَ لِلْحَارِثِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ : ہَلْ تَدْرِی مَاذَا قُلْتُ؟ فَقَالَ الْحَارِثُ : لاَ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : فَإِنِّی قُلْتُ أَبَیْتُ یُرِیدُ بِذَلِکَ أَنِّی لَمْ أُحَدِّثْ کَمَا تَقُولُ۔ قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَقَامَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ عَلَی الَّذِی یُخْبِرُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی قَوْلِہِ : لاَ یُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَی الْمُصِحِّ ۔ وَتَرَکَ مَا کَانَ یُخْبِرُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی قَوْلِہِ : لاَ عَدْوَی ۔ فَقَالَ أَبُو سَلَمَۃَ : فَلاَ أَدْرِی أَنَسِیَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ مَا کَانَ یُخْبِرُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ عَدْوَی ۔ أَمْ مَا شَأْنُہُ غَیْرَ أَنِّی لَمْ أَبْلُ عَلَیْہِ کَلِمَۃً نَسِیَہَا بَعْدَ أَنْ یُحَدِّثُنَاہَا مَرَّۃً عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- غَیْرَ إِنْکَارِہِ مَا کَانَ یُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی قَوْلِہِ : لاَ عَدْوَی ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِیِّ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ عَنْ شُعَیْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ مُخْتَصَرًا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٣٨) حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتے ہیں کہ تندرست کے نزدیک مریض کو نہ لایا جائے، تو حارث بن ابی ذباب دوسی نے آپ سے کہا کہ آپ ہی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بیان کرتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے انکار کردیا تو حارث بن ابی ذباب نے کہا : کیوں نہیں تم ہی تو بیان کرتے ہو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے۔ ابوہریرہ (رض) اور حارث کا جھگڑا بڑھ گیا تو ابوہریرہ (رض) غصے میں آگئے اور حبشی زبان میں بات کی۔ پھر حارث بن ابی ذباب سے کہنے لگے : میں نے کیا کہا تھا ؟ تو حارث نے کہا : مجھے یاد نہیں تو حضرت ابوہریرہ (رض) فرمانے لگے کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں جیسے تم بیان کرتے ہی ہو ویسے میں نے نہیں کہا۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ پھر حضرت ابوہریرہ (رض) نے کھڑے ہو کر ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان فرمایا کہ مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔ لیکن لاعدویٰ والا قول جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان فرماتے تھے چھوڑ دیا، تو ابو سلمہ کہتے ہیں کہ مجھے علم نہیں کہ ابوہریرہ (رض) اس کلمہ کو بھول گئے ہیں، یعنی لا عدویٰ یا ان کی کیا حالت ہے ؟ لیکن بعد میں نے اس کی پروا نہیں کی جو وہ کلمہ بھول گئے۔ وہ بعض اوقات بغیر انکار کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کردیتے تھے۔

14245

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14245

Zaeef

(۱۴۲۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ مَوْلَی بَنِی ہَاشِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ عَدْوَی وَلاَ یَحِلُّ الْمُمْرِضُ عَلَی الْمُصِحِّ لِیَحِلَّ الْمُصِحُّ حَیْثُ شَائَ ۔ قِیلَ : مَا بَالُ ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : إِنَّہُ أَذًی ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٣٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور نہ ہی مریض کو تندرست کے پاس لانا جائز ہے تاکہ تندرست جہاں چاہے رہے، کہا گیا : اے اللہ کے رسول ! اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تکلیف ہے۔

14246

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14246

Zaeef

(۱۴۲۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ أَبِی عَطِیَّۃَ الأَشْجَعِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ عَدْوَی وَلاَ ہَامَۃَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ یَحِلُّ الْمُمْرِضُ عَلَی الْمُصِحِّ وَلْیَحِلَّ الْمُصِحُّ حَیْثُ شَائَ ۔ فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ : وَلِمَ ذَاکَ؟ قَالَ : إِنَّہُ أَذًی ۔ ہَذَا غَرِیبٌ بِہَذَا الإِسْنَادِ إِنْ کَانَ الرَّقَاشِیُّ حَفِظَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٤٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیماری متعدی نہیں ہوتی، اور کوئی الو منحوس نہیں اور صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہوتا اور مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے تاکہ تندرست جہاں چاہے رہے۔ کہا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ کیوں ؟ فرمایا : یہ تکلیف ہے۔

14247

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14247

Sahih

(۱۴۲۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : إِنَّ ہَذَا یَعْنِی الطَّاعُونَ أَوِ السَّقَمَ رِجْزٌ عُذِّبَ بِہِ بَعْضُ الأُمَمِ قَبْلَکُمْ ثُمَّ بَقِیَ بَعْدُ بِالأَرْضِ فَیَذْہَبُ الْمَرَّۃَ وَیَأْتِی الأُخْرَی فَمَنْ سَمِعَ بِہِ بِأَرْضٍ فَلاَ یَقْدَمَنَّ عَلَیْہِ وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَہُوَ بِہَا فَلاَ یُخْرِجَنَّہُ الْفِرَارُ مِنْہُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۴۷۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٤١) حضرت اسامہ بن زید (رض) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : یقیناً یہ یعنی طاعون کوئی بیماری یا عذاب ہے، جو تم سے پہلی قوموں کو دیا گیا۔ اس کے بعد زمین پر باقی رہا تو ایک چلا جاتا ہے تو دوسرا آجاتا ہے، جو ان کے بارے میں کسی زمین میں سنے تو اس کی طرف نہ جائے اور جس علاقہ میں یہ بیماری شروع ہوجائے اس سے نہ بھاگے۔

14248

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14248

Sahih

(۱۴۲۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَہُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا حَدَّثَہُ : أَنَّہُ کَانَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ خَرَجَ إِلَی الشَّامِ فَرَجَعَ بِالنَّاسِ مِنْ سَرْغَ فَلَقِیَہُ أُمَرَاؤُہُ عَلَی الأَجْنَادِ فَلَقِیَہُ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُہُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَقَدْ وَقَعَ الْوَجَعُ بِالشَّامِ فَقَالَ عُمَرُ : اجْمَعْ لِیَ الْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ فَجَمَعْتُہُمْ لَہُ فَاسْتَشَارَہُمْ فَاخْتَلَفُوا عَلَیْہِ فَقَالَ بَعْضُہُمُ : ارْجِعْ بِالنَّاسِ وَلاَ تُقْدِمْہُمْ عَلَی ہَذَا الْوَبَائِ ۔ وَقَالَ بَعْضُہُمْ : إِنَّمَا ہُوَ قَدَرُ اللَّہِ وَقَدْ خَرَجْتَ لأَمْرٍ فَلاَ تَرْجِعْ عَنْہُ فَأَمَرَہُمْ فَخَرَجُوا عَنْہُ ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِیَ الأَنْصَارَ فَدَعَوْتُہُمْ فَاسْتَشَارَہُمْ فَسَلَکُوا سَبِیلَ الْمُہَاجِرِینَ وَاخْتَلَفُوا کَاخْتِلاَفِہِمْ فَأَمَرَہُمْ فَخَرَجُوا عَنْہُ ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِی مَنْ کَانَ ہَا ہُنَا مِنْ مَشْیَخَۃِ مُہَاجِرَۃِ الْفَتْحِ فَدَعَوْتُہُمْ فَاسْتَشَارَہُمْ فَاجْتَمَعَ رَأْیُہُمْ عَلَی : أَنْ یَرْجِعَ بِالنَّاسِ فَأَذَّنَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی النَّاسِ إِنِّی مُصْبِحٌ عَلَی ظَہْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَیْہِ فَإِنِّی مَاضٍ لِمَا أَرَی فَانْظُرُوا مَا آمُرُکُمْ بِہِ فَامْضُوا لَہُ فَأَصْبَحَ عَلَی ظَہْرٍ قَالَ فَرَکِبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : إِنِّی أَرْجِعُ۔ فَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُخَالِفَہُ أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّہِ فَغَضِبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَالَ : لَوْ غَیْرُکَ قَالَ ہَذَا یَا أَبَا عُبَیْدَۃَ : نَعَمْ أَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّہِ إِلَی قَدَرِ اللَّہِ أَرَأَیْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً ہَبَطً وَادِیًا لَہُ عُدْوَتَانِ وَاحِدَۃٌ جَدْبَۃٌ وَالأُخْرَی خَصْبَۃٌ أَلَیْسَ إِنْ رَعَی الْجَدْبَۃَ رَعَاہَا بِقَدَرِ اللَّہِ وَإِنْ رَعَی الْخَصْبَۃَ رَعَاہَا بِقَدَرِ اللَّہِ۔ قَالَ : ثُمَّ خَلاَ بِأَبِی عُبَیْدَۃَ فَتَرَاجَعَا سَاعَۃً فَجَائَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ مُتَغَیِّبًا فِی بَعْضِ حَاجَتِہِ فَجَائَ وَالْقَوْمُ یَخْتَلِفُونَ فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِی فِی ہَذَا عِلْمًا فَقَالَ عُمَرُ : فَمَا ہُوَ؟ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِذَا سَمِعْتُمْ بِہِ فِی أَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَیْہِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ فِیہَا فَلاَ یُخْرِجَنَّکُمُ الْفِرَارُ مِنْہُ ۔ فَحَمِدَ اللَّہَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَرَجَعَ وَأَمْرَ النَّاسَ أَنْ یَرْجِعُوا۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ قَالاَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا رَجَعَ بِالنَّاسِ مِنْ سَرْغَ عَنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۷۲۹۔ ۵۷۳۰۔ ۶۹۷۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٤٢) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ تھے، جب وہ شام کی جانب گئے تو لوگ سرغ سے واپس آرہے تھے، ان کے امراء سردار جو لشکروں پر مقرر تھے وہ بھی ملے۔ ابوعبیدہ بن جراح اور ان کے ساتھی بھی کہ شام میں بیماری پھیل گئی ہے تو حضرت عمر (رض) نے مہاجرین اولین کو جمع کرنے کا حکم دیا، میں نے سب کو جمع کردیا۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے مشورہ کیا تو انھوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا۔ بعض نے کہا : وباء والی جگہ نہیں جانا چاہیے واپس پلٹ جاؤ۔ بعض نے کہا : اب کسی غرض سے وہاں جا رہے ہیں، واپس نہیں پلٹنا چاہیے، یہ اللہ کی تقدیر ہے، آپ (رض) نے ان سے مشورہ کیا تو حکم فرمایا، وہ چلے گئے، پھر کہا : انصار کو بلاؤ، میں نے ان کو بلایا، ان سے مشورہ طلب کیا تو وہ بھی مہاجرین کی طرح مختلف ہوگئے، بعض نے کچھ کہا اور بعض نے کچھ کہا۔ آپ (رض) نے ان کو بھی حکم دیا، وہ بھی چلے گئے۔ پھر کہا کہ فتح کے وقت ہجرت کرنے والے مہاجرین میں سے کوئی بزرگ ہو تو اس کو بلاؤ۔ میں نے ان کو بلایا تو ان کی رائے متفق تھی کہ واپس پلٹ جاؤ تو حضرت عمر (رض) نے لوگوں میں اعلان کروا دیا کہ اپنی سواریوں پر رہنا، وہ اپنی سواریوں پر رہے۔ فرمانے لگے : جو میں کروں دیکھتے رہنا جس کا حکم دوں کردینا۔ وہاں حضرت عمر (رض) نے صبح کی پھر سوار ہوئے، پھر لوگوں سے کہنے لگے میں واپس جا رہا ہوں تو ابوعبیدہ کہنے لگے اور وہ ان کی مخالفت کو بھی ناپسند کرتے تھے، کیا اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں ؟ حضرت عمر (رض) کو غصہ آگیا اور فرمانے لگے : اگر تیرے علاوہ کوئی دوسرا ہوتا اے ابو عبیدہ ! میں اللہ کی تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف بھاگ رہا ہوں، اگر دو وادیاں ہوں، ایک خشک سالی کا شکار اور دوسری سرسبز و شاداب، اگر اس نے خشک وادی میں اپنے جانور کو چھوڑا تو یہ بھی اللہ کی تقدیر ہے اور اگر وہ اپنے جانور سر سبزو شاداب وادی میں چھوڑے تو یہ بھی اللہ کی تقدیر ہے۔ کہتے ہیں : پھر ابوعبیدہ چلے گئے، واپسی کے تھوڑی دیر بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف بھی آگئے، وہ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے حاضر نہ تھے ؟ وہ آئے تو لوگ اختلاف کر رہے تھے۔ فرمانے لگے : اس بارے میں میرے پاس علم ہے تو حضرت عمر (رض) نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ فرمانے لگے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ نے فرمایا تھا کہ جب تم کسی زمین میں وباء کا سنو تو وہاں مت جاؤ اور جب وباء پھیل جائے اور تم اس زمین میں ہو تو وہاں سے بھاگ کر نہ نکلو تو حضرت عمر (رض) نے اللہ کی تعریف بیان کی اور خود بھی واپس ہوئے اور لوگوں کو بھی لوٹنے کا حکم فرمایا۔ (ب) عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ دونوں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) سرغ نامی جگہ سے واپس ہوئے۔

14249

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14249

Sahih

(۱۴۲۴۳) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ یَعْنِی الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- جَائَ ہُ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِی وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ فَقَالَ : ہَلْ لَکَ مِنْ إِبِلٍ ۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : مَا أَلْوَانُہَا؟ ۔ قَالَ : حُمْرٌ قَالَ : ہَلْ فِیہَا أَوْرَقُ ۔ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : بِمَ ذَاکَ؟ ۔ قَالَ : ذَاکَ عِرْقٌ نَزَعَہُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : فَلَعَلَّ ابْنَکَ نَزَعَہُ عِرْقٌ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَغَیْرِہِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۳۰۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٤٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک دیہاتی آیا، اس نے کہا : میری بیوی نے سیاہ بچہ جنم دیا ہے، آپ نے پوچھا : کیا تیرے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ان کی رنگت کیا ہے ؟ اس نے کہا : سرخ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا ان میں خاکستری رنگ کا بھی ہے، اس نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ کیوں ؟ اس نے کہا : شاید کسی رگ نے اس کو کھینچا ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شاید اس کو کسی رگ نے کھینچا ہو۔

14250

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14250

Sahih

(۱۴۲۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیدِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ فِی وَفْدِ ثَقِیفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنَّا قَدْ بَایَعْنَاکَ فَارْجِعْ ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۲۳۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٤٤) عمرو بن شرید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ثقیف کے وفد میں ایک کوڑھی شخص تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی جانب پیغام بھیجا کہ تم جاؤ ہم نے تیری بیعت لے لی ہے۔

14251

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14251

Sahih

(۱۴۲۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الإِسْفَرَائِینِیُّ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَعَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ وَرُوِّینَا فِی بَابِ الْکَفَائَ ۃِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ فِرَارَکَ مِنَ الأَسَدِ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٤٥) حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ کوڑھی سے اس طرح بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔

14252

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14252

Sahih

(۱۴۲۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ وَأَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : لاَ عَدْوَی وَلاَ ہَامَۃَ وَلاَ صَفَرَ وَاتَّقُوا الْمَجْذُومَ کَمَا یُتَّقَی الأَسَدُ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٤٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی الو منحوس ہے اور نہ ہی صفر کا مہینہ منحوس ہے، کوڑھی سے بچو جیسے شیر سے بچا جاتا ہے۔

14253

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14253

Zaeef

(۱۴۲۴۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْقُرَشِیِّ عَنْ أُمِّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : لاَ تُحِدُّوا النَّظَرَ إِلَیْہِمْ ۔ یَعْنِی الْمَجْذُومِینَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٤٧) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ان کی جانب گھور کر نہ دیکھو، یعنی کوڑھی کی جانب۔

14254

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14254

Zaeef

(۱۴۲۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ تُدِیمُوا النَّظَرَ إِلَیْہِمْ ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٤٨) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ان کی طرف نظر جماکر نہ دیکھو۔

14255

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14255

Zaeef

(۱۴۲۴۹) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أُمِّہِ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْحُسَیْنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ تُدِیمُوا النَّظَرَ إِلَی الْمَجَاذِیمِ ۔ وَقِیلَ عَنْہَا عَنْ أَبِیہَا۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٤٩) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کوڑھیوں کی جانب نظر جما کر نہ دیکھو۔

14256

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14256

Zaeef

(۱۴۲۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَۃَ عَنْ حَبِیبِ بْنِ الشَّہِیدِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَخَذَ بِیَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَہَا مَعَہُ فِی قَصْعَۃٍ فَقَالَ : کُلْ بِسْمِ اللَّہِ وَتَوَکُّلاً عَلَیْہِ ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٥٠) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر پلیٹ میں رکھا اور فرمایا : بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ اور اللہ پر توکل کرو۔

14257

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14257

Sahih

(۱۴۲۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَۃَ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی عَمْرَۃَ : أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِنَّ ثَلاَثَۃً فِی بَنِی إِسْرَائِیلَ أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَی أَرَادَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَبْتَلِیَہُمْ فَبَعَثَ إِلَیْہِمْ مَلَکًا فَأَتَی الأَبْرَصَ فَقَالَ : أَیُّ شَیْئٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ : لَوْنٌ حَسَنٌ وَجِلْدٌ حَسَنٌ فَقَدْ قَذَرَنِی النَّاسُ قَالَ فَمَسَحَہُ فَذَہَبَ عَنْہُ قَذَرُہُ وَأُعْطِیَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۴۶۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٢٥١) حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنی اسرائیل میں تین شخص تھے : 1 پھلبہری والا 2 گنجا 3 نابینا۔ اللہ نے ان کی آزمائش کا ارادہ کیا تو ان کی جانب ایک فرشتہ بھیجا، وہ برص والے کے پاس آیا، اور کہا : تجھے کونسی چیز اچھی لگتی ہے۔ اس نے کہا : اچھی رنگت اور اچھی جلد، کیونکہ لوگ مجھے اچھا نہیں خیال کرتے تو فرشتے نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا تو بیماری ختم ہوگئی اور اس کو اچھی جلد اور رنگت مل گئی، پھر طویل حدیث ذکر کی۔