Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2929

نکاح کا بیان

جس نے بغیر کسی شرط کے نکاح کیا یہ ثابت ہے اگرچہ دونوں کی نیت یا کسی ایک کی نیت حلالہ کی ہو امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ انسانی وسوسہ ہے جو انسان کے دل و دماغ میں پیدا ہوتا ہے اللہ نے اس کو معاف کردیا۔

3 hadiths in this chapter

14201

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14201

Sahih

(۱۴۱۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہَ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہَ -ﷺ- : تَجَاوَزَ اللَّہُ لأُمَّتِی مَا حَدَّثَتْ بِہِ أَنْفُسَہَا مَا لَمْ تَکَلَّمْ بِہِ أَوْ تَعْمَلْ بِہِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَوَانَۃَ وَفِی رِوَایَۃِ ہِشَامٍ قَالَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ اللَّہَ جَلَّ ثَنَاؤُہُ تَجَاوَزَ لأُمَّتِی ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۷، بخاری ۵۲۶۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤١٩٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو انسان کے دل و دماغ میں وسوسے پیدا ہوتے ہیں اللہ نے میری امت سے معاف کردیے ہیں جب تک زبان سے نہ کہے یا عمل نہ کرے۔ (ب) ہشام کی روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے میری امت سے معاف کردیا ہے۔

14202

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14202

Zaeef

(۱۴۱۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ سَیْفِ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : طَلَّقَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ امْرَأَۃً لَہُ فَبَتَّہَا فَمَرَّ بِشَیْخٍ وَابْنٍ لَہُ مِنَ الأَعْرَابِ فِی السُّوقِ قَدِمَا لِتِجَارَۃٍ لَہُمَا فَقَالَ لِلْفَتَی : ہَلْ فِیکَ مِنْ خَیْرٍ ثُمَّ مَضَی عَنْہُ ثُمَّ کَرَّ عَلَیْہِ فَکَمِثْلِہَا ثُمَّ مَضَی عَنْہُ ثُمَّ کَرَّ عَلَیْہِ فَکَمِثْلِہَا قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَأَرِنِی یَدَکَ فَانْطَلَقَ بِہِ فَأَخْبَرَہُ الْخَبَرَ وَأَمَرَہُ بِنِکَاحِہَا فَنَکَحَہَا فَبَاتَ مَعَہَا فَلَمَّا أَصْبَحَ اسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَہُ فَإِذَا ہُوَ قَدْ وَلاَّہَا الدُّبُرَ فَقَالَتْ وَاللَّہِ لَئِنْ طَلَّقَنِی لاَ أَنْکِحُکَ أَبَدًا۔ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَدَعَاہُ فَقَالَ : لَوْ نَکَحْتَہَا لَفَعَلْتُ بِکَ کَذَا وَکَذَا وَتَوَاعَدَہُ وَدَعَا زَوْجَہَا فَقَالَ : الْزَمْہَا۔ وَزَادَ فِیہِ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ فَقَالَ وَقَالَ : وَإِنْ عَرَضَ لَکَ أَحَدٌ بِشَیْئٍ فَأَخْبِرْنِی بِہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤١٩٦) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک قریشی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی تو وہ بازار میں ایک دیہاتی شیخ اور اس کے بیٹے کے پاس گزرا جو تجارت کی غرض سے بازار آئے تھے۔ پھر اس نے جوان سے کہا : کیا تیرے اندر بھلائی ہے ؟ وہ ان کے پاس سے چلا گیا، پھر دوبارہ پلٹ کر آیا، اس نے ویسے ہی کہا، پھر وہ چلا گیا۔ اس نے کہا : ہاں۔ اس نے کہا : مجھے اپنا ہاتھ دکھاؤ۔ پھر وہ اس کے ساتھ گیا اور خبر دی اور اس عورت سے نکاح کا حکم دیا۔ اس نے اس عورت کے ساتھ رات گزاری۔ جب اس نے صبح کی اور اجازت طلب کی تو اجازت مل گئی۔ پھر وہ اچانک اس سے پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا تو اس عورت نے کہا : اگر اب اس نے مجھے طلاق دی تو میں آئندہ کبھی بھی اس سے نکاح نہ کروں گی۔ اس بات کا تذکرہ حضرت عمر (رض) کے سامنے ہوا تو انھوں نے اس کے خاوند کو بلایا اور فرمایا : اگر تو نے اس عورت سے نکاح کیا تو میں تیرے ساتھ اس طرح کروں گا اور اس کو ڈرایا اور فرمایا : اس کو لازم پکڑو اور دوسری جگہ ہے کہ فرمایا : اگر کوئی چیز آپ کے لیے پیش آئے تو مجھے خبر دینا۔

14203

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14203

Zaeef

(۱۴۱۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ : أَنَّ امْرَأَۃً طَلَّقَہَا زَوْجُہَا ثَلاَثًا وَکَانَ مِسْکِینٌ أَعْرَابِیٌّ یَقْعُدُ بِبَابِ الْمَسْجِدِ فَجَائَ تْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ : ہَلْ لَکَ فِی امْرَأَۃٍ تَنْکِحُہَا فَتَبِیتَ مَعَہَا اللَّیْلَۃَ وَتُصْبِحَ فَتُفَارِقَہَا فَقَالَ : نَعَمْ فَکَانَ ذَلِکَ فَقَالَتْ لَہُ امْرَأَتُہُ : إِنَّکَ إِذَا أَصْبَحْتَ فَإِنَّہُمْ سَیَقُولُونَ لَکَ فَارِقْہَا فَلاَ تَفْعَلْ ذَلِکَ فَإِنِّی مُقِیمَۃٌ لَکَ مَا تَرَی وَاذْہَبْ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا أَصْبَحَتْ أَتَوْہُ وَأَتَوْہَا فَقَالَتْ : کَلِّمُوہُ فَأَنْتُمْ جِئْتُمْ بِہِ فَکَلِّمُوہُ فَأَبَی فَانْطَلَقَ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : الْزَمِ امْرَأَتَکَ فَإِنْ رَابُوکَ بِرَیْبٍ فَأْتِنِی وَأَرْسَلَ إِلَی الْمَرْأَۃِ الَّتِی مَشَتْ لِذَلِکَ فَنَکَّلَ بِہَا ثُمَّ کَانَ یَغْدُو عَلَی عُمَرَ وَیَرُوحُ فِی حُلَّۃٍ فَیَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَاکَ یَا ذَا الرُّقْعَتَیْنِ حُلَّۃً تَغْدُو فِیہَا وَتَرُوحُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَسَمِعْتُ ہَذَا الْحَدِیثَ مُسْنَدًا إِسنادًا مُوتَصِلاً عَنِ ابْنِ سِیرِینَ یُوصِلُہُ عَنْ عُمَرَ بِمِثْلِ ہَذَا الْمَعْنَی۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤١٩٧) ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، وہ مسکین دیہاتی تھا، مسجد کے دروازے پر بیٹھا رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی : تو نے فلاں عورت سے شادی کے بعد ایک رات گزار کر اس کو جدا کردیا ؟ اس نے کہا : ہاں۔ وہ اسی طرح تھا کہ اس کی بیوی نے کہہ دیا : جب تو صبح کرے تو وہ کہہ دیں کہ تو اس کو جدا کر تو ایسا نہ کرنا۔ میں تیرے پاس ہی رہوں گی، تیرا کیا خیال ہے ؟ اور حضرت عمر (رض) کے پاس جا۔ جب عورت نے صبح کی تو اس کے ورثا مسکین اعرابی کے پاس آئے تو وہ مسکین عورت کے پاس آیا۔ اس عورت نے کہا : تم اس مسکین سے بات کرو۔ تم مجھے اس کے پاس لے کر آئے تھے۔ انھوں نے بات کی، لیکن مسکین نے انکار کردیا اور حضرت عمر (رض) کے پاس چلا گیا تو انھوں نے فرمایا : اپنی بیوی کو لازم پکڑو، اگر کوئی شک ہو تو میرے پاس آجانا، پھر اس عورت کے پاس گیا جو اس کے لیے لائی گئی تھی۔ اس کو عبرتناک سزا دی۔ پھر وہ مسکین صبح وشام حلہ پہن کر حضرت عمر (رض) کے دربار میں آیا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ تمام تعریفیں اس ذات کی ہیں جس نے اے چیتھڑوں والے تجھے حلہ پہنایا۔ جس میں تو صبح وشام کرتا ہے۔