Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2894

نکاح کا بیان

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : { اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ } [النساء ٢٣] ” دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع نہ کرنے کا بیان “

2 hadiths in this chapter

13929

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13929

Sahih

(۱۳۹۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ : الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ وَأُمَّہَا أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ أَنَّ أُمَّ حَبِیبَۃَ بِنْتَ أَبِی سُفْیَانَ أَخْبَرَتْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ انْکِحْ أُخْتِی زَیْنَبَ بِنْتَ أَبِی سُفْیَانَ۔ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَوَتُحِبِّینَ ذَلِکَ ۔ قَالَتْ قُلْتُ : نَعَمْ لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِیَۃٍ وَأَحَبُّ مِنْ شَارَکَنِی فِی خَیْرٍ أُخْتِی۔ قَالَتْ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنَّ ذَلِکَ لاَ یَحِلُّ لِی ۔ قَالَتْ فَقُلْتُ : وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّکَ تُرِیدُ أَنْ تَنْکِحَ دُرَّۃَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ : بِنْتَ أُمِّ سَلَمَۃَ؟ ۔ قَالَتْ فَقُلْتُ : نَعَمْ فَقَالَ : وَاللَّہِ لَوْ أَنَّہَا لَمْ تَکُنْ رَبِیبَتِی فِی حَجْرِی مَا حَلَّتْ لِی إِنَّہَا لاَبْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ أَرْضَعَتْنِی وَأَبَا سَلَمَۃَ ثُوَیْبَۃُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَیَّ بَنَاتِکُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِکُنَّ ۔ قَالَ عُرْوَۃُ : وَثُوَیْبَۃُ مَوْلاَۃُ أَبِی لَہَبٍ کَانَ أَبُو لَہَبٍ أَعْتَقَہَا فَأَرْضَعَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَہَبٍ أُرِیَہُ بَعْضُ أَہْلِیہِ فِی النَّوْمِ بِشَرِّ حِیبَۃٍ فَقَالَ لَہُ : مَاذَا لَقِیتَ فَقَالَ أَبُو لَہَبٍ : لَمْ أَلْقَ بَعْدَکُمْ رَخَائً غَیْرَ أَنِّی سُقِیتُ فِی ہَذِہِ مِنِّی بِعَتَاقَتِی ثُوَیْبَۃَ وَأَشَارَ إِلَی النَّقِیرَۃِ الَّتِی بَیْنَ الإِبْہَامِ وَالَّتِی تَلِیہَا مِنَ الأَصَابِعِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۴۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٢٣) حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ اور اس کی والدہ ام سلمہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح میں تھیں تو ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے کہا : میری بہن زینب بنت ابی سفیان سے شادی کرلو۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو اس بات کو پسند کرتی ہے، کہتی ہیں : میں نے کہا : ہاں، میں بخل کرنے والی نہیں اور مجھے پسند ہے کہ بھلائی میں میرے ساتھ میری بہن بھی شریک ہوجائے۔ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ کہتی ہیں کہ ہمیں تو بیان کیا گیا کہ آپ درۃ بنت ابی سلمہ سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں، فرماتے ہیں : بنت ام سلمہ ؟ کہتی ہیں : میں نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم وہ میری گود میں پرورش پانے والی بچی نہیں، جو میرے لیے حلال نہ ہو۔ وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے کہ ثوبیہ نے ابو سلمہ کو اور مجھے دودھ پلایا تھا تو میرے اوپر اپنی بیٹیاں اور بہنیں نہ پیش کیا کرو۔ عروہ کہتے ہیں کہ ثوبیہ ابو لہب کی لونڈی تھی ابو لہب نے اس کو آزاد کردیا تو اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دودھ پلایا تھا۔ جب ابولہب فوت ہوگیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی نے اس کو خواب میں بری حالت میں دیکھا، اس نے کہا : تجھے کیا ملا ؟ تو ابو لہب نے کہا : مجھے تمہاری بعد کبھی نرمی نہیں ملی لیکن ثوبیہ کی آزادی کی وجہ سے کچھ ملا۔ اور اس نے اس نقیرہ کی طرف اشارہ کیا جو اس کے انگوٹھے اور دوسری انگلیوں کے درمیان تھا۔

13930

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13930

Sahih

(۱۳۹۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَۃَ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ أُمَّ حَبِیبَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ انْکِحْ أُخْتِی ابْنَۃَ أَبِی سُفْیَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَتُحِبِّینَ ذَلِکَ؟ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِیَۃٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَارَکَنِی فِی خَیْرٍ أُخْتِی قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : فَإِنَّ ذَلِکَ لاَ یَحِلُّ لِی ۔ قَالَتْ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَوَاللَّہِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّکَ تُرِیدُ أَنْ تَنْکِحَ دُرَّۃَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : بِنْتَ أُمِّ سَلَمَۃَ؟ ۔ قَالَتْ فَقُلْتُ : نَعَمْ قَالَ: فَوَاللَّہِ لَوْ لَمْ تَکُنْ رَبِیبَتِی فِی حَجْرِی مَا حَلَّتْ لِی إِنَّہَا ابْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ أَرْضَعَتْنِی وَأَبَا سَلَمَۃَ ثُوَیْبَۃُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَیَّ بَنَاتِکُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِکُنَّ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٢٤) ام حبیبہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے اللہ کے رسول ! میری بہن ابو سفیان کی بیٹی سے شادی کرلیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس بات کو پسند کرتی ہیں ؟ کہتی ہیں : ہاں، میں آپ کے لیے بخل کرنے والی نہیں ہوں اور مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میری بہن میری بھلائی میں شریک ہو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ کہتی ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمیں تو معلوم ہوا ہے کہ آپ درۃ بنت ابی سلمہ سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنت ام سلمہ ؟ کہنے لگی : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر وہ میری گود میں پرورش پانے والی نہ ہوتی تب بھی میرے لیے حلال نہ تھی؛ کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے؛ کیونکہ مجھے اور ابو سلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا تو میرے اوپر اپنی بیٹیاں اور بہنیں پیش نہ کیا کرو۔