Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2895

نکاح کا بیان

اللہ کے قول {إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ } کا بیان

3 hadiths in this chapter

13931

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13931

Sahih

(۱۳۹۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی کِتَابِ الرَّضَاعِ : کَانَ أَکْبَرُ وَلَدِ الرَّجُلِ یَخْلُفُ عَلَی امْرَأَۃِ أَبِیہِ وَکَانَ الرَّجُلُ یَجْمَعُ بَیْنَ الأُخْتَیْنِ فَنَہَی اللَّہُ تَعَالَی عَنْ أَنْ یَکُونَ مِنْہُمْ أَحَدٌ یَجْمَعُ فِی عُمُرِہِ بَیْنَ أُخْتَیْنِ أَوْ یَنْکِحُ مَا نَکَحَ أَبُوہُ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ قَبْلَ عِلْمِہِمْ تَحْرِیمَہُ لَیْسَ أَنَّہُ أَقَرَّ فِی أَیْدِیہِمْ مَا کَانُوا قَدْ جَمَعُوا بَیْنَہُ قَبْلَ الإِسْلاَمِ۔ [صحیح۔ قال الشافعی فی الام ۵/ ۲۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٢٥) امام شافعی (رح) کتاب الرضاع میں فرماتے ہیں کہ کسی شخص کا بڑا بیٹا اپنے والد کی وفات کے بعد (اس کا نائب ہوتا بیوی کے لیے) یعنی اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرلیتا اور ایک انسان دو بہنوں کو ایک نکاح میں رکھ لیتا تھا تو اللہ نے اس بات سے منع کردیا کہ کوئی شخص اپنی زندگی میں دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرے یا اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرے لیکن جو جاہلیت میں ہوچکا ان کے حرام ہونے کے علم سے پہلے لیکن اب وہ بھی دو بہنوں کو ایک جگہ جمع نہ کریں جنہوں نے اسلام سے پہلے کرلیا تھا۔

13932

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13932

Zaeef

(۱۳۹۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْہُذَیْلِ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ سُلَیْمَانَ قَالَ : إِنَّمَا قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ} یَعْنِی فِی نِسَائِ الآبَائِ لأَنَّ الْعَرَبَ کَانُوا یَنْکِحُونَ نِسَائَ الآبَائِ ثُمَّ حَرَّمَ النَّسَبَ وَالصِّہْرَ وَلَمْ یَقُلْ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ لأَنَّ الْعَرَبَ کَانَتْ لاَ تَنْکِحُ النَّسَبَ وَالصِّہْرَ وَقَالَ فِی الأُخْتَیْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ لأَنَّہُمْ کَانُوا یَجْمَعُونَ بَیْنَہُمَا فَحُرِّمَ جَمْعُہُمَا جَمِیعًا إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ قَبْلَ التَّحْرِیمِ {إِنَّ اللَّہَ کَانَ غَفُورًا رَحِیمًا} لِمَا کَانَ مِنْ جِمَاعِ الأُخْتَیْنِ قَبْلَ التَّحْرِیمِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٢٦) مقاتل بن عثمان فرماتے ہیں کہ اللہ کا فرمان : { مَا قَدْ سَلَفَ } [النساء ٢٢] یعنی باپوں کی عورتوں کے بارے میں کہ لوگ باپوں کی عورتوں سے شادی کرلیتے تھے، لیکن یہ پہلے ہوچکا۔ اس لیے کہ عرب لوگ نسب وسسرال میں نکاح نہ کرتے تھے اور دو بہنوں کے متعلق فرمایا کہ وہ ان کو ایک ہی مرد اپنے نکاح میں جمع کرلیتا تو ان کے جمع کرنے کی حرمت بیان کی گئی۔ لیکن جو تحریم سے پہلے ہوچکا { اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا } ” اللہ معاف کرنے والے ہیں “ یعنی دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے کو جو حرمت سے پہلے تھا۔

13933

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13933

Zaeef

(۱۳۹۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ قَالَ : کَانَ إِذَا تُوُفِّیَ الرَّجُلُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ عَمَدَ حَمِیمُ الْمَیِّتِ إِلَی امْرَأَتِہِ فَأَلْقَی عَلَیْہَا ثَوْبًا فَیَرِثُ نِکَاحَہَا فَیَکُونُ ہُوَ أَحَقَّ بِہَا فَلَمَّا تُوُفِّیَ أَبُو قَیْسِ بْنُ الأَسْلَتِ عَمَدَ ابْنُہُ قَیْسٌ إِلَی امْرَأَۃِ أَبِیہِ فَتَزَوَّجَہَا وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ فِی قَیْسٍ {وَلاَ تَنْکِحُوا مَا نَکَحَ آبَاؤُکُمْ مِنَ النِّسَائِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ} قَبْلَ التَّحْرِیمِ حَتَّی ذَکَرَ تَحْرِیمَ الأُمَّہَاتِ وَالْبَنَاتِ حَتَّی ذَکَرَ {وَأَنْ تَجْمَعُوا بَیْنَ الأُخْتَیْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ} قَبْلَ التَّحْرِیمِ {إِنَّ اللَّہَ کَانَ غَفُورًا رَحِیمًا} فِیمَا مَضَی قَبْلَ التَّحْرِیمِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٢٧) مقاتل بن حیان فرماتے ہیں کہ جب جاہلیت میں کوئی آدمی فوت ہوجاتا تو میت کے ورثاء اس کی بیوی کا قصد کرتے اور اس پر کپڑا ڈال کر اس کے نکاح کے وارث بن جاتے اور یہ شخص اس کا زیادہ حق دار ہوتا۔ جب ابو قیس بن اسلت فوت ہوئے تو اس کے بیٹے نے اپنے والد کی بیوی کا ارادہ کیا، اس سے نکاح تو کرلیا، لیکن ابھی مجامعت نہ کی تھی، اس بی بی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تذکرہ کیا تو اللہ نے قیس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی : { وَ لَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ } [النساء ٢٢] ” تم اپنے باپوں کی بیویوں سے نکاح نہ کرو مگر جو ہوچکا۔ “ حرمت سے پہلے پھر ماؤں اور بیٹیوں کی حرمت ذکر کی گئی : { وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ } [النساء ٢٣]” یہ کہ نہ تم جمع کرو دو بہنوں کو مگر جو ہوچکا، حرمت سے قبل۔ “ { اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا } ” یقیناً اللہ معاف کرنے والا ہے۔ “ جو حرمت سے پہلے ہوچکا۔