Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2885

نکاح کا بیان

آیت کو اپنے شان نزول تک محدود رکھنے کا استدلال یا اسے منسوخ سمجھا جائے

19 hadiths in this chapter

13876

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13876

Zaeef

(۱۳۸۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ : یَزِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الْعُقَیْلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِیرُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ أَبِی الْمُخَارِقِ وَہَارُونُ بْنُ رِئَابٍ الأَسَدِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ اللَّیْثِیِّ قَالَ حَمَّادٌ قَالَ أَحَدُہُمَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَجُلاً قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ عِنْدِی بِنْتَ عَمٍّ لِی جَمِیلَۃً وَإِنَّہَا لاَ تَرُدُّ یَدَ لاَمِسٍ قَالَ: طَلِّقْہَا۔ قَالَ: لاَ أَصْبِرُ عَنْہَا قَالَ : فَأَمْسِکْہَا إِذًا ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ ہَارُونَ بْنِ رِئَابٍ مُرْسَلاً۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٧٠) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے نکاح میں میرے چچا کی خوبصورتی بیٹی ہے، لیکن وہ کسی چھونے والے کے ہاتھ رد نہیں کرتی۔ آپ نے فرمایا : طلاق دے دو ۔ اس نے کہا : میں اس کے بغیر صبر نہ کرسکوں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : روکے رکھو۔

13877

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13877

Zaeef

(۱۳۸۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ کَتَبَ إِلَیَّ الْحُسَیْنُ بْنُ حُرَیْثٍ الْمَرْوَزِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ الْوَزَّانُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحُرَیْثِ حَدَّثَنَا الفَضْلُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِی لاَ تَمْنَعُ یَدَ لاَمِسٍ قَالَ : غَرِّبْہَا ۔ قَالَ : أَخَافُ أَنْ تَتْبَعَہَا نَفْسِی قَالَ : فَاسْتَمْتِعْ بِہَا إِذًا ۔ لَیْسَ فِی رِوَایَۃِ أَبِی دَاوُدَ إِذًا۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٧١) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آکر کہا : میری عورت چھونے والے کے ہاتھ کو رد نہیں کرتی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جدا کر دو ۔ کہنے لگا : مجھے ڈر ہے کہ میرا دل اس کا پیچھا کرے۔ آپ نے فرمایا : تب فائدہ اٹھاؤ۔ ابوداؤد کی روایت میں اذا کے لفظ نہیں ہیں۔

13878

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13878

Zaeef

(۱۳۸۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ مَوْلًی لِبَنِی ہَاشِمٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِی لاَ تَمْنَعْ یَدَ لاَمِسٍ قَالَ : طَلِّقْہَا ۔ قَالَ : إِنَّہَا تُعْجِبُنِی قَالَ : تَمَتَّعْ بِہَا ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٧٢) ابو زبیر بنو ہاشم کے غلام فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہا کہ میری عورت چھونے والے ہاتھ کو واپس نہیں کرتی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : طلاق دے دو ۔ کہنے لگا : مجھے اچھی لگتی ہے، فرمایا : اس سے فائدہ اٹھاؤ۔

13879

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13879

Zaeef

(۱۳۸۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا أَبُو شَیْخٍ الْحَرَّانِیُّ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّیُّ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَجُلاً أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لِی امْرَأَۃً وَہِیَ لاَ تَدْفَعُ یَدَ لاَمِسٍ قَالَ : طَلِّقْہَا ۔ قَالَ : إِنِّی أُحِبُّہَا وَہِیَ جَمِیلَۃٌ قَالَ : فَاسْتَمْتِعْ بِہَا ۔ وَہَکَذَا رُوِیَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٧٣) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہا کہ میری عورت چھونے والے کے ہاتھ کو واپس نہیں کرتی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : طلاق دے دو ۔ اس نے کہا : خوبصورت ہے، میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : طلاق دے دو ۔ اس نے کہا : خوبصورت ہے، میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر فائدہ اٹھاؤ۔ اس طرح معقل بن عبیداللہ عن ابی الزبیر عن جابر بھی منقول ہے۔

13880

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13880

Zaeef

(۱۳۸۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو یَعْلَی التَّوْزِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ رَجُلاً جَائَ ہُ فَقَالَ إِنَّ لِی امْرَأَۃً لاَ تَمْنَعُ یَدَ لاَمِسٍ قَالَ : فَارِقْہَا ۔قَالَ : إِنِّی لاَ أَصْبِرُ عَنْہَا قَالَ : فَاسْتَمْتِعْ بِہَا ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی الْوَزِیرِ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ۔ [منکر۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٧٤) حضرت جابر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے آکر کہا کہ میری عورت چھونے والے کے ہاتھ کو نہیں روکتی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جدا کر دو ۔ کہنے لگا : اس کے بغیر صبر نہ کرسکوں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس سے فائدہ اٹھاؤ۔

13881

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13881

Sahih

(۱۳۸۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی یَزِیدَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً تَزَوَّجَ امْرَأَۃً وَلَہَا ابْنَۃٌ مِنْ غَیْرِہِ وَلَہُ ابْنٌ مِنْ غَیْرِہَا فَفَجَرَ الْغُلاَمُ بِالْجَارِیَۃِ فَظَہَرَ بِہَا حَبَلٌ فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَکَّۃَ رُفِعَ ذَلِکَ إِلَیْہِ فَسَأَلَہُمَا فَاعْتَرَفَا فَجَلَدَہُمَا عُمَرُ الْحَدَّ وَحَرَصَ أَنْ یَجْمَعَ بَیْنَہُمَا فَأَبَی الْغُلاَمُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٧٥) عبیداللہ بن ابی یزید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی عورت سے شادی کی۔ اس کی بیٹی دوسرے خاوند سے تھی۔ اس مرد کا بیٹا کسی دوسری بیوی سے تھا، بچے نے بچی سے زنا کرلیا تو حمل ظاہر ہوگیا۔ جب حضرت عمر (رض) مکہ آئے تو ان کے سامنے معاملہ پیش ہوا۔ جب ان دونوں سے پوچھا گیا تو دونوں نے اعتراف کرلیا تو حضرت عمر (رض) نے دونوں کو حد لگائی اور حضرت عمر (رض) کی تمنا تھی کہ دونوں کو جمع کردیا جائے۔ لیکن بچے نے انکار کردیا۔

13882

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13882

Sahih

(۱۳۸۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا الشَّیْبَانِیُّ عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّ جَارِیَۃً فَجَرَتْ فَأُقِیمَ عَلَیْہَا الْحَدُّ ثُمَّ إِنَّہُمْ أَقْبَلُوا مُہَاجِرِینَ فَتَابَتِ الْجَارِیَۃُ وَحَسُنَتْ تَوْبَتُہَا وَحَالُہَا فَکَانَتْ تُخْطَبُ إِلَی عَمِّہَا فَیَکْرَہُ أَنْ یُزَوِّجَہَا حَتَّی یُخْبِرَ مَا کَانَ مِنْ أَمَرِہَا وَجَعَلَ یَکْرَہُ أَنْ یُفْشِیَ ذَلِکَ عَلَیْہَا فَذُکِرَ أَمْرُہَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ : زَوِّجْہَا کَمَا تُزَوِّجُوا صَالِحِی فَتَیَاتِکُمْ۔ وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی رَجُلٍ بِکْرٍ افْتَضَّ امْرَأَۃً وَاعْتَرَفَا فَجَلَدَہُمَا مِائَۃً مِائَۃً ثُمَّ زَوَّجَ أَحَدَہُمَا مِنَ الآخَرِ مَکَانَہُ وَنَفَاہُمَا سَنَۃً۔ [صحیح۔ اخرجہ سعید بن منصور ۸۶۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٧٦) شعبی فرماتے ہیں کہ ایک بچی کو لا کر حد قائم کی گئی، پھر انھوں نے مہاجرین کو پیش کردی تو لونڈی نے توبہ کی، اس کی توبہ اچھی تھی اور اس کا حال بھی درست تھا۔ اس نے اپنے چچا کی طرف پیغامِ نکاح بھیجا، لیکن وہ اس کی شادی کرنا پسند نہ کرتا تھا جب تک وہ اپنے معاملے کی مکمل خبر نہ دے اور اس کے راز کو ظاہر کرنا بھی پسند نہ کرتا تھا۔ اس بچی کا معاملہ حضرت عمر (رض) کے سامنے پیش ہوا تو حضرت عمر (رض) نے اس کے چچا سے کہا : آپ اس کی شادی کریں جیسے اپنی نیک بچیوں کی شادی کرتے ہیں۔ (ب) حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے ایک کنوارے مرد کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ اس نے کسی عورت سے زنا کرلیا۔ انھوں نے اعتراف کرلیا تو دونوں کو سو سو کوڑے لگائے۔ پھر دونوں کی شادی اسی جگہ کردی اور ایک سال کے لیے جلا وطن کردیا۔

13883

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13883

Sahih

(۱۳۸۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی یَزِیدَ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ فَجَرَ بِامْرَأَۃٍ أَیَنْکِحُہَا؟ فَقَالَ : نَعَمْ ذَاکَ حِینَ أَصَابَ الْحَلاَلَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن منصور ۸۸۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٧٧) عبیداللہ بن ابی یزید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے کسی آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی عورت سے زنا کرتا ہے، کیا اس عورت سے اس کی شادی کردی جائے ؟ فرمانے لگے : ہاں۔ اس وقت وہ جائز طریقے سے مجامعت کرے گا۔

13884

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13884

Sahih

(۱۳۸۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الرَّجُلِ یَفْجُرُ بِالْمَرْأَۃِ ثُمَّ یَتَزَوَّجُہَا بَعْدُ۔ قَالَ : کَانَ أَوَّلُہُ سِفَاحٌ وَآخِرَہُ نِکَاحٌ وَأَوَّلَہُ حَرَامٌ وَآخِرَہُ حَلاَلٌ۔ وَعَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ فِی الرَّجُلِ یَفْجُرُ بِالْمَرْأَۃِ ثُمَّ یَتَزَوَّجُہَا فَقَالُوا : لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ إِذَا تَابَا وَأَصْلَحَا وَکَرِہَا مَا کَانَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٧٨) حضرت عکرمہ نے عبداللہ بن عباس (رض) سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا جو کسی عورت سے زنا کرتا ہے پھر اس سے شادی کرلیتا ہے، فرمانے لگے : پہلا زنا تھا اور دوسرا نکاح ہے اور پہلا حرام تھا اور دوسرا حلال ہے۔ (ب) قتادہ نے حضرت جابر بن عبداللہ، سعید بن مسیب اور سعید بن جبیر سے ایسے آدمی کے بارے میں نقل کیا جو کسی عورت سے زنا کرنے کے بعد شادی کرلیتا ہے۔ ان سب نے فرمایا : کوئی حرج نہیں، جب وہ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں اور اپنی حالت کو ناپسند کریں۔

13885

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13885

Sahih

(۱۳۸۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِیمَنْ فَجَرَ بِامْرَأَۃٍ ثُمَّ تَزَوَّجَہَا قَالَ : أَوَّلُہُ سِفَاحٌ وَآخِرُہُ نِکَاحٌ لاَ بَأْسَ بِہِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٧٩) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے کسی عورت سے نکاح کیا پھر اس سے شادی کرلی۔ فرماتے ہیں : پہلے زنا تھا پھر نکاح کرلیا۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

13886

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13886

Zaeef

(۱۳۸۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی الْحَسَنِ : أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا خَرَجَ عَلَیْہِمْ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ وَقَدْ کَانَ حَدَّثَہُمْ أَنَّہُ صَائِمٌ فَقَالَ : إِنَّہَا کَانَتْ حَسَنَۃً ہَمَمْتُ بِہَا وَأَنَا قَاضِیہَا یَوْمًا آخَرَ وَرَأَیْتُ جَارِیَۃً لِی فَأَعْجَبَتْنِی فَغَشِیتُہَا أَمَا إِنِّی أَزِیدُکُمْ أَنَّہَا کَانَتْ بَغَتْ فَأَرَدْتُ أَنْ أُحْصِنَہَا۔ وَرُوِیَ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : اعْلَمْ أَنَّ اللَّہَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ مِنْہُمَا جَمِیعًا کَمَا یَقْبَلُ مِنْہُمَا وَہُمَا مُتَفَرِّقَانِ وَرُوِیَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: إِنْ لَمْ تَنْفَعْہُمَا تَوْبَتُہُمَا جَمِیعًا لَمْ تَنْفَعْہُمَا وَہُمَا مُتَفَرِّقَانِ قَالَ وَقَرَأَ {إِنَّ اللَّہَ ہُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ} [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٨٠) سعید بن ابی الحسن فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ان کے پاس آئے اور سر سے پانی کے قطرے بہہ رہے تھے، اس نے ان کو بیان کیا کہ وہ روزہ دار تھے، کہتے ہیں : میں نے ایک خوبصورت عورت کا قصد کیا اور میں دوسرے دن اس کا فیصلہ کرنے والا تھا۔ میں نے اپنی خوبصورت لونڈی دیکھی تو اس سے مجامعت کرلی۔ کہتے ہیں : میں تمہیں مزید بیان کرنا چاہتا ہوں وہ زانیہ تھی، میں اس کو پاک دامن بنانا چاہتا تھا۔ (ب) ابو مجلز حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ ان دونوں کی توبہ قبول فرما لیں گے جیسے ان دونوں کی الگ الگ توبہ قبول فرماتے ہیں۔ (ج) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ان دونوں کو اکٹھے توبہ نفع نہ دے گی تو الگ الگ بھی نفع نہ دیتی اور یہ آیت تلاوت کی : { اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ } [التوبۃ ١٠٤] ” اللہ اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتے ہیں۔ “

13887

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13887

Sahih

(۱۳۸۸۱) فَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ التَّمِیمِیُّ حَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حَبِیبٌ الْمُعَلِّمُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ إِلَی عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ فَقَالَ : أَلاَ تَعْجَبُ إِنَّ الْحَسَنَ یَقُولُ : إِنَّ الزَّانِیَ الْمَجْلُودَ لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ مَجْلُودَۃً مِثْلَہُ فَقَالَ عَمْرٌو وَمَا یُعْجِبُکَ حَدَّثَنَاہُ سَعِیدٌ الْمَقْبُرِیُّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُنَادِی بِہَا نِدَائً فَہَکَذَا رَوَاہُ عَمْرٌو وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ فِی سَبَبِ نُزُولِ الآیَۃِ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ الْمَنْعَ وَقَعَ عَنْ نِکَاحِ تِلْکَ الْبَغَایَا وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ الْمَنَعَ وَقَعَ عَنْ نِکَاحِہِنَّ إِمَّا لِشِرْکِہِنَّ وَإِمَّا لِشَرْطِہِنَّ إِرْسَالَہُنَّ لِلزِّنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٨١) حبیب معلم فرماتے ہیں کہ اہل کوفہ سے ایک شخص حضرت عمرو بن شعیب کے پاس آیا اور کہنے لگا : حضرت حسن کہتے ہیں : جس زانی کو حد لگائی گئی ہو وہ حد لگائی گئی زانیہ عورت سے ہی نکاح کرتا ہے تو عمرو کہنے لگے : آپ کو تعجب کس چیز کا ہے۔ (ب) اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) اس طرح منادی کروایا کرتے تھے۔ (ج) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ زانیہ عورتوں سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا۔ (د) حضرت عبداللہ بن عمرو سے دوسری سند سے منقول ہے کہ نکاح کی ممانعت ان کے شرک یا زنا کی چھٹی دینے کی وجہ سے تھا۔

13888

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13888

Zaeef

(۱۳۸۸۲) وَأَمَّا الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ أَخْبَرَنَا الْعَلاَئُ بْنُ بَدْرٍ : أَنَّ رَجُلاً تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَأَصَابَ فَاحِشَۃً فَضُرِبَ الْحَدَّ ثُمَّ جِیئَ بِہِ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَفَرَّقَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ : لاَ تَتَزَوَّجْ إِلاَّ مَجْلُودَۃً مِثْلَکَ۔ فَہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ وَرَوَی حَنَشُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ : أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَزَنَی أَحَدُہُمَا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا قَالَ فَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا۔ وَحَنَشٌ غَیْرُ قَوِیٍّ۔ [ضعیف۔ جامع التحصیل ۵۹۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٨٢) علاء بن بدر کہتے ہیں کہ ایک مرد نے عورت سے نکاح کیا، پھر مرد نے زنا کرلیا جس کی وجہ سے حد لگائی گئی۔ پھر اس کو حضرت علی (رض) کے پاس لایا گیا تو انھوں نے میاں بیوی کے درمیان تفریق ڈال دی۔ پھر مرد سے کہا : تو شادی صرف حد لگائی گئی عورت سے کرسکتا ہے۔ (ب) حنش بن معتمر فرماتے ہیں کہ ایک قوم حضرت علی (رض) کے پاس فیصلہ لے کر آئی کہ شادی کے بعد میاں بیوی میں سے کسی نے دخول سے قبل زنا کرلیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ان کے درمیان تفریق ڈال دی گئی۔

13889

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13889

Sahih

(۱۳۸۸۳) وَأَمَّا الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : ہُمَا زَانِیَانِ مَا اجْتَمَعَا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٨٣) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : جتنی دیر وہ اکٹھے رہیں گے وہ زانی ہیں۔

13890

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13890

Sahih

(۱۳۸۸۴) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّہُ قَالَ : ہُمَا زَانِیَانِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا فَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَا دَلَّ عَلَی الرُّخْصَۃِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٨٤) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جدا ہونے تک وہ دونوں زانی ہیں۔ (ب) ابن مسعود (رض) سے ایسی روایت بھی منقول ہے جو رخصت پر دلالت کرتی ہے۔

13891

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13891

Zaeef

(۱۳۸۸۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَعُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ قَیْسٍ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ رَجُلٌ زَنَی بِامْرَأَۃٍ ثُمَّ تَابَا وَأَصْلَحَا أَلَہُ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا؟ فَتَلاَ ہَذِہِ الآیَۃَ {ثُمَّ إِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِینَ عَمِلُوا السَّوْئَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِہَا لَغَفُورٌ رَحِیمٌ} قَالَ فَرَدَّدَہَا عَلَیْہِ مِرَارًا حَتَّی ظَنَّ أَنَّہُ قَدْ رُخِّصَ فِیہَا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٨٥) علقمہ بن قیس فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ایک مرد نے عورت سے زنا کرلیا۔ پھر دونوں نے توبہ کر کے اپنی حالت سنوار لی۔ کیا ان دونوں کی شادی ہوسکتی ہے ؟ انھوں نے یہ آیت تلاوت کی : { ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓئَ بِجَھَالَۃٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَ اَصْلَحُوْٓا اِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِھَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} (النحل : ١١٩) پھر تیرا رب ان لوگوں کے لیے جو جہالت کی بنا پر برے عمل کرتے ہیں، پھر وہ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کریں تو تیرا رب اس کے بعد بخشنے والا ہے۔ “ انھوں نے بار بار یہ آیت پڑھی یہاں تک کہ اس نے گمان کرلیا کہ اس میں رخصت دی گئی ہے۔

13892

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13892

Zaeef

(۱۳۸۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ الْکَلْبِیُّ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَخْنَسِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : قَرَأْتُ مِنَ اللَّیْلِ {وَہُوَ الَّذِی یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ وَیَعْفُو عَنِ السَّیِّئَاتِ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} فَشَکَکْتُ فَلَمْ أَدْرِ کَیْفَ أَقْرَؤُہَا تَفْعَلُونَ أَوْ یَفْعَلُونَ فَغَدَوْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَا أُرِیدُ أَنْ أَسْأَلَہُ کَیْفَ یَقْرَؤُہَا فَبَیْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَہُ إِذْ أَتَاہُ رَجُلٌ فَسَأَلَہُ عَنِ الرَّجُلِ یَزْنِی بِالْمَرْأَۃِ ثُمَّ یَتَزَوَّجُہَا فَقَرأَ عَلَیْہِ {وَہُوَ الَّذِی یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ وَیَعْفُو عَنِ السَّیِّئَاتِ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ}۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٨٦) بکیر بن اخنس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رات کے وقت یہ آیت تلاوت کی : { وَہُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُو عَنْ السَّیَِّٔاتِ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ } [الشوریٰ ٢٥] ” اللہ وہ ذات ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے، اور غلطیاں معاف کرتا ہے۔ اور وہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ “ کہتے ہیں کہ میں شک میں تھا مجھے معلوم نہ تھا کہ یفعلون ہے یا تفعلون میں صبح کے وقت حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس گیا، سوال کا ارادہ بھی تھا لیکن میرے بیٹھے ہوئے ایک شخص نے سوال کردیا کہ ایک شخص پہلے عورت سے زنا کرتا ہے پھر شادی کرلیتا ہے تو ابن مسعود (رض) نے اس پر یہ آیت تلاوت کی : { وَہُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُو عَنْ السَّیَِّٔاتِ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ } [الشوریٰ ٢٥] ” اللہ وہ ذات ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے، اور غلطیاں معاف کرتا ہے۔ اور وہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ “

13893

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13893

Zaeef

(۱۳۸۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ یَحْیَی بْنُ أَبِی حَیَّۃَ الْکَلْبِیُّ بِہَذِہِ الْقِصَّۃِ وَقَالَ : أَیَتَزَوَّجُہَا فَتَلاَ عَبْدُ اللَّہِ الآیَۃَ وَقَالَ : لِیَتَزَوَّجْہَا۔ وَرَوَی إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُہَاجِرٍ عَنِ النَّخَعِیِّ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ فِی الرَّجُلِ یَفْجُرُ بِالْمَرْأَۃِ ثُمَّ یُرِیدُ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا قَالَ : لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٨٧) ابو جناب یحییٰ بن ابی حیہ کلبی اس قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کیا وہ اس سے شادی کرے تو عبداللہ (رض) نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا : وہ اس سے شادی کرلے۔ (ب) ہمام بن حارث حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی عورت سے زنا کرتا ہے بعد میں اس سے شادی کرلے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

13894

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13894

Sahih

(۱۳۸۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ الْبَغْدَادِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہَمِ السِّمَّرِیُّ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی الرَّجُلِ یَفْجُرُ بِامْرَأَۃٍ ثُمَّ یَتَزَوَّجُہَا : لاَ یَزَالاَنِ زَانِیَیْنِ قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ ذَلِکَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ : ہَذَا سِفَاحٌ وَہَذَا نِکَاحٌ۔ (ق) وَیُذْکَرُ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ نَحْوُ قَوْلِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَقَدْ عُورِضَ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ کَمَا عُورِضَ بِقَوْلِہِ قَوْلُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَمَعَ مَنْ رَخَّصَ فِیہِ دَلاَئِلُ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٨٨) حضرت عامر عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ مرد عورت سے زنا کرنے کے بعد شادی کرے تو وہ فرماتی تھیں کہ وہ دونوں زانی ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمانے لگے : وہ زنا اور یہ نکاح ہے اور براء بن عازب نے بھی حضرت عائشہ (رض) کے قول کی مانند ذکر کیا ہے۔ دونوں کے دلائل پیش کیے گئے۔