Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2884

نکاح کا بیان

اور اللہ کا فرمان : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } [النور : ٣] ” زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زان

11 hadiths in this chapter

13865

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13865

Sahih

(۱۳۸۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَمُسَدَّدٌ وَاللَّفْظُ لِعَلِیٍّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْحَضْرَمِیِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ امْرَأَۃً کَانَ یُقَالُ لَہَا أُمُّ مَہْزُولٍ وَکَانَتْ تَکُونُ بِأَجْیَادَ وَکَانَتْ مُسَافِحَۃً کَانَتْ یَتَزَوَّجُہَا الرَّجُلُ وَتَشْتَرِطُ لَہُ أَنْ تَکْفِیَہُ النَّفَقَۃَ فَسَأَلَ رَجُلٌ عَنْہَا النَّبِیَّ -ﷺ- أَیَتَزَوَّجُہَا فَقَرأَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- أَوْ أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ ہَذِہِ الآیَۃُ {الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً} الآیَۃَ۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٥٩) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت کو ام مہزول کہا جاتا تھا، وہ لمبی گردن والی تھی، وہ زانیہ تھی۔ کوئی شخص اس سے شادی کرتا تو وہ شرط لگاتی کہ وہ اس کے خرچے کی بھی کفایت کرے گی تو اس سے شادی کے متعلق ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ لیا ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھایا یہ آیت نازل ہوئی : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً } (النور : ٣) ” زانی مرد زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے۔ “

13866

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13866

Sahih

(۱۳۸۶۰) قَالَ وَأَخْبَرَنَا الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ بْنُ عَبِیدَۃَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ : أَنَّ امْرَأَۃً کَانَتْ تُسَمَّی أُمَّ مَہْزُولٍ وَأَنَّہَا کَانَتْ تَتَزَوَّجُ الرَّجُلَ عَلَی أَنْ یَأْذَنَ لَہَا فِی السِّفَاحِ وَتَکْفِیہِ النَّفَقَۃَ فَاسْتَأْذَنَ بَعْضُہُمُ النَّبِیَّ -ﷺ- أَنْ یَتَزَوَّجَہَا قَالَ فَقَرأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ہَذِہِ الآیَۃَ إِلَی آخِرِہَا۔ (صحیح لغیرہ۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٦٠) معتمر اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت ام مہزول تھی، وہ کسی شخص سے شادی کرتی تو اس شرط پر کہ وہ اس کو زنا کی اجازت دے۔ وہ اس شخص کا خرچہ بھی اٹھائے گی تو بعض نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نکاح کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔

13867

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13867

Sahih

(۱۳۸۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ : أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الأَخْنَسِ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : کَانَ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ مَرْثَدُ بْنُ أَبِی مَرْثَدٍ وَکَانَ رَجُلاً یَحْمِلُ الأَسْرَی مِنْ مَکَّۃَ حَتَّی یَأْتِیَ بِہِمُ الْمَدِینَۃَ قَالَ وَکَانَ بِمَکَّۃَ بَغِیٌّ یُقَالُ لَہَا عَنَاقُ وَکَانَتْ صَدِیقَتَہُ وَأَنَّہُ وَعَدَ رَجُلاً یَحْمِلُہُ مِنْ أَسْرَی مَکَّۃَ قَالَ فَجِئْتُ حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی ظِلِّ حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ مَکَّۃَ فِی لَیْلَۃٍ مُقْمِرَۃٍ قَالَ : فَجَائَ تْ عَنَاقُ فَأَبْصَرَتْ سَوَادَ ظِلِّی بِجَنْبِ الْحَائِطِ فَلَمَّا انْتَہَتْ إِلَیَّ عُرِفْتُ قَالَتْ : مَرْثَدٌ۔ قُلْتُ : مَرْثَدٌ قَالَتْ : ہَلْ لَکَ أَنْ تَبِیتَ عِنْدَنَا اللَّیْلَۃَ قُلْتُ : یَا عَنَاقُ قَدْ حَرَّمَ اللَّہُ الزِّنَا قَالَتْ : یَا أَہْلَ الْخِیَامِ ہَذَا الرَّجُلُ الَّذِی یَحْمِلُ أَسْرَاکُمْ فَاتَّبَعَنِی ثَمَانِیَۃٌ وَسَلَکْتُ الْخَنْدَمَۃَ فَانْتَہَیْتُ إِلَی کَہْفٍ أَوْ غَارٍ فَدَخَلْتُہُ فَجَائُ وا حَتَّی جَازُوا عَلَی رَأْسِی فَبَالُوا فَظَلَّ بَوْلُہُمْ عَلَی رَأْسِی وَعَمَاہُمُ اللَّہُ حَتَّی رَجَعُوا وَرَجَعْتُ إِلَی صَاحِبِی فَحَمَلْتُہُ و کَانَ رَجُلاً ثَقِیلاً حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی الإِذْخِرِ فَفَکَکْتُ عَنْہُ کَبْلَہُ فَجَعَلْتُ أَحْمِلُہُ وَیُعِیینُی حَتَّی قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنْکِحُ عَنَاقًا؟ فَأَمْسَکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ شَیْئًا حَتَّی نَزَلَتْ ہَذِہِ السُّورَۃُ {الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً وَالزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذَلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ} فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا مَرْثَدُ الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً وَالزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٦١) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص مرثد بن ابی مرثد تھا، جو مکہ سے قیدی اٹھا کر مدینہ لایا کرتا تھا۔ ایک چاندنی رات مکہ کی دیواروں میں سے کسی دیوار کے سائے میں تھا۔ عناق نامی عورت نے میرے سائے کی سیاہی کو دیوار کی جانب دیکھ لیا۔ جب وہ میرے قریب آئی تو اس نے مجھے پہچان لیا اور کہنی لگی : مرثد ! میں نے کہا : ہاں مرثد تو کہنے لگی : کیا آج رات میرے پاس گزارو گے ؟ مرثد کہتے ہیں : میں نے کہہ دیا کہ اللہ نے زنا کو حرام کردیا ہے تو اس عناق نامی عورت نے آواز دی۔ اے گھر والو ! یہ شخص تمہارے قیدی اٹھا کرلے جاتا ہے۔ کہتے ہیں : ٨ اشخاص نے میرا پیچھا کیا اور میں دیوار سے سائے میں چلا، یہاں تک میں ایک غار تک جا پہنچا اور اس میں داخل ہوگیا۔ وہ آئے اور میرے سر کے اوپر سے گزر گئے۔ انھوں نے پیشاب کیا تو ان کا پیشاب میرے سر کے اوپر گرا۔ اللہ نے ان کو اندھا کردیا، وہ واپس پلٹ گئے۔ میں نے واپس پلٹ کر قیدی کو اٹھا لیا۔ وہ بھاری شخص تھا، میں اسے لے کر اذخر تک آیا۔ میں نے اس کی بیڑی کو کھول دیا۔ میں اس کو اٹھاتا تھا وہ میری مدد کررہا تھا۔ اس طرح میں مدینہ آیا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں عناق سے نکاح کرلوں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ دیر خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر یہ سورة نازل ہوئی : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } (النور : ٣) ” زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرتی ہے اور یہ مومنوں پر حرام کیا گیا ہے اے مرثد ! زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی یا مشرک مرد سے نکاح کرتی ہے۔ “ (صحیح لغیرہ، تقدم قبلہ ]

13868

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13868

Sahih

(۱۳۸۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قِرَائَ ۃً وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ الْقُشَیْرِیُّ لَفْظًا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ : کُنَّ بَغَایَا مُتَعَلِّنَاتٍ أَوْ مُعْلِنَاتٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ بَغِیُّ آلِ فُلاَنٍ وَبَغِیُّ آلِ فُلاَنٍ فَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی {الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً وَالزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذَلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ} قَالَ فَأَحْکَمَ اللَّہُ مِنْ ذَلِکَ أَمْرَ الْجَاہِلِیَّۃِ بِالإِسْلاَمِ۔ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ : فَقِیلَ لِعَطَائٍ أَبَلَغَکَ ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَعَمْ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٦٢) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ دور جاہلیت میں زانی عورتیں اعلان کرتی تھیں کہ وہ آل فلاں کی زانیہ عورتیں ہیں تو اللہ نے فرمایا : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } [النور ٣] ” زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرتی ہے اور مومنوں پر یہ حرام ہے۔ “ تو اللہ نے اسلام کے ذریعے جاہلیت کے اس فعل سے منع فرما دیا۔ ابن جریج کہتے ہیں : عطاء سے کہا گیا : یہ خبر آپ کو ابن عباس (رض) سے ملی ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : ہاں۔

13869

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13869

Sahih

(۱۳۸۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَعُبَیْدٌ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ أَنَّہُ قَالَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ {الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً} قَالَ : کُنَّ بَغَایَا فِی الْمَدِینَۃِ مَعْلُومٌ شَأْنُہُنَّ فَحَرَّمَ اللَّہُ نِکَاحَہُنَّ عَلَی الْمُؤْمِنِینِ وَہُوَ قَوْلُ قَتَادَۃَ۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٦٣) حضرت قتادہ سعید بن جبیر سے اس آیت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً } [النور ٣] کہ مدینہ میں زانیہ عورتوں کی شہرت تھی تو اللہ نے مومنوں کو ان سے نکاح کرنے سے منع فرما دیا۔ یہ قتادہ کے قول ہے۔

13870

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13870

Sahih

(۱۳۸۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : ہَمَّ رِجَالٌ کَانُوا یُرِیدُونَ نِکَاحَ نِسَائٍ زَوَانٍ بَغَایَا مُتَعَالِنَاتٍ کُنَّ کَذَلِکَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَقِیلَ لَہُمْ ہَذَا حَرَامٌ فَنَزَلَتْ فِیہِمْ ہَذِہِ الآیَۃُ فَحَرَّمَ اللَّہُ نِکَاحَہُنَّ۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٦٤) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کچھ انسان دور جاہلیت کی مشہور زانیہ عورتوں سے نکاح کا ارادہ رکھتے تھے تو ان سے کہا گیا کہ یہ حرام ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل کردی کہ اللہ نے ان سے نکاح کو حرام قرار دیا ہے۔

13871

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13871

Sahih

(۱۳۸۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ : أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ (الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً) قَالَ : ذَلِکَ حُکْمٌ بَیْنَہُمَا۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرُوِیَ عَنْ عِکْرِمَۃَ أَنَّہُ قَالَ : الزَّانِی لاَ یَزْنِی إِلاَّ بِزَانِیَۃٍ أَوْ مُشْرِکَۃٍ وَالزَّانِیَۃُ لاَ یَزْنِی بِہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ یَذْہَبُ إِلَی أَنَّ قَوْلَہُ یَنْکِحُ یُصِیبُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٦٥) عبیداللہ بن ابی یزید نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے پوچھا : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً } (النور : ٣) فرماتے ہیں : یہ حکم ان دو کے درمیان ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ زانی مرد زانیہ یا مشرکہ عورت سے زنا کرتا ہے اور زانیہ عورت سے زانی یا مشرک مرد ہی زنا کرتا ہے یہاں تک کہ نکاح کر کے اس کو حاصل کرلیتا ہے۔

13872

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13872

Sahih

(۱۳۸۶۶) أَخْبَرَنَاہُ الإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّیْبُلِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ شُبْرُمَۃَ عَنْ عِکْرِمَۃَ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً} قَالَ لاَ یَزْنِی إِلاَّ بِزَانِیَۃٍ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ رُوِیَ ہَذَا الْمَعْنَی مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٦٦) حضرت عکرمہ اللہ کے اس فرمان کے بارے میں فرماتے ہیں : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً } کہ زانی مرد زانیہ عورت سے ہی زنا کرتا ہے۔ شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ اس کے ہم معنیٰ حدیث دوسری سند سے ابن عباس (رض) سے بھی منقول ہے۔

13873

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13873

Sahih

(۱۳۸۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا الثَّوْرِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً} قَالَ : أَمَا إِنَّہُ لَیْسَ بِالنِّکَاحِ وَلَکِنَّہُ الْجِمَاعُ لاَ یَزْنِی بِہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَفِی رِوَایَۃِ الْفَقِیہِ وَلَکِنْ لاَ یُجَامِعُہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ۔ وَرَوَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَعْنَاہُ قَالَ (وَحُرِّمَ ذَلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ) أَیْ وَحُرِّمَ الزِّنَا عَلَی الْمُؤْمِنِینَ وَبِمَعْنَاہُ رُوِیَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَمُجَاہِدٍ وَالضَّحَّاکِ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَالَّذِی یُشْبِہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ مَا قَالَ ابْنُ الْمُسَیَّبِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٦٧) حضرت سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً } یہ نکاح نہیں بلکہ جماع ہے جو صرف زانی یا مشرک مرد ہی کرتا ہے۔ یہ عبداللہ بن عباس کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ (ب) فقیہ کی روایت میں ہے کہ اس سے مجامعت صرف زانی یا مشرک مرد ہی کرتا ہے۔ (ج) علی بن ابی طلحہ حضرت عبداللہ بن عباس سے اس کے ہم معنیٰ نقل فرماتے ہیں : { وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } کہ مومنوں پر زنا حرام کیا گیا ہے۔

13874

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13874

Sahih

(۱۳۸۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً} الآیَۃَ قَالَ : ہِیَ مَنْسُوخَۃٌ نَسَخَتْہَا {وَأَنْکِحُوا الأَیَامَی مِنْکُمْ} فَہِیَ مِنْ أَیَامَی الْمُسْلِمِینَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٦٨) یحییٰ بن سعید حضرت سعید بن مسیب سے نقل فرماتے ہیں کہ { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً } فرماتے ہیں : اس کو اس آیت نے منسوخ کردیا { وَاَنکِحُوْا الْاَیَامَی مِنْکُمْ } [النور ٣٢] ” اور نکاح کرو رنڈیوں کا اپنے میں سے۔ “ تو یہ مسلمان بیوہ عورتیں تھیں۔

13875

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13875

Sahih

(۱۳۸۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِیُّ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ بِالْکُوفَۃِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {إِنَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِینَ غَفُورًا} قَالَ یُذْنِبُ ثُمَّ یَتُوبُ ثُمَّ یُذْنِبُ ثُمَّ یَتُوبُ قَالَ وَسَمِعْتُہُ یَقُولُ {الزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ} قَالَ : نَسَخَتْہَا {وَأَنْکِحُوا الأَیَامَی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِینَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَائِکُمْ}۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٦٩) یحییٰ بن سعید حضرت سعید بن مسیب سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کا ارشاد ہے : { فَاِنَّہٗ کَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا } (الاسراء : ٢٥) ” بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔ “ فرماتے ہیں کہ بندہ گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے، میں نے ان سے سنا فرما رہے تھے : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً } کہ اس کو اس آیت نے منسوخ کردیا { وَاَنکِحُوْا الْاَیَامَی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَائِکُمْ } [النور ٢٤] ” اور تم نکاح کرو بیوہ عورتوں اور نیک غلاموں اور لونڈیوں کے۔ “