Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2865

نکاح کا بیان

کافر مسلمان عورت کا ولی نہ ہوگا امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابن سعید بن العاص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے کیا، حالانکہ ابوسفیان زندہ تھے : کیونکہ ام حبیبہ بھی مسلمان تھیں اور ابن سعید بھی مسلمان تھے لیکن ابو سفیان مسلمان نہ تھے اور اللہ نے مس

4 hadiths in this chapter

13803

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13803

Sahih

(۱۳۷۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ أُمِّ حَبِیبَۃَ : أَنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ جَحْشٍ فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ فَزَوَّجَہَا النَّجَاشِیُّ النَّبِیَّ -ﷺ- وَأَمْہَرَہَا عَنْہُ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ وَبَعَثَ بِہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَعَ شُرَحْبِیلَ ابْنِ حَسَنَۃَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٩٧) عروہ ام حبیبہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عبیداللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں تو عبیداللہ حبشہ کے علاقہ میں فوت ہوگئے تو نجاشی نے ام حبیبہ کا نکاح نبی سے کردیا اور اپنی جانب سے چار ہزار حق مہر ادا کیا اور شرحبیل بن حسنہ کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف روانہ کردیا۔

13804

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13804

Zaeef

(۱۳۷۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عِیسَی بْنِ یُونُسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ الَّذِی وَلِیَ نِکَاحَہَا ابْنُ عَمِّہَا خَالِدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہُوَ ابْنُ ابْنِ عَمِّ أَبِیہَا فَإِنَّہَا أُمُّ حَبِیبَۃَ بِنْتُ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبِ بْنِ أُمَیَّۃَ وَالْعَاصُ ہُوَ ابْنُ أُمَیَّۃَ۔ وَقَدْ قِیلَ إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہُوَ الَّذِی وَلِیَ نِکَاحَہَا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٩٨) محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ مجھے خبر ملی ہے کہ ام حبیبہ کے نکاح میں ولی ان کے چچا کے بیٹے خالد بن سعید بن العاص تھے۔ شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اس کے باپ کے چچا کے بیٹے کا بیٹا تھا؛ کیونکہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان بن حرب بن امیہ ہیں اور العاص امیہ کے بیٹے ہیں۔ (ب) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان وہ ان کے نکاح کے ولی تھے۔

13805

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13805

Zaeef

(۱۳۷۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ وَحَسَّانُ عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ : أَنْکَحَہُ إِیَّاہَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ۔ وَکَذَلِکَ قَالَہُ الزُّہْرِیُّ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔ وَعُثْمَانُ ہُوَ ابْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ بْنِ أُمَیَّۃَ ابْنُ ابْنِ عَمِّ أَبِیہَا وَأَیُّہُمَا زَوَّجَہَا فَالْوِلاَیَۃُ قَائِمَۃٌ إِلاَّ أَنَّ فِیہِ اخْتِلاَفًا ثَالِثًا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩ ١٣٧) ابو الاسود حضرت عروہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ام حبیبہ کا نکاح حضرت عثمان بن عفان (رض) نے حبشہ کی زمین میں کروایا تھا۔ (ب) زہری نے بھی اسی طرح کہا ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اور عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ دونوں میں سے جس نے بھی نکاح کروایا ولایت قائم ہے۔ اختلاف تیسرے میں پایا جاتا ہے۔

13806

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13806

Zaeef

(۱۳۸۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ وَأَبُو عَمْرٍو الْفَقِیہُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیمِ الْعَنْبَرِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ قَالاَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَیْلٍ حَدَّثَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ الْمُسْلِمُونَ لاَ یَنْظُرُونَ إِلَی أَبِی سُفْیَانَ وَلاَ یُقَاعِدُونَہُ فَقَالَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- یَا نَبِیَّ اللَّہِ ثَلاَثٌ أُعْطِیتُہُنَّ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : عِنْدِی أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُہُنَّ أُمُّ حَبِیبَۃَ بِنْتُ أَبِی سُفْیَانَ أُزَوِّجُکَہَا قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ وَمُعَاوِیَۃُ تَجْعَلُہُ کَاتِبًا بَیْنَ یَدَیْکَ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : وَتُؤَمِّرُنِی حَتَّی أُقَاتِلَ الْکُفَّارَ کَمَا کُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِینَ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ أَبُو زُمَیْلٍ وَلَوْلاَ أَنَّہُ طَلَبَ ذَلِکَ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- مَا أَعْطَاہُ ذَلِکَ لأَنَّہُ لَمْ یَکُنْ یَسْأَلُ شَیْئًا إِلاَّ قَالَ : نَعَمْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِیمِ وَأَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ۔ فَہَذَا أَحَدُ مَا اخْتَلَفَ فِیہِ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ وَتَرَکَہُ الْبُخَارِیُّ وَکَانَ لاَ یَحْتَجُّ فِی کِتَابِہِ الصَّحِیحِ بِعِکْرَمَۃِ بْنِ عَمَّارٍ وَقَالَ : لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ کِتَابٌ فَاضْطَرَبَ حَدِیثُہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا الْحَدِیثُ فِی قِصَّۃِ أُمِّ حَبِیبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَدْ أَجْمَعَ أَہْلُ الْمَغَازِی عَلَی خِلاَفِہِ فَإِنَّہُمْ لَمْ یَخْتَلِفُوا فِی أَنَّ تَزْوِیجَ أُمِّ حَبِیبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا کَانَ قَبْلَ رُجُوعِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَأَصْحَابِہِ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَإِنَّمَا رَجَعُوا زَمَنَ خَیْبَرَ فَتَزَویجُ أُمِّ حَبِیبَۃَ کَانَ قَبْلَہُ وَإِسْلاَمُ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبٍ کَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّۃَ بَعْدَ نِکَاحِہَا بِسَنَتَیْنِ أَوْ ثَلاَثٍ فَکَیْفَ یَصِحُّ أَنْ یَکُونَ تَزْوِیجُہَا بِمَسْأَلَتِہِ وَإِنْ کَانَتْ مَسْأَلَتُہُ الأُولَی إِیَّاہُ وَقَعَتْ فِی بَعْضِ خَرَجَاتِہِ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَہُوَ کَافِرٌ حِینَ سَمِعَ نَعْیَ زَوْجِ أُمِّ حَبِیبَۃَ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَالْمَسْأَلَۃُ الثَّانِیَۃُ وَالثَّالِثَۃُ وَقَعَتَا بَعْدَ إِسْلاَمِہِ لاَ یُحْتَمَلُ إِنْ کَانَ الْحَدِیثُ مَحْفُوظًا إِلاَّ ذَلِکَ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [منکر۔ مسلم ۲۵۰۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨٠٠) ابو زمیل حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ مسلمان ابو سفیان کی طرف توجہ بھی نہ کرتے اور ان کے ساتھ بیٹھتے بھی نہ تھے۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے ان کو تین چیزیں دی ہیں : 1 میرے پاس عرب کی حسین و جمیل بیٹی تھی جس کی میں نے آپ سے شادی کردی۔ 2 اور معاویہ کو آپ نے کاتب وحی کرلیا جو میرا بیٹا ہے۔ (٣) آپ نے مجھے امیر مقرر کردیا تاکہ میں کفار سے جہاد کروں جیسے مسلمانوں کے خلاف لڑا کرتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ ہاں ہی فرمایا۔ ابو زمیل کہتے ہیں : جو بھی اس نے دیا تھا واپسی کا مطالبہ نہ تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر مرتبہ نعم ہی کہا۔ شیخ (رح) فرماتے ہیں : یہ حدیث ام حبیبہ کے قصہ کے بارے میں ہے۔ لیکن اہل مغازی اس میں اختلاف پر متفق ہیں اور ان کا اس پر اتفاق ہے کہ ام حبیبہ کا نکاح جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں کا حبشہ سے لوٹنے سے پہلے ہوا اور وہ خیبر کے زمانہ میں واپس آتے تھے اور ام حبیبہ کا نکاح اس سے پہلے ہوچکا تھا اور ابو سفیان کا اسلام قبول کرنا فتح مکہ کے سال ہوا جو نکاح کے دو یا تین سال بعد ہے تو پھر کیسے درست ہے کہ اس کا نکاح سوال کی وجہ سے ہوا۔ اگر یہ پوچھنے کی بنا پر ہے تو مدینہ کے بعض سفروں میں ممکن ہے جس وقت وہ کافر تھے۔ جب انھوں نے ام حبیبہ کے خاوند کی وفات کی خبر سنی اور باقی دو سوال یہ ان کے اسلام لانے کے بعد واقع ہوئے۔