Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2853

نکاح کا بیان

کفؤ کے اعتبار کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بویطی کی روایت میں ہے کہ کفو کا استنباط اصل تو بریدہ کی حدیث سے کیا جاتا ہے کہ ان کا خاوند اس کا کفو نہ تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اختیار دے دیا۔

7 hadiths in this chapter

13762

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13762

Sahih

(۱۳۷۵۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَاتَبَتْ بَرِیرَۃُ عَلَی نَفْسِہَا تِسْعَۃَ أَوَاقٍ فِی کُلِّ سَنَۃٍ أُوقِیَّۃٌ فَأَتَتْ عَائِشَۃَ تَسْتَعِینُہَا فَقَالَتْ : لاَ إِلاَّ أَنْ یَشَائُ وا أَنْ أَعُدَّہَا لَہُمْ عَدَّۃً وَاحِدَۃً وَیَکُونَ الْوَلاَئُ لِی فَذَہَبَتْ بَرِیرَۃُ فَکَلَّمَتْ فِی ذَلِکَ أَہْلَہَا فَأَبَوْا عَلَیْہَا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ الْوَلاَئُ لَہُمْ فَجَائَ تْ إِلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عِنْدَ ذَلِکَ فَقَالَتْ لَہَا مَا قَالَ أَہْلُہَا فَقَالَتْ : لاَہَا اللَّہِ إِذًا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ الْوَلاَئُ لِی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ابْتَاعِیہَا وَاشْتَرِطِی لَہُمُ الْوَلاَئَ وَأَعْتِقِیہَا فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللَّہِ یَقُولُونَ أَعْتِقْ یَا فُلاَنُ الْوَلاَئُ لِی کِتَابُ اللَّہِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّہِ أَوْثَقُ وَکُلُّ شَرْطٍ لَیْسَ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَہُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَانَ مِائَۃَ شَرْطٍ ۔ قَالَتْ : وَخَیَّرَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ زَوْجِہَا وَکَانَ عَبْدًا فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا قَالَ عُرْوَۃُ : وَلَوْ کَانَ حُرًّا مَا خَیَّرَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ وَفِیہِ دَلاَلَۃٌ عَلِیُّ مَا قَصَدْنَاہُ بِالدَّلاَلَۃِ وَعَلَی ثُبُوتِ الْوَلاَئِ لِلْمُعْتِقِ وَأَنْ لاَ وَلاَئَ لِغَیْرِ الْمُعْتِقِ وَمِنْ أَحْکَامِ الْوَلاَئِ ثُبُوتُ وِلاَیَۃِ النِّکَاحِ لِمَنْ لَہُ الْوَلاَئُ عِنْدَ عَدَمِ الْمُنَاسِبِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَفِی اعْتِبَارِ الْکَفَائَ ۃِ أَحَادِیثُ أُخَرُ لاَ تَقُومُ بِأَکْثَرِہَا الْحُجَّۃُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۱۶۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٥٦) ہشام اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت بریرہ نے اپنی آزادی کے لیے ٩ اوقیوں پر مکاتبت کرلی کہ ایک سال میں ایک اوقیہ ادا کرنا ہے وہ اپنی مدد کے لیے حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئی تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اگر وہ چاہیں تو میں ایک ہی مرتبہ قیمت ادا کر دوں گی اور ولاء میری ہوگی۔ حضرت بریرہ نے جا کر اپنے گھر والوں سے بات کی، انھوں نے انکار کردیا، لیکن ولاء کی شرط پر آمادگی ظاہر کی۔ حضرت بریرہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئی اور وہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی آگئے تو بریرہ نے حضرت عائشہ (رض) کو وہ بات آکر کہہ دی تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ولاء میری ہوگی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ خرید کر ولاء کی شرط رکھیں اور آزاد کردیں، کیونکہ ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔ پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا : اللہ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا لوگوں کو کیا ہے ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں۔ کہتے ہیں : اے فلاں ! آزاد کر اور ولاء میری ہوگی۔ اللہ کی کتاب زیادہ سچی ہے اور اللہ کی شرطیں زیادہ قابل اعتماد ہیں اور جو شرط کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے اگرچہ وہ سو شرطیں ہوں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بریرہ کو اس کے خاوند کے بارے میں اختیار دے دیا۔ ان کا خاوند غلام تھا تو بریرہ نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا (یعنی اس سے آزاد ہوگئی) عروہ کہتے ہیں : اگر وہ آزاد ہوتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بریرہ کو اختیار نہ دیتے۔ (ب) اسحق بن ابراہیم کی روایت مسلم میں ہے۔ اس میں وہ دلالت موجود ہے جس کا ہم نے قصد کیا ہے اور ولاء صرف آزاد کرنے والے کے لیے ہے غیر کے لیے نہیں۔ ولاء کے احکام سے نکاح کی ولایت بھی ثابت ہوتی ہے۔ جب کوئی مناسبت ولی موجود نہ ہو۔ کفو کے اعتبار کے لیے دوسری احادیث بھی موجود ہیں لیکن ان سے دلیل لینا درست نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)

13763

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13763

Zaeef

(۱۳۷۵۷) مِنْہَا وَہُوَ أَمْثَلُہَا مَا أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْیَابِیُّ فَرَّقَہُمَا قَالاَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْجُہَنِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لَہُ: یَا عَلِیُّ ثَلاَثَۃٌ لاَ تُؤَخِّرْہَا الصَّلاَۃُ إِذَا أَتَتْ وَالْجَنَازَۃُ إِذَا حَضَرَتْ وَالأَیِّمُ إِذَا وَجَدْتَ کُفُؤًا ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٥٧) محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب اپنے والد سے اور دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا : تین چیزوں میں تاخیر نہ کرنا : 1 جب نماز کا وقت ہوجائے 2 جنازہ جب موجود ہو۔ 3 بیوہ کا نکاح جب کفو موجود ہو۔

13764

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13764

Zaeef

(۱۳۷۵۸) وَمِنْہَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ الْکِنْدِیُّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَعْفَرِیُّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تَخَیَّرُوا لِنُطَفِکُمْ وَأَنْکِحُوا الأَکْفَائَ وَأَنْکِحُوا إِلَیْہِمْ۔[ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٥٨) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اختیار دو تاکہ ہم ایک نظر دیکھ لیں اور رشتہ داریوں میں برابری کا خیال رکھو اور ان کی طرف نکاح کا پیغام بھیجو۔

13765

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13765

Zaeef

(۱۳۷۵۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ مِثْلَہُ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو أُمَیَّۃَ بْنُ یَعْلَی عَنْ ہِشَامٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٥٩) ایضاً ۔

13766

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13766

Zaeef

(۱۳۷۶۰) وَأَمَّا حَدِیثُ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ عَنْ عَطَائٍ وَعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ تُنْکِحُوا النِّسَائَ إِلاَّ الأَکْفَائَ وَلاَ یُزَوِّجُہُنَّ إِلاَّ الأَوْلِیَائُ وَلاَ مَہْرَ دُونَ عَشْرَۃِ دَرَاہِمَ فَہَذَا حَدِیثٌ ضَعِیفٌ بِمَرَّۃٍ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی بْنِ السُّکَیْنِ الْبَلَدِیُّ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ الْحَکَمِ الرَّسْعَنِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ : عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنِی الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ فَذَکَرَہُ۔ قَالَ عَلِیٌّ رَحِمَہُ اللَّہِ : مُبَشِّرُ بْنُ عُبَیْدٍ مَتْرُوکُ الْحَدِیثِ أَحَادِیثُہُ لاَ یُتَابَعُ عَلَیْہَا۔ قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ رَوَاہُ بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ مُبَشِّرٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ وَہُوَ ضَعِیفٌ لاَ تَقُومُ بِمِثْلِہِ الْحُجَّۃُ وَقِیلَ عَنْ بَقِیَّۃَ مِثْلَ الأَوَّلِ۔ [ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٦٠) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتوں کے نکاح صرف ہمسر سے کیے جائیں اور ان کے ولی ہی نکاح کریں اور حق مہر میں درہم سے کم نہ ہو۔

13767

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13767

Zaeef

(۱۳۷۶۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ وَأَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُہْدَتِہِ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ جَابِرٍ۔وَعَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یُزَوِّجِ النِّسَائَ إِلاَّ الأَوْلِیَائُ وَلاَ یُزَوِّجْہُنَّ إِلاَّ الأَکْفَائَ وَلاَ مَہْرَ دُونَ عَشْرَۃِ دَرَاہِمَ ۔ قَائِلُ قَوْلِہِ : وَأَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُہْدَتِہِ ابْنُ خُزَیْمَۃَ۔ [ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٦١) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتوں کے نکاح صرف ولی کریں اور ان کے نکاح کفو کی بنیاد پر کیے جائیں اور حق مہر درہم سے کم نہ ہو۔

13768

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13768

Zaeef

(۱۳۷۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَۃَ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لأَمْنَعَنَّ لِذَوَاتِ الأَحْسَابِ فُرُوجَہُنَّ إِلاَّ مِنَ الأَکْفَائِ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ جَعَلَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ الْمَعْنَی فِی اشْتِرَاطِ الْوُلاَۃِ فِی النِّکَاحِ کَیْ لاَ تَضَعُ الْمَرْأَۃُ نَفْسَہَا فِی غَیْرِ کُفُؤٍ فَقَالَ : لاَ مَعْنَی لَہُ أَوْلَی بِہِ مِنْ أَنْ لاَ تَزَوَّجَ إِلاَّ کُفْؤًا بَلْ لاَ أَحْسَبُہُ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُونَ جُعِلَ لَہُمْ أَمْرٌ مَعَ الْمَرْأَۃِ فِی نَفْسِہَا إِلاَّ لِئَلاَّ تَنْکِحَ إِلاَّ کُفُؤًا أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٦٢) محمد بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں ضرور منع کروں گا حسب ونسب والیوں کو کہ وہ بغیر کفو کے شادی نہ کریں۔ شیخ فرماتے ہیں : امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نکاح میں ولی کی شرط اسی لیے ہے کہ عورت بغیر کفو کے شادی نہ کرے۔ یہ سارا سلسلہ صرف اسی لیے ہے کہ وہ بغیر کفو کے شادی نہ کرسکے۔