Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2852

نکاح کا بیان

بیٹا (اپنی والدہ کا) نکاح کرسکتا ہے اگر وہ بیٹا ہونے کے علاوہ عصبہ بھی بنتا ہو

4 hadiths in this chapter

13758

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13758

Zaeef

(۱۳۷۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ حَدَّثَنِی ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ أَصَابَتْہُ مُصِیبَۃٌ فَلْیَقُلْ إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ اللَّہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصِیبَتِی فَأْجُرْنِی فِیہَا وَأَبْدِلْنِی بِہَا خَیْرًا مِنْہَا ۔ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَۃَ قُلْتُہَا فَجَعَلْتُ کُلَّمَا طَلَبْتُ أَبْدِلْنِی بِہَا خَیْرًا مِنْہَا قُلْتُ فِی نَفْسِی وَمَنْ خَیْرٌ مِنْ أَبِی سَلَمَۃَ ثُمَّ قُلْتُہَا فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا بَعَثَ إِلَیْہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَخْطُبُہَا عَلَیْہِ فَقَالَتْ لاِبْنِہَا : یَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَزَوَّجَہُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ الأَصْبَہَانِیِّ ذِکْرُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَلاَ ذِکْرُ الْعِدَّۃَ وَلَکِنْ قَالَ قَالَتْ : فَخَطَبَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : إِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِیَائِی شَاہِدٌ قَالَ : إِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنْہُمْ شَاہِدٌ وَلاَ غَائِبٌ إِلاَّ سَیَرْضَی بِی ۔ فَقُلْتُ : یَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَعُمَرُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ کَانَ عَصَبَۃً لَہَا وَذَاکَ لأَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ ہِیَ ہِنْدُ بِنْتُ أَبِی أُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ وَعُمَرُ ہُوَ ابْنُ أَبِی سَلَمَۃَ وَأَبُو سَلَمَۃَ اسْمُہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الأَسَدِ بْنِ ہِلاَلِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ۔ [ضعیف۔ او اصلہ فی الصحیح لغیر ہذا۔ وانظر الاروآ ۱۸۱۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٥٢) عمر بن سلمہ اپنے والد سے اور وہ ام سلمہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو مصیبت پہنچے وہ اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھے۔ اے اللہ ! میں اپنی مصیبت پر تیری جانب سے صبر کی توفیق چاہتی ہوں۔ اس مصیبت میں مجھے اجر دے اور مجھے اس سے اچھا نعم البدل عطا فرما۔ جب ابو سلمہ فوت ہوئے تو میں نے یہ کلمات کہنے شروع کردیے۔ لیکن جب بھی میں ان کے نعم البدل کا تذکرہ کرتی تو اپنے دل میں سوچتی کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہوگا۔ پھر میں یہ کلمات کہتی رہی۔ جب عدت مکمل ہوگئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو پیغام نکاح دے کر بھیجا تو ام سلمہ نے اپنے بیٹے سے کہا : اے عمر ! کھڑے ہوجاؤ ۔ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح کردیں تو انھوں نے آپ کا نکاح کردیا۔ (ب) یہ ابو عبداللہ کی حدیث ہے، لیکن اصبہانی کی روایت میں عمر بن خطاب اور عدت کا تذکرہ نہیں ہے۔ لیکن اس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے کہا : میرے ولیوں میں سے کوئی موجود نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : کوئی موجود یا غائب ایسا نہیں جو میرے اس نکاح پر راضی نہ ہو۔ میں نے کہا : اے عمر ! کھڑے ہوجاؤ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح کر دو ۔ شیخ فرماتے ہیں کہ عمر بن ابی سلمہ ان کا عصبہ بھی تھا۔ کیونکہ ام سلمہ کا نسب نامہ یہ ہے : ہند بنت ابی امیہ بن المغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم اور عمر یہ ابن ابی سلمہ ہیں اور ابو سلمہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھا۔

13759

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13759

Zaeef

(۱۳۷۵۳) أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِی مَنِیعٍ حَدَّثَنِی جَدِّی عَنِ الزُّہْرِیِّ فَذَکَرَہُ۔ وَسَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ الْکَلاَبَاذِیَّ الْحَافِظَ رَحِمَہُ اللَّہُ یَقُولُ عُمَرُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ تُوُفِّیَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَہُوَ ابْنُ تِسْعِ سِنِینَ وَمَاتَ فِی خِلاَفَۃِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ۔[ضعیف۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٥٣) حافظ ابو نصر کلاباذی فرماتے ہیں کہ عمر بن ابی سلمہ نو سال کے تھے، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے اور عمر بن ابی سلمہ عبدالملک بن مروان کی خلافت میں فوت ہوئے۔

13760

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13760

Zaeef

(۱۳۷۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِیلِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَخْزُومِیُّ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَطَبَ أُمَّ سَلَمَۃَ قَالَ: مُرِی ابْنَکِ أَنْ یُزَوِّجَکِ۔ أَوْ قَالَ زَوَّجَہَا ابْنُہَا وَہُوَ یَوْمَئِذٍ صَغِیرٌ لَمْ یَبْلُغْ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَکَانَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فِی بَابِ النِّکَاحِ مَا لَمْ یَکُنْ لِغَیْرِہِ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٥٤) سلمہ بن عبداللہ بن سلمہ بن ابی سلمہ اپنے والد سے اور وہ دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام سلمہ کو نکاح کا پیغام دیا۔ فرمایا : اپنے بیٹے کو حکم دے کہ وہ تیرا نکاح کر دے یا فرمایا : اس کے بیٹے نے نکاح کردیا۔ وہ ابھی بالغ بھی نہ ہوئے تھے۔ شیخ فرماتے ہیں : یہ اس وقت تھا جب اس کے علاوہ کوئی دوسرا موجود نہ تھا۔

13761

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13761

Sahih

(۱۳۷۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ وَإِسْمَاعِیلَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ خَطَبَ أُمَّ سُلَیْمٍ فَقَالَتْ : یَا أَبَا طَلْحَۃَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ إِلَہَکَ الَّذِی تَعْبُدُ خَشَبَۃٌ تَنْبُتُ مِنَ الأَرْضِ نَجَرَہَا حَبَشِیُّ بَنِی فُلاَنٍ إِنْ أَنْتَ أَسْلَمْتَ لَمْ أُرِدْ مِنْکَ مِنَ الصَّدَاقِ غَیْرَہُ قَالَ حَتَّی أَنْظُرَ فِی أَمْرِی قَالَ فَذَہَبَ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ قَالَتْ : یَا أَنَسُ زَوِّجْ أَبَا طَلْحَۃَ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ابْنُہَا وَعَصَبَتُہَا فَإِنَّہُ أَنَسُ بْنُ مَالِکِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ ضَمْضَمِ بْنِ زَیْدِ بْنِ حَرَامٍ مِنْ بَنِی عَدِیِّ بْنِ النَّجَّارِ وَأُمُّ سُلَیْمٍ ہِیَ ابْنَۃُ مِلْحَانَ بْنِ خَالِدِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ حَرَامٍ مِنْ بَنِی عَدِیِّ بْنِ النَّجَّارِ۔ [صحیح۔ دون قولہ (قالت یا انس)]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٥٥) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ نے ام سلیم کو نکاح کا پیغام دیا تو ام سلیم کہنے لگی : اے ابو طلحہ ! کیا تو جانتا نہیں جس اللہ کی تو عبادت کرتا ہے، وہ لکڑی کا ہے۔ جو زمین سے اگتی ہے۔ اس کو حبش بن فلاں نے بنایا ہے۔ اگر آپ اسلام قبول کرلیں تو میں اس کے علاوہ آپ سے حق مہر کا مطالبہ نہ کروں گی۔ ابو طلحہ کہتے ہیں : میں نے سوچ و بیچار کی۔ راوی کہتے ہیں : ابوطلحہ چلے گئے پھر دوبارہ آئے تو کہنے لگے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ ام سلیم نے کہا : اے انس ابو طلحہ کا نکاح کر دو ۔ شیخ فرماتے ہیں کہ انس بن مالک ام سلیم کا بیٹا اور عصبہ بھی ہے کیونکہ انس بن مالک بن نصر بن ضمضم بن زید بن حرام بنو عدی بن النجار۔ ام سلیم یہ ملحان بن خالد بن یزید کی بیٹی ہے۔