Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2840

نکاح کا بیان

یتیمہ کے نکاح کا بیان

8 hadiths in this chapter

13696

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13696

Sahih

(۱۳۶۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تُسْتَأْمَرُ الْیَتِیمَۃُ فِی نَفْسِہَا فَإِنْ سَکَتَتْ فَہُوَ إِذْنُہَا وَإِنْ أَبَتْ فَلاَ جَوَازَ عَلَیْہَا۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٩٠) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یتیمہ سے اس کے نفس کے بارے میں پوچھا جائے گا، اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی اجازت ہے۔ اگر وہ انکار کرے تو وہ کہہ دے : میں اس کو پسند نہیں کرتی ہے۔

13697

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13697

Sahih

(۱۳۶۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ یَعْنِی ابْنَ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَۃَ بْنُ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تُسْتَأْمَرُ الْیَتِیمَۃُ فِی نَفْسِہَا فَإِنْ سَکَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ وَإِنْ أَنْکَرَتْ لَمْ تُکْرَہْ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٩١) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یتیمہ سے اس کے نفس کے بارے میں پوچھا جائے گا، اگر وہ خاموش ہو تو اس کی اجازت ہے اگر وہ انکار کر دے تو جبر نہ کیا جائے۔

13698

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13698

Sahih

(۱۳۶۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَکُمْ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدٍ الزُّہْرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّی حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ حُسَیْنٍ مَوْلَی آلَ حَاطِبٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : تُوُفِّیَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَکَ ابْنَۃً لَہُ مِنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ حَکِیمِ بْنِ أُمَیَّۃَ وَأَوْصَی إِلَی أَخِیہِ قُدَامَۃَ بْنِ مَظْعُونٍ وَہُمَا خَالاَیَ فَخَطَبْتُ إِلَی قُدَامَۃَ ابْنَۃَ عُثْمَانَ فَزَوَّجَنِیہَا فَدَخَلَ الْمُغِیرَۃُ إِلَی أُمِّہَا فَأَرْغَبَہَا فِی الْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَیْہِ وَحَطَّتِ الْجَارِیَۃُ إِلَی ہَوَی أُمِّہَا حَتَّی ارْتَفَعَ أَمْرُہُمَا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ قُدَامَۃُ : یَا رَسُول َاللَّہِ ابْنَۃُ أَخِی وَأَوْصَی بِہَا إِلَیَّ فَزَوَّجْتُہَا ابْنَ عُمَرَ وَلَمْ أُقَصِّرْ بِالصَّلاَحِ وَالْکَفَائَ ۃِ وَلَکِنَّہَا امْرَأَۃٌ وَإِنَّہَا حَطَّتْ إِلَی ہَوَی أُمِّہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہِیَ یَتِیمَۃٌ وَلاَ تُنْکَحُ إِلاَّ بِإِذْنِہَا ۔ فَانْتُزِعَتْ مِنِّی وَاللَّہِ بَعْدَ أَنْ مَلَکْتُہَا فَزَوَّجُوہَا الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٩٢) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ عثمان بن مظعون فوت ہوگئے اور ایک بیٹی جو خولہ بنت حکیم بن امیہ تھی وہ چھوڑی اور اپنے بھائی قدامہ بن مظعون کو اس کے بارے میں وصیت کی اور یہ دونوں میرے خالہ زاد بھائی تھے۔ میں نے قدامہ کی طرف شادی کا پیغام بھیجا کہ میری اس سے شادی کر دو اور مغیرہ اس کی ماں کی طرف گیا۔ اس نے ان کو مال کی طرف رغبت دی تو وہ لالچ میں آگئی اور لڑکی بھی ماں کی خواہش کی طرف مائل ہوگئی۔ حتیٰ کہ یہ معاملہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ گیا تو قدامہ نے کہا : یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے اور اس نے مجھے وصیت کی تھی اور میں اس کی شادی ابن عمر (رض) سے کروں گا اور میں نے اس کی اصلاح اور سرپرستی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، لیکن وہ عورت لالچ میں آگئی اور لڑکی بھی ماں کی طرف دار ہوگئی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ یتیمہ ہے لہٰذا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا تو وہ لڑکی مجھ سے جدا کردی گئی، اللہ کی قسم ! جبکہ میں اس کا مالک بن گیا تھا اور انھوں نے اس کی شادی مغیرہ بن شعبہ سے کردی۔

13699

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13699

Sahih

(۱۳۶۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَیْنٍ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَزَوَّجَ ابْنَۃَ خَالِہِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ فَذَہَبَتْ أُمِّہَا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَتْ إِنَّ ابْنَتِی تَکْرَہُ ذَلِکَ فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یُفَارِقَہَا وَقَالَ : لاَ تَنْکِحُوا الْیَتَامَی حَتَّی تَسْتَأْمِرُوہُنَّ فَإِنْ سَکَتْنَ فَہُوَ إِذْنُہُنَّ۔ فَتَزَوَّجَہَا بَعْدَ عَبْدِاللَّہِ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ۔[حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٩٣) ابن عمر (رض) نے اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی کی۔ اس کی ماں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف گئی اور کہا : میری بیٹی اس کو ناپسند کرتی ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان جدائی ڈلوا دی کہ تم یتیمہ کا نکاح نہ کرو، یہاں تک کہ ان سے مشورہ کرلو۔ اگر وہ خاموشی اختیار کریں یہ ان کی رضا مندی ہے۔ پھر اس نے اس کے بعد عبداللہ بن مغیرہ بن شعبہ سے شادی کی۔

13700

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13700

Sahih

(۱۳۶۹۴) وَأَخْبَرَنَا بِہِ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ بِہَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ تَزَوَّجَ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ صَاعِدٍ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ وَأَبِی عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی فُدَیْکٍ بِإِسْنَادِہِ وَقَالَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٩٤) ایضاً

13701

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13701

Sahih

(۱۳۶۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ سُوَیْدٍ قَالَ : وَجَدْتُ فِی کِتَابِ أَبِی عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: إِذَا بَلَغَ النِّسَائُ نَصَّ الْحَقَائِقِ فَالْعَصَبَۃُ أَوْلَی وَمَنْ شَہِدَ فَلْیَشْفَعْ بِخَیْرٍ۔[صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٩٥) معاویہ بن سوید فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ کی کتاب میں یہ بات حضرت علی (رض) کے حوالے سے دیکھی کہ جب عورتیں حقائق کو پہچاننے لگیں تو عصبہ زیادہ حق دار ہوں گے اور جو کوئی حاضر ہو وہ بہتر سفارش کرے۔

13702

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13702

Zaeef

(۱۳۶۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ رَحِمَہُ اللَّہُ بَعْضُہُمْ یَقُولُ : الْحِقَاقِ وَہُوَ مِنَ الْمُحَاقَّۃِ یَعْنِی الْمُخَاصَمَۃَ أَنْ تُحَاقَّ الأُمُّ الْعُصْبَۃَ فِیہِنَّ فَنَصُّ الْحِقَاقِ إِنَّمَا ہُوَ الإِدْرَاکُ لأَنَّہُ مُنْتَہَی الصِّغَرِ فَإِذَا بَلَغَ النِّسَائُ ذَلِکَ فَالْعَصَبَۃُ أَوْلَی بِالْمَرْأَۃِ مِنْ أُمِّہَا إِذَا کَانُوا مُحْرِمًا وَبِتَزْوِیجِہَا أَیْضًا إِنْ أَرَادُوا۔ قَالَ : وَہَذَا یُبَیِّنُ لَکَ أَنَّ الْعَصَبَۃَ وَالأَوْلَیَائَ غَیْرَ الآبَائِ لَیْسَ لَہُمْ أَنْ یُزَوِّجُوا الْیَتِیمَۃَ حَتَّی تُدْرِکَ وَلَو کَانَ لَہُمْ ذَاکَ لَمْ یَنْتَظِرُوا بِہَا نَصَّ الْحِقَاقِ۔ قَالَ وَمَنْ رَوَاہُ نَصَّ الْحَقَائِقِ فَإِنَّہُ أَرَادَ جَمْعَ حَقِیقَۃٍ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٩٦) ابوعبید (رح) فرماتے ہیں کہ بعض فقہاء کا موقف ہے کہ ماں پر عصبہ کے ساتھ ملنا فرض ہے، اسحق کی نص ہے اور وہ ان کا ادراک یعنی سمجھ دار ہونا ہے اور وہ بچپن کی انتہاء ہے۔ جب عورتیں بالغ ہوجائیں تو عورت کے عصبہ اس کی ماں سے زیادہ اولیٰ ہیں، جب وہ محرم رشتہ دار ہوں۔ اسی طرح اگر وہ چاہیں تو اس کی شادی کردیں اور کہا کہ یہ تیرے لیے کھلا اور واضح بیان ہے کہ عصبہ رشتہ دار اولیاء جو باپوں کے علاوہ ہیں وہ یتیم بچی کی شادی ادراک (یعنی سمجھ دار) ہونے سے پہلے نہ کریں۔ اگرچہ ان کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ اس کے ساتھ نص حقائق کا انتظار نہ کریں اور جس نے نص حقائق کو بیان کیا ہے تو اس کی مراد جمع حقیقت ہے۔

13703

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13703

Zaeef

(۱۳۶۹۷) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہَمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی حَبِیبَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عُمَارَۃَ بِنْتَ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ کَانَتْ بِمَکَّۃَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعْنِی فِی عَمْرَۃِ الْقَضِیَّۃِ خَرَجَ بِہَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَالَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- : تَزَوَّجْہَا فَقَالَ ابْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ فَزَوَّجَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَلَمَۃَ بْنَ أَبِی سَلَمَۃَ فَکَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَقُولُ : ہَلْ جَزَیْتُ سَلَمَۃَ ۔ ہَذَا إِسْنَادٌ ضَعِیفٌ وَلَیْسَ فِیہِ أَنَّہَا کَانَتْ صَغِیرَۃً وَلِلنَّبِیِّ -ﷺ- فِی بَابِ النِّکَاحِ مَا لَیْسَ لِغَیْرِہِ وَکَانَ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینِ مِنْ أَنْفُسِہِمْ وَبِذَلِکَ تَوَلَّی تَزْوِیجَہَا دُونَ عَمِّہَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنْ کَانَ فَعَلَ ذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٩٧) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ عمارہ بنت حمزہ بن عبدالمطلب مکہ میں تھیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ قضا کے لیے تشریف لائے۔ سیدنا علی بن ابوطالب (رض) اس کو لے کر آئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : ان سے شادی کرلو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میرے بھائی کی رضاعی بیٹی ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی شادی سلمہ بن ابوسلمہ (رض) سے کردی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہا کرتے تھے : کیا میں نے سلمہ کو (اچھا) بدلہ دے دیا۔