Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2837

نکاح کا بیان

وصی کو ولایت نکاح کا حق نہیں ہے

2 hadiths in this chapter

13661

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13661

Sahih

(۱۳۶۵۵) اسْتِدْلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ إِلاَّ بِإِذْنِ وَلِیِّہَا فَإِنْ نُکِحَتْ فَہُوَ بَاطِلٌ فَہُوَ بَاطِلٌ فَہُوَ بَاطِلٌ فَإِنْ دَخَلَ بِہَا فَلَہَا الْمَہْرُ بِمَا أَصَابَ مِنْہَا فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لاَ وَلِیَّ لَہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٥٥) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہ کرے۔ اگر اس نے نکاح کرلیا تو وہ باطل ہوگا، باطل ہوگا باطل ہوگا۔ اگر اس نے دخول کرلیا تو عورت کے لیے حق مہر ہوگا اس سے جماع کرنے کی وجہ سے۔ اگر ولی آپس میں اختلاف کریں تو سلطان ولی ہوگا، جس کا کوئی ولی نہ ہوگا۔

13662

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13662

Sahih

(۱۳۶۵۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ حُسَیْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ مَوْلَی آلِ حَاطِبٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : تُوُفِّیَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَتَرَکَ ابْنَۃً لَہُ مِنْ خُوَیْلَۃَ بِنْتِ حَکِیمِ بْنِ أُمَیَّۃَ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ الأَوْقَصِ قَالَ وَأَوْصَی إِلَی أَخِیہِ قُدَامَۃَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ فَہُمَا خَالاَیَ قَالَ فَخَطَبْتُ إِلَی قُدَامَۃَ بْنِ مَظْعُونٍ ابْنَۃَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَزَوَّجَنِیہَا فَدَخَلَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أُمِّہَا فَأَرْغَبَہَا فِی الْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَیْہِ وَحَطَّتِ الْجَارِیَۃُ إِلَی ہَوَی أُمِّہَا فَأَبَتَا حَتَّی ارْتَفَعَ أَمْرُہُمَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فَقَالَ قُدَامَۃُ بْنُ مَظْعُونٍ : ابْنَۃُ أَخِی أَوْصَی بِہَا إِلَیَّ فَزَوَّجْتُہَا مِنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَلَمْ أُقَصِّرْ بِہَا فِی الصَّلاَحِ وَلاَ فِی الْکَفَائَ ۃِ وَلَکِنَّہَا امْرَأَۃٌ وَإِنَّہَا حَطَّتْ إِلَی ہَوَی أُمِّہَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہِیَ یَتِیمَۃٌ وَلاَ تُنْکَحُ إِلاَّ بِإِذْنِہَا ۔ قَالَ فَانْتُزِعَتْ وَاللَّہِ مِنِّی بَعْدَ مَا مَلَکُتُہَا وَزَوَّجُوہَا الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٥٦) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان بن مظعون فوت ہوگئے تو خویلہ بنت حکم بن امیہ بن حارثہ بن اوص بیٹی چھوڑی اور اپنے بھائی قدامہ بن مظعون کو وصیت کی۔ عبداللہ کہتے ہیں : وہ دونوں میرے ماموں ہیں، انھوں نے کہا کہ میں نے قدامہ بن مظعون کی طرف عثمان بن مظعون کی بیٹی کے ساتھ منگنی کا پیغام بھیجا تو انھوں نے میری اس کے ساتھ شادی کردی تو مغیرہ بن شعبہ اس لڑکی کی ماں کے پاس گئے تو انھیں اپنی طرف قائل کیا (یعنی اس لڑکی کی شادی ان سے کر دے) تو لڑکی ماں کی محبت اور خواہش کی طرف قائل ہوگئی تو ان دونوں (لڑکی اور ماں) نے (مجھ سے) انکار کردیا یہاں تک معاملہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ گیا۔ راوی کہتا ہے کہ قدامہ بن مظعون کہتے ہیں کہ میری بھتیجی کے متعلق میرے چچا نے وصیت کی تو میں نے اس کی شادی عبداللہ بن عمر (رض) سے کردی تو میں نے اس کی اصلاح اور تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ لیکن عورت (یعنی اس لڑکی کی ماں) اور یہ لڑکی اپنی ماں کی خواہش کی طرف مائل ہوگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ یتیم بچی ہے اس کا نکاح اس کی اجازت سے کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس لڑکی کو ان سے جدا کردیا گیا، جبکہ میں اس کا مالک بن چکا تھا اور انھوں نے اس کی شادی مغیرہ بن شعبہ سے کردی۔