Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2788

نکاح کا بیان

جس نے آپ کا پیشاب اور خون پیا آپ نے اس کا انکار نہیں کیا

3 hadiths in this chapter

13412

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13412

Zaeef

(۱۳۴۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَامِدٍ الْعَطَّارُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِی حُکَیْمَۃُ بِنْتُ أُمَیْمَۃَ عَنْ أُمَیْمَۃَ أُمِّہَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَبُولُ فِی قَدَحٍ مِنْ عَیْدَانٍ ثُمَّ وُضِعَ تَحْتَ سَرِیرِہِ فَبَالَ فَوُضِعَ تَحْتَ سَرِیرِہِ فَجَائَ فَأَرَادَہُ فَإِذَا الْقَدَحُ لَیْسَ فِیہِ شَیْء ٌ فَقَالَ لاِمْرَأَۃٍ یُقَالُ لَہَا بَرَکَۃُ کَانَتْ تَخْدِمُہُ لأُمِّ حَبِیبَۃَ جَائَ تْ مَعَہَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ أَیْنَ الْبَوْلُ الَّذِی کَانَ فِی ہَذَا الْقَدَحِ قَالَتْ : شَرِبْتُہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٤٠٦) حضرت امیمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لکڑی کے بنے ہوئے ایک پیالے میں پیشاب کرتے ، پھر اسے اپنی چارپائی کے نیچے رکھ دیتے، ایک دن آپ نے پیشاب کیا اور چارپائی کے نیچے رکھ دیا۔ آپ آئے اور اسے (باہر) پھینکنے کا ارادہ کیا تو پیالا خالی تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برکہ نامی عورت سے کہا، جو سیدہ ام حبیبہ (رض) کی خادمہ تھی اور حبشہ سے آئی تھی، اس پیالے میں جو پیشاب تھا وہ کدھر گیا ؟ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے پی لیا تھا۔

13413

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13413

Zaeef

(۱۳۴۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ أَبُو سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ہُنَیْدُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَعْطَانِی دَمَہُ فَقَالَ : اذْہَبْ فَوَارِہِ لاَ یَبْحَثْ عَنْہُ سَبُعٌ أَوْ کَلْبٌ أَوْ إِنْسَانٌ ۔ قَالَ فَتَنَحَّیْتُ فَشَرِبْتُہُ ثُمَّ أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ؟ ۔ قُلْتُ : صَنَعْتُ الَّذِی أَمَرْتَنِی قَالَ : مَا أَرَاکَ إِلاَّ قَدْ شَرِبْتَہُ ۔ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : مَاذَا تَلْقَی أُمَّتِی مِنْکَ ۔ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ وَزَادَنِی بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِیثِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ : فَیُرَوْنَ أَنَّ الْقُوَّۃَ الَّتِی کَانَتْ فِی ابْنِ الزُّبَیْرِ مِنْ قُوَّۃِ دَمِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرُوِیَ ذَلِکَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ وَعَنْ سَلْمَانَ فِی شُرْبِ ابْنِ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَمَہُ وَرُوِیَ عَنْ سَفِینَۃَ أَنَّہُ شَرِبَہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٤٠٧) حضرت زبیر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سینگی لگوائی اور اس کا خون مجھے دیا اور کہا : اس کو جلدی سے لے جاؤ (اور کہیں دفن کر دو ) تاکہ درندے، کتے اور انسان کو پتا نہ چلے۔ کہتے ہیں : میں چلا تو (راستے میں) میں نے وہ خون پی لیا، پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو نے (اس خون کا) کیا کیا ؟ میں نے کہا : جیسے آپ نے حکم دیا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : میرے خیال میں تو نے پی لیا ہے۔ میں نے کہا : جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھ کو جو ملا ہے وہ میری امت سے کسی کو نہیں ملا۔

13414

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13414

Zaeef

(۱۳۴۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِالْجَبَّارِ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ أَسْبَاطٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ حَدَّثَنَا بُرَیْہُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِینَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِیُّ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ لِی: خُذْ ہَذَا الدَّمَ فَادْفِنْہُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالطَّیْرِ أَوْ قَالَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ۔ شَکَّ ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ قَالَ : فَتَغَیَّبْتُ بِہِ فَشَرِبْتُہُ قَالَ ثُمَّ سَأَلَنِی فَأَخْبَرْتُہُ أَنِّی شَرِبْتُہُ فَضَحِکَ۔[ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٤٠٨) بریہ بن عمر اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سینگی لگوائی، پھر مجھ سے کہا : یہ خون لو اور اس کو جانوروں اور پرندوں سے چھپا دو یا کہا : لوگوں اور جانوروں سے چھپا دو ۔ ابن ابی فدیک کو شک ہے، کہتے ہیں : میں آنکھوں سے اوجھل ہوگیا اور اسے پی لیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : تو میں نے بتلایا کہ پی لیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے۔