Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 38 · Chapter 2587

وراثت کا بیان

جس نے حقیقی یا علاتی بھائیوں کو دادے کے ساتھ وارث بنایا

5 hadiths in this chapter

12432

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12432

Sahih

(۱۲۴۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّ أَوَّلَ جَدٍّ وَرِثَ فِی الإِسْلاَمِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَاتَ ابْنُ فُلاَنِ بْنِ عُمَرَ فَأَرَادَ عُمَرُ أَنْ یَأْخُذَ الْمَالَ دُونَ إِخْوَتِہِ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ وَزِیدٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : لَیْسَ لَکَ ذَلِکَ فَقَالَ عُمَرُ : لَوْلاَ أَنَّ رَأْیَکُمَا اجْتَمَعَ لَمْ أَرَ أَنْ یَکُونَ ابْنِی وَلاَ أَکُونَ أَبَاہُ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ الشَّعْبِیُّ لَمْ یُدْرِکْ أَیَّامَ عُمَرَ غَیْرَ أَنَّہُ مُرْسَلٌ جَیِّدٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٤٢٧) شعبی سے روایت ہے کہ اسلام میں پہلے وارث بطوردادا حضرت عمر (رض) بنے تھے۔ ان کا فلاں پوتا فوت ہوگیا تو حضرت عمر (رض) نے اس کے بھائیوں کے علاوہ اس کا مال لینے کا ارادہ کیا تو ان کو حضرت علی اور زید (رض) نے کہا : آپ کے لیے کوئی چیز نہیں ہے، حضرت عمر (رض) نے کہا : اگر تم دونوں کی رائے مل نہ جاتی تو میں خیال نہ کرتا کہ وہ میرا بیٹا ہے اور نہ یہ کہ میں اس کا باپ ہوں۔

12433

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12433

Sahih

(۱۲۴۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ وَیَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ عُقَیْلِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ سُلَیْمَانَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اسْتَأْذَنَ عَلَیْہِ یَوْمًا فَأَذِنَ لَہُ وَرَأْسُہُ فِی یَدِ جَارِیَۃٍ لَہُ تُرَجِّلُہُ فَنَزَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : دَعْہَا تُرَجِّلُکَ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَیَّ جِئْتُکَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: إِنَّمَا الْحَاجَۃُ لِی إِنِّی جِئْتُکَ لِتَنْظُرَ فِی أَمْرِ الْجَدِّ فَقَالَ زَیْدٌ : لاَ وَاللَّہِ مَا نَقُولُ فِیہِ۔ فَقَالَ عُمَرُ لَیْسَ وَحْیٍ حَتَّی نَزِیدَ فِیہِ وَنَنْقُصَ فِیہِ إِنَّمَا ہُوَ شَیْئٌ نُرَاہُ فَإِنْ رَأَیْتُہُ وَافَقَنِی تَبَعْتُہُ وَإِلاَّ لَمْ یَکُنْ عَلَیْکَ فِیہِ شَیْئٌ فَأَبَی زَیْدٌ فَخَرَجَ مُغْضَبًا قَالَ قَدْ جِئْتُکَ وَأَنَا أَظُنُّکَ سَتَفْرُغُ مِنْ حَاجَتِی ثُمَّ أَتَاہُ مَرَّۃً أُخْرَی فِی السَّاعَۃِ الَّتِی أَتَاہُ الْمَرَّۃَ الأُولَی فَلَمْ یَزَلْ بِہِ حَتَّی قَالَ : فَسَأَکْتُبُ لَکَ فِیہِ فَکَتَبَہُ فِی قِطْعَۃِ قَتَبٍ وَضَرَبَ لَہُ مَثَلاً إِنَّمَا مَثَلُہُ مَثَلُ شَجَرَۃٍ نَبَتَتْ عَلَی سَاقٍ وَاحِدٍ فَخَرَجَ فِیہَا غُصْنٌ ثُمَّ خَرَجَ فِی الْغُصْنِ غُصْنٌ آخَرُ فَالسَّاقُ یَسْقِی الْغُصْنَ فَإِنْ قَطَعْتَ الْغُصْنُ الأَوَّلُ رَجَعَ الْمَائُ إِلَی الْغُصْنِ یَعْنِی الثَّانِی وَإِنْ قَطَعْتَ الثَّانِی رَجَعَ الْمَائُ إِلَی الأَوَّلِ فَأَتَی بِہِ فَخَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ ثُمَّ قَرَأَ قِطْعَۃَ الْقَتَبِ عَلَیْہِمْ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَدْ قَالَ فِی الْجَدِّ قَوْلاً وَقَدْ أَمْضَیْتُہُ قَالَ: وَکَانَ أَوَّلُ جَدٍّ کَانَ فَأَرَادَ أَنْ یَأْخُذَ الْمَالَ کُلَّہُ مَالَ ابْنِ ابْنِہِ دُونَ إِخْوَتِہِ فَقَسَمَہُ بَعْدَ ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح۔ الدارقطنی ۴/ ۹۸، ۸۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٤٢٨) حضرت سعید بن سلمان بن زید بن ثابت اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت زید کے پاس آنے کی اجازت چاہی ان کو اجازت دی گئی اور زید کا سر لونڈی کے ہاتھ میں تھا، وہ ان کو کنگھی کر رہی تھی، آپ نے اپنا سر کھینچ لیا، حضرت عمر (رض) نے زید سے کہا : اسے چھوڑ دو کہ وہ تجھے کنگھی کرے، زید نے کہا : اے امیرالمومنین ! اگر مجھے پیغام بھیجتے تو میں خود آجاتا، حضرت عمر (رض) نے کہا : مجھے کام تھا، اس لیے میں تیرے پاس آیا ہوں، تاکہ آپ دادے کے بارے میں غور کریں، زید نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم نے تو دادے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : یہ خفیہ چیز نہیں کہ ہم اس میں زیادتی یا کمی کریں۔ وہ تو ایسی چیز ہے کہ ہمارے خیال میں اگر میں اپنے موافق دیکھتا ہوں تو اس کی پیروی کرتا ہوں، ورنہ آپ کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔ زید نے انکار کیا، عمر (رض) غصہ کے ساتھ واپس آگئے اور کہا : میں تیرے پاس اس لیے آیا تھا کہ آپ مجھے میری ضرورت پوری کردیں گے، پھر دوسری دفعہ پہلے والے وقت پر ہی آئے، ہمیشہ آتے رہے یہاں تک زید نے کہا : میں آپ کو کچھ لکھ دیتا ہوں۔ زید نے پلان کے ایک ٹکڑے پر لکھ دیا اور اس کے لیے مثال بیان کی کہ اس دادا کی مثال درخت کی مانند ہے جو ایک تنے پر اگتا ہے اس سے ایکٹہنی نکلتی ہے پھر اس ٹہنی سے ایک اور ٹہنی نکلتی ہے تنا ٹہنی کو سیراب کرتا ہے اگر آپ پہلی ٹہنی کو کاٹ ڈالیں گے دوسری ٹہنی کی طرف پانی لوٹ آئے گا اور اگر دوسری کو کاٹ ڈالیں گے تو پہلی کی طرف پانی لوٹ آئے گا۔ عمر (رض) اسے لے کر آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا، پھر پلان کا ٹکڑا پڑھا، پھر کہا : یہ زید بن ثابت (رض) نے دادا کے بارے میں کہا ہے اور میں نے اسے نافذ کردیا ہے۔ (راوی کہتے ہیں) عمر (رض) پہلے دادی تھے (جو وارث بنے) انھوں نے ارادہ کیا کہ اپنے پوتے کا سارا مال اس کے بھائیوں کے سوا لے لیں، عمر بن خطاب (رض) نے اس کے بعد اسے تقسیم کردیا۔

12434

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12434

Zaeef

(۱۲۴۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی أَبُو طَاہِرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ قَالَ : أَخَذَ أَبُو الزِّنَادِ ہَذِہِ الرِّسَالَۃَ مِنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمِنْ کُبَرَائِ آلِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ لِعَبْدِ اللَّہِ مُعَاوِیَۃَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ مِنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَذَکَرَ الرِّسَالَۃَ بِطُولِہَا وَفِیہَا : وَلَقَدْ کُنْتُ کَلَّمْتُ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی شَأْنِ الْجَدِّ وَالإِخْوَۃِ مِنَ الأَبِ کَلاَمًا شَدِیدًا وَأَنَا یَوْمَئِذٍ أَحْسَبُ أَنَّ الإِخْوَۃَ أَقْرَبُ حَقًّا فِی أَخِیہِمْ مِنَ الْجَدِّ وَیَرَی ہُوَ یَوْمَئِذٍ أَنَّ الْجَدَّ ہُوَ أَقْرَبُ مِنَ الإِخْوَۃِ فَطَالَ تَحَاوُرُنَا فِیہِ حَتَّی ضَرَبْتُ لَہُ بَعْضَ بَنِیہِ مَثَلاً بِمِیرَاثِ بَعْضِہِمْ دُونَ بَعْضٍ فَأَقْبَلَ عَلَیَّ کَالْمُغْتَاظِ فَقَالَ : وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ لَوْ أَنِّی قَضَیْتُہُ الْیَوْمَ لِبَعْضِہِمْ دُونَ بَعْضٍ لَقَضَیْتُہُ لِلْجَدِّ وَلَرَأَیْتُ أَنَّہُ أَوْلَی بِہِ وَلَکِنْ لَعَلَّہُمْ أَنْ یَکُونُوا ذَوِی حَقٍّ وَلَعَلِّی لاَ أُخَیِّبُ سَہْمَ أَحَدٍ مِنْہُمْ وَسَوْفَ أَقْضِی بَیْنَہُمْ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی نَحْوَ الَّذِی أَرَی یَوْمَئِذٍ فَحَسِبْتُہُ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّہَ أَنَّ ذَلِکَ مِنْ آخِرِ کَلاَمٍ حَاوَرْتُ فِیہِ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرَ فِی شَأْنِ الْجَدِّ وَالإِخْوَۃِ ثُمَّ حَسِبْتُ أَنَّہُ کَانَ یَقْسِمُ بَعْدَہُمْ ثُمَّ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْنَ الْجَدِّ وَالإِخْوَۃِ نَحْوَ الَّذِی کَتَبْتُ بِہِ إِلَیْکَ فِی ہَذِہِ الصَّحِیفَۃِ وَحَسِبْتُ أَنِّی قَدْ وَعَیْتُ ذَلِکَ فِیمَا حَضَرْتُ مِنْ قَضَائِہِمَا۔ وَزَادَ فِیہِ غَیْرُہُ عَنِ ابْنِ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا اسْتَشَارَہُمْ فِی مِیرَاثِ الْجَدِّ وَالإِخْوَۃِ قَالَ زَیْدٌ : وَکَانَ رَأْیِی یَوْمَئِذٍ أَنَّ الإِخْوَۃَ ہُمْ أَوْلَی بِمِیرَاثِ أَخِیہِمْ مِنَ الْجَدِّ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَرَی یَوْمَئِذٍ أَنَّ الْجَدَّ أَوْلَی بِمِیرَاثِ ابْنِ ابْنِہِ مِنْ إِخْوَتِہِ قَالَ : زَیْدٌ فَضَرَبْتُ لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ذَلِکَ مَثَلاً فَقُلْتُ لَہُ : لَوْ أَنَّ شَجَرَۃً تَشَعَّبَ مِنْ أَصْلِہَا غُصْنٌ ثُمَّ تَشَعَّبَ مِنْ ذَلِکَ الْغُصْنِ خُوْطَانِ ذَلِکَ الْغُصْنِ یَجْمَعُ ذَیْنَکَ الْخُوْطَیْنِ دُونَ الأَصْلِ وَیَغْذُوہُمَا أَلاَ تَرَی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَنْ أَحَدَ الْخُوْطَیْنِ أَقْرَبُ إِلَی أَخِیہِ مِنْہُ إِلَی الأَصْلِ قَالَ زَیْدٌ: اضْرِبْ لَہُ أَصْلَ الشَّجَرَۃِ مَثَلاً لِلْجَدِّ وَاضْرِبِ الْغُصْنَ الَّذِی تَشَعَّبَ مِنَ الأَصْلِ مَثَلاً لِلأَبِ وَاضْرِبِ الْخُوْطَیْنِ اللَّذَیْنِ تَشَعَّبَا مِنَ الْغُصْنِ مَثَلاً لِلإِخْوَۃِ۔[ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٤٢٩) عبدالرحمن بن ابی زناد نے خبر دی کہ ابو زناد نے یہ رسالہ خارجہ بن زید اور آل زید بن ثابت کے بڑے لوگوں سے لیا ہے : بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللہ کے بندے معاویہ امیرالمومنین کے لیے زید بن ثابت (رض) کی طرف سے ہے، پس رسالہ کی لمبائی اور جو اس میں تھا اس کا ذکر کیا۔ تحقیق میں نے عمر بن خطاب (رض) سے داد کے بارے میں کافی سخت بات کی ہے اور علاتی بھائیوں کے بارے میں اور اس دن میرے خیال میں بھائی اپنے بھائیوں کی وجہ سے دادا سے زیادہ قریبی حق دار ہے اور عمر (رض) کا خیال تھا کہ دادا بھائیوں سے زیادہ حق دار ہے، ہم دونوں کی باتیں لمبی ہوگئیں یہاں تک کہ میں نے بعض بیٹوں کی بعض کے ساتھ میراث کی مثال بیان کی، علی (رض) غصہ کی حالت میں آگئے اور کہا : اللہ کی قسم ! جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اگر میں آج اس بارے فیصلہ کرتا تو دادا کے حق میں فیصلہ کرتا اور میرے خیال وہ اس کا زیادہ حق دار ہے لیکن ہوسکتا ہے وہ حق والے ہوں اور شاید میں ان میں سے کسی حصہ دار کو محروم نہ کروں اور عنقریب اگر اللہ نے چاہا تو میں ان کے درمیان فیصلہ کروں گا اسی طرح جس طرح میں اس دن خیال کرتا ہوں اور میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور بیشک یہ آخری باتیں ہیں جو میں نے دادا اور بھائی کے بارے میں عمر بن خطاب (رض) سے کیں ہیں، پھر میں نے خیال کیا کہ وہ اس کے بعد ان میں تقسیم کریں گے ۔ پھر عثمان بن عفان (رض) نے بھی دادا اور بھائیوں کے درمیان ایسا ہی کیا جیسا کہ میں نے اس صحیفہ میں لکھا ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ میں نے دونوں کے فیصلہ کے وقت اس کو یاد کیا ہے۔ بعض نے ان الفاظ کو زیادہ کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان سے دادا اور بھائیوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ اور زید (رض) نے کہا : اس دن میری رائے یہ تھی کہ بھائی اپنے بھائیوں کی وجہ سے دادا سے زیادہ حق دار ہیں اور عمر (رض) کی رائے تھی کہ دادا اپنے پوتے کی وجہ سے بھائیوں سے زیادہ حق دار ہے، زید نے کہا : میں نے عمر کے لیے اس کی مثال بیان کی۔ میں نے کہا : اگر ایک درخت کی اصل سے ایک ٹہنی نکلے پھر اس ٹہنی سے دو ٹہنیاں اور نکلیں یہ دونوں اصل کے علوہ جمع ہوجائیں گی اور وہ (اصل) ان دونوں کو غذا دے گی۔ اے امیرالمومنین ! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ دونوں میں سے ایک ٹہنی اپنے ساتھی کے ساتھ قریب ہے اصل سے ؟ زید نے کہا : درخت کی اصل کو دادا کی مانند بیان کرو اور اصل سے نکلنے والی ٹہنی کو باپ کی مانند اور اس ٹہنی سے نکلنے والی دو ٹہنیاں بھائیوں کی مانند ہیں۔

12435

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12435

Zaeef

(۱۲۴۳۰) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الأَصْبَہَانِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عِیسَی الْمَدَنِیِّ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : کَانَ مِنْ رَأْیِی وَ رَأْیِ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنْ یَجْعَلاَ الْجَدَّ أَوْلَی مِنَ الأَخِ وَکَانَ عُمَرُ یَکْرَہُ الْکَلاَمَ فِیہِ فَلَمَّا صَارَ عُمَرُ جَدًّا قَالَ ہَذَا أَمْرٌ قَدْ وَقَعَ لاَ بَدَّ لِلنَّاسِ مِنْ مَعْرِفَتِہِ فَأَرْسَلَ إِلَی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : کَانَ مَنْ رَأْیِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ نَجْعَلَ الْجَدَّ أَوْلَی مِنَ الأَخِ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لاَ تَجْعَلْ شَجَرَۃً نَبَتَتْ فَانْشَعَبَ مِنْہَا غُصْنٌ فَانْشَعَبَ فِی الْغُصْنِ غُصْنًا فَمَا یَجْعَلُ الْغُصْنَ الأَوَّلَ أَوْلَی مِنَ الْغُصْنِ الثَّانِی وَقَدْ خَرَجَ الْغُصْنُ مِنَ الْغُصْنِ قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ فَقَالَ لَہُ کَمَا قَالَ زَیْدٌ إِلاَّ أَنَّہُ جَعَلَہُ سَیْلاً سَالَ فَانْشَعَبَ مِنْہُ شُعْبَۃٌ ثُمَّ انْشَعَبَتْ مِنْہُ شَعْبَتَانِ فَقَالَ : أَرَأَیْتَ لَوْ أَنَّ ہَذِہِ الشُّعْبَۃَ الْوُسْطَی رَجَعَ أَلَیْسَ إِلَی الشُّعْبَتَیْنِ جَمِیعًا فَقَامَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَخَطَبَ النَّاسُ فَقَالَ : ہَلْ مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَذْکُرُ الْجَدَّ فِی فَرِیضَۃٍ؟ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذُکِرَتْ لَہُ فَرِیضَۃٌ فِیہَا ذِکْرُ الْجَدِّ فَأَعْطَاہُ الثُّلُثَ فَقَالَ : مَنْ کَانَ مَعَہُ مِنَ الْوَرَثَۃِ؟ قَالَ : لاَ أَدْرِی قَالَ : لاَ دَرَیْتَ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ : ہَلْ أَحَدٌ مِنْکُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ الْجَدَّ فِی فَرِیضَۃٍ؟ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- ذُکِرَتْ لَہُ فَرِیضَۃٌ فِیہَا ذِکْرُ الْجَدِّ فَأَعْطَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- السُّدُسَ قَالَ : مَنْ کَانَ مَعَہُ مِنَ الْوَرَثَۃِ قَالَ : لاَ أَدْرِی قَالَ : لاَ دَرَیْتَ۔ قَالَ الشَّعْبِیُّ : وَکَانَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ یَجْعَلُہُ أَخًا حَتَّی یَبْلُغَ ثَلاَثَۃً ہُوَ ثَالِثُہُمْ فَإِذَا زَادُوا عَلَی ذَلِکَ أَعْطَاہُ الثُّلُثَ وَکَانَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَجْعَلُہُ أَخًا حَتَّی یَبْلُغَ سِتَّۃً ہُوَ سَادِسُہُمْ فَإِذَا زَادُوا عَلَی ذَلِکَ أَعْطَاہُ السُّدُسَ۔ [ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٤٣٠) شعبی فرماتے ہیں : میری رائے ہے کہ ابوبکر اور عمر (رض) کی رائے یہ تھی کہ دادا بھائی سے زیادہ حق دار ہے اور عمر (رض) اس میں کلام کرنے کو ناپسند کرتے تھے، جب عمر (رض) دادا بن گئے تو کہا : ایسا معاملہ بن گیا ہے کہ لوگوں کے لیے اس کی پہچان ضروری ہے، پس زید بن ثابت سے سوال کیا کہ ابوبکر کی رائے ہے کہ ہم جد کو بھائی سے زیادہ حق دار رکھیں۔ زید نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ نہ بنائیں ایسا درخت کہ وہ اگے اس سے ایک ٹہنی نکلے اس ٹہنی سے ایک اور ٹہنی نکلے پس کیسے پہلی ٹہنی دوسرے سے افضل بن گئی حالانکہ وہ اسی سے نکلی ہے۔ پھر عمر (رض) نے حضرت علی (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے بھی زید کی مانند کہا مگر انھوں نے دریا کی طرح کہا کہ وہ بہتا ہے اس سے ایک حصہ علیحدہ ہوتا ہے، پھر اس سے دو حصے علیحدہ ہوجاتے ہیں پھر کہا : آپ کا کیا خیال ہے اگر درمیان والا حصہ علیحدہ ہوجائے تو کیا دونوں حصے مل نہ جائیں گے ؟ حضرت عمر (رض) کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا : کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دادا کے بارے میں سنا ہو ؟ ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ کے سامنے فرائض کا ذکر کیا گیا تو اس میں دادا بھی شامل تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دادا کو ثلث دیا، عمر (رض) نے کہا : اس کے ساتھ اور کون وارث تھا، اس نے کہا : میں نہیں جانتا۔ عمر (رض) نے کہا : تو نہ جانے۔ پھر لوگوں کو خطبہ دیا : اور کہا : کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دادا کے حصہ کے بارے سنا ہو۔ ایک آدمی کھڑا ہو اس نے کہا : میں نے سنا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کے سامنے فرائض کا ذکر کیا گیا اس میں دادا بھی شامل تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے سدس دیا، عمر (رض) نے کہا : اس کے ساتھ اور کون وارث تھا ؟ اس نے کہا : میں نہیں جانتا، عمر (رض) نے کہا تو نہ جانے۔ شعبی کہتے ہیں : زید بن ثابت (رض) اس کو بھائی بناتے تھے، یہاں تک کہ تین ہوجائیں اور وہ ان میں تیسرا ہو جب تین سے زیادہ ہوجائیں تو اسے ثلث دیتے تھے اور علی (رض) اسے بھائی بناتے تھے، جب چھ کو پہنچ جائیں وہ ان میں سے چھٹا ہو ۔ جب وہ زیادہ ہوجاتے تو اس کو سدس دیتے تھے۔

12436

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12436

Zaeef

(۱۲۴۳۱) وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ الْعَدَنِیُّ عَنْ سُفْیَانَ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فَقَالَ زَیْدٌ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لاَ تَجْعَلْ شَجَرَۃً نَبَتَتْ فَانْشَعَبَ مِنْہَا غُصْنٌ فَانْشَعَبَ فِی الْغُصْنِ غُصْنَانِ فَمَا جَعَلَ الأَوَّلَ أَوْلَی مِنَ الثَّانِی وَقَدْ خَرَجَ الْغُصْنَانِ مِنَ الْغُصْنِ الأَوَّلِ فَأَرْسَلَ إِلَی عَلَیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ فَقَالَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَمَا قَالَ لِزَیْدٍ فَقَالَ عَلِیٌّ کَمَا قَالَ زَیْدٌ إِلاَّ أَنَّ عَلِیًّا جَعَلَہُ سَیْلاً سَالَ فَانْشَعَبَ مِنْہُ شُعْبَۃٌ ثُمَّ انْشَعَبَتْ مِنْہُ شُعْبَتَانِ فَقَالَ : أَرَأَیْتَ لَوْ أَنَّ مَائَ ہَذِہِ الشُّعْبَۃِ الْوُسْطَی یَبِسَ أَکَانَ یَرْجِعُ إِلَی الشُّعْبَتَیْنِ جَمِیعًا۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ الأَرْدِسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف جداً] قَالَ الشَّیْخُ : وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ یُشْرِکُ بَیْنَ الْجَدِّ وَالإِخْوَۃِ وَالأَخَوَاتِ لأَبٍ وَأُمٍّ أَوْ لأَبٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٤٣١) حضرت زید (رض) نے کہا : اے امیرالمومنین ! نہ آپ بنائی درخت کو کہ وہ اُگے، اس سے ٹہنی نکلے، اس ٹہنی سے دو ٹہنیاں نکلیں، پس کیسے پہلی کو دوسری سے اعلیٰ بناتے ہو حالانکہ دونوں پہلی سے نکلیں ہیں، پس عمر (رض) نے حضرت علی (رض) سے سوال کیا اور جو زید سے کہا تھا وہی کہا، حضرت علی (رض) نے بھی زید کی مانند کہا مگر علی (رض) نے دریا کی طرح بنایا جو بہتا ہے اس سے ایک حصہ جدا ہوتا ہے پھر اس سے دو حصے جدا ہوتے ہیں اور کہا : آپ کا کیا خیال ہے اگر درمیان والے حصہ کا پانی خشک ہوجائے تو کیا دونوں حصے مل جائیں گے ؟ شیخ فرماتے ہیں : عبداللہ بن مسعود (رض) دادا اور حقیقی اور علاتی بھائی، بہنوں کو شریک کرتے تھے۔