Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 663

نماز کا بیان

جو لا علمی کی وجہ سے دوران نماز ممنوعہ کلام کرے

2 hadiths in this chapter

3351

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3351

Sahih

(۳۳۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی عَطَائُ بْنُ یَسَارٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ الْحَکَمِ السُّلَمِیُّ قَالَ قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- :إِنَّا کُنَّا حَدِیثَ عَہْدٍ بِجَاہِلِیَّۃٍ ، فَجَائَ اللَّہُ بِالإِسْلاَمِ ، وَإِنَّ رِجَالاً مِنَّا یَتَطَیَّرُونَ۔ قَالَ: ((ذَلِکَ شَیْئٌ یَجِدُونَہُ فِی صُدُورِہِمْ فَلاَ یَصُدَّنَّہُمْ))۔قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ وَرِجَالٌ مِنَّا یَأْتُونَ الْکَہَنَۃَ۔قَالَ: ((فَلاَ یَأْتُوہُمْ))۔قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ وَرِجَالٌ مِنَّا یَخُطُّونَ۔قَالَ: ((کَانَ نَبِیٌّ مِنَ الأَنْبِیَائِ یَخُطُّ ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّہُ فَذَاکَ))۔ قَالَ: وَبَیْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الصَّلاَۃِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ: یَرْحَمُکَ اللَّہُ فَحَدَقَنِی الْقَوْمُ بِأَبْصَارِہِمْ ، قَالَ فَقُلْتُ: وَاثُکْلَ أُمِّیَاہُ مَا لَکُمْ تَنْظُرُونَ إِلَیَّ؟ فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَیْدِیہِمْ عَلَی أَفْخَاذِہِمْ فَلَمَّا رَأَیْتُہُمْ یُسَکِّتُونِی لَکِنِّی سَکَتُّ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- دَعَانِی فَبِأَبِی ہُوَ وَأُمِّی مَا رَأَیْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَہُ وَلاَ بَعْدَہُ أَحْسَنَ تَعْلِیمًا مِنْہُ ، وَاللَّہُ مَا ضَرَبَنِی وَلاَ کَہَرَنِی وَلاَ سَبَّنِی فَقَالَ: ((إِنَّ صَلاَتَنَا ہَذِہِ لاَیَصْلُحُ فِیہَا شَیْئٌ مِنْ کَلاَمِ النَّاسِ، وَإِنَّمَا ہِیَ التَّسْبِیحُ وَالتَّکْبِیرُ وَتِلاَوَۃُ الْقُرْآنِ))۔وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُوصَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ حَدَّثَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَحْیَی فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ: إِنَّا کُنَّا حَدِیثَ عَہْدٍ بِجَاہِلِیَّۃٍ فَجَائَ اللَّہُ بِالإِسْلاَمِ ، وَإِنَّمَا قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقُلْتُ: إِنَّ رِجَالاً مِنَّا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ فہو حدیث واحد مع اختلاف یسیر]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٥١) (ا) معاویہ بن حکم سلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : ہم لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، اللہ نے ہمیں اسلام کی نعمت سے نواز دیا ہے۔ ابھی بھی ہم میں سے کچھ لوگ پرندوں کے ذریعے فال لیتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ محض وہم ہے جو ان کے ذہنوں میں ہے۔ یہ فال وغیرہ انھیں (کسی کام کے کرنے سے) نہ روکے۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں (غیب کی خبریں بتانے والوں) کے پاس جاتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ نہ جایا کریں۔ انھوں نے پھر عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں (اور ان سے فال لیتے ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انبیاء ۔ میں سے صرف ایک نبی (حضرت ادریس (علیہ السلام) ) خط کھینچتے تھے لہٰذا جس کا خط ان کے موافق ہو تو وہ درست ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ نماز پڑھ رہا تھا۔ ایک نمازی نے چھینک ماری تو میں نے کہہ دیا : ” یرحمک اللہ “ تو لوگ میری طرف ترچھی نظروں سے دیکھنے لگے۔ میں نے کہا : تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو ؟ انھوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کردیے۔ میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے چپ کروانا چاہتے ہیں (تو میں ناراض ہوا) لیکن خاموش ہوگیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بلایا ، آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر مشفق اور مہربان استاد کسی کو نہیں دیکھا نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد۔ اللہ کی قسم ! آپ نے مجھے مارا نہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا بلکہ صرف اتنا فرمایا : یہ نماز ہے اس میں باتیں کرنا جائز نہیں، اس میں تو تسبیح تکبیر اور تلاوت قرآن ہوتی ہے۔۔۔ (ب) یہ حدیث دوسری سند سے بھی اسی طرح ہے مگر اس میں ان الفاظ ” انا کنا حدیث عہد بجاہلیۃ فجاء اللہ الاسلام “ کی جگہ یہ الفاظ ہیں : ” قال اتیت النبی فقلت : ان رجالا منا۔۔۔

3352

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3352

Sahih

(۳۳۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا یُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبَانُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَعَطَسَ رَجُلٌ إِلَیَّ جَنْبِی فَقُلْتُ: یَرْحَمُکَ اللَّہُ ، فَرَمَانِی الْقَوْمُ بِأَبْصَارِہِمْ فَقُلْتُ: وَاثُکْلَ أُمِّیَاہُ ، مَا لِی أَرَاکُمْ تَنْظُرُونَ إِلَیَّ وَأَنَا أُصَلِّی؟ فَجَعَلُوا یَضْرِبُونَ بِأَیْدِیہِمْ عَلَی أَفْخَاذِہِمْ یُصَمِّتُونِی ، فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الصَّلاَۃَ فَبِأَبِی وَأُمِّی مَا رَأَیْتُ قَبْلَہُ وَلاَ بَعْدَہُ أَحْسَنَ تَعْلِیمًا مِنْہُ، وَاللَّہِ مَا کَہَرَنِی وَلاَ سَبَّنِی وَلاَ ضَرَبَنِی ، وَلَکِنَّہُ قَالَ لِی: ((إِنَّ صَلاَتَنَا ہَذِہِ لاَ یَصْلُحُ فِیہَا شَیْئٌ مِنْ کَلاَمِ النَّاسِ ، إِنَمَّا ہُوَ الصَّلاَۃُ وَالتَّسْبِیحُ وَالتَّحْمِیدُ وَقِرَائَ ۃُ الْقُرْآنِ))۔أَوْ کَالَّذِی قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ ذَکَرَ مَا ذَکَرَ الأَوْزَاعِیُّ مِنَ التَّطَیُّرِ وَغَیْرِہِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَلَمْ یُحْکَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَرَہُ بِإِعَادِۃٍ وَحُکِیَ أَنَّہُ تَکَلَّمَ وَہُوَ جَاہِلٌ بِذَلِکَ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٥٢) (ا) معاویہ بن حکم سلمی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی، میرے پہلو میں کھڑے ایک آدمی نے چھینک ماری تو میں نے ” یرحمک اللہ “ کہہ دیا۔ لوگ میری طرف دیکھنے لگ گئے۔ میں نے کہا : تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، میں نماز پڑھا رہا ہوں اور تم مجھے دیکھے جا رہے ہو ؟ انھوں نے رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کردیے۔ وہ مجھے خاموش کروانا چاہتے تھے (میں چپ ہوگیا) ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے ، آپ پر میرے والدین قربان ہوں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بڑھ کر مشفق اور مہربان استاد نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم ! آپ نے مجھے نہ مارا نہ ڈانٹا اور نہ برا بھلا کہا بلکہ فرمایا : یہ نماز ہے اس میں لوگوں سے ساتھ بات چیت کرنا درست نہیں ۔ یہ صرف تسبیح، تحمید اور قرآن کی تلاوت کے لیے ہے۔ (ب) امام شافعی (رح) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت منقول نہیں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا ہو کیونکہ اس نے نماز میں ناواقفیت سے کلام کیا تھا۔