Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 662

نماز کا بیان

نماز میں ممنوع گفتگو کا بیان

8 hadiths in this chapter

3343

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3343

Sahih

(۳۳۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ جَمِیعًا عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَیْلٍ عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ أَحَدُنَا یُکَلِّمُ یَعْنِی صَاحِبَہُ إِلَی جَنْبِہِ فِی الصَّلاَۃِ حَتَّی نَزَلَتْ {وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ} [البقرۃ: ۲۳۸] فَأُمِرْنَا بِالسُّکُوتِ وَنُہِینَا عَنِ الْکَلاَمِ۔ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ ہُشَیْمٍ۔ وَقَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَیْلٍ وَفِی حَدِیثِ یَحْیَی الْقَطَّانِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ شُبَیْلٍ وَقَالَ فِی مَتْنِہِ: کُنَّا نَتَکَلَّمُ فِی الصَّلاَۃِ، یُکَلِّمُ أَحَدُنَا أَخَاہُ فِی حَاجَتِہِ حَتَّی نَزَلَتْ {حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃِ الْوُسْطَی وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ} [البقرۃ: ۲۳۸] فَأُمِرْنَا بِالسُّکُوتِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۱۴۲۔ مسلم ۵۳۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٤٣) (ا) زید بن ارقم نے بیان کیا کہ شروع میں ہم میں سے کوئی شخص نماز کے دوران ساتھ والے آدمی سے بات وغیرہ کرلیا کرتا تھا۔ جب یہ آیت { وَ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ } [البقرۃ : ٢٣٨] ” اللہ کے سامنے خاموشی سے کھڑے ہوجاؤ۔ “ نازل ہوئی تو ہمیں خاموشی اختیار کرنے اور بات چیت سے باز رہنے کا حکم دیا گیا۔ (ب) یحییٰ قطان، اسماعیل سے اور وہ حارث بن شبیل سے نقل کرتے ہیں کہ ہم نماز میں کلام کیا کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی اپنے بھائی سے کسی بھی ضرورت کے تحت بات کرلیتا لیکن جب یہ آیت : { حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ } [البقرۃ : ٢٣٨] ” نمازوں پر محافظت کرو خصوصاً درمیانی نماز پر اور اللہ کے سامنے خاموشی سے کھڑے ہوجاؤ “ تو ہمیں بات چیت سے باز رہنے کا حکم دیا گیا۔

3344

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3344

Sahih

(۳۳۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ بِطُوسٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَلِیِّ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رَشَدِ بْنِ خُثَیْمٍ الْکُوفِیُّ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الصَّلاَۃِ فَیَرُدُّ عَلَیْنَا ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ سَلَّمْنَا عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْنَا فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللَّہِ کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَیْکَ فِی الصَّلاَۃِ فَتَرُدُّ عَلَیْنَا۔قَالَ: ((إِنَّ فِی الصَّلاَۃِ شُغْلاً))۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ فُضَیْلٍ وَفِی حَدِیثِ أَبِی بَدْرٍ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِیدِ فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللَّہِ کُنْتَ تَرُدُّ عَلَیْنَا ، مَا لَکَ الْیَوْمَ لَمْ تَرُدَّ عَلَیْنَا؟ فَقَالَ: ((إِنَّ فِی الصَّلاَۃِ شُغْلاً)) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَیْلٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۱۸۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٤٤) (ا) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالت نماز میں ہوتے تو ہم آپ کو سلام کہتے اور آپ ہمیں سلام کا جواب دیتے۔ جب ہم شاہ حبشہ (نجاشی) سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے ہمیں کوئی جواب نہ دیا تو ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! پہلے ہم آپ کو نماز میں سلام کہتے تھے تو آپ ہمیں جواب دے دیتے تھے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز میں مشغولیت (مصروفیت) ہوتی ہے۔ (ب) ابوبدر شجاع بن ولید کی حدیث میں ہے کہ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے کیا وجہ ہے آج آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز میں مصروفیت ہوتی ہے۔

3345

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3345

Sahih

(۳۳۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ ، فَأَخَذَنِی مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَحْدَثَ شَیْئٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یُحْدِثُ لِنَبِیِّہِ مِنْ أَمْرِہِ مَا شَائَ ، وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ أَنْ لاَ تَکَلَّمُوا فِی الصَّلاَۃِ))۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۹۲۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٤٥) عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں میں (حبشہ سے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کہا لیکن آپ نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی (جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کرلی) تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کوئی نیا حکم آگیا ہے کیا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے لیے جو چاہتا ہے نیا حکم نازل کردیتا ہے۔ اب اللہ کا نیا حکم یہ ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔

3346

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3346

Sahih

(۳۳۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا زَائِدَۃُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: کُنَّا نَتَکَلَّمُ فِی الصَّلاَۃِ وَیُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَی بَعْضٍ ، وَیُوصِی أَحَدُنَا بِالْحَاجَۃِ - قَالَ - فَجِئْتُ ذَاتَ یَوْمٍ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- یُصَلِّی فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ ، فَأَخَذَنِی مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ((إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یُحْدِثُ مِنْ أَمْرِہِ مَا یَشَائُ ، وَإِنَّہُ قَدْ أَحْدَثَ أَنْ لاَ تَکَلَّمُوا فِی الصَّلاَۃِ))۔ [صحیح لغیرہ۔ تقدیم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٤٦) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام، کلام اور ایک دوسرے سے ضرورت کی باتیں کرلیا کرتے تھے لیکن جب میں (حبشہ سے واپسی پر) ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کہا، لیکن آپ نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا : اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے نیا حکم نازل فرما دیتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کا نیا حکم یہ ہے کہ نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔

3347

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3347

Sahih

(۳۳۴۷) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ کَثِیرِ بْنِ شِنْظِیرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: أَرْسَلَنِی النَّبِیُّ -ﷺ- فِی حَاجَۃٍ لَہُ ، فَجِئْتُ وَقَدْ قَضَیْتُہَا ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ وَہُوَ یُصَلِّی فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۱۵۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٤٧) جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے کسی (ذاتی) کام کے لیے بھیجا تو میں کام پورا کر کے لوٹا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہیں دیا۔ اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے۔

3348

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3348

Sahih

(۳۳۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ یَعْنِی أَبَا بَکْرٍ: مُحَمَّدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَائِ بْنِ السِّنْدِیِّ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی کَثِیرُ بْنُ شِنْظِیرٍ حَدَّثَنَا عَطَائٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: أَرْسَلَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی حَاجَۃٍ ، فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَیْتُہَا ، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ ، فَوَقَعَ فِی قَلْبِی مَا اللَّہُ أَعْلَمُ بِہِ ، فَقُلْتُ فِی نَفْسِی: لَعَلَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَجَدَ عَلَیَّ أَنِّی أَبْطَأْتُ عَلَیْہِ ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ ، فَوَقَعَ فِی نَفْسِی أَشَدُّ مِنَ الْمَرَّۃِ الأُولَی ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَرَدَّ عَلَیَّ فَقَالَ: أَمَا إِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أَرُدَّ عَلَیْکَ إِلاَّ أَنِّی کُنْتُ أُصَلِّی۔ وَکَانَ عَلَی رَاحِلَتِہِ مُتَوَجِّہًا لِغَیْرِ الْقِبْلَۃِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٤٨) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (غزوہ بنی مصطلق میں) مجھے ایک کام کے لیے بھیجا۔ میں کام پورا کر کے لوٹا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب نہ دیا۔ میرے دل میں اللہ جانے کیا بات آئی۔ میں نے اپنے دل میں کہا : شاید میں دیر سے آیا اس وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناراض ہیں۔ پھر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب نہ دیا۔ اب میرے دل میں پہلے سے زیادہ خیال آیا، پھر میں نے تیسری مرتبہ سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا اور فرمایا : سنو ! میں نے اس لیے تمہارے سلام کا جواب نہ دیا کیونکہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹنی پر سوار تھے، اس کا منہ قبلہ کی طرف نہ تھا بلکہ دوسری طرف تھا۔

3349

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3349

Sahih

(۳۳۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَۃَ: أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْیَرٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ الْحَکَمِ السُّلَمِیُّ قَالَ: بَیْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الصَّلاَۃِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ: یَرْحَمُکَ اللَّہُ ، فَحَدَقَنِی الْقَوْمُ بِأَبْصَارِہِمْ ، فَقُلْتُ: وَاثُکْلَ أُمِّیَاہُ مَا لَکُمْ تَنْظُرُونَ إِلَیَّ؟ قَالَ: فَضَرَبُوا بِأَیْدِیہِمْ عَلَی أَفْخَاذِہِمْ - قَالَ - فَلَمَّا رَأَیْتُہُمْ یُسَکِّتُونِی لَکِنِّی سَکَتُّ - قَالَ - فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الصَّلاَۃِ دَعَانِی ، فَبِأَبِی وَأُمِّی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَا رَأَیْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَہُ وَلاَ بَعْدَہُ أَحْسَنَ تَعْلِیمًا مِنْہُ ، وَاللَّہُ مَا کَہَرَنِی وَلاَ ضَرَبَنِی وَلاَ سَبَّنِی قَالَ: ((إِنَّ صَلاَتَنَا ہَذِہِ لاَ یَصْلُحُ فِیہَا شَیْئٌ مِنْ کَلاَمِ النَّاسِ ، إِنَمَّا ہُوَ التَّکْبِیرُ وَالتَّسْبِیحُ وَتِلاَوَۃُ الْقُرْآنِ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۵۳۷۔ ابوداود ۹۳۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٤٩) معاویہ بن حکم سلمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ (باجماعت) نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی نے چھینک ماری تو میں نے کہہ دیا : یرحمک اللہ۔ لوگ میری طرف گھورنے لگے۔ میں نے کہا : تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو ؟ تو انھوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کردیے۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کروا رہے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا، آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ میں نے اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسا استاد نہیں دیکھا جو تعلیم دینے میں آپ سے بہتر ہو۔ اللہ کی قسم ! آپ نے مجھے مارا نہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا ، بلکہ صرف اتنا فرمایا : یہ نماز ہے اس میں باتیں وغیرہ کرنا جائز نہیں اس میں تسبیح، تکبیر اور تلاوت قرآن ہوتی ہے۔

3350

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3350

Sahih

(۳۳۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ النَّسَائِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیُّ قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عُلِّمْتُ أُمُورًا مِنْ أُمُورِ الإِسْلاَمِ ، فَکَانَ فِیمَا عُلِّمْتُ أَنْ قِیلَ لِی إِذَا عَطَسْتَ فَاحْمَدِ اللَّہَ ، وَإِذَا عَطَسَ الْعَاطِسُ فَحَمِدَ اللَّہَ فَقُلْ یَرْحَمُکَ اللَّہُ - قَالَ فَبَیْنَا أَنَا قَائِمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الصَّلاَۃِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ فَحَمِدَ اللَّہَ فَقُلْتُ: یَرْحَمُکَ اللَّہُ رَافِعًا بِہَا صَوْتِی، فَرَمَانِی النَّاسُ بِأَبْصَارِہِمْ حَتَّی احْتَمَلَنِی ذَلِکَ فَقُلْتُ: مَا لَکُمْ تَنْظُرُونَ إِلَیَّ بِأَعْیُنٍ شُزْرٍ؟ قَالَ فَسَبَّحُوا، فَلَمَّا قَضَی النَّبِیُّ -ﷺ الصَّلاَۃَ قَالَ: ((مَنِ الْمُتَکَلِّمُ؟))۔قِیلَ: ہَذَا الأَعْرَابِیُّ فَدَعَانِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: ((إِنَّمَا الصَّلاَۃُ لِقِرَائَ ۃِ الْقُرْآنِ وَذِکْرِ اللَّہِ ، فَإِذَا کُنْتَ فِیہَا فَلْیَکُنْ ذَلِکَ شَأْنَکَ))۔فَمَا رَأَیْتُ مُعَلَّمًا قَطُّ أَرْفَقَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٥٠) سیدنا معاویہ بن حکم سلمی (رض) سے روایت ہے کہ جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اسلام کے بہت سے احکام سکھائے، یعنی جب تو چھینک مارے تو الحمد للہ کہہ اور جب کوئی اور چھینک مارے وہ الحمد للہ کہے اور تو یرحمک اللہ کہہ۔ ایک مرتبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ نماز میں کھڑا تھا کہ اچانک ایک آدمی نے چھینک ماری، اس نے الحمد للہ کہا تو میں نے اونچی آواز میں یرحمک اللہ کہا، لوگ میری طرف گھورنے لگے حتیٰ کہ مجھے یہ کہنا پڑا کہ تمہیں کیا ہوا ہے، مجھے ایسی نظروں سے دیکھ رہے ہو ؟ تو انھوں نے سبحان اللہ کہا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کی تو پوچھا : کلام کرنے والا کون آدمی تھا ؟ آپ کو بتایا گیا کہ یہ دیہاتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلا کر فرمایا : نماز میں صرف تلاوت قرآن اور ذکر الٰہی ہوتا ہے، لہٰذا جب تم نماز میں ہو تو صرف تلاوت اور ذکر ہی کیا کرو۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر مشفق و مہربان معلم کسی اور کو نہیں دیکھا۔