Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 661

نماز کا بیان

نماز میں کوئی مسئلہ پیش آئے تو کیا کہے ؟

14 hadiths in this chapter

3329

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3329

Sahih

(۳۳۲۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَہَبَ إِلَی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِیُصْلِحَ بَیْنَہُمْ ، فَحَانَتِ الصَّلاَۃُ فَجَائَ الْمُؤَذِّنُ إِلَی أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ فَقَالَ: أَتُصَلِّی لِلنَّاسِ فَأُقِیمَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔قَالَ: فَصَلَّی أَبُو بَکْرٍ - قَالَ - فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَالنَّاسُ فِی الصَّلاَۃِ ، فَتَخَلَّصَ حَتَّی وَقَفَ فِی الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ ، وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ لاَ یَلْتَفِتُ فِی الصَّلاَۃِ ، فَلَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِیقَ الْتَفَتَ فَرَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَشَارَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنِ امْکُثْ مَکَانَکَ ، فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَدَیْہِ فَحَمِدَ اللَّہَ عَلَی مَا أَمَرَہُ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ ذَلِکَ ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی اسْتَوَی فِی الصَّفِّ ، وَتَقَدَّمَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَصَلَّی ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: یَا أَبَا بَکْرٍ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُکَ؟۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ: مَا کَانَ لاِبْنِ أَبِی قُحَافَۃَ أَنْ یُصَلِّیَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا لِی رَأَیْتُکُمْ أَکْثَرْتُمُ التَّصْفِیقَ؟ مَنْ نَابَہُ شَیْئٌ فِی صَلاَتِہِ فَلْیُسَبِّحْ ، فَإِنَّہُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَیْہِ ، وَإِنَّمَا التَّصْفِیقُ لِلنِّسَائِ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۵۲۔ مسلم ۴۲۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٢٩) سہل بن سعد ساعدی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی عمرو بن عوف میں صلح کرانے گئے (آپ کو تاخیر ہوگئی) اور نماز کا وقت آپہنچا، موذن (بلال (رض) ) ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آئے اور کہا : کیا آپ نماز پڑھائیں گے تو میں تکبیر کہوں ؟ انھوں نے فرمایا : اچھا ۔ پھر آپ (رض) نے نماز پڑھانی شروع کردی۔ اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے، لوگ نماز پڑھ رہے تھے آپ صف چیرتے ہوئے اندر گھسے اور پہلی صف میں جا کر ٹھہرے، لوگوں نے دستک دینی شروع کردی۔ لیکن ابوبکر (رض) نماز میں ادھر ادھر دھیان نہیں کرتے تھے جب لوگوں نے بہت تالیاں بجائیں تو پھر انھوں نے التفات کیا، کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیچھے کھڑے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ نماز پڑھاتے جاؤ۔ انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا کہ امامت کیے جاؤ۔ پھر ابوبکر (رض) پیچھے سرک آئے اور پہلی صف میں مل گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے نکل گئی اور آپ نے نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : اے ابوبکر ! تم اپنی پر کیوں نہ ٹھہرے رہے جبکہ میں تمہیں حکم دے چکا تھا ؟ ابوبکر (رض) نے کہا : بھلا ابوقحافہ کے بیٹے کی کیا مجال کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے امامت کروائے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے نماز میں اتنی تالیاں کیوں بجائیں ؟ کسی کو نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ سبحان اللہ کہے، جب وہ یہ کہے گا تو اس کی طرف دھیان ہوگا اور تالی بجانا تو عورتوں کے لیے ہے۔

3330

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3330

Sahih

(۳۳۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْفَارَیَابِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَلَغَہُ أَنَّ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ کَانَ بَیْنَہُمْ شَیْئٌ ، فَخَرَجَ یُصْلِحُ بَیْنَہُمْ ، وَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ مَا لَکُمْ إِذَا نَابَکُمْ شَیْئٌ فِی الصَّلاَۃِ أَخَذْتُمْ فِی التَّصْفِیقِ؟ إِنَّمَا التَّصْفِیقُ لِلنِّسَائِ ، مَنْ نَابَہُ شَیْئٌ فِی صَلاَتِہِ فَلْیَقُلْ سُبْحَانَ اللَّہِ ، فَإِنَّہُ لاَ یَسْمَعُہُ أَحَدٌ حِینَ یَقُولُ سُبْحَانَ اللَّہِ إِلاَّ الْتَفَتَ))۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ وَأَخْرَجَاہُ أَیْضًا عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: التَّصْفِیحُ ۔ بَدَلَ: التَّصْفِیقِ۔ وَقَالَ سَہْلٌ: التَّصْفِیحُ ہُوَ التَّصْفِیقُ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٣٠) (ا) سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پتا چلا کہ بنی عمرو بن عوف میں کوئی اختلاف ہوا ہے تو آپ ان میں صلح کرنے نکلے۔۔۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تمہیں نماز میں کوئی حادثہ پیش آجائے تو تم تالیاں بجانا شروع کردیتے ہو ؟ تالیاں بجانا تو عورتوں کے لیے ہے۔ اگر نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو سبحان اللہ کہو۔ جب کوئی سبحان اللہ کہے تو جو سنے گا وہ ضرور متوجہ ہوگا۔ (ب) بخاری ومسلم کی روایت میں دوسری سند سے ہے اس میں تصفیق کی جگہ تصفیح کا لفظ ہے اور سہل نے کہا : تصفیح ہی تصفیق ہے۔

3331

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3331

Sahih

(۳۳۳۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِی الْحَسَنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلٍ بْنِ سَعْدٍ فَذَکَرَہُ وَلَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ: فَإِنَّہُ لاَ یَسْمَعُہُ أَحَدٌ۔ إِلَی آخِرِ مَا نَقَلْنَا۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٣١) یہی روایت ایک اور سند سے منقول ہے۔ اس کے آخر میں ” فانہ لا یسمعہ “ سے آخر تک الفاظ نہیں ہیں۔

3332

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3332

Sahih

(۳۳۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((التَّسْبِیحُ فِی الصَّلاَۃِ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِیقُ لِلنِّسَائِ))۔أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ دُونَ قَوْلِہِ: فِی الصَّلاَۃِ۔ (ت) وَقَدْ رَوَاہُ الْحُمَیْدِیُّ وَجَمَاعَۃٌ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ فَذَکَرُوا ہَذِہِ اللَّفْظَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۱۴۵۔ مسلم ۴۲۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٣٢) (ا) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز میں امام کو غلطی پر متنبہ کرنا ہو تو سبحان اللہ کہیں اور خواتین ہاتھ پر ہاتھ ماریں۔ (ب) بخاری مسلم کی روایت میں ” فی الصلاۃ “ کے الفاظ ہیں۔

3333

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3333

Sahih

(۳۳۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((التَّسْبِیحُ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِیقُ لِلنِّسَائِ فِی الصَّلاَۃِ))۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٣٣) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (امام کو غلطی پر خبردار کرنے کے لیے) مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔

3334

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3334

Sahih

(۳۳۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَأَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُمَا سَمِعَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((التَّسْبِیحُ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِیقُ لِلنِّسَائِ))۔قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: وَقَدْ رَأَیْتُ رِجَالاً مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ یُسَبِّحُونَ وَیُشِیرُونَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ۔وَرَوَاہُ ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْہُمَا وَقَالَ: فِی الصَّلاَۃِ۔ [صحیح۔ ہذا لفظ مسلم ۴۲۲ وانظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٣٤) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (نماز میں امام کو غلطی پر متنبہ کرنے کے لیے) مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے۔ ابن شہاب کہتے ہیں : میں نے بہت سے اہل علم کو دیکھا ہے وہ سبحان اللہ بھی کہتے ہیں اور اشارے بھی کرتے ہیں۔ ایک روایت میں ” فی الصلاۃ “ کے الفاظ بھی ہیں۔

3335

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3335

Sahih

(۳۳۳۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((التَّسْبِیحُ لِلْقَوْمِ ، وَالتَّصْفِیقُ لِلنِّسَائِ فِی الصَّلاَۃِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٣٥) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مردوں کے لیے تسبیح کہنا ہے اور عورتوں کے لیے نماز میں (خبردار کرنے کے لیے) تالی بجانا (مباح) ہے۔

3336

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3336

Sahih

(۳۳۳۶) أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ: مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((التَّسْبِیحُ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِیقُ لِلنِّسَائِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٣٦) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنا ہے اور عورتوں کے لیے تالی بجانا۔

3337

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3337

Sahih

(۳۳۳۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ قَالَ الأَعْمَشُ: فَذَکَرْتُہُ لإِبْرَاہِیمَ فَقَالَ: قَدْ کَانَتْ أُمِّی تَفْعَلُہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٣٧) اعمش ایک دوسری سند سے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں : میں نے ابراہیم نخعی کے سامنے یہ حدیث ذکر کی تو انھوں نے بتایا کہ میری والدہ اسی طرح کیا کرتی تھیں۔

3338

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3338

Sahih

(۳۳۳۸) وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ الْفَرَّائُ وَقَطَنُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالُوا حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ سُلَیْمَانَ الأَعْمَشِ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا اسْتُؤْذِنَ عَلَی الرَّجُلِ وَہُوَ یُصَلِّی فَإِذْنُہُ التَّسْبِیحُ ، وَإِذَا اسْتُؤْذِنَ عَلَی الْمَرْأَۃِ وَہِیَ تُصَلِّی فَإِذْنُہَا التَّصْفِیقُ))۔ وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَتْ لِی سَاعَۃٌ مِنَ السَّحَرِ أَدْخُلُ فِیہَا عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَإِنْ کَانَ فِی صَلاَۃٍ سَبَّحَ ، فَکَانَ ذَلِکَ إِذْنَہُ لِی۔ فَہُوَ حَدِیثٌ مُخْتَلَفٌ فِی إِسْنَادِہِ وَمَتْنِہِ ، فَقِیلَ سَبَّحَ وَقِیلَ تَنَحْنَحَ۔ وَمَدَارُہُ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُجَیٍّ الْحَضْرَمِیِّ۔قَالَ الْبُخَارِیُّ فِیہِ نَظَرٌ وَضَعَّفَہُ غَیْرُہُ ، وَفِیمَا مَضَی کِفَایَۃٌ عَنْ رِوَایَتِہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [حسن۔ وللحدیث طریق آخر عند احمد ۲/ ۲۹۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٣٨) (ا) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کسی سے دوران نماز اجازت طلب کی جائے تو اس کا اجازت دینا سبحان اللہ کہنا ہے اور اگر کوئی عورت نماز پڑھ رہی ہو اس سے کوئی اجازت طلب کرے تو اس کا اجازت دینا تالی بجانا ہے۔ (ب) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ میرے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانے کا وقت سحری کے وقت مخصوص تھا۔ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں ہوتے تو سبحان اللہ کہتے، یہی آپ کی طرف سے مجھے اجازت ہوتی تھی۔ (ج) یہ حدیث سند اور متن کے اعتبار سے مختلف ہے، ایک قول کے مطابق سبح ہے اور دوسرے قول کے مطابق تنحنح ہے۔

3339

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3339

Zaeef

(۳۳۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو زَکَرِیَّا الْحِنَّائِیُّ وَأَبُو عِمْرَانَ التُّسْتُرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنِ الْحَارِثِ الْعُکْلِیِّ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُجَیٍّ قَالَ قَالَ لِی عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: کَانَتْ لِی سَاعَۃٌ مِنَ السَّحَرِ أَدْخُلُ فِیہَا عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَإِنْ کَانَ فِی صَلاَۃٍ سَبَّحَ ، فَکَانَ ذَلِکَ إِذْنَہُ لِی وَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِی صَلاَۃٍ أَذِنَ لِی۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔تَابَعَہُ مُسَدَّدٌ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ فِی التَّسْبِیحِ دُونَ ذِکْرِ الْحَارِثِ فِی إِسْنَادِہِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ النسائی ۱۲۱۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٣٩) عبداللہ بن نجی کہتے ہیں کہ سیدنا علی (رض) نے مجھے کہا : سحری کے قریب میرا ایک مخصوص وقت ہوتا تھا جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں ہوتے تو سبحان اللہ کہتے، یہی آپ کی طرف سے مجھے اجازت ہوتی تھی اور اگر نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو مجھے اجازت مرحمت فرما دیتے۔۔۔ پھر باقی حدیث ذکر کی۔

3340

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3340

Zaeef

(۳۳۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُجَیٍّ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: کَانَتْ لِی سَاعَۃٌ مِنَ السَّحَرِ أَدْخُلُ فِیہَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَإِنْ کَانَ فِی صَلاَۃٍ سَبَّحَ ، وَکَانَ فِی ذَلِکَ إِذْنُہُ، وَإِنْ کَانَ فِی غَیْرِ صَلاَۃٍ أَذِنَ لِی۔ لَمْ یَذْکُرْ مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْہَدٍ فِی إِسْنَادِہِ الْحَارِثَ الْعُکْلِیَّ وَوَافَقَ الأَوَّلَ فِی التَّسْبِیحِ۔ [ضعیف۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٤٠) عبداللہ بن نجی بیان کرتے ہیں کہ علی (رض) فرماتے ہیں : سحری کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہونے کا میرا مخصوص وقت تھا۔ جب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتا۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہتے اور اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اجازت (دینے) کی طرف اشارہ ہوتا اور اگر نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو مجھے اجازت دے دیتے۔

3341

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3341

Zaeef

(۳۳۴۱) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی عَاصِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ فَذَکَرَہُ وَذَکَرَ فِی إِسْنَادِہِ الْحَارِثَ الْعُکْلِیَّ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی مَتْنِہِ: فَإِنْ کَانَ فِی صَلاَۃٍ تَنَحْنَحَ ، وَکَانَ ذَلِکَ إِذْنَہُ۔ ضعیف، تقدم فی الذی قبلہ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٤١) عبدالواحد بن زیاد ایک دوسری سند سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے اور اس کی سند میں حارث عکلی کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس میں ہے کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہوتے تو میرے لیے کھنکارتے (کھانسی کرتے) اور یہ آپ کی اجازت ہوتی تھی۔

3342

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3342

Zaeef

(۳۳۴۲) وَرَوَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ مُغِیرَۃَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُجَیٍّ فِی التَّنَحْنُحِ دُونَ ذِکْرِ أَبِی زُرْعَۃَ فِی إِسْنَادِہِ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْعَلَوِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَکَمِ الْحِبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ۔ وَرَوَاہُ شُرَحْبِیلُ بْنُ مُدْرِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُجَیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی التَّسْبِیحِ وَزَادَ فِیہِ عَنْ أَبِیہِ۔ وَکَیْفَمَا کَانَ فَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُجَیٍّ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِ۔ [ضعیف۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٤٢) عبداللہ بن نجی سے بھی کھانسنے کے بارے میں روایت منقول ہے مگر اس کی سند میں ابو ذرعہ کا ذکر نہیں ہے۔ ایک دوسری سند میں تسبیح کا ذکر ہے۔