Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 660

نماز کا بیان

نماز میں کسی کو متنبہ کرنے یا جواب دینے کیلئے قرآن پڑھنے یا ذکر کرنے کے جواز و عدمِ جواز کا بیان

2 hadiths in this chapter

3327

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3327

Zaeef

(۳۳۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْیَانَ عَنْ أَبِی تُحْیَا یَعْنِی حَکِیمَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ: نَادَی رَجُلٌ مِنَ الْغَالِینَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ فِی الصَّلاَۃِ صَلاَۃِ الْفَجْرِ فَقَالَ {وَلَقَدْ أُوْحِیَ إِلَیْکَ وَإِلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ أَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ} [الزمر: ۶۵] فَأَجَابَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ فِی الصَّلاَۃِ {فَاصْبِرْ إِنَّ وَعَدَ اللَّہِ حَقٌّ وَلاَ یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِینَ لاَ یُوقِنُونَ} [الروم: ۶۰]۔ [ضعیف۔ اخرجہ الحاکم ۳/ ۱۵۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٢٧) ابو تحیا حکیم بن سعد بیان کرتے ہیں کہ فجر کی نماز میں سیدنا علی (رض) کو غالی لوگوں میں سے ایک نے آواز دی اور آپ حالتِ نماز میں تھے، اس نے کہا : { وَلَقَدْ اُوحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ } [الزمر : ٦٥] ” یقیناً (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) آپ کی طرف اور آپ سے پہلے والوں کی طرف وحی کی گئی اگر آپ نے شرک کا ارتکاب کیا تو یقیناً آپ کے اعمال برباد، ضائع اور خسارے میں ہوجائیں گے۔ “ تو حضرت علی (رض) نے حالت نماز میں ہی اسے جواب دے دیا : { فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ } [الروم : ٦٠] ” تو صبر کر بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے سچا ہے اور آپ کو یہ لوگ ہلکا نہ سمجھیں جو یقین نہیں رکھتے۔ “

3328

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3328

Zaeef

(۳۳۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی بْنِ الْحَکَمِ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّہِ فِی الْمَسْجِدِ وَالإِمَامُ رَاکِعٌ ، فَرَکَعَ عَبْدُ اللَّہِ فَرَکَعْنَا مَعَہُ وَجَعَلَ یَمْشِی إِلَی الصَّفِّ وَنَحْنُ رُکُوعٌ ، فَمَرَّ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَقَالَ: صَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ۔فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قَالَ: کَانَ یُقَالُ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ أَنْ یُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَی الرَّجُلِ بِالْمِعْرِفَۃِ وَأَنْ تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا ، وَأَنْ یَتَّجِرَ الرَّجُلُ وَامْرَأَتُہُ ، وَأَنْ تَغْلُوَ الْخَیْلُ وَالنِّسَائُ ثُمَّ یَرْخُصْنَ ، ثُمَّ لاَ تَغْلُو إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَحَدِیثُ أَبِی بَکْرٍ مُخْتَصَرٌ۔ وَرُوِیَ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ بِنَحْوِہِ وَرَفَعَ آخِرَہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- یَزِیدُ وَیَنْقُصُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الحاکم ۴/ ۴۹۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٢٨) (ا) خارجہ بن صلت بیان کرتے ہیں : ہم عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے اور امام صاحب رکوع میں تھے۔ عبداللہ (رض) نے (صف سے پیچھے ہی) رکوع کیا۔ ہم نے بھی ان کے ساتھ رکوع کیا اور آپ چلتے ہوئے صف میں شامل ہوگئے اور ہم رکوع میں ہی رہے۔ ایک آدمی گزرا، اس نے انھیں سلام کہا تو انھوں نے کہا : صَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ “ پھر جب انھوں نے نماز مکمل کی تو فرمایا : کہا جاتا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ آدمی کسی آدمی کو ذاتی معرفت کی بنا پر ہی سلام کرے گا اور مسجدوں کو راستہ بنا لیا جائے گا اور مرد اور اس کی بیوی دونوں اجرت لیں گے گھوڑے اور عورتیں۔ (ب) طارق بن شہاب سے بواسطہ عبداللہ بن مسعود (رض) اسی جیسی منقول ہے اور انھوں نے اس کے آخری حصے کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچایا ہے۔ اس میں کچھ اضافہ اور کمی بھی ہے۔