Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 635

نماز کا بیان

قضا نمازوں میں ترتیب ضروری نہیں یہ طاؤس اور حسن کا قول ہے۔

3 hadiths in this chapter

3189

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3189

Sahih

(۳۱۸۹) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرَائُ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی الضُّحَی عَنْ شُتَیْرِ بْنِ شَکَلٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: شُغِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ الأَحْزَابِ عَنْ صَلاَۃِ الْعَصْرِ حَتَّی صَلَّی مَا بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ فَقَالَ: شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَۃِ الْوُسْطَی صَلاَۃِ الْعَصْرِ مَلأَ اللَّہُ قُبُورَہُمْ وَبُیُوتَہُمْ نَارًا۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۲۱۶۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٨٩) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ خندق والے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لڑائی میں مصروفیت کی وجہ سے عصر کی نماز رہ گئی۔ آپ نے عصر کی نماز مغرب اور عشا کے درمیان نماز ادا کی اور فرمایا : ہمیں نمازِ وسطی سے مشغول رکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔

3190

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3190

Zaeef

(۳۱۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَیْحٍ عَنْ شُتَیْرِ بْنِ شَکَلٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ الأَحْزَابِ: ((شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَۃِ الْوُسْطَی صَلاَۃِ الْعَصْرِ ، مَلأَ اللَّہُ بُیُوتَہُمْ وَقُبُورَہُمْ نَارًا)) ثُمَّ صَلاَّہَا بَیْنَ الْعِشَائِینِ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ وَقَدْ رُوِیَ بِإِسْنَادٍ ضَعِیفٍ: أَنَّہُ نَقَضَ الأُولَی فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٩٠) (ا) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق والے دن فرمایا : ان دشمنوں نے ہمیں صلوۃ ِ وسطی (نماز عصر) سے مشغول کیے رکھا، اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز مغرب اور عشا کے درمیان ادا کیں۔ (ب) ایک ضعیف روایت سے بھی مروی ہے۔ انھوں نے پہلی نماز توڑی پہلے عصر پڑھی پھر مغرب کی نماز ادا کی۔

3191

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3191

Zaeef

(۳۱۹۱) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِی جُمُعَۃَ: حَبِیبِ بْنِ سِبَاعٍ ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَامَ الأَحْزَابِ صَلَّی الْمَغْرِبَ وَنَسِیَ الْعَصْرَ ، فَقَالَ لأَصْحَابِہِ: ((ہَلْ رَأَیْتُمُونِی صَلَّیْتُ الْعَصْرَ؟))۔ قَالُوا: لاَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلاَۃَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ، وَنَقَضَ الأُولَی ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ۔ وَرُوِّینَا فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ بَعْدَہَا فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ فَعَلَ ذَلِکَ فِی یَوْمٍ وَمَا رُوِّینَا عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی یَوْمٍ آخَرَ ، وَمَا رُوِّینَاہُ فِی حَدِیثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِی سَعِیدٍ فِی یَوْمٍ آخَرَ۔(ق) وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الْمُرَادُ بِقَوْلِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ ۔بَیْنَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَوَقْتِ الْعِشَائِ ، فَیَکُونُ مُوَافِقًا لِرِوَایَۃِ جَابِرٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [منکر۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۳۵۴۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٩١) (ا) ابو جمعہ حبیب بن سباع (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق والے دن مغرب کی نماز پڑھی اور عصر کی نماز پڑھنا بھول گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ (رض) سے دریافت کیا کہ کیا تم نے مجھے عصر کی نماز پڑھتے دیکھا ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : نہیں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے موذن کو اذان دینے کا حکم دیا، پھر اقامت کے بعد عصر کی نماز پڑھائی، پہلی کو توڑ دیا، پھر مغرب کی نماز ادا کی۔ (ب) جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھی۔ پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔ اس روایت میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اس طرح ایک دن کیا ہو اور سیدنا علی بن ابی طالب (رض) کسی دوسرے دن کے بارے میں روایت کرتے ہیں اور عبداللہ بن مسعود اور ابو سعید خدری (رض) کی احادیث کسی اور دن کے بارے میں ہیں۔ حضرت علی (رض) کے قول ” بین المغرب والعشا “ سے مراد غروب آفتاب اور عشا کے درمیان کا وقت ہے۔ اگر اس طرح مان لیں تو یہ حضرت جابر (رض) کی روایت کے موافق ہوگا۔ واللہ اعلم